Tajdeed-e-Islam

تجدیدِ اسلام

تجدیدِ اسلام

* اسلام حکمرانوں سے نافذ نہیں ہوسکتا۔ اسلام تب تک نافذ نہیں ہوتا جب تک قوم اس کے لیے تیار نہ ہو۔ پہلے ہمیشہ تہہ اور بنیاد سے درستگی اور تعمیر کا کام شروع ہوتا ہے پھر اوپر کا حصہ ٹھیک کیا جاتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا طریقہ بھی یہی تھا۔
* اسلام ایک قوت بن کر تب ہی اُبھرے گا جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طریقہ کے مطابق قوم ٹھیک ہوگی۔ جب قوم ٹھیک ہو کر قوت بن جائے گی تو غلط حکمرانوں کو خود ہی نکال باہر کرے گی۔
* کوئی ایسا مجدد جو دین کی روح کو جدیدیت کے اندر داخل کر سکے‘ ہی اس نظام کو دوبارہ کھڑا کرسکتا ہے۔ مجدد وہ ہوتا ہے جسے اللہ علمِ لدنیّ عطا کرے اور وہ اسی علم کے مطابق دین کی تجدید کرتا ہے ۔اللہ اس کی بات خود لوگوں سے منوا لیتا ہے۔ وہ جدید دور کے مطابق اسلام کو زندہ کرے اور ایسا نظام لائے جو تمام دنیا کے انسانوں کے لیے کشش رکھتا ہو تب ہی اسلام کو ساری دنیا میں عروج حاصل ہو سکتا ہے۔
* اُمت مسلمہ کی بھلائی کے متعلق غوروتفکر اور عمل کرنا سب سے بڑی سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے لیکن اس سنت کو ادا کرنے کے لیے پہلے خود کو سنوارنا اور اپنا تزکیہ نفس و تصفیہ قلب کرانا ضروری ہے۔ اس کے بغیر یہ سنت صحیح طور پر ادا نہیں ہوسکتی۔
* جب اللہ نظام بدلنے لگتا ہے تو جو خباثتیں خفی ہوتی ہیں وہ بھی ظاہر ہو جاتی ہیں۔
* اگر مسلمان توحید یعنی ایمان بالقلب پر پہنچ جائیں تو اللہ انہیں بڑی بڑی دشمن قوتوں کو تباہ کر دینے کی قوت عطا کر دیتا ہے۔
* جب بڑی طاقت سے بڑی طاقت ٹکراتی ہے تو ہی چھوٹی طاقت ظاہر ہوتی ہے۔
* جو قوم بے حس ہو جائے وہ عذابِ الٰہی کو بھی عذاب نہیں سمجھتی۔ خواہ زبان سے کہتی رہے لیکن دل سے نہیں مانتی۔ اگر مانتی تو ضرور خود کو سدھار لیتی۔
* شخصیت پرستی بت پرستی سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے اور قوم کے زوال کا سب سے بڑا سبب بنتی ہے۔ بت کچھ نہیں مانگتا لیکن شخصیت سب کچھ لے لیتی ہے۔
* حکمران عوام کا آئینہ ہوتے ہیں۔
* اُمت کا المیہ یہ ہے کہ دین فرقہ پرست مُلّاؤں کے حوالے کر دیا اور دنیا ملحد حکمرانوں کے۔