Silsila-Sarwari-qadri

سلسلہ سروری قادری

سلسلہ سروری قادری

* سلسلہ سروری قادری کو سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُورحمتہ اللہ علیہ نے برصغیر میں عروج عطا فرمایا اور آپؒ سروری قادری کو ہی اصل اور کامل قادری سلسلہ تسلیم کرتے ہیں۔
* سرور سے مراد سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور قادری سے مراد حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ص ہیں۔ سروری سے مراد بادشاہت اور قادری سے مراد قدرت۔
* سروری قادری کی شان یہ ہے کہ وہ ازل سے منتخب شدہ ہوتا ہے۔ اس کو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم باطن میں بیعت فرماتے ہیں پھر حضور غوث پاکؓ کے حوالے فرماتے ہیں۔ پھر باطنی تربیت کے بعد ظاہری مرشد کے حوالے کیا جاتا ہے طالب کو خواہ پتہ ہو یا نہ ہو۔
* سروری قادری سلسلہ معرفت کا سمندر ہے۔ جو اس سلسلہ میں داخل ہوتا ہے اور اسمِ اللہ ذات میں غوطہ لگاتا ہے وہ عارف ہوجاتا ہے۔ اگر قادری، خاص طور پر سروری قادری طریقہ کا مرید کسی دوسرے طریقہ میں چلا جائے تو وہ خواہ بانصیب ہی ہو بے نصیب اور مردود ہوجاتا ہے۔ 
* سروری قادری کے لیے دوسرے طریقہ کی طرف رجوع کرنا گمراہی ہے۔ ہاں دوسرے سلاسل کے لوگ سلسلہ سروری قادری میں بیعت ہو سکتے اور رجوع کر سکتے ہیں۔ یا سروری قادری صاحبِ اسم مرشد کے مرید صاحبِ مسمّٰی سروری قادری مرشد کے بیعت ہو سکتے ہیں۔
* سلسلہ سروری قادری باطن میں فنا اور پھر فنا سے بقا کی طرف لے جاتا ہے۔
* سروری قادری مرشد کبھی شہرت کا خواہاں نہیں ہوتا۔
* سلسلہ سروری قادری کا اعلیٰ سے اعلیٰ مراتب کا حامل فقیر بھی عام انسانوں میں انہی کی طرح رہتا ہے اور اپنے مراتب مخلوق پر کبھی ظاہر نہیں کرتا۔
* سروری قادری مرشد طالب کی تربیت باطن میں اپنی نگاہِ کامل سے کرتا ہے بغیر زبان سے کچھ کہے۔ زبان سے عالم تربیت کرتا ہے۔