سلطان العاشقین بلاگ | Sultan ul Ashiqeen Blog

انسان کو زندگی میں بیشتر ایسے امور پیش آتے ہیں جن میں وہ تذبذب کا شکار ہو جاتا ہے۔ کرنے اور نہ کرنے دونوں پہلوؤں پر اس کی نظر ہوتی ہے۔ وہ سرِ دست یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ موجودہ حالات میں اسے کیا کرنا چاہیے؟ایسی صورت حال میں شریعت نے ہدایت دی ہے کہ اسے تمام مواقع پر از خود فیصلہ کرنے اور اپنی عقل و دانش پر اعتبار کرنے کی بجائے متعلقہ کام کے ماہرین فن ، اربابِ نظر اور ہمدرد افراد سے رائے معلوم کر لی جائے۔ پھر باہمی غوروفکر کے بعد جس جانب دل مائل ہو اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے اسے اختیار کرے۔ اس عمل کو مشورہ یا مشاورت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔صالح، کامیاب اور پُر امن زندگی گزارنے کے لیے  ۔۔۔مزید پڑھیں

تمام مخلوقات کے خالق و مالک ربّ العالمین جل جلالہٗ کی بڑائی بیان کرنے کے بعد درود حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر جن کی خاطر اللہ جلّ شانہٗ نے یہ ساری بزم سجائی اور سلام ہو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آل پر آپ کے اصحابؓ پر اور امہات المومنینؓ پر جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لا کر اور اطاعت اختیار فرماکر شمأ رسالت کے پروانوں کا کردار ادا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ دعوتِ توحید و رسالت میں معاون رہے۔ دنیا کو وجود میں لانے کے بعد مخلوق کی ہدایت ضروری تھی اس لیے اللہ تعا لیٰ نے اپنے پاکیزہ اور مقبول بندے انبیا مبعوث فرمائے جنہوں نے اللہ ربّ العزت کی تعلیم و ہدایت ۔۔۔مزید پڑھیں

دینِ اسلام اللہ تک پہنچنے کا ایک زینہ ہے جس کے مختلف درجات ہیں۔ شریعت اس کا ابتدائی درجہ ہے،طریقت، حقیقت اور معرفت درمیانی درجے ہیں اور فقر (وحدت) اس کی انتہا ہے اور اس کی بنیاد عشق ہے۔ اگر بنیاد مضبوط نہیں ہوگی تو عمارت بھی پائیدار نہیں ہوگی اور اگر کوئی درجہ کم ہوگا تو بھی منزل تک پہنچنا مشکل اور بعض اوقات ناممکن ہوجاتا ہے۔

حضرت خواجہ بندہ نواز رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

 ’’ عشقِ حقیقی کے پانچ درجے بیان کیے گئے ہیں پہلا شریعت یعنی جمالِ محبوب کی صفت سننا تاکہ شوق پیدا ہو،دوسرا طریقت یعنی محبوب کی طلب کرنا اور محبوب کی راہ میں چلنا، تیسرا حقیقت یعنی ہمیشہ محبوب کے خیال میں رہنا، چوتھا درجہ معرفت یعنی اپنی مراد کو محبوب کی مراد میں محو کر دینا، پانچواں وحدت یعنی اپنے فانی وجود کو ظاہر میں اور باطن میں بھی ختم کر دینا اور حرف محبوب ہی کو موجودِ مطلق جاننا۔جب یہ پانچ مراتب پورے ہو جائیں۔۔۔مزید پڑھیں

تقویٰ

چار حروف پر مشتمل یہ لفظ (تقویٰ) مقصدِ حیات اور توشۂ آخرت ہے۔ تقویٰ دینِ کامل کی اساس اور بزرگانِ دین کا اثاثہ ہے ۔ تقویٰ اُمتِ مسلمہ پر ربّ کا احسان ہے، اس کی رضاہے ، درجۂ خاص ہے۔ تقویٰ کے بغیر مومن ادھورا ہے کیونکہ تقویٰ روح کا سکون اور ربّ کے دیدار کا ذریعہ اور خدا کے قرب و معرفت کی کنجی ہے۔ اگر تقویٰ کے لفظی معنی کو دیکھا جائے تو لفظ ’’تقویٰ‘‘ کے معنی ’’زرہ‘‘ کے ہیں جو ضرر سے محفوط رکھتی ہے۔ جبکہ شریعت میں اس کے معنی ہر اس عمل سے گریزکرنا ہے جو اللہ تبارک و تعا لیٰ کے غیظ و غضب کا باعث ہواور ہر اس کا م کو اپنا نا ہے جو مو لیٰ کی رضاکا موجب ہو۔ 
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس تقویٰ کی تعریف ان الفاظ میں فرماتے ہیں:

* تقویٰ کے لغوی معنی تو پرہیز گاری اور پارسائی کے ہیں لیکن اصطلاحی معنوں میں قلب کا اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کا نام تقویٰ ہے۔۔۔مزید پڑھیں

تمام مخلوقات کے خالق و مالک ربّ العالمین جل جلالہٗ کی بڑائی بیان کرنے کے بعد درود حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر جن کی خاطر اللہ جلّ شانہٗ نے یہ ساری بزم سجائی اور سلام ہو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آل پر آپ کے اصحابؓ پر اور امہات المومنینؓ پر جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لا کر اور اطاعت اختیار فرماکر شمأ رسالت کے پروانوں کا کردار ادا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ دعوتِ توحید و رسالت میں معاون رہے۔ دنیا کو وجود میں لانے کے بعد مخلوق کی ہدایت ضروری تھی اس لیے اللہ تعا لیٰ نے اپنے پاکیزہ اور مقبول بندے انبیا مبعوث فرمائے جنہوں نے اللہ ربّ العزت کی تعلیم و ہدایت ۔۔۔مزید پڑھیں

اولیا کرام میں سب سے بلند مراتب عارفین کو عطا ہوتے ہیں لیکن عارفین میں بلند ترین مقام ’’سلطان الفقر‘‘ کا ہے۔ فقر عین ذات پاک ہے اور سلطان الفقر وہ ہستی ہوتی ہے جو ذاتِ حق کا عین ہو ۔ یہ کہنا بھی ہرگز غلط نہ ہو گا کہ سلطان الفقر کے حقیقی مقام و مرتبے کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
سلطان الفقر کون ہیں؟
سلطان الفقر ہستیوں کی شان اور مقام و مرتبے کے بارے میں سب سے پہلے بانی سلسلہ سروری قادری، نورِ ھُو، سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیفِ مبارکہ’’رسالہ روحی شریف‘‘ ۔۔۔مزید پڑھیں

سیّد الکونین، سلطان الفقر، سلطان الاولیا، محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی، غوثِ صمدانی، شہبازِ لامکانی، پیر دستگیر، بازِ اشہب، پیرانِ پیر، نورِ مطلق، مشہود علی الحق، حقیقت الحق، قطب الکونین، قطب الاقطاب، غوث الثقلین، پیر میراں غوث الاعظم محی الدین سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وزیر اور صاحبِ حضور ہیں۔ فقر میں آپ رضی اللہ عنہٗ کا مقام اور مرتبہ فہم و بیان سے بالاتر ہے۔ ہر ولی اور فقیر آپ رضی اللہ عنہٗ کے در کا غلام اور بھکاری ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کا فرمان مبارک ہے ’’میرا قدم تمام اولیا کی گردن پر ہے۔‘‘ اسی سے آپ رضی اللہ عنہٗ کے مقام و مرتبہ کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ ۔۔۔مزید پڑھیں

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
*اَلْفَقْرُ فَخَرِیْ وَالْفَقْرُ مِنِّیْ۔
ترجمہ :فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔
فقر دراصل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت کا نام ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فخر فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ایک ایسا گنجینہ ہے جس کی طلب ہر مومن و مسلمان کو ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت تک رسائی کسی کسی کا نصیب ہے ہر کوئی اس حقیقت تک رسائی کا اہل نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ اور آپ کی حقیقت جیسی حقیقت اور کسی کی نہیں، جو راز آپ کی ذاتِ مبارکہ سے ظاہر ہواوہ کسی اور نبی و مرسل سے ظاہر نہیں ہوا۔ تب ہی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اُمتی ہونے کی دعا کی۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ لِیْ مَعَ اللّٰہِ وَقْتٌ لَا یَسْعُنِیْ فِیْہِ مَلَکٌ مُقَرَّبٌ وَلَا نَبِیٌّ مُرْسَلٌ۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے ساتھ میرا ایساوقت بھی ہے جس میں مجھ تک نہ کوئی مقرب فرشتہ پہنچ سکتا ہے اور نہ نبی مرسل۔
مندرجہ بالا حدیث سے۔۔۔مزید پڑھیں

سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے تھا اور ہوگا۔ (انسانِ کامل۔ سیّد عبدالکریم بن ابراہیم الجیلیؒ )
ایمان مومنین پر اللہ کا احسان ہے اور ایمان کا مرکز و محور آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے نسبت و تعلق ہی حقیقتاً ایمان ہے۔ یہ تعلق اگر مضبوط و مستحکم ہو تو ایمان کامل اور اگر کمزور ہو تو ناقص و نامکمل اور اگر خدانخواستہ یہ تعلق ٹوٹ جائے تو ایمان کلیتاً ختم ہو جاتا ہے۔
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ اس تعلق کو یوں بیان فرماتا ہے:
ترجمہ:پس جو لوگ اس(برگزیدہ رسولؐ) پر ایمان لائیں گے اور ان کی تعظیم و توقیر کریں گے اور ان کی مد د ونصرت کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جوان کے ساتھ اتارا گیا ہے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔(سورۃ الاعراف۔157)
جو ذات باعثِ کائنات ہے اس سے عشق و محبت ،وفاواطاعت کے بغیر ایمان کے مکمل ہونے کا تصور ہی نہیں۔ اگراللہ تعالیٰ نے کائنات کو تخلیق کر کے مخلوقات میں اپنے ربّ ہونے کو ظاہر کیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وجہ سے۔ اس لئے دین،ایمان،علم، ۔۔۔مزید پڑھیں

ظہورِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے عرب کی سر زمین غبارِ راہ سے کثیف اور جہالت سے گرد آلود تھی۔ کوئی انسانی و معاشرتی تنزلی ایسی نہ تھی جو کہ عرب معاشرے میں موجود نہ تھی اور انسانیت کو شرماتی نہیں تھی۔ سر زمین عرب صرف تپتا ہوا صحرا ہی نہیں تھی بلکہ جہالت اور حیوانگی کا مظہر تھی۔ عرب کی رگوں میں سختی،اڑیل پن، مردانگی کے بے ڈھنگے مظاہرے اور طاقتور کی حکمرانی کمزور و مظلوم کی سسکیوں کی روانی تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ یہ لوگ اس معاشرے کے عکاس تھے جہاں صنفِ نازک کی قدر صرف ایک بچے پیدا کرنے والی ذات تک ہی محدود تھی۔ جہاں لڑکیوں کی بلوغت ان کے لئے خطرے کی علامت اور لڑکی کی پیدائش نامعلوم قبروں میں ایک اور قبر کے اضافے کا موجب ہوتا تھا۔ جہاں خاندان غلاموں، لونڈیوں، زناکاری اور بے تحاشا لڑکوں کے شوق میں ڈوبے رہتے تھے۔ عزت بس اس عورت تک محدود تھی جو صرف لڑکے پیدا کرتی تھی۔ لوگ قبائل میں بٹے ہوئے تھے اور قبائل جاہلانہ رسوم و رواج میں۔ رُسومات ایسی جو پتھر پر لکیر تھیں اور کسی انسانی جذبے یا ضرورت کی پرواہ نہ کرتی تھیں۔ صحرائے عرب کے لوگوں کی زندگی کا انحصار بھیڑ بکریوں، گھوڑوں، اونٹوں اور کھجوروں پر تھا۔ عرب مشرک لاتعداد فرقوں میں بٹے تھے اور لاتعداد خداؤں پر اعتقاد رکھتے ۔۔۔مزید پڑھیں

