Silsila-Sawri-qadri

سلسلہ سروری قادری/شجرہ فقر/سلطان العاشقین سلطان محمد نجیب الرحمن

سلسلہ سروری قادری

             سلسلہ فقر

فقر میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا سلسلہ سروری قادری ہے۔سلسلہ سروری قادری کا ایک سِرّ ہے اور یہ سِرّ لقائے الٰہی اور مجلس ِ محمدی کی حضوری ہے جو غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ نے اپنے فرزند سیّد نا عبدالرزاق رحمتہ اللہ علیہ کو اور انہوں نے اپنے پوتے سیّدنا عبد الجبار ابن ابو صالح نصر رحمتہ اللہ علیہ کو منتقل فرمایا ۔یہ سِرِّ لقائے الٰہی اور مجلس ِ محمدی کی حضوری والا کامل سلسلہ قادری ہے۔ ابتدا میں اس کو جباری گروہ کے نام سے پکارا گیا ۔محمد حسین دہلوی اپنی کتاب’’ تذکرہ الفقرا‘‘جس میں انہوں نے مختلف سلاسل کے فقرا سے ملاقاتوں کا تذکرہ فرمایا ہے، میں تحریر فرماتے ہیں کہ دورانِ سیاحت اُن کی ’’جباری گروہ کے کسی بھی فقیر سے ملاقات نہیں ہوئی‘‘ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا اور اہل ِ دنیا ‘ شہرت، نام و ناموس سے دور رہتے ہیں۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُورحمتہ اللہ علیہ نے اس سلسلہ کو سروری قادری کا نام دیا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ سے ہی سلسلہ سروری قادری کو برصغیر میں عروج حاصل ہوا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ سروری قادری کو ہی کامل قادری یا اصل قادری سلسلہ تسلیم کرتے ہیں۔آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
 قادری طریقہ بھی دو قسم کا ہے‘ ایک سروری قادری اور دوسرا زاہدی قادری۔ سروری قادری مرشد صاحب ِ اسم اللہ ذات ہوتا ہے اس لیے وہ جس طالب ِ اللہ کو حاضراتِ اسم اللہ ذات کی تعلیم و تلقین سے نوازتا ہے تو اُسے پہلے ہی روز اپنا ہم مرتبہ بنا دیتا ہے جس سے طالب ِ اللہ اتنا لایحتاج و بے نیاز مُتَوَکَّلْ اِلَی اللّٰہ ہو جاتا ہے کہ اُس کی نظر میں مٹی و سونا برابر ہوجاتا ہے۔زاہدی قادری طریقے کا طالب بارہ سال تک ایسی ریاضت کرتا ہے کہ اُس کے پیٹ میں طعام تک نہیں جاتا‘ بارہ سال کی ریاضت کے بعد حضرت پیر صاحب (محی الدین شاہ عبدالقادر جیلانی قدس سرہُ العزیز) اُس کی دستگیری فرماتے ہیں اور اُسے سالک مجذوب یا مجذوب سالک بنا دیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں سروری قادری طالب کا مرتبہ محبوبیت کا مرتبہ ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
 زمان و لا مکان پر مکمل تصرف رکھنے والا طریقہ صرف قادری ہے اور قادری بھی دو قسم کے ہوتے ہیں‘ ایک زاہدی قادری اور دوسرے سروری قادری۔ سروری قادری طریقہ وہ ہے جو اس فقیر کو حاصل ہے کہ یہ فقیر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس میں حاضر ہوا۔ حضور علیہ الصلوٰۃو السلام نے اسے دست ِبیعت فرمایا اور خندہ پیشانی سے فرمایا ’’خَلقِ خدا کی راہنمائی میں ہِمّت کرو۔‘‘ بعد از تلقین حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس فقیر کا ہاتھ پکڑ کر حضرت پیر دستگیر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے سپرد کر دیا۔ حضرت پیر دستگیر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے بھی سرفرازی بخشی اور خلقِ خدا کو تلقین کرنے کا حکم فرمایا۔ یہ اُن ہی کی نظرِ کرم کا کمال ہے کہ بعد میں اس فقیر نے جب بھی کسی طالب ِ اللہ کے ظاہر و باطن پر توجہ کی، اُسے ذکر اذکار اور مشقت و ریاضت میں ڈالے بغیر محض تصورِ اسمِ اللہ ذات اور تصورِ اسم محمد سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مدد سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس میں پہنچا دیا۔ پھر اُس نے جدھر بھی نظر اُٹھائی اُسے اسمِ اللہ ذات ہی نظر آیا اور اس کے سامنے کوئی حجاب باقی نہ رہا۔ سروری قادری طریقہ کم حوصلہ نہیں۔ یہ نہایت ہی فیض بخش طریقہ ہے جب کہ دیگر طریقوں میں لوگوں نے بعض طالبوں کو آتشِ اسمِ اللہ ذات سے جلا کر مار ڈالا‘ بعض اسمِ اللہ ذات کا بوجھ برداشت نہ کر سکے اور عاجز ہو بیٹھے اور بعض مردود و مرتد ہوگئے۔(عین الفقر)
 یاد رہے کہ قادری طریقہ بھی دو قسم کا ہے‘ ایک قادری زاہدی طریقہ ہے جس میں طالب عوام کی نگاہ میں صاحب ِ مجاہدہ و صاحب ِ ریاضت ہوتا ہے جو ذکرِ جہر سے دل پر ضربیں لگاتا ہے‘ غوروفکر سے نفس کا محاسبہ کرتا ہے‘ ورد و وظائف میں مشغول رہتا ہے‘ راتیں قیام میں گزارتا ہے اور دن کو روزہ رکھتا ہے لیکن باطن کے مشاہدہ سے بے خبر قال (گفتگو) کی وجہ سے صاحب ِ حال بنا رہتا ہے۔ دوسرا سروری قادری طریقہ ہے جس میں طالب قُرب و وصال اور مشاہدہِ دیدار سے مشرف ہو کر شوریدہ حال رہتا ہے۔سروری قادری مرشد کامل ایک ہی نظر سے طالب ِ اللہ کو معیت ِ حق تعالیٰ میں پہنچا دیتا ہے اور وصالِ پروردگار سے مشرف کر کے حق الیقین کے مراتب پر پہنچا دیتا ہے۔ ایسا ہی سروری قادری فقیر قابل ِاعتبار ہے کہ وہ قاتل ِ نفس ہوتا ہے اور کار زارِ حق میں پیش قدمی کرنے والا سالار ہوتا ہے۔(محک الفقر کلاں)
 سروری قادری اُسے کہتے ہیں جو نر شیر پر سواری کرتا ہے اور غوث و قطب اُس کے زیر بار رہتے ہیں۔ سروری قادری طالبوں اور مریدوں کو اللہ تعالیٰ کے کرم سے پہلے ہی روزیہ مرتبہ حاصل ہوجاتا ہے کہ ماہ سے ماہی تک ہر چیز اُن کی نگاہ میں آجاتی ہے۔ سروری قادری کی اصل حقیقت یہ ہے کہ سروری قادری فقیر ہر طریقے کے طالب کو عامل کامل مکمل مرتبے پر پہنچا سکتا ہے کیونکہ دیگر ہر طریقے کے عامل کامل ‘درویش ‘سروری قادری فقیر کے نزدیک ناقص و ناتمام ہوتے ہیں کہ دوسرے ہر طریقے کی انتہا سروری قادری کی ابتدا کو بھی نہیں پہنچ سکتی خواہ کوئی عمر بھر محنت و ریاضت کے پتھر سے سر پھوڑتا پھرے۔ اس طریقہ کے عاشق و طالب دنیا سے تارک فارغ ہوتے ہیںاور عارف واصل ہونا سروری قادری طریقے کا ابتدائی مرتبہ ہے۔ سروری قادری طریقے کے طالبوں اور مریدوں میں غوث و قطب اور ابدال و او تادقیامت تک کم نہ ہوں گے کیونکہ اس طریقہ میں ابتدا و انتہا ایک ہی ہے یعنی تصورِ اسمِ اللہ ذات کی تاثیر طالب کو ذکر فکر میں مبتلا کیے بغیر تمام مراتب تک پہنچا دیتی ہے۔ اس طریقہ کو شریعت سے پائیداری اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم و تلقین سے افتخار حاصل ہے۔ یاد رہے کہ حضرت پیر دستگیر مادر زاد ولی اللہ‘ فقیر فنا فی اللہ‘ وزیر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور عارف باللہ معشوقِ اللہ ہیں۔ انہیں بارگاہِ ربّ الارباب سے پیر دستگیر محی الدین‘ بقا باللہ قطب‘ فردانیت میں غوث اور وحدانیت میں غوث الاعظم کا خطاب اس لیے دیا گیا کہ آپ کے سروری قادری طالبوں اور مریدوں کو پہلے ہی روز اسم ِ اعظم (اسمِ اللہ ذات) عطا کر دیا جاتا ہے اور انہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس کی حضوری بخش کر غالب الاولیا حبیب بنا دیا جاتا ہے۔ اس طریقہ سے فیض یاب ہونے والے باطن صفا اہل ِ تصدیق طالب مرید ہر وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس میں حاضر رہتے ہیں۔ دنیا میں ایسے سروری قادری لایحتاج فقیر بہت ہی کم پائے جاتے ہیں جو دنیا و عقبیٰ سے بے نیاز صاحب ِ ہدایت و صاحب ِ رازِ عنایت ہوتے ہیں‘ ایک ہی دم میں دونوں جہان طے کر کے صاحب ِ جو دو کرم ہو جاتے ہیں اور کشف و کرامات کو باعث ننگ سمجھ کر اُن سے مطلق شرم و حیا کرتے ہیں کہ سروری قادری فقیر کی نظر وحدانیت ِ اِلٰہ پر ہوتی ہے‘ سروری قادری فقیر ایسا بادشاہ ہے جو معرفت ِ الٰہی کے اسرار سے ہر وقت آگاہ رہتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
