Majlis-e-Mohammadi

سلطان العاشقین اور مجلسِ محمدی

مجلسِ محمدی

یہ ہر مومن مسلمان کی دلی آرزو ہوتی ہے کہ کاش وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دور میں پیدا ہوتا اور ان کا فیض بلاواسطہ ویسے ہی حاصل کرتا جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حاصل کرتے تھے۔ سورۃ احزاب میں اللہ فرماتا ہے:

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ  (الاحزاب۔6)
ترجمہ: اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مومنوں کی جانوں سے بھی زیادہ (ان کے) قریب ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہر دور کے مومنوں کو اپنی جان سے بھی عزیز اور قریب رکھتے ہیں اور اپنے فیض اور قرب کے کسی بھی طالب کو خود سے دور نہیں رکھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم رحمتہ اللعالمین ہیں اور دو جہانوں کے سردار ہیں لہٰذا ہر دور میں کامل حیات کے ساتھ موجود ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فیض کے چشمے آج بھی اسی طرح جاری ہیں جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ظاہری حیات میں تھے۔ حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
* پس جو شخص حیات النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا منکر ہے وہ کس طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اُمتی ہو سکتا ہے وہ جو بھی ہے جھوٹا ہے‘ بے دین و منافق ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے ’’جھوٹا آدمی میرا اُمتی نہیں ہے۔‘‘(کلید التوحید کلاں)
* جسے حیات النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اعتبار نہیں وہ ہر دو جہان میں ذلیل و خوار ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو وہ شخص مردہ سمجھتا ہے جس کا دِل مردہ ہوا ور اس کا سرمایۂ ایمان و یقین شیطان نے لوٹ لیا ہو۔(کلید التوحید کلاں)
* جو شخص اخلاص اور یقین کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں فریاد کرے تو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مع لشکرِ صحابہؓ امام حسنؓ وامام حسینؓ تشریف لا کر ظاہری آنکھوں سے زیارت کراتے اور مدد فرماتے ہیں۔(عقلِ بیدار)
* سن اگر کوئی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مُردہ سمجھتا ہے اور حیات النبیؐ کا انکار کر تا ہے تو اس کا ایمان سلب ہو جاتا ہے۔(عین الفقر)
علامہ اقبالؒ حیات النبیؐ کے بارے میں فرماتے ہیں:
* میرا عقیدہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم زندہ ہیں اور اس زمانے کے لوگ بھی ان کی صحبت سے اسی طرح مستفیض ہو سکتے ہیں جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہوا کرتے تھے لیکن اس زمانے میں تو اس قسم کے عقائد کا اظہار بھی اکثر دماغوں پر ناگوار ہوگا اس واسطے خاموش رہتا ہوں۔ (خط بنام نیازالدین خاں۔فتراکِ رسول۔بابِ سوم۔ اقبال اور عشقِ رسول)
اس زمانے میں عاشقانِ رسول کے لیے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت اور فیض سے مستفید ہونے کا بہترن ذریعہ روحانی طور پر ان کی مجلسِ محمد ی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر ہونا ہے جو کسی مرشد کامل اکمل کے توسط سے ہی ممکن ہے جو خود اس مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں کامل ہو اور اپنے طالبوں کو بھی یہاں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ حضرت سلطان باھوؒ نے اپنی ہر کتاب میں مجلسِ محمد ی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی موجودگی کا تذکرہ کیا ہے اور اس کی حضوری پانے کی راہ بتائی ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری اسمِ اللہ ذات اور اسمِ محمد کے تصور سے حاصل ہوتی ہے۔
