sultan-ul-ashiqeen-ka-Tareqa-tarbiat

سلطان العاشقین سلطان محمد نجیب الرحمن کاطریقۂ تربیت

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمدنجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا طریقۂ تربیت

حدیث مبارکہ ہے :
اَلشَّیْخُ فِیْ قَوْمِہٖ کَنَبِیٍّ فِیْ اُمَّتِہ ۔
ترجمہ: شیخ (مرشدِ کامل) اپنی قوم (مریدوں) میں ایسے ہوتا ہے جیسے کہ ایک نبی اپنی اُمت میں۔
یعنی مرشدکامل اکمل اپنے مریدین کی تربیت بالکل اسی طرح سے کرتا ہے جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فرمائی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد مبارکہ ہے :
* میری امت کے آخری دور میں ہدایت اسی طرح پہنچے گی جیسے میں تمہارے درمیان پہنچا رہا ہوں۔ (مسلم)
حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کا طریقہ تربیت کیا تھا؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو طویل ورد اور وظائف میں مشغول فرمایا تھا؟ اس کا جواب ہمیں قرآنِ مجید کی اس آیت مبارکہ سے ملتا ہے:
ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلاً مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْھِمْ وَ یُعَلِّمُھُمْ الْکِتَابَ وَ الْحِکْمَۃَ ۔ (الجمعہ۔2)
ترجمہ: وہی اللہ ہے جس نے معبوث فرمایا اُمیوں میں سے ایک رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) جو پڑھ کر سناتا ہے ان کو اس کی آیات اور (اپنی نگاہِ کامل سے) ان کا تزکیۂ نفس(نفسوں کو پاک) کرتا ہے اور انہیں کتاب کا علم (علمِ لدُّنی) اور حکمت سکھاتا ہے۔
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو قرآن پاک کی تعلیم دیتے اور پھر نگاہِ کامل سے ان کاتزکیہ فرماتے تاکہ ان کے قلوب پاک ہو کر قرآن کے نور کو جذب کرنے کے اہل ہو سکیں۔ جب نفس کا تزکیہ ہوجاتا تو تصفیۂ قلب خودبخود ہو جاتا اور جلوۂ حق آئینۂ دل میں صاف نظر آنے لگتا اور دل جلوۂ حق کے لیے بے قرار رہنے لگتا۔ یہ بے قراری دراصل عشقِ الٰہی کا آغاز ہے اور عشقِ حقیقی کا یہ شعلہ محبوبینِ الٰہی کی نورانی صحبت کے بغیر نہیں بھڑکتا۔
حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے ’’ ایک دفعہ مجھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ ملے تو انہوں نے میری خیریت پوچھی کہ اے حنظلہ! (رضی اللہ عنہٗ) کیا حال ہے؟ میں نے کہا! حنظلہ منافق ہو گیا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا یہ کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں ان کی محفل میں حاضر ہوتا ہوں اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جنت دوزخ کاذکر فرما رہے ہوتے ہیں توہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور دل میں ایمان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی یاد نہیں رہتا اور دل اللہ کی محبت اور عشق سے لبریز ہو جاتا ہے لیکن جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ اور نظر سے ہٹ کر دنیاوی کاموں یعنی گھروں، اہل و عیال اور مال و جائیداد میں مصروف ہو جاتے ہیں تو یہ حالت نہیں رہتی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ نے جب یہ سنا تو فرمایا’’ بخدا میری بھی یہی حالت ہے۔‘‘ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ وہاں سے چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ،میں نے عرض کی ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! حنظلہ منافق ہو گیا ہے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’وہ کیسے؟