Muntaqli-Amnat-e-Elaheya

سلطان العاشقین سلطان محمد نجیب الرحمن کو منتقلی امانتِ الٰہیہ/امانتِ فقر

منتقلی امانتِ الٰہیہ

سلطان الفقر پنجم سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کو اپنی حیاتِ مبارکہ میں ایسا کوئی طالب نہ ملا جس کو ’’امانت ‘‘ منتقل کی جاتی تو آپ رحمتہ اللہ علیہ اس جہانِ فانی سے امانت منتقل کیے بغیر ہی وصال فرماگئے ۔پھر فقر کے مختارِ کُل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ سے تقریباً139 سال بعد(12ربیع الاوّل 1241ھ۔ 24اکتوبر1825ء بروز سوموار) سیّد محمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو بھیجا گیا جن کو سلطان الفقر (پنجم) سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے امانتِ فقر منتقل فرمائی اور یہ معاملہ طے پاگیا کہ حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سے ’’امانت‘‘ حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ رحمتہ اللہ علیہ کو اور اُن سے شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان سیّد پیر محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدی رحمتہ اللہ علیہکو، اُن سے سلطان الاولیا حضرت سخی سلطان محمد عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ کو منتقل ہوگی اور پھر سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغرعلی رحمتہ اللہ علیہ پر کامل اور مکمل ہو کر دوبارہ فقر کے مختارِ کُل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف لوٹ جائے گی اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ سے ’’امانت‘‘ ایک بار پھر اسی طریق پرمنتقل ہوگی جس طریق پر سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ سے حضرت سخی سلطان سیّدمحمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو منتقل ہوئی تھی۔
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی 1998ء میں اس کا اشارہ فرما دیا تھا۔ 1997ء میں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے دوسرا نکاح فرمایا تھا اور 1998 کے اوائل میں مائی صاحبہ امید سے ہوئیں تو سلطان الفقر ششم رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:
’’امانت کا حقدار آگیا ہے جو پیدائشی ولی کامل ہوگا اور ہم بھی اُسے حضرت صاحب کہہ کر پکاریں گے اور جو کوئی اس کی دست یا قدم بوسی کرتے وقت جو خواہش کرے گا‘ پوری ہوگی اور تمام اندھیرے چھٹ جائیں گے۔‘‘ 
یہ طالبانِ مولیٰ اور مریدین کا ایک سخت اور جان لیوا امتحان تھا۔ اس امتحان میں چند ایک طالب ہی پورے اتر پائے۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک بار یہ بات فرما کر خاموشی اختیار فرمالی لیکن اصلاحی جماعت میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا کہ اس نئی ہستی کے پیدا ہوتے ہی جماعت اور جماعت کے منسلکین کے حالات یکسر تبدیل ہو جائیں گے اور ملک اور دنیا میں ایک انقلاب برپا ہو جائے گا اور بعض نے تو یہ بھی بحث شروع کر دی کہ وہی سلطان الفقر (ہفتم) ہوگا۔ پھر کیا تھا‘ 9 ماہ تک وہ طوفان برپا رہا جس کو تحریر کرنا مشکل ہے۔سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے تمام مریدین کا ظاہر و باطن اپنے مرشد سے ہٹ کر نئے آنے والے کی طرف متوجہ ہوگیا۔ 
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ابھی نئے نئے دستِ بیعت ہوئے تھے۔ ایک بارایک ساتھی نے جب اس بارے میںآپ سے گفتگو شروع کی تو آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا ’’بھائی پہلی بات تو یہ کہ مرشد ایک ہی ہوتا ہے اور مجھے چالیس سال کی عمر میں بڑی مشکل اورجہدو جہد سے مرشد ملا ہے۔مجھے جو کچھ حاصل ہونا ہے اسی سے حاصل ہونا ہے‘ میرے مرشد کے علاوہ دوسرا جو کوئی بھی ہے وہ میرے لیے غیر ہے۔ نیا آنے والا کب آئے گا؟ کب جوان ہوگا؟ ہو سکتا ہے اس وقت تک میں زندہ رہوں یا نہ رہوں۔ اس لیے میرے لیے وہی کافی ہے جس کے دستِ مبارک پر میں نے بیعت کی ہے۔‘‘
اصل میں ہو یہ رہا تھا کہ فقیرِ کامل اکمل سروری قادری یہ بات کر کے اپنے مریدین اور طالبانِ مولیٰ کا قلبی امتحان لے رہا تھا کہ کون کون سے طالب یہ بات سن کر اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے اپنے قلب کا رخ نئے آنے والے کی طرف کرلیتے ہیں اور اپنے مرشد کو اس قابل اور اہل ہی نہیں سمجھتے اور کون کون سے طالب صدق اور اخلاص والے ہیں‘ جو اس بات کی طرف توجہ نہ دیتے ہوئے قلبی طور پر اپنے مرشد کی طرف ہی متوجہ رہتے ہیں اور نئے آنے والے سے کوئی غرض نہیں رکھتے کیونکہ صاحبِ صدق طالبِ مولیٰ اپنے مرشد کے غیر کی طرف ظاہری اور باطنی طور پر کبھی متوجہ نہیں ہوتا۔ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی ایک بات کے ذریعے صاحبِ صدق طالبانِ مولیٰ اور ناقص‘ خواہشات کے غلام نام نہاد طالبانِ مولیٰ کو علیحدہ علیحدہ کر لیا۔
پھر وہی ہوا جس کا اظہارسلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے کیا تھا۔ 12 اکتوبر 1998 ء(20 جمادی الثانی 1419ھ) بروز سوموار سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں فرزند کی بجائے صاحبزادی عائشہ بی بی کی ولادت لاہور میں ہوئی۔ اس وقت آپ رحمتہ اللہ علیہ داروغہ والا میں محمد الیاس کے گھر موجود تھے اور محمد الیاس نے ہی سب سے پہلے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو صاحبزادی کی ولادت کی اطلاع دی۔
اس وقت اس گروہ کی حالت دیدنی تھی جو اپنے مرشد کامل اکمل سے نگاہ و قلب ہٹا کر کسی اور ولی کامل مہدی برحق کی ولادت کے انتظار میں تھے اور انہوں نے 9 ماہ پورے ملک میں ہنگامہ برپا کیے رکھا تھا اور جو بھی اُن سے اختلاف کرتا اُسے لینے کے دینے پڑجاتے تھے۔ 12 اکتوبر 1998ء ان کے لیے ایک تکلیف دہ دن تھا۔ کسی کے سینے میں تکلیف شروع ہو چکی تھی ،کسی کا چہرہ اترا ہوا سیاہی مائل ہو چکا تھا ، کوئی لوگوں سے منہ چھپاتا پھر رہا تھا اور کسی کا ایمان باطنی طور پر سلب ہو چکا تھا اور کئی ایسے خواہشات کے غلام تھے جو بداعتقاد ہو چکے تھے۔
سب سے پہلے سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی  رحمتہ اللہ علیہ  نے سید امیر خان نیازی مرحوم کو کمرے میں بلایا اور اُن سے فرمایا : 
’’امانت وڈے گھر چلی گئی اے‘‘
یعنی امانت بڑے گھر چلی گئی ہے۔
کافی عرصہ بعد سید امیر خان نیازی نے مخصوص مقاصد کے لیے اس فقرہ کی یہ شرح شروع کر دی کہ ’’بڑے گھر‘‘ سے مراد بڑی مائی صاحبہ (پہلی اہلیہ محترمہ) کا گھر ہے اور امانت اب اس گھر چلی گئی ہے ۔جبکہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی شرح یہ تھی کہ امانت کے بڑے گھر سے مراد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات پاک اور گھرانہ ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی فقر ہیں‘ آپ ہی سے فقر ہے اور آپ ہی فقر کے مختارِکُل ہیں جس کو چاہیں عطا کردیں ۔ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اپنے رویہ سے کبھی نیازی صاحب کے نظریہ کی تائید نہ کی تھی ۔
سید امیر خان نیازی مرحوم کے بعد سلطان الفقر ششم رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے عاشق و محبوبِ خاص سلطان العاشقین سلطان محمد نجیب الرحمن کو کمرے میں بلایا، اُن کے ساتھ ساجد حسین نامی ایک ساتھی اور بھی تھا،آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ’’امانت کہیں اور چلی گئی ہے۔‘‘
اس واقعہ سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغرعلی رحمتہ اللہ علیہ سلطان الفقر پنجم سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے نقشِ قدم پر تھے اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے بعد امانت دوبارہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات کی طرف لوٹ گئی تھی۔ یہ بات اس لیے بھی ثابت و درست ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ بھی سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی طرح بیس سال (اپریل 1981ء ۔ 2001ء) تک محرمِ راز اور اس طالبِ مولیٰ کی تلاش میں رہے جو امانتِ الٰہیہ کا حامل بننے کے لائق ہو تاکہ امانتِ الٰہی اس کے سپرد کرکے اپنے فرض سے سبکدوش ہو جائیں۔ اس سلسلہ میں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک ایک طالب پر شدید محنت کی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے 13اپریل 1981کو مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالی اور فقر کی تعلیمات کو عام کرنے اور طالبانِ مولیٰ کے تزکیہ نفس کے لیے 27فروری 1989کو اصلاحی جماعت کی بنیاد رکھی۔ 1994تک آپ رحمتہ اللہ علیہ تندہی سے فقر کی تعلیمات کے مطابق لوگوں کے زنگ آلود قلوب کو نورِ الٰہی سے منور کرتے رہے۔ اس کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ نے منتخب شدہ سالکین کو فقر کے مختارِ کُل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں پیش فرمانا شروع کیا۔
* چودہ سال کی شبانہ روز محنت کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ منتخب طالبانِ مولیٰ اور اپنے خاندان کے افراد کے ہمراہ 20رمضان المبارک1415ھ (20فروری تا3مارچ 1995) عمرہ کے لیے تشریف لے گئے۔ عمرہ کی ادائیگی کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ مکہ سے مدینہ منورہ پہنچے اور اِن سب کو فقر کے مختارِ کُل حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کی بارگاہ میں انتخاب کے لیے پیش کر دیا لیکن اِن سب کی طلب اور دعا ہی دنیا تھی اس لیے کوئی بھی بارگاہِ فقر میں شرفِ قبولیت حاصل نہ کر سکا۔ اس واقعہ سے سلطان الفقر ششم رحمتہ اللہ علیہ کو شدید ذہنی صدمہ پہنچا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ ظاہری طور پر بہت سی بیماریوں شوگر اور بلڈ پریشر وغیرہ میں مبتلا ہوگئے۔