اس عبارت کی شرح کرتے ہوئے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
* اس عبارت کی شرح اس طرح ہے کہ صحابہ کرامؓ کے لئے اسمِ اللہ ذات حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ظاہری چہرہ مبارک تھا اور اسممحمد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات مبارک تھی۔اب حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ تک رسائی کا طریقہ صرف اسمِ اللہ ذات اور اسمِ محمد کا تصور ہے بشرطیکہ یہ وہاں سے حاصل ہو اہو جہاں پر اسے عطا کرنے کی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے باطنی طور پر اجازت ہو اور یہ بات طالب کو اسمِ اللہ ذات کے تصور کے پہلے دن ہی معلوم ہو جاتی ہے کہ اس نے جہاں سے اسم اللہ ذات یا اسم محمد حاصل کیا ہے وہ مرشدِ کامل ہی کی بارگاہ ہے۔ (شمس الفقرا)
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری کے متعلق فرماتے ہیں:
* راہِ حق میں یہ ایک ایسا مقام ہے جس میں طالبِ مولیٰ باطن میں مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضور ی سے مشرف ہو جاتا ہے اور حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کی تربیت فرماتے ہیں اور باطن میں اسے معرفتِ الٰہیہ کے مراتب طے کراتے ہیں ۔ (شمس الفقرا)
* مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری باطن کا اہم مقام ہے جس کو مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تو حق الیقین کی منزل ہے، اس کی حقیقت سے وہی واقف ہوتا ہے جو اسے پا لیتا ہے۔ (شمس الفقرا)
حضرت سخی سلطان باھُوؒ حضوریٔ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
* جان لے کہ اُمت پیروکارکو کہتے ہیں اور پیروکار وہ ہے جو قدم بقدم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نقشِ قدم پر چل کر خود کو ان کی مجلس میں پہنچائے۔مجھے تعجب ہوتا ہے ان لوگوں پر جو راہِ حضوری نہیں جانتے لیکن نفس پرستی‘خود نمائی اور کبر و ہوا کے باعث عارفانِ باللہ سے طلب بھی نہیں کرتے۔ بھلا جو شخص نظرِ نبوی میں منظور و حضور ہی نہیں وہ مومن‘ مسلمان‘ فقیر‘ درویش ‘عالم فقیہہ‘پیروکار اور اُمتی کیسے ہوسکتا ہے؟جان لے کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ کی حضوری ہدایت کی جڑ ہے اور یہ ہدایت بدایت (ابتدا‘بنیاد) میں ہے۔ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:اَلنِّھَایَۃُ ھُوَ الرُّجُوْعُ اِلَی الْبِدَایَۃِ ’’انتہا ابتدا کی طرف لو ٹ جانے کا نام ہے۔‘‘(کلید التوحید کلاں)
ظہورِحق کی ابتدا چونکہ نورِ محمدی کے ظہور سے ہوئی اور تمام مخلوق نو رِ محمدی سے ظہور پذیر ہوئی اس لئے ’’ابتدا‘‘ نورِ محمدی ہی ہے‘ لہٰذا ابتدا نورِ محمدی تک پہنچنا ہی انتہا ہے۔یہی مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری ہے اور یہی سِرِّ ہدایت ہے۔جو شخص اس کا قائل و طالب نہیں وہ گویا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اُمتی و پیروکار ہی نہیں۔(نور الہدیٰ کلاں)
* جو لوگ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر ہو جاتے ہیں وہ یکبارگی ولی اللہ اور عارف باللہ کے مرتبے پر پہنچ جاتے ہیں یا یکبارگی انہیں مجذوب کے مراتب حاصل ہوتے ہیں یا یکبار گی مراتبِ محمود کو پالیتے ہیں یا مراتبِ مردود تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دیکھنے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہ کرے کیونکہ یہ مجلس بہشت سرشت ہے۔مجلسِ حضور میں نص ‘ حدیث اور ذکر مذکور کا تذکرہ رہتا ہے ۔مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بعض محمود نیک خصلت بن جاتے اور بعض مردود ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ کسوٹی ہے، اس کے دیکھنے سے وجود کے اندر کا پوشیدہ کذب ظاہر ہو جاتا ہے۔ طالبِ صادق جب اس مجلس کو دیکھتا ہے تو اس کا وجود سراسر نور ہو جاتا ہے اور پھر اسے مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری دائمی طور پر حاصل ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی حاسدمنافق‘ مردہ دل کاذب جو شیطان کے فرزندوں اور خناس کے وسوسہ کی طرح ہے اور جو پیر مرشد کا منکر‘ بے پیر بے مرشد اور بے معرفت ہے‘ یہ کہے کہ اس زمانہ میں کوئی پیر یا مرشد لائقِ ارشاد نہیں اور اس کی بجائے صرف مطالعۂ کتب کافی ہے تو وہ اس حیلۂ شیطانی اور مکروفریبِ نفسانی کے سبب رہزن ہے اور معرفت اور ہدایتِ خدا سے باز رکھتا ہے اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری سے روکتا ہے۔ ایسے شخص کی بات کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ایسا شخصُ مردہ دل ہے اور کتیّ کی طرح مُردار کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے۔(امیر الکونین)
روز و شب در طلبِ نبویؐ با حضور
مرد مرشد میرساند خاص نور
ہرکہ منکر میشود زیں خاص راہ
عاقبت کافر شود با رو سیاہ
ترجمہ: دِن رات مجلسِ محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی حضوری کی طلب کر لیکن یاد رکھ اس خاص نور تک مرد مرشد ہی پہنچا سکتا ہے۔ جو اس خاص راہ کا انکار کرتا ہے وہ کافر ہو کر روسیاہ ہوجاتا ہے۔ (مجالستہ النبی خورد)
* آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس مبارک میں نفسِ امارہ اور شیطان لعین داخل نہیں ہوسکتے۔یہ اسمِ اللہ ذات کے حاضرات کی راہ ہے ۔اس سے ازل ‘ابد دنیا‘ حشر‘قیامت گاہ‘ حضوری‘ قربِ الٰہی‘ دوزخ بہشت اور حوروقصور کا تماشا دکھائی دیتا ہے۔(عقلِ بیدار)
* جان لے! خاص مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دیگر نو(9) مقامات پر قائم ہوتی ہے جو مراتب بمراتب اور مقام بمقام (بڑھتے ہوئے) کامل و مکمل ہو جاتی ہے۔ پہلی مجلسِ محمدیصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مقامِ ازل میں ہے، دوسری مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مقامِ ابد میں ہے، تیسری حرمِ مدینہ میں روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں، چوتھی خانہ کعبہ کے داخلی مقام پر یا حرمِ خانہ کعبہ میںیا جبلِ عرفات پر جہاں لبیک کی دعائے حج قبول ہوتی ہے، پانچویں عرش سے اوپر، چھٹی قابَ قوسین کے مقام پر، ساتویں بہشت میں جہاں سے اگر کچھ کھا پی لیا جائے توتمام عمر بھوک پیاس نہیں لگتی اورنہ ہی نیند آتی ہے، آٹھویں حوضِ کوثر کے مقام پرجہاں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دستِ اقدس سے شراباً طہوراً پی لی جائے تو وجود پاک ہوکر مقامِ ترک و توکل، توحید، تجریدو تفرید، توفیقِ الٰہی اور رفاقتِ حق حاصل کرلیتا ہے۔نویں مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مقام روئیتِ ربوبیت کے انوار میں غرق ہو کر دیدار سے مشرف ہونا ہے۔ جو خود کوفنا کرلیتا ہے وہ فقر کی معرفت کی انتہا تک پہنچ جاتا ہے۔ جوکوئی ان نو(9) مقامات میں موجود نو(9) خاص مجالسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں دنیا کی کوئی طلب یا دنیاوالوں کی کوئی غرض پیش کرتا ہے تو وہ مرتبہ محمود سے گر کر مجلسِ مردود میں پہنچ جاتا ہے۔ جب عارف باللہ ان مراتبِ محمود پر پہنچ جاتا ہے تواس کی روح خوش ہوجاتی ہے اور اس کانفس نیست ونابود ہو جاتاہے۔ جب کوئی طالبِ مولیٰ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں داخل ہوتا ہے تو اس کے وجودپر چار نظروں سے چار تاثیریں پیدا ہوتی ہیں۔ حضرت ابوبکر صد یق رضی اللہ عنہٗ کی نظر سے طالبِ مولیٰ کے وجود میں صدق کی تاثیر پیدا ہوتی ہے اور طالبِ مولیٰ کے وجود سے جھوٹ اور نفاق نکل جاتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ کی نظر سے طالبِ مولیٰ کے وجود میں عدل اور محاسبہ نفس کی تاثیر پیدا ہو جاتی ہے جس سے خطرات اور ہوائے نفسانی طالب کے وجود سے مکمل طور پر نکل جاتے ہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ کی نظر سے طالبِ مولیٰ کے وجود میں ادب اور حیا کی تاثیر پیدا ہو جاتی ہے اوربے ادبی اوربے حیائی کے اوصاف نکل جاتے ہیں۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کی نظر طالبِ مولیٰ پر پڑتی ہے تو اس کے وجود میں علم، ہدایت اور فقر کی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے اور جہالت اوردنیا کی محبت نکل جاتی ہے۔ اس کے بعد طالبِ مولیٰ تلقین کے لائق ہوجاتا ہے۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اسے اپنے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں اور اسے مرشدی کے لازوال مراتب پر پہنچا دیتے ہیں جہاں نہ کوئی خوف ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی غم۔ مطلب یہ کہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کسوٹی کی مثل ہے۔ بعض طالب جب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دیدار سے مشرف ہوتے ہیں تو ان کا صادق دل باصفا ہو جاتا ہے اور طالب کو کل اور جز کے تمام مطالب حاصل ہو جاتے ہیں یا وہ ترک وتوکل اختیار کر کے توحید کے نور میں غرق ہو جاتا ہے اور ہمیشہ یقین کے ساتھ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں باادب حاضر رہتا ہے۔ بعض جھوٹے طالب جب مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں پہنچتے ہیں تو اس مجلس میں وردو وظائف اور نص و حدیث کا ذکر سنتے ہیں لیکن اپنے دِل میں موجود نفاق کی وجہ سے اس پر یقین نہیں کرتے اور انکار کی راہ اختیار کرکے مقامِ محمود سے گرِ کر مردوداور مرتد ہو جاتے ہیں۔ اللہ اس سے اپنی پناہ میں رکھے۔ جب مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ان احوال کی تاثیر طالب کے وجود پر ہوتی ہے تو اس کا خام وجود شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی برکت سے اکسیر ہو جاتا ہے اور ذوق اور شوقِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ، معرفت اور وصالِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ، جمعیت اور حالِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جیسے نیک خصائل اس کے تمام وجود کو اپنے قبضہ اور تصرف میں لے آتے ہیں اور اسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رضا حاصل ہوجاتی ہے۔ (شمس العارفین)
مجلس محمدی کی حضوری کا روحانی کمال اور مرتبہ بھی صرف اور صرف سلسلہ سروری قادری کے مرشد کامل اکمل کے وسیلے سے حاصل ہو سکتا ہے۔ حضرت سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
* سروری قادری کامل کی ابتدا کیا ہے؟ قادری کامل (سروری قادری مرشد) نظر سے یا تصورِ اسم اللہ ذات سے یا ضربِ کلمہ طیب سے یا باطنی توجہ سے طالب اللہ کو معرفتِ الٰہی کے نور میں غرق کر کے مجلسِ محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) کی حضوری میں پہنچا دیتا ہے کہ طریقہ قادری میں یہ پہلے ہی روز کا سبق ہے۔ جو مرشد اس سبق کو نہیں جانتا اور طالبوں کو مجلسِ محمدی کی حضوری میں نہیں پہنچاتا وہ قادری کامل ہرگز نہیں۔ اُس کی مستیٔ حال محض خام خیالی ہے کہ قادری کامل معرفتِ الٰہی کے نور میں غرق ہو کر ہمیشہ غرقِ وصال رہتا ہے۔ (کلید التوحیدکلاں)
مجلس محمدی کے بارے میں تفصیلی مطالعہ کے لیے وزٹ کریں۔
https://urdu.sultan-bahoo.com/majlis-e-mohammadi-sultan-bahoo-majlis-e-mohammadi/