اللہ تعالیٰ بے انتہا حسین وجمیل ہے وہ چاہتا تھا کہ اس کے حسن کو کوئی دیکھے، تعریف کرے اور اس میں محو ہو کر ہر چیز بھلا دے۔ اس کے لیے ایک ایسا مجسم آئینہ درکار تھا جس میں وہ اپنا حسن ظاہر کر سکے۔یہی چاہت انسان کی تخلیق کا باعث بنی۔ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک کا سب سے کامل آئینہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ بابرکات بنی۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو ؒ نے فرمایا ہے:
* ’’ جان لو کہ جب اللہ واحد نے حجلۂ تنہائی وحدت سے نکل کر کثرت میں ظہور فرمانے کا ارادہ کیا تو اپنے حسن و جمال کے جلوؤں کو صفائی دے کر عشق کا بازار گرم کیا جس سے ہر دو جہان اس کے حسن و جمال پر پروانہ وار جلنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے میم احمدی کا نقاب اوڑھا اور صورتِ احمدی اختیار کی۔‘‘ (رسالہ روحی شریف)
صورتِ احمدی دراصل اللہ تعالیٰ کے نور کی بہترین صورت ہے جس میں کچھ کمی یا خامی نہیں ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:’’اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے۔ چراغ فانوس میں ہے فانوس ایسے ہے کہ ایک موتی جو ستارے کی مانند چمکتا ہے۔ یہ چراغ اس برکت والے پیڑ زیتون کے تیل سے روشن ہوتا ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی۔ قریب ہے کہ اس کا تیل ۔۔۔مزید پڑھیں

انفاق کے لغوی معنی ’’خرچ کرنا‘‘ اور فی سبیل  اللہ کے معانی ہیں ’’ اللہ تعالیٰ کی راہ میں‘‘۔ اصطلاحِ شریعت میں اللہ کی رضا کے لیے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کو انفاق فی سبیل اللہ کہا جاتا ہے۔
شریعت میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے یعنی انفاق فی سبیل اللہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک انفاقِ واجبہ اور دوسری انفاقِ نافلہ۔ ان میں ایک قسم فرض اور دوسری نفلی صدقہ و خیرات کے زمرے میں آتی ہے۔۔۔مزید پڑھیں

موجودہ دور نفس پرستی کا دور ہے۔ اکثریت اللہ تعالیٰ کی بجائے نفس کے بتوں(نفسانی خواہشات کے بت) کی پرستش میں مصروف ہے۔ نفس اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان حجاب ہے اگر یہ حجاب درمیان سے ہٹ جائے تو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان کوئی پردہ نہیں رہتا۔ یہ حالت ’’قلبِ سلیم‘‘ کی منزل یعنی نفسِ مطمئنہ پر پہنچ کر حاصل ہوتی ہے ۔ریاکاری، نفاق، حُبِّ دنیا ، حُبُّ الشَہوات، بغض ، کینہ، حسد، غصہ، شہوتِ معدہ،۔۔۔مزید پڑھیں

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ترجمہ: یہ وہ گھر ہیں جن کے بلند کیے جانے اور جن میں اللہ کے نام کا ذکر کیے جانے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ وہاں وہ لوگ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی کا نام لیتے ہیں جنہیں خدا کے ذکر، نماز ادا کرنے اور زکوٰۃ دینے سے نہ تجارت غافل کرتی اور نہ خریدو فروخت یہ لوگ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن آنکھیں اُلٹ پلٹ ہو جائیں گی  ۔۔۔مزید پڑھیں

دِل میں کسی خاص چیز کے حصول کی خواہش اور ارادہ کا نام طلب ہے، اور حصولِ طلب کا جذبہ دِل میں ہی پیدا ہوتا ہے۔ جو انسان اپنے دِل میں اللہ تعالیٰ کی پہچان ، دیدار اور معرفت کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کی خواہش کو” طلبِ مولیٰ ” اور اسے طالبِ مولیٰ یا ارادت مند کہتے ہیں، جسے عام طور پر سالک ، طالب یا مرید کے نام سے بھی موسوم کیا جا تا ہے۔دنیا میں تین قسم کے انسان یا انسانوں کے گروہ پائے جاتے ہیں: 1۔ طالبانِ دنیا، 2۔ طالبانِ عقبیٰ، 3۔ طالبانِ مولیٰ۔ان تینوں گروہوں کو اس حدیث قدسی میں بیان کیا گیا ہے:طَاْلِبُ الْدُّنْیَا مُخَنَّثٌ وَ طَاْلِبُ الْعُقْبٰی مُؤَنَّثٌ وَ طَاْلِبُ الْمُولٰی مُذَکِّرٌ    ترجمہ: دنیا کا طالب (مخنّث) ۔۔۔مزید پڑھیں