* سال 1996ء میں آپ رحمتہ اللہ علیہ 20رمضان المبارک1416ھ(10فروری تا2مارچ 1996ء) دوبارہ انتخاب کردہ مریدین اور طالبانِ مولیٰ کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے تشریف لے گئے۔ حسبِ سابق عمرہ کی ادائیگی کے بعد مدینہ شریف پہنچے اور روضۂ مبارک پر ان سب کو پیش فرمایا۔لیکن ان میں سے بھی کوئی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معیار پر پورا نہ اتر سکا۔
* آپ رحمتہ اللہ علیہ نے پھرطالبانِ مولیٰ کی سال بھر تربیت فرمائی اوران میں سے منتخب کردہ طالبانِ مولیٰ کے ساتھ 20 رمضان المبارک 1417ھ (30جنوری تا 20فروری 1997ء)کو تیسرے عمرہ کے لیے تشریف لے گئے ۔ عمرہ کی ادائیگی کے بعد مدینہ شریف پہنچے لیکن بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے حکم ہوا کہ ان میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو فقر کے انتہائی مقام کے قابل ہو۔ یہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا تیسرا عمرہ مبارک تھا۔ اس کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس وقت تک عمرہ یا حج کا ارادہ ملتوی فرمادیا جب تک حقیقی محرمِ راز نہ مل جائے اور اُسے اچھی طرح کندن نہ بنالیا جائے۔
* اسکے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ نے پاکستان میں ہی دو افراد کو منتخب فرمایا اور ایک کو خلافت بھی عطا فرمائی دوسرا اس وقت ملک کا حکمران تھا۔لیکن اُن دونوں کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں پیش کرنے کی نوبت ہی نہ آئی۔ حکمران نے تو اس طرف توجہ ہی نہ دی اور دوسرے حضرت یہاں ہی ظاہری خلافت نہ سنبھال سکے باطنی امانت کی حفاظت کے قابل کیا ہوتے ۔
* اسی دوران 12 اپریل1998ء (14 ذوالحجہ 1418ھ) کو سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس آپ رحمتہ اللہ علیہ کی غلامی میں پہنچ گئے۔ نگاہ سے نگاہ ملی اور یار نے یار کو پہچان لیا اور پھر آپ رحمتہ اللہ علیہ کی غلامی ہی آپ مدظلہ الاقدس کا مقصدِ حیات بن گیا۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے مرشد پاک کی ذات میں یوں فنا ہوئے کہ اپنے مرشد کی زندگی کا ہی ایک عکس بن کر رہ گئے اور ہر لمحۂ زندگی کو آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ڈیوٹی اور غلامی کے لیے وقف کر دیا۔ 1998ء سے2001ء تک سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو ظاہری اور باطنی طور پر بہت سی آزمائشوں میں سے گزارا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل اور توفیق کی بدولت آپ مدظلہ الاقدس ہر آزمائش اور امتحان میں پورا اترے۔ جب مرشد پاک نے ’’امانت کے وارث‘‘ کو اچھی طرح پرکھ لیا تو حج کا قصد فرمایا اور 28 فروری 2001 ء بروز بدھ آپ رحمتہ اللہ علیہ نو منتخب طالبانِ مولیٰ اور تین خواتین کے ہمراہ حج کے لیے تشریف لے گئے ۔ جدہ پہنچتے ہی سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی طبیعت شدید ناساز ہوگئی۔ نقاہت اتنی ہوگئی کہ چلنا مشکل تھا۔ تمام بیماریاں شوگر‘ بلڈپریشر بڑھ گئیں اور خاص کر پراسٹیٹ گلینڈ کی تکلیف اتنی شدت اختیار کر گئی کہ ہر دس پندرہ منٹ بعد پیشاب کی حاجت ہونے لگی۔ آپ  رحمتہ اللہ علیہ جب بھی کسی کو دیکھتے تو یہ شعر پڑھتے۔
اپنی موت سے آگاہ کوئی بشر نہیں                       ساماں سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
7 مارچ کو مکہ میں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے عاشق و محبوب سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو حکم فرمایا کہ ہمارے لیے کفن خریدا جائے اور اُسے آبِ زم زم سے دھو کر خانہ کعبہ سے مس کیا جائے کسی بھی وقت ضرورت پڑ سکتی ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی اس بات نے آپ مدظلہ الاقدس کے قدموں تلے سے زمین نکال دی اور ذہنی کوفت اور پریشانی میں مبتلا کردیا۔ ایک آپ رحمتہ اللہ علیہ کی نازک حالت اور اوپر سے یہ حکم۔ جب آپ مدظلہ الاقدس نے کفن خریدنے کے سلسلہ میں لیت و لعل سے کام لیا تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے حاجی محمد نواز کو فرمایا کہ کفن فوراً خریدا جائے یوں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے لیے کفن خرید لیا گیا۔ مرشد پاک کی اس حالت نے آپ مدظلہ الاقدس کو دہلا کر رکھ دیا اورمکہ میں قیام کے دوران‘ حطیم میں نوافل ادا کرتے ہوئے‘ میزابِ رحمت کے نیچے خانہ کعبہ سے لپٹ کر‘ ملتزم کے پاس‘ سعی صفا و مروہ کے دوران‘ منیٰ‘ عرفات اور مزدلفہ میں یہی ایک دعا آپ مدظلہ الاقدس نے مانگی:
’’یا اللہ تعالیٰ‘ یا میرے مالک یا میرے مولیٰ۔ میں غیب کا علم تو نہیں جانتا لیکن مرشد پاک کی طبیعت اور حالت دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُن کا وقتِ آخر آگیا ہے۔ اللہ پاک میں اپنی بقیہ زندگی تیری بارگاہ میں پیش کرتا ہوں ۔تو میری بقیہ زندگی میرے مرشد کو لگا دے اور اُن کی عمر بڑھا دے اور مجھے اُن کی جگہ اس دنیا سے اٹھا لے۔ بے شک اللہ تعالیٰ تو دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے اور تیرا یہ وعدہ ہے کہ یہ مقامات شعائر اللہ ہیں، یہاں پر دعائیں کبھی رد نہیں ہوتیں۔ اللہ پاک میرے مرشد پاک کو میری عمر لگا دے تاکہ اُن کو اتنی مہلت مل سکے کہ وہ مجدد کی حیثیت سے ظاہر ہو کر مسلم امہ میں فرقہ پرستی کا خاتمہ فرما کر اُن کو حق پر متحد فرماسکیں تاکہ عالمِ کفر مغلوب ہو اور دنیا میں خلافت کا نظام دوبارہ قائم ہو۔‘‘
حج کے دوران یہی دعا چند الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ آپ مدظلہ الاقدس کے دل اور زبان پر رہی اور اپنی زندگی مرشد پر نچھاور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے سپرد فرما دی۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو یوں بیان فرمایا ہے:
کیتی جان حوالے رب دے اساں ایسا عشق کمایا ھُو
مفہوم: ہم نے اپنی زندگی اور جان کو اللہ تعالیٰ کے حوالہ کر کے عشق کی حقیقت کو ثابت کیا ہے۔
9 مارچ 2001ء کو حج سے فراغت ہوچکی تھی اور 17 مارچ بعد نمازِ عشاء مکہ سے مدینہ شریف روانگی کا شیڈول تھا لیکن سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ مدینہ شریف پہنچنے کے لیے اتنے بے چین تھے کہ بار بار دریافت فرماتے کہ مدینہ شریف کب پہنچیں گے اور حاجی محمد نواز اور احمد بخش کو حکم دیا کہ کوشش کریں کہ 17 مارچ سے قبل روانگی ہو جائے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ 17 مارچ بعد نمازِ عشاء ہی مدینہ شریف کو روانگی کا شیڈول برقرار رہا۔ اس دوران آپ رحمتہ اللہ علیہ بہت بے چین رہے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ جلد از جلد آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہو کر کوئی معاملہ پیش کرنا چاہتے ہیں۔ جوں جوں دن گزرتے جارہے تھے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی طبیعت کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی اور صحت تھی کہ درست ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ آخرکار 18 مارچ 2001ء کو مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ 
مدینہ شریف پہنچ کرسلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں وہی دعا رہی جو مکہ شریف میں تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ مکہ میں آپ مدظلہ الاقدس نے اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کے حوالہ کی تھی اور مدینہ شریف میں آپ نے اپنی زندگی آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سپرد فرما دی کہ آپ کی زندگی لے کر آپ کے مرشد پاک کی عمر بڑھا دی جائے۔ پھر 21 مارچ 2001ء کو آخر کار وہ دن آگیا جس کا آپ مدظلہ الاقدس کے مرشدپاک سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ بیس سال سے انتظار فرما رہے تھے کیونکہ ’’امانت‘‘ کی منتقلی کے لیے جس محرمِ راز کو منتخب کرکے آپ رحمتہ اللہ علیہ بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں تشریف لائے تھے وہ مقبول اور منظور ہوگیا۔ 
اس یادگار لمحہ کو سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمدنجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس کی اپنی زبان مبارک سے ملاحظہ فرمائیں: 
* ’’مرشد کریم سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ صاحب کے ہمراہ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر حاضری سب سے بڑی سعادت اور خوش نصیبی تھی۔ مجھے تو21مارچ 2001ء کا دِن نہیں بھولتا جب نمازِ مغرب کی ادائیگی کے بعد تمام ساتھی مختلف کاموں کے سلسلے میں اِدھر اُدھر چلے گئے اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ صرف میں رہ گیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے حکم فرمایا چلیں آقا پاکصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضری دے آئیں ۔ اس وقت باب السلام کے پاس رش اتنا زیادہ تھا کہ داخلہ مشکل ہو رہا تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو رش اور ہجوم سے بچانے کے لیے میں ساتھ ساتھ چلتے ہوئے راستہ بناتا گیا۔ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر اس دِن کی حاضری میری زندگی کا سب سے اہم واقعہ تھا۔ یوں محسوس ہورہا تھا کہ مجھ پر انوار و تجلیات کی بارش ہورہی ہے، آنسو میری آنکھوں سے جاری تھے۔ جیسے ہی مرشد کریم روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی جالی کے سامنے پہنچے تو اچانک آپ رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے والا آدمی جو کہ ویل چیئر پر سوار تھا، کی ویل چیئر کا پہیہ قالین میں پھنس گیا اور لائن رک گئی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے چہرہ مبارک روضۂ پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف کیا۔ اس وقت آپ رحمتہ اللہ علیہ کا چہرہ مبارک چاند سے زیادہ روشن نظر آرہا تھا۔ میری ایک نظر روضۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کودیکھتی اور پھر پلٹ کر آپ رحمتہ اللہ علیہ کے چہرہ مبارک پر پڑتی۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنا حسین منظر کبھی نہیں دیکھا۔ عجیب محویت کا عالم تھا ، اتنے میں روضۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے پاس کھڑے شُرطے (سپاہی)نے مرشد کریم کی طرف اشارہ کرکے لائنوں کے دوسری طرف کھڑے شُرطوں کو آواز دی یَاشَیْخٌ (یعنی لائن اِس شیخ کی وجہ سے رکی ہے)۔ سبحان اللہ اُن کے منہ سے بھی یا شیخ (مرشدِ کامل) نکل گیا۔ شُرطے لپک کر مرشد کریم کی طرف بڑھے تو اس وقت وہاں کھڑے ہزاروں لوگوں کی نگاہیں میرے مرشد کریم کی طرف اُٹھ گئیں۔ ہر آدمی محویت سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی طرف دیکھ رہاتھا یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ شُرطے نے بڑھ کر آپ رحمتہ اللہ علیہ کا بازو پکڑنا چاہا تو میں نے جلدی سے شُرطے کا ہاتھ پکڑ کر اس کو آگے ویل چیئر والے کی طرف متوجہ کیا اور کہا کہ لائن اس کی وجہ سے رکی ہوئی ہے۔ شُرطوں نے جلدی سے ویل چیئر کا پہیہ سیدھا کیا اور یوں لائن دوبارہ حرکت میں آئی۔
روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر حاضری کے بعد ہم بابِ جبرائیل کے قریب کچھ دیر رکے تو میں نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں عرض کی:
’’حضور عالمِ اسلام مختلف فرقوں میں بٹ چکا ہے، تمام لوگوں اور خاص کر ماڈرن تعلیم یافتہ لوگوں کی نظر حق کی طرف نہیں ہے، عالمِ اسلام کو عالمِ کفر نے متحد ہوکر گھیر رکھا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ مہربانی فرمائیں کہ اسلام کا بول بالا ہو اور شیطانی گروہ مغلوب ہو۔‘‘مرشدِ پاک نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور فرمایا :-
’’ہمیں تو دِل کا محرم مل گیا ہے۔ ‘‘
یعنی ہمارا معاملہ تو حل ہو گیا اور کام بھی ختم ہو گیا۔
وہیں پر آپ رحمتہ اللہ علیہ نے مجھ پر کرم اور مہربانی فرما دی اور باطنی طور پر سیراب کردیااور ساتھ ہی باطنی طور پر اس راز کو راز رکھنے کیلئے طاقت بھی عطا فرما دی، اس دن کے بعد سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کا چہرہ مبارک خوشی سے دمک اٹھا اور طبیعت ہشاش بشاش ہوگئی۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تمام بیماریاں اور پریشانیاں ختم ہو گئی ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا’’ہم جس مقصد کے لئے آقا پاک صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی بارگاہ میں آئے تھے وہ پورا ہو گیا اور اس عظیم مقصد کے طفیل جو ساتھی جو جو مراد لے کر آیا تھا خواہ وہ دنیا کی ہو یا آخرت کی اسکی وہ مراد بھی پوری ہوگئی۔‘‘ اور یہ اس خادم نے ہوتا بھی دیکھا کہ جو کاروبار کی ترقی کے لیے ساتھ گیا تھا اس کا کاروبار چمک اٹھا اور جو بھی جس مقصد کے لیے گیا حج کے بعد اس کا مقصد پورا ہو گیا۔ ظاہری طور پرایسا محسوس ہوتا تھا جیسے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے سر سے بہت بڑی ذمہ داری اور کوئی بھاری بوجھ اُتر گیا ہو۔‘‘(سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی ؒ حیات و تعلیمات)
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو امانتِ الٰہیہ سونپنے کے لیے بارگاہِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے منتخب تو کر لیا گیا تھا لیکن ابھی آپ مدظلہ الاقدس کی مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالنے کے لیے تربیت باقی تھی۔ یہ تربیت باطن میں بھی ہونا تھی اور ظاہر ی طور پر بھی اسکے لیے سلطان الفقر ششم رحمتہ اللہ علیہ نے آپ مدظلہ الاقدس کو مزید امتحانات اور آزمائشوں سے گزارا۔اس تربیت کے دوران سلطان الفقر ششم رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے محرم راز کے لیے ایک نیا باطنی طریقہ ترتیب دیا کہ جو بات آپ رحمتہ اللہ علیہ ظاہری طور پر آپ مدظلہ الاقدس سے نہ فرما سکتے تھے وہ راز داری سے آپ تک پہنچانے کے لیے آپ کو پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے دربار پر دعوت پڑھنے کا حکم دیا۔ اس دعوت کے دوران آپ مدظلہ الاقدس کو باطنی طور پر تمام معاملات سے آگاہ کر دیا جاتا اور اس باطنی آگاہی کی تصدیق سلطان الفقر ششم رحمتہ اللہ علیہ اس طرح فرماتے کہ جب آپ مدظلہ الاقدس دعوت پڑھنے کے بعد مرشد کریم سے ملنے جاتے تو وہ دست بوسی کے وقت آپ مدظلہ الاقدس کا ہاتھ ہلکے سے دبا دیتے۔
ظاہری طور پر تربیت اور آزمائش کے لیے سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نیسب سے پہلے 19 نومبر 2001 ء(3 رمضان 1422ھ) کو آپ مدظلہ الاقدس کو ’’مکتبہ العارفین‘‘ (شعبہ نشر و اشاعت) کا سربراہ مقرر فرما دیا حالانکہ اس سے قبل 1994ء سے یہ شعبہ سید امیر خاں نیازی کی سربراہی میں کام کر رہا تھا۔ یہ آپ مدظلہ الاقدس کی ایک بہت بڑی آزمائش تھی، آپ کے بالمقابل بڑے آزمودہ کار اور جماعت کے پرانے لوگ تھے۔ آپ مدظلہ الاقدس کو اس سلسلہ میں کافی ڈرانے کی کوشش بھی کی گئی۔ بڑی آزمائشوں میں ڈال کر مرشد صرف یہ پرکھتا ہے کہ طالب راستہ کے ان بتوں سے خوف زدہ ہو جاتا ہے یا پھر مرشد کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے کامیاب ہوتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے بڑی کامیابی اور کامرانی سے 12۔ 13 اپریل2002ء کے میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ’’حقیقت اسمِ اللہ ذات‘‘ شائع کروائی اور پھر         14 اگست 2002ء (4 جمادی الثانی 1423ھ) بروز بدھ عرس سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے موقع پر مرشد پاک کی بارگاہ میں بہت سی کتب اور شائع شدہ مواد پیش کیا جس کی خبر ’’ماہنامہ مرآۃ العارفین‘‘ کے شمارہ ستمبر 2002 ء میں شائع ہوئی جس کو ذیل میں ہوبہو نقل کیا جارہا ہے:
* عالمی تنظیم العارفین کا شعبہ نشر و اشاعت’’ مکتبہ العارفین‘‘ ہے جو اپنی دن رات کی جدوجہد سے سلطان الفقر کے تعارف اور ترویج و ترقی تنظیم کے لیے لٹریچر شائع کر رہا ہے۔ چیف ایگزیکٹو مکتبہ العارفین نجیب الرحمن صاحب نے عرس مبارک کے موقع پر مکتبہ العارفین کا سٹال لگانے سے قبل 14 اگست کے روز دربارِ عالیہ پر مرشد کامل اکمل سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی صاحب مدظلہ الاقدس کی خدمت میں نئی شائع شدہ کتب و دیگر اشیا پیش کیں جن میں کتاب مرشد کامل‘ شان سلطان الفقر مع رسالہ روحی شریف‘ ابیات و سوانح حیات حضرت سلطان باھُوؒ ‘ ابیات باھوؒ ‘پوسٹر‘ چھوٹی تصاویر‘ کی رنگ اور کیلنڈر شامل تھے ۔ مرشد پاک نے تمام اشیا کو پسند فرمایا۔ (صفحہ 45)
یوں آپ مدظلہ الاقدس تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اپنے مرشد پاک کی بارگاہ میں اس امتحان میں کامیاب ہوئے اور جماعت میں ہر طرف ’’مکتبہ العارفین‘‘ کی دھوم مچ گئی۔پرانا شعبہ پسِ پردہ چلا گیا اور آخرکار وہ شعبہ بھی مکتبہ العارفین میں ضم ہوگیا۔ 
نومبر 2001 ء بروز بدھ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے امانتِ الٰہیہ کے وارث سلطان العاشقین حضرت سخی سلطا ن محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کاضلع لاہور کا سرپرست مقرر فرمایااور خود اس کے معاملات سے الگ ہو کر آپ مدظلہ الاقدس کی کارکردگی کا خاموشی سے جائزہ لینے لگے۔
آپ مدظلہ الاقدس نے اپنے مرشد پاک کے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق کام کا آغاز کیا اور چھ ماہ کی شبانہ روز محنت سے مبلیغین کی ایک ٹیم تیار کی اور انہیں تبلیغ کے جدید طریقہ کار کی تربیت دی۔ اس سلسلے میں آپ نے ضلع لاہور سے اُن صدور(مبلغین) کا انتخاب فرمایا جو غیر معروف تھے یاجنہیں تنظیم کے گزشتہ سربراہان نے نظر انداز کر رکھا تھا۔ اُن کی تربیت توحید کی بنیاد پر فرمائی اور اُن سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ آپ لوگ جماعت میں کوئی شہرت نہیں رکھتے اور غیر معروف ہیں لیکن اللہ تعالیٰ پر توکل اور کسی غرض اور خواہش کے بغیر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جب کام کریں گے تو کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ آپ کا کام صرف تبلیغِ دین اور لوگوں کو معرفت الی اللہ کی طرف بلانا اور اس کی دعوت دینا ہے۔ تنظیمی معاملات تنظیم کے عہدیداروں کا کام ہے۔ ‘‘آپ مدظلہ الاقدس نے انہیں عزت نفس اور بہترین ماحول مہیا فرمایا۔
آپ مدظلہ الاقدس نے تبلیغ کا منفرد انداز اختیار کیا۔ مسجدوں کے ساتھ ساتھ بازاروں اور شاپنگ مالز کا بھی رخ کیا۔ آپ مدظلہ الاقدس کے موثراندازِ تبلیغ کی وجہ سے لوگ دھڑا دھڑ دعوتِ فقر قبول کرنے لگے اور ہر ہفتہ ایک یا دو بسیں لوگوں سے لدی ہوئی بیعت ہونے اور اسمِ اللہ ذات کا فیض حاصل کرنے کے لیے سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں روانہ ہونے لگیں۔ 
آپ مدظلہ الاقدس نے اس تحریک کو ’’تحریک سلطان الفقر‘‘ کا نام دیا۔ آپ مدظلہ الاقدس کی اس تحریک کی کامیابی کا نتیجہ یہ نکلا کہ پورے ملک کی تنظیموں نے آپ کی پیروی کرتے ہوئے یہی طریقہ کار اختیار کر لیا اور یوں اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین آپ مدظلہ الاقدس کی قیادت میں متحد ہوگئی۔ 
اس تحریک کی سرگرمیاں ماہنامہ مراۃ العارفین لاہور میں باقاعدگی سے شائع ہوتی رہیں جن میں سے چند ایک درج کی جارہی ہیں:

ماہنامہ مراۃ العارفین شمارہ جولائی2002ء کی رپورٹ

* مرکزی سالانہ میلادِ مصطفی (12۔ 13 اپریل 2002ء) سے قبل حضور مرشد پاک سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی صاحب مدظلہ العالی نے ضلع لاہور کی تنظیم نو فرمائی اور نجیب الرحمن سروری قادری کو سرپرست مقرر فرمایا۔ مرکزی سالانہ میلاد مصطفی (12۔ 13 اپریل) کے فوراً بعد یہ طے کیا گیا کہ تنظیم کا کام ایک نئے جوش و جذبہ اور حضور مرشد پاک کے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق کیا جائے۔ اس سلسلہ میں تنظیم کا ایک اجلاس طلب کیا گیا جس کی صدارت ضلعی سرپرست نجیب الرحمن سروری قادری نے کی۔ اجلاس کی کاروائی کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جنرل سیکرٹری صاحب نے تنظیمی پالیسی پر نئے جذبہ سے کام کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایجنڈا پیش کیا اور بعدازاں ضلعی سرپرست نجیب الرحمن سروری قادری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
1. ہمارا مشن و مقصد پوری دنیا میں لوگوں کو دعوت الی اللہ دینا اور معرفت اللہ کے لیے بلانا ہے۔
2. حضور مرشد پاک کے طے کردہ طریقہ کار کے مطابق تنظیم کا کام تنظیمی معاملات کو طے کرنا اور صدر صاحبان کو تبلیغ دین کے لیے متحرک رکھنا ہے اور صدور صاحبان کا کام صرف تبلیغ دین اور لوگوں کو معرفتِ الی اللہ کی طرف بلانا اور اس کی دعوت دینا ہے۔
3. تمام پیر بھائی و ارکان اپنی اپنی جگہ متحرک ہوں اور پورے زور و شور‘ شوق و جذبہ سے تنظیم کے لیے کام کریں۔ اپنے علاقے میں صدور صاحبان کے تبلیغی دورے اور میلاد پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پروگرام رکھیں۔
4. ہماری تمام تر کامیابی حضور مرشد پاک کے طفیل ان کی نظر کرم سے ہے۔ اس لیے کوشش کریں کہ نئے لوگوں کو دعوت دیں اور ان پیر بھائیوں سے رابطہ کریں جن سے رابطہ نہیں یا بہت کم ہے۔ ان سب کو تیار کر کے ہر پندرہ دن بعد مرشد پاک کی بارگاہ میں زیارت اور حاضری کے لیے لے جائیں تاکہ تمام ساتھیوں کے دل میں عشق و محبت سے کام کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔
5. تنظیمی ارکان و عہدیداران تنظیم کے لیے مرکزی وضلعی ضروریات پر فنڈز مہیا کریں گے جس کے لیے ان کے پاس ضلعی سرپرست کا خط بھیجا جائے گا۔
6. مکتبہ العارفین سے شائع شدہ لٹریچر اور تنظیم العارفین کے ترجمان رسالہ ’’مراۃ العارفین‘‘ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں تاکہ لوگ تنظیم کے مشن اور تعلیماتِ اولیا سے خاطر خواہ فائدہ حاصل کریں اور جلد مشن کی تکمیل ہو۔
اس اجلاس کے بعد واقعی انقلابی کیفیت برپا ہوگئی جو ساتھی تنظیمی امور میں بہت کم دلچسپی لیتے تھے وہ بھی تنظیمی ارکان اور صدر صاحبان کا جذبہ اور محنت دیکھ کر تنظیمی کام کے لیے نکل پڑے اور ہر پیر بھائی اپنی جگہ متحرک ہوگیا۔ زیادہ نہیں تو کم از کم وہ اپنے مرشد پاک کا تعارف کروا کر لوگوں کو ان کی طرف دعوت دینے لگا اور یہی ایک سچے مرید کی پہچان ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے کئی لوگ مرشد پاک کی بارگاہ میں حاضری کے لیے اور تنظیمی کام کے لیے تیار ہو گئے۔ اجلاس کی کامیابی اور تنظیمی کام میں تیزی و ترقی کا اندازہ تنظیم کی ڈیڑھ ماہ کی کارکردگی سے باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔ (صفحہ37تا39)
* عید میلاد النبی ؐ کے موقع پر حضور مرشد پاک پیر سیّد بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے دربار پاک پر تشریف لائے ہوئے تھے۔ لاہور تنظیم کا چالیس نفوس پر مشتمل قافلہ ضلعی سرپرست نجیب الرحمن سروری قادری کی سرپرستی میں 24 مئی بروز جمعہ دفتر تنظیم العارفین ایجوکیشن ٹاؤن لاہور سے مغرب کے وقت روانہ ہوا۔ قافلہ ایک ائیرکنڈیشنڈ کوچ اور چار کاروں پر مشتمل تھا۔یہ قافلہ تقریباً 2 بجے دربار شریف پہنچا۔ مقامی ساتھیوں نے پورے قافلہ کے لیے بہترین رہائش کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ تمام ساتھیوں نے آرام کیا اور صبح حضور مرشد پاک کی بارگاہ میں حاضری دی۔شرفِ زیارت کے بعدپندرہ نئے ساتھیوں نے مرشد پاک کے ہاتھ مبارک پر بیعت کی اور اسم اللہ ذات حاصل کیا۔ عید میلاد النبی ؐ کا بابرکت دن صحبت مرشد میں گزارنے کے بعد اجازت لے کر بعد نمازِ مغرب قافلہ واپس لاہور روانہ ہوا۔ رات بارہ بجے سب بخوشی و سلامتی لاہورپہنچ گئے۔ (صفحہ39)
* 2 جون 2002ء بروز اتوار دفتر عالمی تنظیم العارفین ایجوکیشن ٹاؤن لاہور میں ضلعی تنظیم کے زیراہتمام ایک عظیم الشان میلاد شریف کا انعقاد کیا گیا۔ ضلعی سرپرست نجیب الرحمن سروری قادری کی زیرصدارت اس بابرکت پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت قاری محمد رمضان صاحب نے حاصل کی۔ حافظ محمد یونس نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیئے۔ حاجی محمد شاہد اسلام صاحب‘ محمد اشفاق اور دیگر ساتھیوں نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ آخر میں حاجی محمد نواز صاحب نے خطاب فرمایا۔مرشد کامل کی محبت‘ معرفت و پہچان پر گفتگو ہوئی۔ پھر ہفتہ کے دن مرشد پاک کی بارگاہ میں حاضری کے لیے سپیشل بس جانے کا اعلان کیا تو اسی وقت چالیس آدمیوں نے اپنے نام لکھوا دیئے۔ (صفحہ 40)
* 8 جون 2002ء بروز ہفتہ رات 11 بجے دفتر عالمی تنظیم العارفین ایجوکیشن ٹاؤن لاہور سے ڈیڑھ سو ساتھیوں پر مشتمل قافلہ تنظیمی عہدیداران کے ہمراہ اوچھالی وادی سون سیکسر کی طرف روانہ ہوا۔ قافلہ کی سرپرستی نجیب الرحمن سروری قادری سرپرست ضلعی تنظیم لاہور کر رہے تھے۔ دو بڑی ایئر کنڈیشنڈ بسوں سے بھی تعداد بڑھ چکی تھی۔ محبت اور جذبہ سے جانے والے کافی ساتھی لاہور سے اوچھالی تک بغیر سیٹ کے بھی سوار ہو گئے تھے۔ اتوار کے روز صبح 8 بجے یہ قافلہ مرشد پاک کی بارگاہ میں پہنچ گیا۔ پورے قافلے کے لیے علیحدہ کمرے میں آرام کا انتظام اور ناشتہ تیار تھا۔ ناشتہ سے ساتھی فارغ ہو ئے ہی تھے کہ مرشد پاک اپنے کمرہ میں تشریف لے آئے تو تمام ساتھیوں نے شرف زیارت حاصل کیا اور پینتیس نئے ساتھیوں نے بیعت کی سعادت اور اسم اللہ ذات حاصل کیا۔ نجیب الرحمن صاحب نے بعض ساتھیوں کے مسائل بیان کیے اور پھر پندرہ ساتھیوں کو تبلیغی تربیت کے لیے مرشد پاک کی بارگاہ میں پیش کیا۔ جن کو بعد میں ذمے والا کلور کوٹ روانہ کر دیا گیاحضور مرشد پاک نے لاہور تنظیم کی کارکردگی سے خوش ہو کر محمد صدیق (جہلم) اور محمد وسیم حیدر (اوچھالی) کی ڈیوٹی لاہور تنظیم میں لگا دی۔ (صفحہ 41)
* 16 جون بروز اتوار بعد نماز عصر تا عشاء دفتر عالمی تنظیم العارفین داروغہ والا لاہور میں میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اہتمام کیا گیا۔ ضلعی سرپرست نجیب الرحمن سروری قادری صاحب کی صدارت میں تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز کیا گیا۔ بارگاہِ رسالت میں ہدیہ نعت اور سلطان العارفین کے روح پر ور کلام سے قلوب منور اور محبتیں مچل اٹھیں۔ دور دور تک آواز سنتے ہی لوگ دفتر میں جمع ہوگئے۔ حتیٰ کہ دفتر کا کھلا صحن ہجوم سے بھر گیا اور لوگ گیٹ سے باہر گلی میں کھڑے ہو کر پروگرام سنتے رہے۔ آخر میں صاحبزادہ سلطان محمد معظم علی صاحب نے روحانی خطاب سے لوگوں کے قلوب کو منور فرمایا۔ اس پروگرام سے اہلِ علاقہ بہت خوش ہوئے۔داروغہ والا دفتر میں پروگرام کی اس قدر کامیابی تنظیمی ساتھیوں کی انتہائے شوق و جذبہ اور حضور مرشد پاک کی مہربانی کا نتیجہ ہے۔ اس پروگرام کے بعد 22 جون قافلہ اوچھالی کا اعلان کیا گیا تو پندرہ ساتھیوں نے اسی وقت اپنے نام لکھوا دیئے۔ (صفحہ41)
* 22 جون رات بارہ بجے لاہور سے ساٹھ افراد پر مشتمل ایئر کنڈیشنڈ کوچ اور شیخوپورہ سے تیس افراد پر مشتمل کوچ حضور مرشد پاک کی زیارت کے لیے اوچھالی شریف روانہ ہوئی۔ آہو باھو رحمتہ اللہ علیہ (کلر کہار) کے مقام پر دونوں قافلوں نے ایک ہو کر سفر جاری رکھا۔ قافلہ صبح سات بجے اوچھالی پہنچ گیا۔ ناشتہ سے فارغ ہو کر حضور مرشد پاک کی بارگاہ میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی۔ آپ نے بہت شفقت اور مہربانی فرمائی۔ اس موقع پر بیس افراد نے بیعت کی سعادت اور اسم اللہ ذات کی نعمت عظیم حاصل کی۔ سرپرست نجیب الرحمن کی قیادت میں قافلہ شام چھ بجے واپسی کے لیے روانہ ہوگیا۔
* ملک بھر میں عالمی تنظیم العارفین (لاہور) کے تنظیمی کام کو پسند کیا جارہا ہے اور تمام ضلعی تنظیموں نے لاہور تنظیم کے اختیار کردہ طریقہ کار اور کام کے انداز میں دلچسپی لینی اور رابطہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلہ میں سبقت شیخوپورہ کی تنظیم نے حاصل کی اور تہیہ کیا کہ ہر پندرہ دن یا مہینے کے بعد اس طرح کے قافلے ترتیب دیں گے۔ امید کی جاتی ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ نئے جوش و جذبے کے ساتھ پورے ملک میں تنظیمی کام شروع ہوجائے گا۔ (صفحہ 41)
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی کاوشوں کی بدولت ان کی زیرِ پرستی لاہور تنظیم کا نیا طریقۂ تبلیغ ملک میں بہت مقبول ہو رہا تھا اور ہر ضلع کی تنظیم کے منتخب شدہ لوگ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا شروع ہو چکے تھے۔ ملک بھر کی تمام تنظیمیں آپ مدظلہ الاقدس کی قیادت میں اکٹھی ہو رہی تھیں جیسا کہ ماہنامہ مراۃ العارفین کی ماہ اگست2002ء کی اشاعت میں صفحہ44پرشائع ہونے والی تنظیمی سرگرمیوں کی رپورٹ میں لکھا گیا ہے:

ماہنامہ مراۃ العارفین شمارہ اگست2002ء کی رپورٹ

* ضلعی تنظیم لاہور کے جدت پسندانہ طریقہ کار کو ملک بھر میں سراہا جارہا ہے۔ عالمی تنظیم العارفین کی ترویج و ترقی اور کارکنان کو ہر لمحہ متحرک‘ مصروف رکھنے کے لیے جو اصول و ضوابط ضلعی تنظیم لاہور نے ترتیب دیئے ہیں وہ یقیناًقابلِ عمل‘ قابلِ تقلید اور قابلِ ستائش ہیں۔اس میں خاص طور پر جو قابل ذکر بات ہے وہ مکتبہ العارفین اور مراۃ العارفین کی مارکیٹنگ ہے۔ صدورصاحبان(سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی قائم کردہ جماعت میں مبلغ کو ’صدر‘ کے نام سے مخاطب کیا جاتا تھا) نکلتے ہیں جن کا اصل مقصد لوگوں کو مرشد پاک کی زیارت اور ملاقات کی دعوت دینا ہوتا ہے۔لاہور تنظیم کی طرف سے فعال کیا جانے والا یہ شعبہ اس قدر کامیاب رہا اور نتائج اس قدر حوصلہ افزا ہیں کہ بیان سے باہر ہیں۔ صدر صاحبان مارکیٹوں اور بازاروں کے اندر مختلف لوگوں سے ملاقات کر کے ابتداًً کتب و پمفلٹ اور رسالہ کے متعلق تعارفی گفتگو کرتے ہیں پھر ساتھ ہی مخصوص انداز میں مرشد پاک کا تعارف کروا کر اسم اللہ ذات کی دعوت دیتے ہیں۔ جو مرشد پاک کی زیارت کے لیے تیار ہوتے ہیں‘ انہیں پندرہ روزہ قافلہ میں جانے کے لیے شامل کر لیا جاتا ہے۔ اس طرح پندرہ دن کے عرصہ میں چالیس پچاس ایسے آدمی تیار ہو جاتے ہیں جو بیعت اور اسم اللہ ذات کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ مراۃ العارفین جو تنظیم العارفین کا ترجمان رسالہ ہے، پندرہ سو سے دو ہزار تک لاہور شہر میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ اتنا عظیم کام دفتر عالمی تنظیم العارفین ایجوکیشن ٹاؤن لاہور سے صرف چار جماعتیں کر رہی ہیں۔ ایک جماعت دو آدمیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔
اس کامیابی پر ضلعی تنظیم لاہور کو مختلف اضلاع کے عہدیداران نے مبارک باد دی ہے ۔ 
یہ طریقہ اتنا مقبول ہو چکا ہے کہ مختلف اضلاع سے صدر صاحبان تربیت حاصل کرنے کے لیے لاہور دفتر میں آرہے ہیں۔ یہ ساتھی دفتر میں اس شعبہ میں مہارت کے لیے تربیت حاصل کر رہے ہیں:
1.صابر حسین (تلمبہ) 2محمد اکبر (ملتان) .3زاہد محمود (سیالکوٹ) .4امجدحسین(سیا لکوٹ )
ضلع لیہ سے مہر ساجد حسین اور جہلم سے ماسٹر محمد طارق صاحب نے بھی لاہور تنظیم سے رابطہ کیا ہے۔ چند دن بعد وہاں سے بھی دو دو آدمی مارکیٹنگ ٹریننگ کے لیے پہنچیں گے۔ لاہور تنظیم نے تمام ضلعی تنظیموں کو یہ پیشکش کر دی ہے کہ وہ پورے اعتماد کے ساتھ اپنے دو صدر بھیج کر مارکیٹنگ کے لیے ٹریننگ دلوا سکتے ہیں۔
علی خیل (بھکر) سے نیاز حسین صاحب اپنے خط میں لکھتے ہیں ’’لاہور شہر سے تنظیم العارفین کی نئی سرگرمیوں اور کوششوں پر بہت خوشی ہوئی ہے۔ انشاء اللہ ہم لوگ بھی آپ کے طریقہ کار کے مطابق اپنے علاقے میں کوشش جاری رکھیں گے تاکہ ہمارا وہ پاک مشن جناب مرشد پاک کی مہربانی و عنایت سے جاری رہے۔‘‘
نجیب الرحمن سروری قادری (ضلعی سرپرست لاہور) نے مختلف اضلاع کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ’’ہم یہ سب کچھ مرشد پاک کی رضا اور خوشی کے لیے کر رہے ہیں۔ دراصل آپ کی رضا، خوشی اور مہربانی ہی ہماری کامیابی ہے۔ جن لوگوں نے ہمارے کام کو سراہا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی مرشد پاک کی مہربانی اور عنایت ہے کہ اس کام کی ابتدا کا سہرا ہمارے سر پر رکھا ہے۔ (صفحہ44)
* اوچھالی سے قافلہ کی واپسی کے فوراً بعد نجیب الرحمن صاحب کی زیرصدارت صدور حضرات کی میٹنگ بلائی گئی جس میں نجیب الرحمن صاحب نے صدور صاحبان کو مندرجہ ذیل بریفنگ دی:
1. کوشش کریں زیادہ سے زیادہ نئے آدمیوں کو بیعت کے لیے تیار کریں۔
2. مرشد پاک کا تعارف سلطان الفقر کے حوالہ سے کروائیں۔
3. جو لوگ پوری محبت سے تنظیم میں دلچسپی لیں انہیں تنظیم میں شامل ہو کر کام کرنے کی دعوت دیں۔ (صفحہ44۔ ماہنامہ مراۃ العارفین اگست2002ء)
* نجیب الرحمن سروری قادری کی زیرصدارت عالمی تنظیم العارفین ضلع لاہور کے عہدیداران کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کے بعد مختلف یونٹوں کے دورے کیے گئے۔ یونٹوں کو فعال بنانے اور گرمجوشی کے ساتھ کارکنان کو متحرک کرنے کے لیے نجیب الرحمن صاحب نے یہ دورہ کیا جہاں مختلف لوگوں اور پیر بھائیوں سے مل کر پوری طرح منظم ہو کر کامل جدت و جذبہ سے کام کرنے کی تاکید کی گئی۔ مزید یہ کہا گیا کہ اپنے گھروں میں محافل میلاد مصطفی کا انعقاد کریں۔ لوگوں کو مرشد کامل کی بیعت پر تیار کریں۔ اپنے یونٹ میں باقاعدہ درس شروع کریں۔ یقیناًآپ کی محنت اور جدوجہد کامیابی کی ضامن ہے۔(صفحہ44۔45)
* 6 جولائی محفل میلاد کے اختتام کے فوراً بعد قافلہ کی روانگی تھی ۔ قافلہ کے ساتھ جانے والے تمام لوگ میلاد پاک کی محفل میں پہنچ چکے تھے۔رات گیارہ بجے ایئرکنڈیشنڈ بس پہنچ چکی تھی۔ یہ قافلہ نجیب الرحمن صاحب کی سرپرستی میں رات ایک بجے روانہ ہوا۔ پورے سفر میں لوگ جذبہ سے سرشار رہے۔ چند مسرور حضرات نے مل کر بس میں نعت خوانی شروع کر دی۔ اس سے اور دلچسپی اور محبت کا سماں پیدا ہوا۔بس جب کلر کہار مزار آہو باھُو کے پاس پہنچی تو شدید بارش اور تیز ہوا شروع ہوگئی۔ لوگ اس خوبصورت موسم سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ چند ساتھیوں نے مل کر نعرے لگانے شروع کر دیئے۔ اللہ اکبر‘ یا رسول اللہ‘ حق باھُو ۔ نوشہرہ سے پہلے بارش تھم چکی تھی۔ خوشگوار فضا اور پہاڑ خوبصورت نظر آرہے تھے۔ آٹھ بجے صبح یہ قافلہ بنگلہ حق باھُو اوچھالی پہنچا۔ جہاں تمام ساتھیوں نے ناشتہ کرنے کے بعد دوپہر تک آرام کیا۔دوپہر کے کھانے سے فارغ ہو کر تمام ساتھی حضور مرشد پاک کا انتظار کر رہے تھے کہ اتنے میں حضور مرشد پاک تشریف لے آئے۔ تمام ساتھیوں نے زیارت کی اور دلوں کو نورِ ایمان سے منور کیا۔ حضور مرشد پاک نے ہر ایک سے علیحدہ علیحدہ خیریت دریافت کی۔ بیعت کی خواہش رکھنے والوں کو مرشد پاک نے بیعت کیا اور انہیں اسم اللہ ذات عطا فرمایا۔ اس فیض سلطانی سے بیس آدمی مستفیض ہوئے۔ پھر نجیب الرحمن صاحب نے واپسی کی اجازت لی اور عصر کے بعد قافلہ واپس لاہور روانہ ہوا۔ (صفحہ45 )
* قافلہ کی واپسی کے فوراً بعد نجیب الرحمن صاحب کی زیرصدارت صدور حضرات کی میٹنگ ہوئی جس میں ضلعی سرپرست نجیب الرحمن صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا:
1.ہر یونٹ میں دو صدر صاحبان رہیں گے جہاں سے وہ مارکیٹنگ اور دعوت کے لیے نکلیں گے اور ہر یونٹ میں روزانہ رجسٹر پر اپنی رپورٹ خود درج کریں گے اور وہی رپورٹ سرپرست کو فون پر بتائیں گے کہ کتنا رسالہ اور مکتبہ کا سامان فروخت کیا، کتنے لوگوں سے ملاقات کی اور کتنے لوگ بیعت و اسم اللہ ذات کے لیے تیار ہوئے۔ روزانہ یہ رپورٹ دفتر عالمی تنظیم العارفین ایجوکیشن ٹاؤن میں بھی درج ہوگی۔
2. مارکیٹنگ اور دعوت و تبلیغ کے لیے جتنی جماعتیں دفتر ایجوکیشن ٹاؤن سے نکلیں گی ان کی رپورٹ روزانہ میں خود یا جنرل سیکرٹری صاحب دیکھیں گے۔
3. جو زیادہ کام کرکے زیادہ سے زیادہ آدمیوں کو تیار کرے گا وہ مبارک باد کا مستحق ہوگا اور اسے انعام دیا جائے گا۔
4. جتنے پیر بھائی ا س وقت تک بیعت ہو چکے ہیں ان کے مکمل نام و پتہ بمعہ فون نمبر نوٹ کرنے کی تاکید کی گئی۔
* 20 جولائی بروز ہفتہ لاہور سے اوچھالی دو ائیر کنڈیشنڈ بسوں پر رات بارہ بجے سرپرست ضلعی تنظیم نجیب الرحمن کی نگرانی میں قافلہ روانہ ہوا۔ صبح آہو باھُو مزار پر قافلہ ٹھہرا جہاں فجر کی نماز ادا کی گئی اور حافظ محمد یونس صاحب نے مرشد کامل کی شان کے بارے میں خطاب فرمایا۔ جس سے لوگوں کے دلوں میں جوش و ولولہ اور بڑھ گیا۔ پھر آہو باھو سے قافلہ روانہ ہو کر آٹھ بجے کے قریب اوچھالی شریف مرشد پاک کے ڈیرے پر پہنچا اور تمام قافلہ والوں نے لنگر پاک کھایا۔ کھانے سے فارغ ہوتے ہی حضور مرشد پاک تشریف لے آئے۔ سب لوگ شرف زیارت کے لیے لپکے۔ قدم بوسی کے بعد مرشد پاک نے سب سے خیریت پوچھی اور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے نجیب الرحمن صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا’’ یہ لاہور تنظیم نے بہت اچھی روایت قائم کی ہے۔ اس سے تمام ساتھیوں سے پندرہ دن بعد ملاقات ہوجاتی ہے۔‘‘
یعنی مرشد پاک نے یہ اشارہ دیا کہ مریدین آئیں، اس سے محبت بڑھتی ہے اور مہربانی ہوتی ہے۔ پھر ستائیس آدمیوں نے حضور مرشد پاک کے ہاتھ مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل کی اور اسم اللہ ذات حاصل کیا اور پچیس آدمیوں نے بغیر بیت کے اسم اللہ ذات حاصل کیا۔
پھر نجیب الرحمن صاحب نے واپسی کے لیے اجازت طلب کی اور تمام لوگ مرشد پاک سے ملتے ہوئے واپس ہوئے۔ تمام ساتھی بہت خوش اور مطمئن ہوئے۔ 
* ضلع شیخوپورہ کی تنظیم نے 22 جون 2002ء کو حضور مرشد پاک کی زیارت سے واپس آکر سرپرست جناب شیخ محمد امین صاحب، صدر جناب محمد رمضان عابد صاحب، جنرل سیکرٹری جناب میاں محمد عمران صاحب نے ایک اہم اجلاس بلوایا جس میں فیصلہ ہوا کہ لاہور کی تنظیم کے طریقہ کار کے مطابق ضلع شیخوپورہ کی تنظیم بھی قافلے روانہ کرے گی۔ اس اجلاس کے چند دن گزرنے کے بعد حضور مرشد پاک کی مہربانی سے مورخہ 11 جولائی بروز جمعرات رات تقریباً ایک بجے کے قریب دفتر عالمی تنظیم العارفین بھکھی روڈ نزد لیاقت ہائی سکول شیخوپورہ سے ساٹھ افراد پر مشتمل ایک ایئرکنڈیشنڈ بس حضور مرشد پاک کی زیارت کے لیے اوچھالی وادی سون سیکسر کی طرف روانہ ہوئی۔ بس کلر کہار سے ہوتی ہوئی آہو باھو کے مزار پر پہنچی۔ فجر کی نماز وہاں ادا کی۔ وہاں سے روانگی کے بعد تقریباً 8 بجے اوچھالی پہنچے۔ ناشتہ کرنے کے بعد ساتھیوں نے آرام کیا۔
شیخوپورہ کے خوش نصیب ساتھیوں کو حضور مرشد پاک کی رفاقت میں جمعہ ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد حضور مرشد پاک کی بارگاہ میں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔ حضور مرشد پاک نے کمال درجہ کی مہربانی فرمائی۔ خوش نصیب افراد کو سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی صاحب مدظلہ العالی کے ہاتھ مبارک پر بیعت کی سعادت نصیب ہوئی۔ کچھ ساتھیوں نے بغیر بیعت کے اسم اللہ ذات حاصل کیا۔ 
6 بجے کے قریب حضور مرشد پاک سے اجازت لینے کے بعد محمد عابد صاحب اور جنرل سیکرٹری محمد عمران کی قیادت میں قافلہ واپسی کے لیے روانہ ہوگیا۔ محمد شہباز‘ محمد ریاض‘ غلام مرتضیٰ تربیت کے لیے کلور کوٹ چلے گئے۔
* عالمی تنظیم العارفین ضلع جھنگ نے لاہور تنظیم کے اختیار کردہ طریقہ کار کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اُسی ترتیب کی طرح کام کیا جائے۔ شہر کے اندر کام کرنے والے یونٹوں کو دوبارہ منظم اور فعال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے حسین آباد کے یونٹ پر توجہ دی گئی اور ماسٹر محمد نواز کو یونٹ کا نگران اور فوجی محمد امیر صاحب کو جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا۔ جنہوں نے اس علاقہ میں تنظیم کے کام میں مزید نکھار پیدا کیا ہے اور اس یونٹ میں 5 جولائی 2002ء کو شاندار میلاد مصطفی کا انعقاد کیا جس میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی اور تنظیم العارفین کے مبلغ جناب مفتی محمد سرفراز صاحب نے اپنے روحانی خطاب سے حاضرین کے قلوب کو منور فرمایا۔ اس پروگرام سے اہلِ علاقہ بہت خوش ہوئے۔