سروری قادری طریقہ میں رنج ِ ریاضت‘ چلہ کشی‘ حبس ِ دم‘ ابتدائی سلوک اور ذکر فکر کی الجھنیں ہرگز نہیں ہیں۔ یہ سلسلہ ظاہری درویشانہ لباس اور رنگ ڈھنگ سے پاک ہے اور ہر قسم کے مشائخانہ طور طریقوں مثلاً عصا ،تسبیح، جُبَّہ و دستار وغیرہ سے بے زار ہے۔ اس سلسلہ کی خصوصیت یہ ہے کہ مرشد پہلے ہی روز سلطان الاذکار (ھُو) کا ذکر اور تصورِ اسم ِ اللہ ذات اور مشق مرقومِ وجودیہ عطا کر کے طالب کو انتہا پر پہنچا دیتا ہے۔ جبکہ دوسرے سلاسل میں یہ سب کچھ نہیں ہے اس لیے حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سلسلہ سروری قادری کے طالب (مرید) کی ابتدا دوسرے سلاسل کی انتہا کے برابر ہوتی ہے۔(شمس الفقرا)
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن سروری قادری مد ظلہ الاقدس کا شجرۂ فقر اس طرح سے ہے:
1۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم
2۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ
3۔ حضرت اما م خواجہ حسن بصر ی رضی اللہ عنہٗ
4۔ حضرت شیخ حبیب عجمی رحمتہ اللہ علیہ
5۔ حضرت شیخ دائو د طائی رحمتہ اللہ علیہ
6۔ حضرت شیخ معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ
7۔ حضرت شیخ سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ
8۔ حضرت شیخ جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ
9۔ حضرت شیخ جعفر ابوبکر شبلی رحمتہ اللہ علیہ
10۔ حضرت شیخ عبد العز یز بن حرث بن اسد تمیمی رحمتہ اللہ علیہ
11۔ حضرت شیخ ابو الفضل عبد الواحد تمیمی رحمتہ اللہ علیہ
12۔ حضرت شیخ محمد یوسف ابو الفرح طر طوسی رحمتہ اللہ علیہ
13۔ حضرت شیخ ابو الحسن علی بن محمد قرشی ہنکاری رحمتہ اللہ علیہ
14۔ حضرت شیخ ابو سعید مبارک مخزومی رحمتہ اللہ علیہ
15۔ غوث الاعظم سیّدنا حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ
16۔ حضرت شیخ تاج الدین ابو بکر سیّد عبد الرزاق جیلانی رحمتہ اللہ علیہ
17۔ حضرت شیخ سیّد عبد الجبار جیلانی رحمتہ اللہ علیہ
18۔ حضرت شیخ سیّد محمد صادق یحییٰ رحمتہ اللہ علیہ
19۔ حضرت شیخ سیّد نجم الدین برہان پوری رحمتہ اللہ علیہ
20۔ حضرت شیخ سیّد عبد الفتاح رحمتہ اللہ علیہ
21۔ حضرت شیخ سیّد عبد الستار رحمتہ اللہ علیہ
22۔ حضرت شیخ سیّد عبد البقاء رحمتہ اللہ علیہ
23۔ حضرت شیخ سیّد عبد الجلیل رحمتہ اللہ علیہ
24۔ حضرت شیخ سیّد عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ
25۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ
26۔ سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ
27۔ سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبد الغفور شاہ رحمتہ اللہ علیہ
28۔ شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان سیّد پیر محمدبہادر علی شاہ کاظمی المشہدی رحمتہ اللہ علیہ
29۔ سلطان الاولیا حضرت سخی سلطان محمد عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ
30۔ سلطان الفقرششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ
31۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس