Risalat

رسالت

رسالت

* حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حقیقت نور ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ظاہر میں’’ انسانِ کامل‘‘ کا لباس پہن کر تشریف لائے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم صورت میں بشر ہیں اور حقیقت میں نور۔ بے عیب و پاک صاف شفاف بشریت آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اعلیٰ وصف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بشریت بھی بے مثل ہے اور اتنی لطیف ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا سایہ تک نہیں۔
* آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر اور تعریف عبادت ہے اور درود شریف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعریف کا دوسرا نام ہے ۔ 
* قُل سے مراد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بشریت ہے اور ’ھُو‘ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی احدیت ہے ۔
* صراطِ مستقیم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات پاک ہے۔
* جاہل وہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نہیں پہچانتا۔
* زمانہ جتنی ترقی کرے گا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات پاک اتنی بلند تر ہوتی چلی جائے گی۔
* آیت مبارکہ ھُوَ اْلَاوَّلُ وَاْلاٰخِرُ وَ الظَّاہِرُ وَ الْبَاطِنُ میں’’ اوّل‘‘ سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت ہے اور’’ آخر‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوت ہے۔ آپ کا ’’باطن‘‘ حقیقت ہے اور ’’ظاہر ‘‘ معرفت ہے۔ 
* جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچ گیا وہ اللہ تک پہنچ گیا۔
* حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہر زمانے میں اپنی شان کے مطابق ظاہر ہوتے ہیں۔ کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ۔(الرحمن۔29)
* حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بشریت عربی ہے لیکن نور نہ عربی ہے نہ عجمی ،نہ شرقی ہے نہ غربی۔
* جس انسان میں سے نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ختم ہو جائے وہ خشک ہو جاتا ہے۔
* حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رسالت تمام عالموں پر محیط ہے۔ جو عالم جس شکل و صورت میں ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس عالم میں اسی شکل و صورت میں موجود ہوں گے۔
* قرآن سے حقیقتاً مراد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مبارک ذات ہے۔ ان کا قرب حاصل کیے بغیر قرآن کی سمجھ نہیں آسکتی۔
* چاروں خلفائے راشدین کی ذات و صفات (حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ’’صدق‘‘ حضرت عمر فاروقؓ کا ’’عدل اور محاسبہ نفس‘‘ حضرت عثمان غنیؓ کی ’’سخاوت اور شرم و حیا‘‘ اور حضرت علیؓ کا ’’ علم،فقر اور شجاعت‘‘) کو جمع کیا جائے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات بن جاتی ہے۔ اگر چاروں یاروں میں سے ایک کا بھی انکار کیا جائے تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا انکار ہوگا۔
* ھُو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا باطن ہے اور محمد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ظاہر۔ جس نے ھُو کو پہچان لیا عاشق بن گیا۔

I am text block. Click edit button to change this text. Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Ut elit tellus, luctus nec ullamcorper mattis, pulvinar dapibus leo.