ماہنامہ مراۃ العارفین شمارہ ستمبر2002ء کی رپورٹ

* ضلعی سرپرست عالمی تنظیم العارفین جناب نجیب الرحمن سروری قادری صاحب تنظیمی ساتھیوں کے ہمراہ مٹھائی اور تحائف لے کر بارگاہِ سلطان الفقر میں دربارِ عالیہ حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ پہنچے۔ 14 اگست (سلطان الفقر کے یومِ ولادت ) کی صبح مبارک باد پیش کی اور تحفے حاضر خدمت کیے۔ آپ تمام ساتھیوں سے مل کر بہت خوش ہوئے۔
* لاہور تنظیم کی شبانہ روز کاوش نے ہزاروں لوگوں کی توجہ مرشد کامل اکمل سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی صاحب مدظلہ الاقدس کی طرف کر دی ہے۔ تنظیم کی دعوت پر بیسیوں لوگ قافلہ میں شامل ہو کر سلطان الفقر کی زیارت کے لیے جاتے ہیں۔ لاہور تنظیم کی دن دگنی رات چوگنی ترقی مرشد کامل کی نگاہِ پاک کا صدقہ اور داعیان تنظیم کی محنت شاقہ کا نتیجہ ہے۔ اس سلسلے میں لاہور تنظیم نے کاہنہ یونٹ میں عظیم الشان میلاد مصطفی کا اہتمام کیا۔4۔ اگست بروز اتوار دفتر تنظیم العارفین (کاہنہ یونٹ) کے سامنے قصور روڈ کے پاس ایک بہت بڑا پروگرام ہوا۔ بعد نماز مغرب تلاوت کلام سے پروگرام کا آغاز کیا گیا۔ بعدازاں سٹیج سیکرٹری حافظ محمد یونس صاحب نے محمد نعیم‘ زاہد محمود اور غلام مصطفےٰ کو ہدیہ نعت پیش کرنے کے لیے بلایا اور پھر حاضرین سے خطاب کرنے کے لیے مولانا محمد یوسف جمالی صاحب تشریف لائے جس کے بعد ڈاکٹر محمد ایوب خاں سروری قادری صاحب نے امام وقت سلطان الفقر کی شان کے بارے میں بتایا۔ عالمی تنظیم العارفین اور انقلاب کے متعلق بریفنگ دی۔ پھر درود و سلام کے بعد سرپرست عالمی تنظیم العارفین ضلع لاہور جناب نجیب الرحمن سروری قادری نے اجتماعی دعا کی۔
* سلطان العارفین برہان الواصلین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ اور شہبازِ عارفاں سلطان الاولیا حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کا سالانہ عرس مبارک جمادی الثانی کی پہلی جمعرات بمطابق اگست شروع ہوا۔ ملک بھر سے عقیدت مند عرس مبارک کی تقریبات میں شرکت کے لیے سپیشل بسوں اور چھوٹی بڑی کوچوں پر پہنچے۔ آستانہ عالیہ حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیز صاحب رحمتہ اللہ علیہ پر سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی صاحب مدظلہ الاقدس کی زیر صدارت ہفتہ اتوار اور سوموار کو نعت خوانی و تقاریر کی نشستیں ہوئیں۔ضلعی تنظیموں نے عرس پاک کی تقریبات میں شمولیت اور حاضری کے لیے قافلوں کا اہتمام کیا۔ شیخوپورہ گوجرانوالہ تنظیم کی طرف سے ایک ایک بس جبکہ لاہور تنظیم کی طرف سے پانچ ایئرکنڈیشنڈ کوچز آستانہ عالیہ حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ پر پہنچی۔
نجیب الرحمن سروری قادری صاحب کی سرپرستی میں دو ایئرکنڈیشنڈ بسوں پر مشتمل پہلا قافلہ ہفتہ و اتوار کی درمیانی شب ایک بجے دفتر عالمی تنظیم العارفین ایجوکیشن ٹاؤن لاہور سے روانہ ہوا جبکہ اتوار و سوموار کی درمیانی شب بارہ بجے تین ایئرکنڈیشنڈ بسوں پر مشتمل دوسرا قافلہ جنرل سیکرٹری ضلعی تنظیم لاہور کی سرپرستی میں روانہ ہوا۔
لاہور تنظیم کے قافلوں نے دربار عالیہ پر حاضری دی اور سلطان الفقر کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔ ان میں تیس خوش نصیبوں نے مرشد کامل سلطان الفقر کے دست مبارک پر بیعت کی اور اسم اللہ ذات حاصل کیا اور وظائف اسم اللہ ذات کی اجازت حاصل کی۔ سوموار کے دن صبح نو بجے آخری نشست کا آغاز ہوا اور نماز ظہر سے قبل ختم شریف پڑھا گیا۔ درود و سلام اوراجتماعی دعا کے بعد لنگر پاک تقسیم ہوا۔ بعد نماز مغرب تمام ساتھی مرشد پاک سے اجازت لے کر اپنے اپنے قافلہ کے ساتھ واپس روانہ ہوئے۔(صفحہ45)
* ’’سلطان الفقر کا تعارف پوری دنیا میں کروانے کے لیے گلی گلی کوچہ کوچہ پھیل جائیں۔‘‘ نجیب الرحمن سروری قادری صاحب کے اس بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی تنظیم العارفین ضلع جھنگ نے ہر علاقہ میں میلاد یونٹ دوبارہ فعال کیے اور اس سلسلے میں موضع دوآبہ کے ساتھیوں نے ایک عظیم الشان میلاد مصطفی کا انعقاد کیا۔ 

ماہنامہ مراۃ العارفین شمارہ اکتوبر2002ء کی رپورٹ

* لاہور تنظیم کی بہترین کارکردگی سے متاثر ہو کر راجن پور تنظیم نے فیصلہ کیا ہے کہ راجن پور کی ضلعی تنظیم بھی اسی طریقہ کار پر کام کرے گی اور اس فیصلہ کے تحت راجن پور تنظیم نے نئے جوش و ولولہ کے تحت دفتر عالمی تنظیم العارفین میں میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا عظیم الشان پروگرام منعقد کیاجس میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مغرب تا عشاء تک ہونے والے پروگرام میں راجن پور کے تمام نعت خوانوں نے بھی شرکت کی۔ جن میں ماسٹر امان اللہ‘ صوبھا خان‘ مقصود احمد سلطانی‘ فیاض احمد‘ فدا حسین اور حافظ نور محمد صاحب شامل ہیں۔آخر میں محمد وسیم سروری قادری نے شان رسالت بیان کی۔ جبکہ محمد حفیظ سلطانی نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیئے۔ضلعی تنظیم کے اس نئے جوش و جذبہ سے شروع ہونے والے پروگرام سے پندرہ آدمیوں نے عرس پاک کے موقع پر مرشد پاک کی بارگاہ میں حاضری دی اور شرف بیعت کے بعد اسم اللہ ذات حاصل کیا اور پانچ کارکن حضور مرشد پاک کی اجازت سے مرکزی دفتر دربار عالیہ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ پر تبلیغی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ ( صفحہ46)
* میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انگہ شریف 9 ستمبر بروز اتوار کی دوسری نشست میں مفتی صالح محمد فریدی صاحب نے تمام ضلعی تنظیموں کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ لاہور تنظیم کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے ان کی پیروی کی کوشش کریں اور ہر ضلع میں نئے طرز تبلیغ ’’مارکیٹنگ‘‘ کو فروغ دیں اور ہر پندرہ دن یا مہینہ کے بعد سلطان الفقر کی زیارت کے لیے قافلوں کا اہتمام کریں۔( صفحہ 45 )
* ضلع لاہور تنظیم کے عہدیداران انگہ شریف عرس پاک میں بھرپور شمولیت کے جذبہ سے سرشار لوگوں کو دعوت دے رہے تھے کہ حضور مرشد پاک سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی صاحب مدظلہ الاقدس نے مہربانی فرمائی اور آپ چھ ستمبر کو لاہور تشریف لائے۔
دفتر عالمی تنظیم العارفین ایجوکیشن ٹاؤن اور داروغہ والا نے پورے لاہور سے نئے آدمیوں کو زیارت کے لیے خصوصی دعوت دی۔ دعوت پر سینکڑوں لوگ دفاتر میں زیارت کے لیے پہنچ گئے۔ داروغہ والا دفتر پہنچنے والوں کی حاجی محمد الیاس صاحب کی رہائش گاہ پر (جہاں آپ تشریف فرما تھے) ملاقات کروائی اور لوگ بیعت ہوئے اور ایجوکیشن ٹاؤن دفتر میں جمع ہونے والوں کی نجیب الرحمن صاحب (سرپرست ضلع لاہور) کی رہائش گاہ پر ملاقات کروائی گئی۔ سو کے قریب آدمیوں نے شرف بیعت اور اسم اللہ ذات حاصل کیا۔ دوسرے دن بھی لوگ سلطان الفقر کی زیارت کے لیے آئے اور اسم اللہ ذات حاصل کیا۔انگہ شریف روانگی سے قبل ایک دن کی کوشش سے لاہور تنظیم نے تین ایئرکنڈیشنڈ کوچز تیار کر لیں ۔آٹھ ستمبر بروز اتوار رات بارہ بجے دفتر ایجوکیشن ٹاؤن لاہور سے قافلہ روانہ ہوا۔ سوموار کے دن صبح 9 بجے انگہ شریف قافلہ پہنچا۔ تمام ساتھیوں نے ناشتہ کے بعد وضو کیا اور سلطان الفقر کی زیارت کے لیے پنڈال کی طرف بڑھے۔ بعد نماز ظہر عرس پاک کے ختم و دعا کے بعد بہت سے نئے ساتھیوں نے دستِ سلطان الفقر پر شرف بیعت حاصل کیا اور مغرب کے قریب قافلہ واپسی کے لیے روانہ ہوا۔( صفحہ 46)
* چونگی امرسدھو لاہور کے حلقہ احباب نے کوشش کی کہ علاقہ مذکورہ میں تنظیم العارفین کا دعوتی و معلوماتی مقاصد کے لیے باقاعدہ یونٹ قائم کیا جائے جہاں ہمہ قسم لٹریچر‘ مبلغ اور درس کا اہتمام ہو۔ اس تجویز پر غور کرتے ہوئے ضلعی سرپرست جناب نجیب الرحمن سروری قادری نے فیصلہ کیا کہ ہم نہ صرف اس یونٹ کا آغاز کرتے ہیں بلکہ عنقریب ماڈل ٹاؤن، گرین ٹاؤن، جلو موڑ اور دیگر علاقوں میں ورکنگ یونٹ قائم کریں گے۔پھر مذکورہ یونٹ کا باقاعدہ افتتاح 19 ستمبر 2002ء کو کیا گیا۔ ضلعی سرپرست نجیب الرحمن صاحب نے تنظیم کے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ اس افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ افتتاحی تقریب کو میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے رنگ میں ڈھالا گیا تھا۔ تلاوت کلام پاک‘ حمد و نعت اور بیان بھی ہوا۔ 
* محمد عارف کے ہاں شاہ عالم مارکیٹ لاہور میں بھی محفل میلاد شریف کا اہتمام 19 ستمبر 2002ء کو کیا گیا جس میں سرپرست عالمی تنظیم العارفین ضلع لاہور محمد نجیب الرحمن نے خصوصی شرکت کی۔ محمد نعیم قادری نے نعت شریف پڑھی اور حضور سلطان الفقر کی شان میں سہرا پیش کیا۔ آخر میں ملازم حسین قادری نے مرشدکی حقیقت پر خصوصی خطاب کیا۔ مرشد کے موضوع پر ایک بہترین بیان سن کر لوگ بہت خوش ہوئے۔ ختم شریف اور سلام پر محفل متبرک کا اختتام ہوا۔ آخر میں نجیب الرحمن سروری قادری نے خصوصی دعا کروائی۔

ماہنامہ مراۃ العارفین شمارہ نومبر2002ء کی رپورٹ

* ضلعی تنظیم کراچی نے یکم اکتوبر سے لاہور تنظیم کے طریقہ کار کے مطابق کام کرنے کا فیصلہ کیا اور 15۔ اکتوبر کو کراچی سے دربار شریف ایک بس پر مشتمل قافلہ پہنچا۔ جس میں تیس آدمیوں نے دستِ مرشد کامل پر بیعت کر کے اسم اللہ ذات حاصل کیا۔
* 12۔ اکتوبر کو نجیب الرحمن سروری قادری کی سرپرستی میں دو ایئرکنڈیشنڈ بسوں پر مشتمل قافلہ دربار شریف پہنچا۔ پچیس آدمیوں نے بیعت اور چودہ آدمیوں نے اسم اللہ ذات کی اجازت طلب کی۔ بوقت عصر مرشد پاک سے اجازت لے کر قافلہ واپسی لاہور کے لیے روانہ ہوا۔ 

ماہنامہ مراۃ العارفین شمارہ دسمبر2002ء کی رپورٹ

* ضلعی سرپرست جناب نجیب الرحمن صاحب سروری قادری کی سرپرستی میں لاہور تنظیم کا اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں تمام ضلعی عہدیداران نے شرکت کی۔
اجلاس کی کاروائی نجیب الرحمن صاحب کے حکم پر شروع ہوئی۔ اجلاس کی کاروائی کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ پھر نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور کلام حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ پیش کیا گیا۔ بعد ازاں جنرل سیکرٹری نے کہا کہ رمضان المبارک قریب ہے۔ انشاء اللہ ہر بندہ اس بابرکت مہینہ سے حسن نیت و توفیق برکات حاصل کرے گا۔ ان دنوں میں جب رحمتِ الٰہی پورے جوش میں ہوتی ہے لوگوں کے قلب نرم ہو چکے ہوتے ہیں ہمیں اپنی تنظیم کے کام اور مشن پر کئی گنا بڑھ کر کام کرنا ہوگا تاکہ بہت جلد نفاذ اسلام و دین کا مشن تکمیل کو پہنچے۔ اس ایجنڈے پر غوروفکر کے بعد مندرجہ ذیل شیڈول ترتیب دیا گیا جسے سرپرست تنظیم ضلع لاہور جناب نجیب الرحمن صاحب نے اپنے صدارتی خطبہ میں بیان فرمایا:
1. مکتبہ العارفین تعارفی پمفلٹ اور کیلنڈر شائع کرے گا۔
2. مقامی پیر بھائیوں کے تعاون سے مساجد میں اعلانات و بیانات ہوں گے۔
3. ہر یونٹ میں جماعتیں چلائی جائیں گی جو گلی گلی کوچہ کوچہ جاکر تعارفی پمفلٹ تقسیم کریں گے اور لوگوں کو سلطان الفقر ہستی کی زیارت و ملاقات کے لیے قافلہ کے ساتھ جانے کی دعوت دیں گے۔
4. ہر یونٹ میں میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محافل منعقد کی جائیں گی۔
5. مخیر حضرات کو تنظیمی اخراجات کے لیے زکوٰۃ صدقات اور فطرانے وغیرہ مرکزی بیت المال میں جمع کرانے کی ترغیب دی جائے گی۔
6 رمضان شریف کے بعد ’’سلطان الفقر‘‘ کی ملاقات و زیارت کے لیے قافلوں کی تیاری اور ضروری بندوبست مکمل کیا جائے گا۔

