Tasleem-o-Raza

تسلیم ورضا

تسلیم و رضا

* فقر کا مرکز و محور تسلیم و رضائے الٰہی ہے۔
* ہیبت وپریشانی ‘ دکھ اور سکھ ‘ سکون اور اضطراب ‘ آسانی اور تنگی ‘ بیماری اور صحت ‘ بھوک اور سیری الغرض ہر حالت میں اللہ پاک کی رضا پر راضی رہنا اور سرتسلیمِ خم کردینا ہی اللہ پاک کی بارگاہ میں مقبول ومنظور ہے ۔
* تسلیم و رضا فقر کا آخری مقام ہے اور یہی نفسِ مطمئنہ کا مقام ہے۔ 
* رضا وہاں ہوتی ہے جہاں سوال نہ ہو۔
* لقائے الٰہی صرف انہیں حاصل ہوتا ہے جو رضا کی راہ پر چلنے والے ہوں۔ اعتراض کرنے والے کولقائے الٰہی کبھی نصیب نہیں ہوتا۔
* آزمائش اور بلا پر جتنا اعتراض کیا جائے گا وہ اتنا ہی پہاڑ بنتی جائے گی۔
* رضا جب قضا پر غالب آجاتی ہے تو تقدیرِ الٰہی کا خوف بندے کے دل سے اتر جاتا ہے۔ تسلیم و رضا فقر کی انتہا ہے۔
* اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پسندیدہ اور مقبول طرزِعمل یہ ہے کہ ہر لحظہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر سرِ تسلیم خم رکھا جائے۔ نعمت پر شکر اور مصیبت میں صبر کیا جائے۔ 
* رضا کی اصل حقیقت یہ ہے کہ سالک اس امر پر پورا یقین رکھے کہ ہر چیز کی عطا یا مناہی اللہ کی مشیئت اور ارادہ ہے۔ دنیا اور راہِ سلوک میں اس کی بہتری اسی بات میں ہے کہ ہر بات میں خوف اور امید میں رہے۔ اطاعت کے وقت اس پر فخر نہ کرے اور مصیبت کے وقت اس کے در سے مایوس نہ ہو۔
* مقامِ رضا پر پہنچ کر اللہ مومن کو اپنے خاص نور یعنی لقائے الٰہی سے سرفراز کرتا ہے اور ان کو ایک نئی زندگی ہر لمحہ غیب سے عطا ہوتی ہے۔ 
* مقامِ رضا فقر کی منازل میں سے بہت بڑی منزل ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر عارفینِ حق پر رضائے الٰہی کا اس قدر غلبہ ہوتا ہے کہ انہیں شدید تر حالات میں بھی کوئی غم، دکھ اور تکلیف نہیں ہوتی یعنی سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے۔
* مرشد کامل کی اسم اللہ ذات کے تصور کے ذریعہ تربیت طالبِ مولیٰ میں تسلیم و رضا کی عادت کو اتنا پختہ کر دیتی ہے کہ اُسے اللہ تعالیٰ کے ہر حکم اور فعل پر پیار آتا ہے۔