sultan-ul-ashiqeen-ka-musnad-talqeen-irshad-aur-dawat-e-faqr-ka-aghaz

سلطان العاشقین سلطان محمد نجیب الرحمن کا تلقین و ارشاد کا آغاز

مسندِ تلقین و ارشاد اور دعوتِ فقر کا آغاز

راہِ فقر میں دستور یہ ہے کہ جب مرشد کامل اکمل نور الہدیٰ کا عالم ِ ناسوت سے رخصت کا وقت قریب آتا ہے تو وہ اپنے مرید طالبانِ مولیٰ میں سب سے صادق اور اعلیٰ ترین خصوصیات کے حامل طالب کو باطن میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں پیش کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خزانہ فقر کے مختارِ کُل ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس طالب (محرمِ راز) کو آنے والے دور میں خزانہ ٔ فقر اور اپنی نیابت عطا کرنے کے لیے منتخب فرماتے ہیں اور مرشد ِ کامل اکمل نور الہدیٰ کو اجازت عطا فرماتے ہیں کہ وہ طالب کی تربیت اب تلقین و ارشاد کی مسند سنبھالنے کے لیے کرے۔ مرشد باطن میں اس طالب کی تربیت کا آغاز کرتا ہے۔ جب طالب کی تربیت مکمل ہوجاتی ہے تو مرشد امانت ِ الٰہیہ کے ساتھ ساتھ اپنی مسند ِ تلقین و ارشاد بھی اس محرمِ راز کے سپرد کر کے اس عالم ِ فانی سے رخصت ہو جاتا ہے۔ اب لوگوں کو تعلیم و تلقین کرنا اور ذکر اور تصور ِ اسم اللہ ذات عطا کرنا اس طالب پر فرض ہو جاتا ہے۔ فقر کی اسی منزل پر جب سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ پہنچے تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا’’اور منزلِ فقر پہ بارگاہِ کبریا سے حکم ہوا کہ تو ہمارا عاشق ہے ۔ اس فقیر نے عرض کی کہ عاجز کو حضرتِ کبریا کے عشق کی توفیق نہیں ‘ پھر حکم ہوا کہ تو ہمارا معشوق ہے اس پر یہ عاجز خاموش ہوگیا تو حضرت کبریا کے انوارِ تجلی کے فیض نے بندے کو ذرے کی طرح استغراق کے سمندروں میں غرق کردیا اور فرمایا کہ تو ہماری ذات کی ’’ عین ‘‘ ہے اورہم تمہاری ’’ عین ‘‘ ہیں۔ حقیقت میں تو ہماری ’’ حقیقت ‘‘ ہے اور معرفت میں توہمارا یار ہے اور ’’ھُو ‘‘ میں ’’ یاھُو ‘‘ کا راز ہے۔(رسالہ روحی شریف)
یہاںھُو سے مراد ذاتِ حق تعالیٰ ہے اور’’یاھُو‘‘ سے مراد ’ ’ حقیقت ِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ‘‘ اور ’’ راز‘‘ سے مراد تکمیلِ باطن وصالِ الٰہی ہے یعنی مقام فنا فی اللہ بقا باللہ (فنا فی ھُو) ہے جہاں پر انسان کامل ہو کر تلقین و ارشاد کی مسند پر فائز ہوتا ہے۔ انسانِ کامل کے قلب میں نورِ الٰہی کا راز پوشیدہ ہے۔ اب دنیا میں جس کو بھی معرفت ِ الٰہی حاصل ہوگی اسی انسانِ کامل سے ہو گی۔
امانت ِ الٰہیہ و خلافت ِ عظمیٰ عطا ہونے کے بعد مسند ِ تلقین و ارشاد سنبھالنا سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس پر فرض ہوچکا تھا۔
26دسمبر2003(2ذیقعد 1424ھ) بروز جمعتہ المبارک اپنے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے وصال کے اگلے دِن آپ مدظلہ الاقدس مرشد کی جدائی کے غم میں نڈھال ان کے مزار پاک پر حاضری کے لیے تشریف لے گئے۔ جب تربت مبارک کا بوسہ لینے کے لیے سر جھکایا تو مزارِ یار سے ندا آئی اَنْتَ اَنَا وَ اَنَا انۡتَ ترجمہ’’تو میں ہے، میں توں ہوں۔‘‘ یعنی اب ہم ایک ہیں ، تو میرا ہی نیا روپ ہے اور میری جگہ اب تیری جگہ ہے، میری مسند اب تیری مسند ہے۔مزار مبارک سے باہر آتے ہی آپ مدظلہ الاقدس نے یہ رباعی ارشاد فرمائی:
جھکا جب مزارِ یار پر، اَنْتَ اَنَا وَ اَنَا انۡتَ  کی آئی صدا
کی عرض کہ اس قابل نہیں ہوں، فرمایا یہی تو ہے ہماری عطا
دیکھ ذرا قلب کے اندر کہ یہ تو ہے کہ میں
دنیا اور وجود اپنا چھوڑ کر میں قالب تیرے میں آبسا