*****

ماہنامہ مراۃ العارفین کی مندرجہ بالا یہ تمام رپورٹیں ایک ریکارڈ اور ثبوت ہیں جو نہ صرف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی محنت، خلوص، مرشد سے محبت اور انکی شان کو دنیا میں عام کرنے کی جدو جہد کو ظاہر کرتی ہیں بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہیں کہ آپ مدظلہ الاقدس اپنے مرشد کے حلقۂ ارادت میں اہم ترین مقام حاصل کر چکے تھے۔ ان رپورٹوں سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ جب سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے اپنے مرشد پاک کی قائم کردہ تنظیم کا کام ضلعی سر پرست کی حیثیت سے سنبھالا تو صرف چھ ماہ (جون تا دسمبر) میں نہ صرف انہیں بلکہ تمام ملک میں تنظیم العارفین کو بے حد کامیابی حاصل ہوئی جو یقیناًمرشد پاک سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ کی مہربانی کے ساتھ ساتھ آپ مد ظلہ الاقدس کے خلوصِ نیت اور محنت کا نتیجہ تھا۔
جب تنظیم پر قابض گروہ نے اقتدار اپنے ہاتھ سے جاتا دیکھا اور معمولی اور غیر معروف لوگوں کی غیر معمولی کامیابی دیکھی تو آپس کے اختلاف بھلا کر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے خلاف متحد ہوگیا اور سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں شکایات کا سلسلہ شروع ہوا۔ کوئی ایسی غلطی یا کوتاہی تو آپ مدظلہ الاقدس کی پاک ذات میں موجود نہ تھی اور نہ ہی آپ پر خیانت یا مرشد سے بے وفائی کا الزام لگایا جاسکتا تھا، اس لیے جھوٹی اور بے بنیاد کہانیاں اور داستانیں گھڑی اور پھیلائی گئیں۔ خوف زدہ کرنے اور ڈرانے کی کوششیں الگ ہوتیں۔ کبھی پیار اور خوشامد سے رام کرنے کی کوشش کی گئی تو کبھی خوف اور دہشت سے کام سے روکنے کی مذموم حرکات کی گئیں تاکہ آپ کام بند کر دیں اور مرشد کی بارگاہ میں آپ کی مقبولیت کم ہو جائے۔ لیکن آپ مدظلہ الاقدس ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہے۔ آپ کے مرشد کریم بھی کبھی کبھی آپ مدظلہ الاقدس کو حوصلہ افزائی کا اشارہ فرما دیتے جس سے آپ مدظلہ الاقدس کا حوصلہ اور بلند ہو جاتا۔ آخری کوشش یہ ہوئی کہ آپ مدظلہ الاقدس کے تمام مخالفین اور حاسدین اکٹھے ہو کر دوسری مائی صاحبہ(سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ  کی دوسری زوجہ محترمہ جن کو میدان عرفات میں سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ نے آپ مدظلہ الاقدس کی ہمشیرہ بنایا تھا)کے پاس حاضر ہوئے، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ آپ مدظلہ الاقدس اُن کی کوئی بات نہیں ٹالتے۔ یہ بڑانازک معاملہ تھا۔ جب اُن کی طرف سے فون آیا کہ ’’بھائی نجیب کام بند کردو‘‘ تو آپ مدظلہ الاقدس نے جواب میں بڑی حکمت سے کام لیتے ہوئے فرمایا ’’جی بالکل آپ کا حکم ماننا فرض ہے‘‘ لیکن آپ مدظلہ الاقدس نے کام جاری رکھا۔ ماہ رمضان میں تحریک کا کام ویسے بھی بند تھا۔ رمضان شریف میں بسیں جا نہیں سکتی تھیں کیونکہ افطاری اور سحری کا راستہ میں اہتمام مشکل تھا۔ تمام رمضان المبارک میں یہ گروہ اپنی سازشوں میں مصروف رہا۔ 13 دسمبر 2002 (8 شوال 1423ھ) کو مرشد پاک سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی رحمتہ اللہ علیہ کے دربار پاک پر نوراتوں کے قیام کے لیے تشریف لے گئے تو پاکستان سے یہ پورا گروہ وہاں اکٹھا ہوگیا۔ 15دسمبر 2002ء (10 شوال 1423ھ) بروز اتوار آپ مدظلہ الاقدس سلطان الفقر ششم رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں پہنچے۔ مرشد پاک نے اس گروہ کو پہلے ہی تنبیہ فرما دی تھی کہ تم لوگوں نے بھائی نجیب الرحمن سے کوئی بات نہیں کرنی لیکن ان کے چہرے ان کے دل کے حالات بتا رہے تھے۔ حضور مرشد پاک آرام فرما رہے تھے۔ سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے مرشد کی بارگاہ میں حاضری سے قبل پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی۔ دعوت پڑھی تو جواب آیا’’مبارک ہو کامیاب ہوگئے ہو،تنظیم چاہیے یا اسم اللہ ذات؟‘‘ آپ مدظلہ الاقدس نے جواب دیا ’’اسم اللہ ذات‘‘ کیونکہ آپ مدظلہ الاقدس کی منزل ہی اسم اللہ ذات تھی۔ آپ کو جماعتوں‘ تنظیموں اور عہدوں کی خواہش ہی نہ تھی ۔ جو طلب تھی وہ مل رہا تھا اس سے بڑی کا میابی اور کیا ہو سکتی تھی۔ پیر بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری کے بعد آپ مدظلہ الاقدس نے مرشد پاک کی بارگاہ میں حاضری دی اور دست بوسی کی تو آپ ؒ نے اپنے محبوب محمد نجیب الرحمن کا ہاتھ ہلکے سے دبا دیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی آپ مدظلہ الاقدس کے ساتھ یہ ترتیب تھی کہ جب آپ رحمتہ اللہ علیہ آپ کی دلیل سے متفق ہوتے تو دست بوسی کے وقت ہلکے سے آپ کے ہاتھ کو دبا دیتے تھے۔ مرشد پاک کے علاوہ آپ کو کوئی راہ میں نہ روک سکا۔ آپ مدظلہ الاقدس تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے توحید تک پہنچ چکے تھے اس لیے اب تنظیم کا کام بند ہونا تھا کیونکہ یہ کام تو صرف آپ مدظلہ الاقدس کی آزمائش اور تربیت کے لیے تھا۔ اس میں کامیابی پر اس آزمائش کو ختم ہونا ہی تھا۔ اشارہ بھی اوپر سے ہو چکا تھا ۔جب آپ مدظلہ الاقدس نمازِ عصر کے بعد وہاں سے روانہ ہوئے تو مرشد پاک نے اس گروہ کو بتا دیا کہ آج شام سے بھائی نجیب الرحمن کام بند کر دیں گے اور اپنے تنظیمی ساتھیوں سے علیحدہ ہو جائیں گے۔ لیکن مسئلہ تو سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا تھا کہ وہ اپنے ساتھیوں میں کام بند کرنے کا اعلان کیسے کرتے۔ اس کو محرم اور محرم راز نے یوں حل کیا کہ سلطان الفقر ششم رحمتہ اللہ علیہ کے ڈرائیور لالہ خدا بخش نے فون کیا کہ مرشد پاک رحمتہ اللہ علیہ نے حکم فرمایا ہے کہ شام تک تنظیم کا کام بند کر دیا جائے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اس فون کو بہانہ بنا کر کام بند کر دیا ،یوں تنظیم اس گروہ کو دے دی اور اسم اللہ ذات آپ کو مل گیا۔ تنظیم کا اس طرح کام بند کرانے پر اس گروہ میں ڈرائیور لالہ خدا بخش کی بہت آؤ بھگت ہوئی لیکن عقل کے اندھوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ جو شخص کسی بڑے سے بڑے کے کہنے پر یا ہمشیرہ (دوسری اہلیہ محترمہ سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ ) کے کہنے پر بھی تنظیم کا کام بند کرنے پر آمادہ نہ ہوا وہ لالہ خدا بخش کو کیسے خاطر میں لاسکتا تھا۔ یہ معاملہ تو باطنی طور پر پہلے ہی طے کر لیا گیا تھا جس سے یہ گروہ ناواقف تھا۔ قیل و قال عقل اور باطنی حقیقی مشاہدہ و قلبی تعلق میں یہی فرق ہے۔
اس کے بعد سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ ہر کام سے لاتعلق ہوگئے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مشن مکمل ہوگیا ہو۔ دو سال تک آپ رحمتہ اللہ علیہ نے سنت مرشد پر عمل کرتے ہوئے اپنے محرم راز اور ’’وارثِ امانت الٰہیہ‘‘ سلطان محمد نجیب الرحمن کی تلقین و ارشاد کی مسند سنبھالنے کے لیے تربیت فرمائی کیونکہ پیر بہادر علی شاہ کاظمی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی دو سال (1932ء تا 1934ء) اپنے روحانی وارث حضرت سخی سلطان محمدعبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ کی اور سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے بھی دو سال (1979۔ 1981) اپنے روحانی وارث سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی تربیت فرمائی تھی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے بھی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی دو سال (2001ء۔ 2003ء) تک تربیت فرمائی۔ 
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان لوگوں کو جو سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے وارثِ امانت ہونے کو جھٹلاتے ہیں، سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے آپ مدظلہ الاقدس کے امانتِ الٰہیہ کے وارث ہونے کے متعلق کوئی باطنی اشارہ یا باطنی مشاہدہ نہیں کرایا ہوگا؟ ضرور کرایا ہے۔ ہر ایک کو کروایا ہے لیکن جب انا‘ ضد اور خودپسندی غالب آجائے تو اپنے باطن پر بھی اعتبار نہیں رہتا۔ اس سلسلہ میں ہم سلطان الفقر ششمؒ حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے ایک مرید ساجد حسین کا باطنی مشاہدہ درج کر رہے ہیں جس کی تصدیق سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے بھی کی ہے۔ 
ساجد حسین صاحب جن کا تعلق دینہ (ضلع جہلم) سے ہے اور لاہور میں مقیم ہیں انہوں نے ایک خواب اگست 2003ء سے نومبر 2003ء تک تین مرتبہ دیکھا اور اس کا ذکر انہوں نے دورانِ سفر اور اکثر ملاقاتوں میں لوگوں سے کیا۔ اس کے گواہ اور راوی سلطان الفقر ششم کے مریدِ خاص محمد اسد خان سروری قادری ہیں۔ ساجد صاحب کافی عرصہ سے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سے نہیں ملے کیونکہ انہوں نے 9 نومبر 2004ء کی شام سے آپ کی سات سالہ سنگت ایک معمولی سا بہانہ بنا کر چھوڑ دی تھی، پھر وہ کچھ مصلحت پسند بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کو حق اور قربت عطا فرمائے۔ وہ اپنا خواب کچھ اس طرح بیان کرتے تھے:
’’دیکھتا ہوں حضور مرشد پاک(سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ ) کی محفل لگی ہوئی ہے اور بہت سے لوگ اس میں موجود ہیں۔ حضور مرشد پاک ایک پلنگ پر تشریف فرما ہیں۔ حضور نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے اپنی پوری سنگت میں بتیس یا تینتیس ( صحیح تعداد ان کو یاد نہیں رہی) ساتھیوں کا انتخاب کیا ہے جو ہمارے معیار پر پورے اترے ہیں۔ ساجد صاحب بتاتے ہیں کہ اتنے میں نجیب الرحمن صاحب کھڑے ہو جاتے ہیں۔ حضور مرشد پاک ان کی طرف دیکھ کر فرماتے ہیں کہ بھائی نجیب الرحمن تم ان لوگوں میں شامل نہیں ہو۔ تمہارا معاملہ ان لوگوں سے علیحدہ اور خاص ہے۔‘‘ ساجد صاحب بتاتے ہیں کہ وہ اس محفل میں سلطان محمد نجیب الرحمن کے سوا کسی کو نہ پہچان سکے۔ بعد میں احباب میں اس بات کا تذکرہ رہا کہ وہ بتیس یا تینتیس کون لوگ ہیں۔ لیکن سب سے اہم اور غور طلب بات یہ ہے کہ سلطان محمد نجیب الرحمن کا معاملہ سب سے علیحدہ اور خاص کیوں ہے۔ اس لیے کہ ’’وارثِ امانتِ الٰہیہ‘‘ ایک ہی ہوتا ہے اور اس کا معاملہ واقعی باقی تمام سے علیحدہ اور خاص ہوتا ہے۔ 
26 دسمبر 2003 ء کو محب و محبوب کا یہ ظاہری ساتھ بحکمِ الٰہی اختتام پذیر ہوا لیکن باطن میں یہ قرب دائمی ہوگیا۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے مرشد پاک کی ذات میں فنا ہو کر ان کی تصویر بن چکے تھے۔ اب باطنی طور پر دونوں میں کوئی جدائی اور دوئی نہ رہ گئی تھی۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے مرشد پاک کا ’’عین‘‘ بن گئے تھے۔ سلطان الفقر ششمؒ نے ہر طرح کی آزمائش کے بعد آپ مدظلہ الاقدس کو پرکھ لیاتھاکہ آپ مدظلہ الاقدس ہی ہر لحاظ سے امانتِ الٰہیہ کے وارث بننے کے لائق ہیں۔ اپنے فرض سے سبکدوش ہوتے ہوئے سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے امانتِ الٰہیہ اور اپنا تمام روحانی و باطنی ورثہ آپ مدظلہ الاقدس کے سپرد فرمایا اور دنیا سے ظاہری پردہ فرما لیا۔
یہاں سے شروع ہوتا ہے آپ مدظلہ الاقدس کی زندگی کا تیسرا دور جہاں آپ طالب مرید سے بے انتہا درجہ بلند ہو کر مرشد کامل اکمل جامع نورالہدیٰ کے مرتبہ پر فائز ہو چکے ہیں۔ مسند تلقین و ارشاد آپ مدظلہ الاقدس کے سپرد کی جاچکی ہے۔ طالبانِ مولیٰ کی ذاتِ حق تک رہنمائی آپ مدظلہ الاقدس کو اپنے مرشد پاک کی طرف سے تفویض کی جانے والی آخری اور سب سے بڑی ذمہ داری ہے جو آپ مدظلہ الاقدس اسی تندہی، خلوص اور استقامت سے نبھا رہے ہیں جس سے آپ نے مرشد پاک کی حیات میں تمام ذمہ داریاں نبھائیں۔ اللہ تعالیٰ سے امیدِ کامل ہے کہ جس طرح اس نے آپ کو ہر آزمائش میں پورا اتارا اور ہر ذمہ داری کی ادائیگی میں کامیابی عطا فرمائی، اسی طرح آپ کی محنت اور خلوصِ نیت کی بدولت اس ذمہ داری میں بھی کامیاب فرمائے گا۔ (انشاء اللہ)
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک بار سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سے فرمایا تھا’’ہم فقر کا عنوان ہیں اور آپ فقر کی تفصیل ہونگے۔‘‘ یہ بات حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی ۔ سلطان الفقر ششم ؒ نے اس مادہ پرست دور میں فقر کے بند دروازے کو عوام الناس پر کھولا اور آپ مدظلہ الاقدس اسے دنیا بھر میں عام فرما رہے ہیں ۔ فقر کو پھیلانے کے لیے آپ مدظلہ الاقدس کی ظاہری و باطنی جد وجہد اور آپ مدظلہ الاقدس کی مبارک ذات میں فقر کا اس شان سے ظاہر ہونا اس جملے کی شرح ہے کہ ’’آپ فقر کی تفصیل ہیں۔‘‘ 
یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ گدی نشینی یا سجادہ نشینی اور مسندِ تلقین و ارشاد میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ گدی نشین یا سجادہ نشین صرف ظاہری وارث ہوتا ہے جبکہ مسند تلقین و ارشاد سنبھالنے والا حقیقی وارث۔ گدی نشین کے پاس صرف ظاہری ورثہ ہوتا ہے اور اس کا کام فقیر کے مزار کے معاملات سنبھالنا ہے ، مزار کی تمام آمدن پر بھی اس کا حق ہوتا ہے۔ جبکہ مسندِ تلقین وارشاد سنبھالنے والے کے پاس فقیر کا تمام روحانی ورثہ ہوتا ہے ۔ مزار کے معاملات یا اس کی آمدن پر روحانی وارث کی نظر ہرگز نہیں ہوتی کیونکہ اس کے پاس حقیقی باطنی دولت خزانۂ فقر ہوتا ہے۔ انگریزوں کے دور سے قبل یہ بات درست تھی کہ عموماً فقیر یا ولی کا روحانی وارث ہی اس کے مزار کا سجادہ نشین بھی ہوتا تھا لیکن انگریزوں نے مسلمانوں کا خانقاہی نظام تباہ کرنے کے لیے گدی نشینی کو ظاہری وراثت میں شامل کر دیا۔ اب قانونِ وراثت کے مطابق دوسری جائیداد کی طرح گدی نشینی یا سجادہ نشینی بھی بطور وراثت ملتی ہے خواہ فقیر یا ولی کی اولاد اس لائق ہو یا نہ ہو۔ اگر ولی اپنے وصال سے قبل اپنے روحانی وارث کو، جو اس کا اصل وارث ہے، مزار کا گدی نشین مقرر کر بھی دے تو عدالت کے ذریعے اسے بے دخل کر دیا جائے گا، اور گدی یا سجادہ نشینی ولی کی اولاد میں سے عموماً بڑے بیٹے کو بطورِ وراثت منتقل کر دی جائے گی۔ مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالنے والے روحانی وارث کے ذمہ طالبانِ مولیٰ کی ظاہری و باطنی رہنمائی اور تزکیۂ نفس کرکے انہیں لقائے الٰہی و مجلسِ محمدی کی حضوری کے اعلیٰ ترین مقامات پر پہنچانا ہے۔ مال و دولت ، عزّوجاہ اور اقتدار کی ہوس اس راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جبکہ آجکل سجادہ نشینی کا تعلق انہی ناپسندیدہ چیزوں سے ہے کیونکہ بیشتر سجادہ نشین حضرات مزار کی آمدن پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے مریدوں کے ووٹوں کی طاقت استعمال کرکے اقتدار پر بھی قابض ہو رہے ہیں۔ لہٰذا روحانی وارث جو امانتِ الٰہیہ کا حامل ہے، ہمیشہ ان معاملات سے علیحدہ رہتا ہے۔ پس اس حقیقت کو لازماً پیش نظر رکھنا چاہیے کہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سلطان الفقر ششم سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے حقیقی باطنی و روحانی وارث ہیں اور ان کے بعد مسندِ تلقین و ارشاد پر فائز ہیں ، ان کے مزار کی سجادہ نشینی پر نہیں۔