Sultan-ul-azakar-hoo

سلطان الاذکار’ ھو‘

سلطان الاذکار’ ھو‘

* ذکرِ یاھُو کے بغیر ھُو کا راز نہیں ملتا۔
* جب تک بندہ’’ ھُو‘‘ کے مقام پر نہیں پہنچتا تب تک نہ اللہ کو پہچان سکتا ہے نہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو۔
* اسمِ اللہ ذات وہ آئینہ ہے جس سے حق تعالیٰ خود اپنے آپ کو دیکھتا ہے۔ جو اسمِ اللہ ذات کا لباس پہن لیتا ہے وہ ’’ھُو‘‘ کا نشان ہو جاتا ہے اور وہ ذات و صفات میں ھُو کی نمائندگی کرتا ہے۔ 
* ذکر کرنے سے ذکر کی منازل طے ہوتی ہیں لیکن ھُو ابتدا سے انتہا تک ھُو ہی رہتا ہے۔
* سب سے بہتر ذکر ،ذکرِ خفّی ہے۔ذکرِ خفّی ایسا ذکر ہے جس سے دِل مطمئن ہو جاتا ہے۔