Talsh-e-Haq

تلاشِ حق/سلطان العاشقین سلطان محمد نجیب الرحمن

تلاشِ حق

                   اکتوبر 1996ء میں آپ مدظلہ الاقدس کی صاحبزادی تابینہ کا سات سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔
ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے ’’حکیم کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا ۔‘‘اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ دِنوں کو بندوں کے درمیان پھیرتا رہتا ہے اور جس انسان کو اللہ نے انسانِ کامل کے مرتبے پر فائز کرنا ہو اس کی حیات بھی ہر طرح سے کامل ہوتی ہے جس میں ہر طرح کا دور‘ ہر طرح کا تجربہ شامل ہوتا ہے۔ کبھی اللہ دے کر آزماتا اور تربیت فرماتا ہے کبھی لے کر۔ اگر انسان کے دل میں صرف دنیا کی خواہش موجود ہو تو اللہ جب اسے دنیا اور اس کا مال و آسائش عطا کرتا ہے تو وہ صرف دنیا کا ہی ہو کر رہ جاتا ہے اور اسی کے لالچ کی دلدل میں مزید دھنستا جاتا ہے لیکن جو انسان صرف اللہ کا صحیح بندہ ہو وہ اس مقام پر کبھی سکون نہیں پاتا۔ اگرہم آپ مدظلہ الاقدس کے بچپن سے جوانی تک تنگی اور سختیوں کے دور اور پھر جوانی کے آسودگی کے دور کو دیکھیں تو عجیب حیرت کا احساس ہوتا ہے لیکن جب آپ مدظلہ الاقدس کو مالی آسودگی حاصل ہو گئی تو قلبی سکون پھربھی میسر نہ تھا۔ آپ خود فرماتے ہیں کہ ان تمام دنیاوی نعمتوں اور آسودگیوں کے باوجود آپ کو قلبی سکون میسر نہ تھا۔ ہر آسائش اور خوشی پالینے کے باوجود کسی شے کی کمی کا احساس دا من گیررہتا تھا۔ روح کی بے چینی آپ مدظلہ الاقدس کو ہر لمحہ بے سکون رکھتی لیکن آپ اس بے چینی کی وجہ کو سمجھ نہ پارہے تھے۔ کبھی سکون کی تلاش میں دوستوں کے ساتھ سیر و سیاحت کے لیے ملک کے مختلف علاقوں کی طرف نکل جاتے لیکن وہاں بھی سکون نہ ملتا۔ سکون اس وقت تک مل بھی نہیں سکتا تھا جب تک مقصد حیات نہ پالیتے اور روحِ مقدسہ اپنی منزل تک نہ پہنچ جاتی ۔یوں بھی جس قلب میں اللہ نے سمانا تھا وہاں دنیا کیسے بس سکتی تھی۔ اِدھر روح اپنے ربّ سے ملاقات کے لیے بے چین تھی اُدھر اللہ اپنے بندے اپنے محبوب سے ملنے کے لیے بے چین و بے قرار تھا۔ دنیاوی نعمتوں اور آسودگیوں کا حصول کبھی بھی آپ مدظلہ الاقدس کی منزل نہ تھا۔ اس لیے اس مقام پر سکون کیوں کر حاصل ہو سکتا تھا۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو  رحمتہ اللہ علیہ نور الہدیٰ کلاں میں فرماتے ہیں:’’ جب تک غنایت (استغنا‘ دنیاوی مال و دولت سے طبیعت کی سیری) حاصل نہ ہو فقر تک نہیں پہنچا جاسکتا۔‘‘ اس غنایت کے حصول کے لیے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ مدظلہ الاقدس پر دنیاوی آسائشوں اور نعمتوں کی انتہا کر دی لیکن دن بدن دنیاوی آسائشوں کی بے وقعتی اور بے ثباتی آپ کے دل کو ان سے اچاٹ کرتی جاتی۔ طبیعت ان سب سے بھرگئی اور پھر باطن نے اپنے اللہ کی طرف سفر شروع کیا جو تمام قلوب کا سکون اور ارواح کا چین و آرام ہے، جس منزل پر پہنچ کر کسی منزل کی طلب نہیں رہتی۔
ایک بار ملازمت میں نمازِ ظہر کے وقفہ کے دوران آپ مدظلہ الاقدس نماز کی ادائیگی کے لیے دفتر سے نکلے تو ایک عجیب حلیے والا ادھیڑ عمر شخص اچانک آپ مدظلہ الاقدس کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا اور آپ سے کہنے لگا:
’’تم پر اللہ کے فضل کا دور شروع ہو چکا ہے۔ اپنی حالت پر اسی طرح قائم رہنا۔‘‘
آپ نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ تو اس نے جواب دیا:
’’میں وہ ہوں جو لوگوں کو راستہ دکھاتا ہے اور ان کی راہنمائی کرتا ہے۔میں تو صرف تمہیں دیکھنے آیا ہوں۔‘‘
پہلے تو آپ نے یہ سمجھا کہ آج کل کے دور میں جس طرح لوگ اسی طرح کا روپ دھار کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں یہ شخص بھی انہی میں سے ہے اسی لیے آپ نے کہا ’’ شکریہ میں آپ کی ہدایت پر عمل کروں گا‘‘ اور آگے بڑھ گئے لیکن جب آپ مدظلہ الاقدس چند قدم آگے گئے تو آپ کے دل میں خیال کوندا کہ یہ شخص میری اندرونی حالت سے کیسے واقف ہے؟ آپ یکدم واپس پلٹے اور اس شخص کی تلاش میں واپس پہنچے تو وہ شخص غائب ہو چکا تھا اور لوگوں سے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ اس حلیہ کا شخص تو انہوں نے دیکھا ہی نہیں۔