‘‘ میں نے عرض کی’’ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب ہم آپ کی بارگاہ میںآپ کی نگاہ کے سامنے ہوتے ہیں تو ہمارے ایمان کی حالت کچھ اور ہوتی ہے اور جب ہم اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں تو ہمارے دل میں ایمان کی حالت وہ نہیں رہتی جو آپ کی بارگاہ میں ہوتی ہے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر تمہاری حالت ہمیشہ ایسی ہی رہے جیسی کہ میرے پاس اور میری محفل میں ہوتی ہے تو فرشتے آرام گاہوں اور راستوں میں تمہارے ساتھ مصافحہ کریں لیکن اے حنظلہ! یہ گھڑی کبھی کبھی میسر آتی ہے (یعنی یہ صرف میری صحبت میں ہی میسر آسکتی ہے)۔‘‘
اسی طرح جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت عمررضی اللہ عنہٗ سے فرمایا کہ تم میں سے کسی کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک وہ مجھ سے اپنی جان ،مال اور اولاد سے زیادہ محبت نہیں رکھتا تو یہ سن کر حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ حضور( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم )! میں اپنے اندر یہ کیفیت محسوس نہیں کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا’’ کیا تم محسوس نہیں کرتے‘‘؟ اِس خطاب سے حضرت عمرؓ کے مراتب بلند ہو گئے اور فوراََعرض کیا کہ اب محسوس کرتاہوں۔ ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضرت معاذبن جبلؓ (یا کسی اور صحابیؓ) کویمن کا عامل مقرر کرکے بھیج رہے تھے۔ انہو ں نے عرض کیا ’’ حضور( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)! میرے اندر عامل بننے کی صلاحیت نہیں ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اِن کے کندھے کو چھواتو وہ فوراََ چلا اُٹھے ’’حضور( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)! اب وہ صلاحیت میں اپنے اندر محسوس کرتا ہوں ۔‘‘یہ ہے باطنی توجہ سے تزکےۂ نفس کرنا اور روحانی مراتب بلند کرنا۔
یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نگاہِ کامل اور صحبت کافیض ہی تھا جس کی بدولت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں موجود تمام عیوب نہ صرف ختم ہو گئے بلکہ وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرتِ کاملہ کا ہی عکس بن گئے۔ تابعین نے روحانی پاکیزگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی صحبت میں رہ کر پائی اور تبع تابعین نے تابعین کی صحبت سے۔ فیضانِ نبوت کا یہ سلسلہ خلافت در خلافت اب تک جاری ہے۔ چونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رسالت تا قیامت قائم ہے اس لیے قیامت تک ہر دور میں علمائے حق، عارفین اور اولیائے کاملین رحمتہ اللہ علیہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے روحانی وارث ہوتے رہیں گے۔ ان ہستیوں نے علم، اخلاق، تقویٰ ، ایمان اور روحانی قوتیں وغیرہ سب کچھ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ورثے میں پایا ہے۔
سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں:
* تمہارے درمیان صورتاً کوئی نبی موجود نہیں ہے کہ تم اس کی اتباع کرو۔ پس جب تم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متبعین(مرشدِ کامل) کی اتباع کرو گے جو کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقی اتباع کرنے والے اور اتباع میں ثابت قدم ہیں تو گویا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اتباع کی۔ جب تم ان کی زیارت کرو گے تو گویا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زیارت کی۔ (الفتح الربانی۔ مجلس 14)