اس حاضری کے فوراً بعد بحکم آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ،سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ، سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُورحمتہ اللہ علیہ اور سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ آپ مدظلہ الاقدس نے مسند ِ تلقین و ارشاد سنبھال لی کیونکہ ظاہری دنیا میں جس طرح اصول ہے کہ بادشاہ کا تخت کبھی خالی نہیں رہتا اسی طرح باطنی دنیا کا بھی اصول ہے کہ مسند ِ تلقین و ارشاد کبھی خالی نہیں رہتی ، ایک ولی کے وصال کے فوراً بعد اس کا روحانی وارث اس مسند پر فائز ہو جاتا ہے۔ مسند پر فائز ہوتے ہی آپ مدظلہ الاقدس کو ’’سلطان محمد‘‘ کا لقب عطا کر دیا گیا۔
سونے کے اسم اللہ ذات اور سلطان الاذکار ’’ھُو‘‘ تو آپ مدظلہ الاقدس نے اپنے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی حیاتِ مبارکہ میں ہی ان کے حکم سے عطا فرمانا شروع کر دئیے تھے ۔مسند ِ تلقین و ارشاد سنبھالنے کے بعد ابھی آپ مدظلہ الاقدس نے ظاہری طور پر لوگوں کو دعوتِ فقر دینے کا کوئی اقدام بھی نہ کیا تھا کہ اللہ کے فضل سے طالبانِ مولیٰ خود بخود آپ مدظلہ الاقدس کی طرف کھنچے چلے آنے لگے ، آپ مدظلہ الاقدس نے انہیں بغیر بیعت کے اسمِ اللہ ذات اور ذکر ِ ھُو عطا فرمانا شروع کر دیا۔ ابھی بیعت کا آغاز نہ کرنے میں ایک حکمت پوشیدہ تھی۔
مرشد کے وصال کے بعد سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس شدید صدمہ کی حالت میں تھے، اسی صدمہ کے زیر ِ اثر آپ نے ایک سال تنہائی اور خلوت نشینی میں گزارا۔تنظیم کا کام تو آپ مدظلہ الاقدس مرشد پاک کی زندگی میں ہی اُن کے حکم سے بند کر چکے تھے لیکن رسالہ مراۃ العارفین اور دیگر شعبہ جات کی ذمہ داریاں آپ مدظلہ الاقدس نبھا رہے تھے۔ آہستہ آہستہ یہ ذمہ داریاں بھی آپ سے واپس لی جانے لگیں اور اگست 2004ء تک آپ مدظلہ الاقدس کو عملی طور پر تنظیم کے تمام شعبہ جات سے مکمل طور پر الگ کر دیا گیا۔ آپ مد ظلہ الاقدس بھی بحث و تکرار کرنے کی بجائے خاموشی سے علیحدہ ہو گئے۔
فقر کے مشن کو آگے بڑھانے اور لوگوں کو اسمِ اللہ ذات کی حقیقت سے آگاہ کرنے اور راہِ فقر کی دعوت دینے کے لیے آپ مد ظلہ الاقدس نے کتاب’’حقیقت اسمِ اللہ ذات‘‘ طبع کروائی اور اسے لاہور میں28جولائی 2005 ء (21جمادی الثانی 1426ھ) بروز جمعرات سے فی سبیل اللہ تقسیم کرنے کا آغاز فرمایا تاکہ لوگ اس کو پڑھ کر ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کے حصول کی کوشش کریں۔ اسے پڑھ کر جن لوگوں نے دعوت اسمِ اللہ ذات کو قبول فرمایا اور وہ لوگ جو آپ مدظلہ الاقدس کی گوشہ نشینی کے عرصہ کے دوران آپ سے ذکر ِ اسمِ اللہ ذات حاصل کر چکے تھے ان کو آپ مد ظلہ الاقدس نے14۔اگست2005ء (7رجب1426ھ) کو دست ِ بیعت فرما یا ۔14اگست کے بابرکت دِن کا انتخاب آپ مدظلہ الاقدس نے اس لیے فرمایا کہ یہی آپ کے محبوب مرشد کا یومِ ولادت بھی ہے۔ اس مشن کے لیے ابتدائی طور پر آپ مد ظلہ الاقدس نے اپنے گھرکو مرکزبنایا۔
دعوت ِ فقر کو پورے ملک میں عام کرنے کے لیے آپ مد ظلہ الاقدس نے اخبارات کے بیک پینل پر کتاب ’’حقیقت اسم اللہ ذات ‘‘ فی سبیل اللہ منگوانے کے لیے اشتہارات شائع کروائے جس سے ہزاروں کی تعداد میں کتب فی سبیل اللہ پاکستان بھر میں تقسیم ہوئیں۔ لوگوں نے دعوت اسمِ اللہ ذات کو قبول کیا۔ آپ مدظلہ الاقدس نے لوگوں کی دعوت پر دعوتی اور تبلیغی دورے بھی فرمائے اور لوگوں کے پاس جاکر اسمِ اللہ ذات کا فیض عام کیا ۔ جو لوگ آپ مد ظلہ الاقدس کے حلقہ ٔ ارادت میں آئے اُن کی تربیت کے لیے آپ مدظلہ الاقدس نے سلسلہ اسباق جاری فرمایا جن میں راہِ فقر، مرشد کامل، دیدارِ الٰہی، طالب ِ مولیٰ،ذکر و تصورِ اسمِ اللہ ذات جیسے موضوعات پر تفصیلاً حقائق پہلی بار طالبانِ مولیٰ کی رہنمائی کے لیے شائع کیے گئے۔یوں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے دین ِ حنیف کے احیا اور فقر ِ حقیقی کی طرف امت ِمحمدیہ کو دعوت دے کر اس کی فلاح کی جدو جہد کا آغاز فرمایا جو تا حال جاری ہے۔