بیٹی کے انتقال کے بعد جو تبدیلیاں آپ مدظلہ الاقدس کے باطن میں کامل ہو چکی تھیں‘ ظاہر ہونے لگیں۔ مال و دولت ِ دنیا بالکل بے وقعت ہو گیا ، دِل میں اس خیال نے گھر کر لیا کہ کیا فائدہ ایسے مال کا جس کی کثرت بھی پیاری بیٹی کو نہ بچا سکا۔ اس حقیقی دولت یعنی قربِ خدا وندی کی طلب بڑھ گئی جو دائمی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کا زیادہ تر وقت عبادات و ریاضت میں گزرنے لگا۔ ان عبادات سے غرض اور طلب صرف قرب و معرفت ِ حق تعالیٰ تھی۔ عبادات و ریاضت میں اتنا مجاہدہ کیا کہ ایک وقت یہ بھی آپہنچا کہ چوبیس گھنٹوں میں صرف چھ گھنٹے آرام فرماتے اوراوقاتِ ملازمت کے سوا مسلسل مصروفِ عبادت رہتے۔ زہد و ریاضت کا یہ عالم تھا کہ ہزاروں کی تعداد میں درود شریف اور کلمہ شریف کا ورد فرماتے۔ اس مقصد کے لیے پانچ سو دانوں والی خصوصی تسبیح بنوائی ہوئی تھی۔ زہد و ریاضت کی کثرت سے آپ مدظلہ الاقدس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اور انگشت ِ شہادت پر تسبیح کی وجہ سے گٹھا پڑ گیا۔ کبھی کبھی گھٹن انتہا کو پہنچتی تو بے اختیار گھنٹوں روتے رہتے۔ اہلیہ محترمہ خیال کرتیں کہ شاید بیٹی کی یاد میں رو رہے ہیں۔
اتنی زیادہ کثرت سے زہد و ریاضت کے باوجود منزلِ مراد نظر نہ آرہی تھی۔ مارچ 1997 کا واقعہ ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس ایک کتاب کا مطالعہ فرما رہے تھے، اس کتاب میں آپ نے یہ عبارت پڑھی ’’حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام خاتونِ جنت حضرت سیّدۃ النساء رضی اللہ عنہا کو کبھی انکار نہیں فرماتے تھے۔ حتیٰ کہ جب امہات المومنین رضی اللہ عنہما میں سے کسی کو یہ خدشہ ہوتا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اُن کی کسی بات کو منظور نہ فرمائیں گے تو سیّدہ کائنات رضی اللہ عنہا کے وسیلہ سے وہ معاملہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں پیش فرماتیں تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اُسے منظور فرما لیتے۔‘‘ اس عبارت کو پڑھنے کے بعد آپ مدظلہ الاقدس روزانہ جتنی عبادت فرماتے اس کا ثواب سیّدہ کائنات سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا ‘ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کی بارگاہ میں ہدیہ فرما دیتے اور یہ دعا فرماتے:
’’یا سیّدہ کائنات رضی اللہ عنہا آپ کا یہ گنہگار غلام آپ رضی اللہ عنہا کی بارگاہ میں اپنی معمولی سی عبادت کا نذرانہ پیش کر رہا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا کو ہماری عبادت کے ثواب کی حاجت نہیں ہے۔ ہم تو خود آپ ؓ کے گھرانہ کی شفاعت اور کرم کے محتاج ہیں۔ یہ ثواب تو صرف ایک گدا کی آپ ؓ کے در پر صدا ہے۔ جس طرح ظاہری حیات میں کوئی سوالی آپؓ کے در پر حاضر ہو کر صدا دیتا اور خالی ہاتھ نہ جاتا تھا‘ اسی طرح باطنی حیات میں بھی یہ گدا آپ رضی اللہ عنہا کے در سے خالی نہ جائے گا۔ آپ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں میری سفارش فرمائیں کہ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے اس غلام کو وہ راہ عطا فرمائیں جس راہ پر چلنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہوا اور مجھے یقین ِ کامل ہے کہ یہ گدا آپ رضی اللہ عنہا کے در سے خالی واپس نہیں جائے گا کیونکہ گدا کو خالی ہاتھ واپس جانے دینا آپ رضی اللہ عنہا کے گھرانے کی رِیت ہی نہیں ہے۔‘‘
چند الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ یہی دعا آپ مد ظلہ الاقدس کی زندگی کا حصہ بن گئی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس وقت نہ تو آپ کو فقر کے بارے میں کچھ معلوم تھا اور نہ ہی یہ معلوم تھا کہ فقر خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کے وسیلہ سے حاصل ہوتا ہے جیسا کہ سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ جامع الاسرار میں فرماتے ہیں’’حضرت فاطمتہ الزہرا ( رضی اللہ عنہا) فقر کی پَلی ہوئی ہیں اور انہیں فقر حاصل ہے۔ جو شخص فقر تک پہنچتا ہے انہی کے وسیلہ سے پہنچتا ہے۔‘‘یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل اور توفیق تھی جس نے آپ کے لبوں اور قلب پر یہ دعا اور طریقہ جاری کر دیا۔اور یوں آپ بغیر کسی علم کے ان کے در تک پہنچ گئے جن کے وسیلہ سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فقر عطا فرماتے ہیں۔