* ولیٔ کامل (مرشد کامل اکمل) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس ولایت کا حامل ہوتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوتِ باطن کا جزو ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے اُس (ولیٔ کامل) کے پاس امانت ہوتی ہے۔(سر الاسرار۔ فصل نمبر5)
جو شخص بھی خلوصِ دل اور صدقِ نیت سے ان اولیا کرام کی صحبت میں بیٹھتا ہے، اس کے دل میں بھی وہ نور سرایت کر جاتا ہے جو انہوں نے حضور علیہ الصلوٰۃو السلام سے حاصل کیا تھا اور اس کا ظاہر و باطن سنور جاتا ہے۔ اس کی زندہ مثالیں ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں۔ سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کی نگاہِ کامل پڑتے ہی قزاقوں کا پورا گروہ تائب ہو کر ولایت کے اعلیٰ درجات پر فائز ہو گیا۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ حضرت بشر حافی رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں پہنچے تو حقیقت تک رسائی پا گئے۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ حضرت بہلول دانا رحمتہ اللہ علیہ کی صحبت میں رہے تو امام سے بلند ہو کر ولایتِ کاملہ کے درجات پر فائز ہو گئے۔ مختصر یہ کہ اولیا کرام کی صحبت میں بیٹھنے والا کبھی خالی ہاتھ اور بے مراد نہیں رہتا۔ حدیث مبارکہ ہے:
ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس بیٹھنے والا بدبخت نہیں رہتا۔ (صحیح مسلم)
آج کل کے مادہ پرست دور میں لوگوں کے پاس اتنا وقت اور ہمت نہیں رہی کہ وہ نفسانی بیماریوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے محنت، ریاضت اور سخت مجاہدات کریں اور ورد وظائف وغیرہ میں مصروف رہیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ زیادہ وردو وظائف سے نفس پاک ہونے کی بجائے عبادات کے غرور میں مبتلا ہو کر مزید میلا اور موٹا ہو جاتا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات کے مطابق اس کے لیے بہترین اور آسان ترین طریقہ ذکر اور تصور اسمِ اللہ ذات ہے اورسلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اس روئے زمین پر اور مشائخ سروری قادری میں وہ واحد ہستی ہیں جو اپنے ہر طالب کو بیعت کے پہلے روز ہی سلطان الاذکار (اسمِ اعظم) ’’ھُو‘‘ عطا فرما دیتے ہیں اور اسم اللہ ذات کا نقش تصور اور مشقِ مرقومِ وجودیہ کے لیے عطا فرما کر فقر کی انتہا پر پہنچنا آسان کر دیتے ہیں۔
ذکر تصور اسم اللہ دا، سلطان العاشقین کولوں جیہڑا پائے
ھُو دے تصور وچ رہے ہمیشہ، ذاتی اسم او کمائے
مشقِ مرقوم وجودیہ دے نال‘ اپنے تن نوں او پاک کرائے
سلطان نجیب صادقاں عاشقاں نوں، اللہ دے نال ملائے
آپ مدظلہ الاقدس سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُورحمتہ اللہ علیہ کے ان الفاظ کی عملی تفسیر ہیں:
* ان کی نظر سراسر نورِوحدت اور کیمیا ئے عزت ہے۔ جس طالب پر ان کی نگاہ پڑ جاتی ہے وہ مشاہدہ ذاتِ حق تعالیٰ ایسے کر نے لگتا ہے گویا اس کا سارا وجود مطلق نور بن گیا ہو ۔انہیں طالبوں کو ظاہری ورد وظائف اور چلہ کشی کی مشقت میں ڈالنے کی حاجت نہیں ہے ۔(رسالہ روحی شریف)
لیکن یہ بھی حقیت ہے کہ فقر کی انتہا تک صرف وہی طالب پہنچ سکتا ہے جس کی طلب اللہ تعالیٰ کی پہچان، دیدار اور مجلسِ محمدی کی دائمی حضوری ہو۔ منافق ، ریاکار، طالبِ دنیا اور طالبِ عقبیٰ (جنت کے لیے زہد و ریاضت کرنے والا) اس مقام تک ہرگز نہیں پہنچ سکتا۔
طالب بن کے عاجزی نال‘ سلطان العاشقین کول جیہڑا آ جاوے
سوہنے مرشد دا لڑ پھڑ کے‘ ازلی نصیبہ فقر او پا جاوے
جیہڑا تینوں بھل جاوے‘ شیطان مردود نوں او بھا جاوے
سلطان محمد نجیب الرحمن روپ اللہ دا اے‘ جو جانے فقرِ محمدی ؐ پا جاوے
آپ مدظلہ الاقدس خود بھی شریعت مطہرہ کی مکمل پیروی فرماتے ہیں اور اپنے مریدین کو بھی ذکر و تصورِ اسم اللہ ذات کے ساتھ نماز، روزہ کی پابندی اور کلمہ طیب و درود پڑھنے کی تلقین فرماتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس قدمِ محمد پر ہونے کی بنا پر اپنے طالبوں کی تربیت بالکل اسی طرز پر فرماتے ہیں جس طرح آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فرمائی۔ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت کا آغاز دارِ ارقم سے فرمایا، انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دی،مختلف آزمائشوں سے گزارا اور مختلف قسم کی ڈیوٹیاں (ذمہ داریاں) لگائیں۔ غرضیکہ ظاہری و باطنی مجاہدہ کے ذریعے مختلف مراحل سے گزارنے کے دوران اپنی نگاہِ کامل سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نفوس کا تزکیہ کیا اور ان کے باطن کو منور فرمایا نہ کہ ورد و وظائف اور چلہ کشی سے۔سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے بھی طالبانِ مولیٰ کی باطنی تربیت کے لیے صفہ کے چبوترے کی طرز پر خانقاہ قائم فرمائی ہے جہاں دنیا بھر سے طالبانِ مولیٰ آپ مدظلہ الاقدس سے ملاقات کرنے اور آپ مدظلہ الاقدس کی ذات مبارکہ سے فیض یاب ہونے کے لیے آتے ہیں۔ کچھ طالبانِ مولیٰ بدنی ڈیوٹیاں مثلاً برتنوں اور خانقاہ کی صفائی، لنگر پکانا اور تقسیم کرنا، کتابوں کی کمپوزنگ، پرنٹنگ وغیرہ سرانجام دیتے ہیں۔ جو طالبانِ مولیٰ کاروباری یا خاندانی مصروفیات کی بنا پر خانقاہ میں ڈیوٹی نہیں کر سکتے وہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ’’تم ہرگز بھلائی کونہ پہنچو گے جب تک تم اللہ کی راہ میں وہ شے خرچ نہ کرو جسے تم سب سے زیادہ عزیز رکھتے ہو۔‘‘(آل عمران) کے پیش نظر اپنے مال کو اللہ کے کاموں میں استعمال کرتے ہیں اور لنگر پاک یا مرشد پاک کی قائم کردہ جماعت کے کسی بھی شعبہ میں مالی تعاون کرتے ہیں جو جہاد بالمال کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کے علاوہ پڑھے لکھے لوگ اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر دعوت و تبلیغ کے کام میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ کچھ مضامین لکھتے ہیں اور کچھ مشائخ سروری قادری کی کتب کا عربی، فارسی اور پنجابی سے اُردو اور انگلش میں ترجمہ کر کے معرفتِ حق کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کی خدمت سرانجام دینے میں مصروف ہیں جو جہاد بالقلم ہے۔ ظاہری طور پر طالبِ مولی ان اعمال میں مصروف ہوتا ہے اور باطن میں ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات میں مشغول رہتاہے۔اسی ظاہری و باطنی مجاہدے کے دوران آپ مدظلہ الاقدس خالص طالبوں کا اپنی نگاہِ کامل سے تزکیہ فرماتے ہیں جس کا اثر طالبِ مولیٰ واضح طور پر اپنے باطن میں محسوس کرتا ہے ۔آپ مدظلہ الاقدس کی روحانی صحبت اور نگاہ کا فیض آہستہ آہستہ طالب کو دنیا،نفس اور شیطان کے شکنجے سے آزاد کر کے اللہ کی راہ پر گامزن کر دیتا ہے۔
جب اسم اللہ ذات کی تجلیات انسان کی روح پر اثر انداز ہونا شروع ہوتی ہیں تو طالب کے ذہن میں مختلف سوالات اٹھتے ہیں جو اسے بے چین کر دیتے ہیں اور اللہ کی ذات کی معرفت حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اگر طالب ان پر توجہ نہ دے تو یہی سوالات اس کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے ہر طالب کی باطنی حالت سے آگاہ ہوتے ہیں لہٰذا اس کے ذہن میں پیدا ہونے والی الجھنوں کو قرآن و حدیث اور اولیا کرام رحمتہ اللہ علیہ کے اقوال اور حالات و واقعات کی روشنی میں نہایت سادہ اور آسان فہم الفاظ میں سلجھا دیتے ہیں ۔ کمال کی بات یہ ہے کہ آپ کی نہایت ہی مختصر مگر جامع گفتگو سے ہر طالب کی اپنے اپنے باطنی مقام کے مطابق تربیت ہو جاتی ہے اور ہر طالب کو یہی محسوس ہوتا ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس اسی کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کا جواب دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ مدظلہ الاقدس اپنی کتب اور ماہنامہ سلطان الفقر کے ذریعے بھی طالبانِ مولیٰ کو راہِ فقر کے متعلق علم عطا فرما تے ہیں۔ جو باتیں ظاہری گفتگو یا کتب و مضامین کے ذریعے طالب یا مرید کی سمجھ میں نہ آسکیں انہیں وھم و الہام کے ذریعے طالب کے قلب میں جاگزیں کر دیتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ ظاہر میں بھی ایسے اسباب پیدا فرما دیتے ہیں کہ طالب اللہ کی رضا کے مطابق قدم اٹھا سکے۔ 
جب طالب اسمِ اللہ ذات کے ذکر و تصور میں تھوڑا سا پختہ ہو جاتا ہے تو آپ مدظلہ الاقدس اسے عین الیقین سے حق الیقین کی منزل پر پہنچانے کے لیے اسم محمد عطا فرماتے ہیں جس سے طالب کے باطن پر انتہائی خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یوں فقر و معرفت کی پیچیدہ باتوں کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا طالب کے لیے بہت آسان ہو جاتا ہے اور وہ طالب سے مطلوب، مسلمان سے مومن اور محب سے محبوب بن جاتا ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس اپنے طالبوں کے ظاہری حلیے اور رہن سہن کو تبدیل کرنے کی بجائے ان کے خیالات اور نظریات تبدیل کرتے ہیں اور ان کی توجہ دنیا سے ہٹا کر اللہ کی طرف لگا دیتے ہیں ۔ آپ ظاہر کی بجائے باطن کو سنوارنے پر زور دیتے ہیں کیونکہ اللہ تک جسم کے ذریعے نہیں بلکہ باطن اور روح کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا ہے۔ آپ اپنی صحبت کے فیض سے طالب کی باطنی شخصیت کی نئے سرے سے ایسی احسن صورت میں تشکیل فرماتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کے لائق ہو۔ اپنی صحبت کا فیض اپنے مریدین و طالبانِ مولیٰ تک پہنچانے کے لیے آپ مدظلہ الاقدس ہر اتوار ان سے ملاقات کا اہتمام فرماتے ہیں۔ 
خانقاہ سلسلہ سروری قادری میں آپ مدظلہ الاقدس طالبوں کے مسائل سنتے ہیں اور ان کی ظاہری باطنی رہنمائی کرنے کے علاوہ تحریک دعوتِ فقر کے جاری منصوبوں( Projects) اور پروگراموں میں ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے ان کے متعلق بھی احکامات جاری فرماتے ہیں۔ خواتین طالبانِ مولیٰ سے صرف اتوار کو اپنی رہائش گاہ پر اپنی زوجہ محترمہ کی موجودگی میں ملاقات فرماتے ہیں، ان کے مسائل کے حل کے لیے رہنمائی بھی فرماتے ہیں اور دعا بھی کرتے ہیں۔کتب کے تراجم اور سوشل میڈیا کی ڈیوٹی کرنے والی خواتین طالبانِ مولیٰ سے بھی اسی ملاقات کے دوران ان کی ڈیوٹی کے متعلق گفت و شنید ہو جاتی ہے۔جو مرید اور طالبانِ مولیٰ دوسرے شہروں میں رہنے کی وجہ سے ہر اتوار آپ کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہوسکتے، ان سے ملاقات اور انہیں اپنی صحبت کے فیض سے نوازنے کے لیے آپ خود ہر سال پاکستان بھر کا دورہ فرماتے اور اپنے تمام مریدین سے ملاقات فرماتے ہیں۔جبکہ دوسرے ملکوں میں رہنے والے طالبوں کو آپ ٹیلی فون پر اپنا وقت اور صحبت عطا فرماتے ہیں۔ یعنی آپ کا کوئی بھی طالب خواہ دور ہویا نزدیک آپ کے فیض سے محروم نہیں رہتا۔
دوسرے شہروں کے مریدین آپ مدظلہ الاقدس کی آمد پر جو اہتمام کرتے اور میزبانی کے فرائض سر انجام دیتے ہیں وہی ان کا مجاہدہ شمار ہوتا ہے اور اسی کے مطابق انہیں فیض ملتا ہے۔ 
سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کا فرمان ہے:
* جب میرا طالب صادق ہوتا ہے وہ میری آستین میں ہوتا ہے اور جب وہ صادق نہیں رہتا تو میں اس کی آستین میں ہوتا ہوں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اسے برائیوں سے روکتا رہتا ہوں۔ آپ مدظلہ الاقدس بھی اسی صفت کے مالک ہیں کیونکہ آپ شبیہِ غوث الاعظم ہیں۔ بلا شبہ آپ اپنے طالبوں کے لیے ایک سایہ دار درخت، شفیق باپ، بہترین دوست اور محبوب استاد ہیں۔ ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو فراخ دلی سے درگزر فرماتے ہیں اور ان کے عیبوں کی پردہ پوشی فرماتے ہیں۔ اگر طالب سے کوئی بڑی غلطی ہو جائے اور وہ سچے دل سے توبہ کر لے تو اسے معاف فرما دیتے ہیں۔آپ مدظلہ الاقدس کا طریقۂ تربیت اس قدر شفقت آمیز ہے کہ ہر طالب مرید کو یہی محسوس ہوتا ہے کہ آپ سب سے زیادہ اسی سے محبت فرماتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے طالبوں میں دورانِ تربیت کوئی تفریق نہیں فرماتے۔ کوئی امیر ہے یا غریب، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے یا کم تعلیم یافتہ، معاشرے میں اس کا کیامقام ہے یہ آپ کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا بلکہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اصول کے مطابق آپ مدظلہ الاقدس کے لیے بھی فضیلت کا میعار صرف تقویٰ ہے ۔ آپ مدظلہ الاقدس آفتاب کی طرح اپنا نورانی فیض ہر طالب پر یکساں نچھاور فرماتے ہیں بس فرق صرف اتنا ہے کہ ہر دل کی زمین اپنی خاصیت کے مطابق سیراب ہوتی ہے اور فیض پاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس قدر بلند روحانی مراتب عطا فرمائے ہیں کہ ان کا اندازہ لگانا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں لیکن آپ مدظلہ الاقدس ان سب کے باوجود خود کو ایک عام انسان ظاہر کرتے ہیں اور اپنے طالبوں کی بھی اس طرح تربیت فرماتے ہیں کہ ان میں عجز و انکساری نمایاں وصف بن کر ابھرتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
’’عاجزی شیطان کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار ہے۔‘‘
جب بھی کوئی آپ مدظلہ الاقدس سے فقر کا سوال سچے دل سے کرتا ہے تو اس بات سے قطع نظر کہ وہ معاشرے کے کس طبقے اور مذہب کے کس فرقے سے تعلق رکھتا ہے آپ مدظلہ الاقدس اسے کسی رنج و مشقت میں ڈالے بغیر خزانۂ فقر عطا فرما دیتے ہیں البتہ اس کے لیے بیعت ہونا ضروری ہے۔
عنایت تو دیکھو میرے کامل مرشد کی یارو
کہ جس نے مجھے پل بھر میں لاھوتی بنا دیا