Rohani-mefil

سالانہ روحانی محافل

سالانہ روحانی محافل کا انعقاد

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس پورا سال ملک بھر میں محافل میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا انعقاد فرماتے ہیں تاکہ لوگوں کے دِلوں میں عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پیدا ہو۔ لیکن سال میں میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دوبڑی محافل منعقد ہوتی ہیں۔ ایک عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دن اور دوسری 21مارچ کے دن کیونکہ اس دن آپ مدظلہ الاقدس کو امانتِ الٰہیہ منتقل ہوئی تھی۔ یہ دونوں محافل لاہور میں ہوتی ہیں۔
ان دو محافل کے علاوہ 10 محرم الحرام کو محفل بیادِ حسینؓ ، ربیع الثانی میں عرس سیّدنا غوث الاعظمؓ اور جمادی الثانی میں عرس سلطان باھوؒ اور اپنے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کا عرس بڑے شاندار طریقے سے مناتے ہیں۔
ان محافل میں ملک بھر سے کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں جو صحبتِ مرشد سے فیض یاب ہوتے ہیں اور ان محافل سے روحانی فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔ ان محافل میں عالی شان لنگر کا وسیع و عریض انتظام ہوتا ہے۔

عرس سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ

آپ ہر سال ستمبر- اکتوبر کے مہینہ میں احمد پورشرقیہ میں عرس سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی ؒ بڑی شان و شوکت سے مناتے رہے ہیں۔
سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے سلسلہ سروری قادری کے امام اور شیخِ کامل ہیں آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار مبارک احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں ہے۔ 
مارچ 2011 میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ نے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو حکم فرمایا کہ سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار مبارک کی تعمیر کی جائے اور لنگر جاری کیا جائے۔
اپنی اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ستمبر2011ء میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے پہلی بار حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے محل پاک کا دورہ فرمایا اور اس کی خستہ حالی دیکھ کر آپ مدظلہ الاقدس کو بہت دکھ ہوا۔ کیونکہ آپ کا مزار خستہ حال ایک کمرے پر مشتمل تھا اور اس کا ایک ہی خستہ حال مینار تھا باقی تینوں مینار گر چکے تھے۔ مئی2012ء میںآپ مدظلہ الاقدس نے سجادہ نشین شمس الحق کی اجازت سے سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے محل پاک کی تعمیر دوبارہ شروع کروائی ۔ انہوں نے اس کام کے لیے نور محمد مجاور دربار کو نگران مقرر فرمایا۔مزار مبارک پر سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے مزار مبارک کی طرح چاروں طرف مینار تعمیر کیے گئے اور ان پر رنگ و روغن کا کام کیا گیا اور کاشی کاری والی ٹائلیں لگائی گئیں۔ میناروں کے درمیان میں چاروں طرف گمٹیاں تعمیر کی گئیں اور اُن پر بھی کاشی کاری اور رنگ و روغن کا کام کیا گیا۔ صحن میں بھی ٹائلیں لگائی گئیں۔ تربت مبارک پر سنگِ مرمر لگایا گیا۔ اس طرح مزار مبارک کی تعمیر دوبارہ سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کی طرز پر 30۔اگست 2012ء کو مکمل ہوئی۔
مزار پاک کی تعمیر مکمل ہو جانے کے بعد سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے2۔ستمبر2012ء کو احمد پور شرقیہ میں مزار مبارک سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ پر آپ رحمتہ اللہ علیہ کا شاندار عرس منعقد فرمایا ۔ اس عرس پاک میں حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبد اللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی شان میں منقبتیں پڑھی گئیں اور ان کی حیات و تعلیمات اور اعلیٰ ترین روحانی مقام پر روشنی ڈالی گئی ۔ حاضرین کو آگاہ کیا گیا کہ سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے روحانی وارث اور ان کے بعد سلسلہ سروری قادری کے مرشد کامل ہیں۔ عرس پاک کے اختتام پر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں ان کے روحانی فیض کو دوبارہ جاری کرنے کی عرض پیش کی۔ حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے، جو سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی تمام تر کاوشوں سے بہت راضی تھے، باطنی طور پر نہ صرف اپنے روحانی فیض کو دوبارہ جاری کرنے کی حامی بھر لی بلکہ یہ بھی فرمایا کہ چونکہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس نے ہی ان کے روحانی فیض کے احیا کے لیے تمام تر کوششیں فرمائی ہیں اس لیے یہ فیض صرف ان کی ہی جماعت کے لیے مخصوص ہے۔اسی عرس کے دوران فقر کا مرکز شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے دربار پاک سے بدل کرسلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے دربا ر کی طرف منتقل کر دیا گیا۔ 
اس دور میں فقر کے مرکز کا تبدیل ہونا اس لیے بہت ضروری تھا کیونکہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے دور میں نظام کو یکسر بدل دیا جانا تھا ۔گزشتہ ادوار میں فقر کی تبلیغ کا طریقہ بھی مختلف تھا اور مرشد کامل کا اپنے مریدوں کی تربیت کا طریقہ بھی مختلف تھا۔ اس دور میں فقر کو بڑے پیمانے پر پھیلانے کا فیصلہ ہو چکا تھا اور اسی کے لیے نیا نظام وضع کرنے کی ضرورت تھی۔ چونکہ نظام کی تبدیلی ہمیشہ مدینہ سے ہوتی ہے اور حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ مدینہ سے ہی بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مکمل باطنی تربیت لے کر پاکستان (اس وقت ہندوستان) تشریف لائے تھے اس لیے نظام میں تبدیلی کی یہ خصوصیت صرف آپ رحمتہ اللہ علیہ ہی کے پاس تھی۔ وہ وقت بھی آ چکا تھا جس میں سلسلہ سروری قادری سے جعلی اور جھوٹے مشائخ کا خاتمہ ہونا تھا اس لیے مرکز کا مشائخ سروری قادری میں سے اُس شخصیت کے پاس منتقل ہونا ضروری تھا جن سے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی امانتِ فقر کا دوبارہ اجرا ہو ا تھا۔ لہٰذا بحکم آقائے فقر صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اب فقر کا مرکز سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا مزار پاک بنا دیا گیا۔ 
2012ء کے بعد سے آپ مدظلہ الاقدس ہر سال حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا عرس شاندار طریقے سے مناتے رہے ہیں۔لیکن 14-15 اکتوبر 2017 میں عرس کے تمام انتظامات مکمل ہو چکے تھے کہ سجادہ نشین دربار شمس الحق نے عرس کے قریب اس کے خلاف حکمِ امتناعی (Stay Order) حاصل کر کے عرس کا انعقاد رکوا دیا اور دربار پر قبضہ کا الزام لگایا۔ عرس مبارک کی تاریخ گزرنے کے بعد 24 اکتوبر کو مقدمہ واپس لے لیا مقصد صرف عرس رکوانا تھا۔
سلطان التارکین سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ اور سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو حکم فرمایا کہ آپ خاموش رہیں ان سے اب ہم نمٹیں گے اور فرمایا فقر کا مرکز اب آپ مدظلہ الاقدس کی ذات خود ہے۔