Nafs

نفس

نفس

* نفس اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان حجاب ہے اگر یہ حجاب درمیان سے ہٹ جائے تو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان کوئی پردہ نہیں رہتا۔
* انسانی نفس خواہشات کی آماجگاہ ہے۔ ہر طرح کی بُری خواہشات اور باغیانہ خیالات اسی میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہی انسان کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کی نافرمانی کے متعلق ابھارتا ہے اور یہی شہوت کے وقت حیوانوں جیسی حرکتیں کرتا ہے۔ غصہ میں درندوں کی طرح اظہارِ وحشت کرتا ہے۔ جب بھوکا ہوتا ہے تو حلال و حرام کی تمیز کھو بیٹھتا ہے اور جب سیر ہوتا ہے تو باغی، سرکش اور متکبر ہو جاتا ہے۔ غرض یہ کہ انسان کا نفس کسی حال میں بھی خوش نہیں رہتا۔ انسان کو ہر وقت نت نئے فتنوں میں مبتلا کرنے کے درپے رہتا ہے۔ جو اس کو قابو میں لاتا ہے وہی وصالِ الٰہی کی منزل تک پہنچتا ہے لیکن اس کو مارنا مرشد کامل کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ نفس کی موت میں ہی قلب کی حیات ہے۔ 
* شیطان بھی نفس ہی کو استعمال کر کے برائیوں کی طرف راغب کرتا ہے۔ نفس کا تزکیہ ہو سکتا ہے لیکن شیطان کا تزکیہ ممکن نہیں ہے۔
* نفسانی خواہشات کے پیچھے بھاگنا نفس پرستی ہے اور یہ بھی بت پرستی کی ہی قسم ہے۔
* جو انسان نفس کے نت نئے فتنوں کو قابو میں لاتا ہے وہی ’’وصالِ الٰہی‘ ‘کی منزل تک پہنچتا ہے۔
* ظاہری عبادات کی کثرت سے نفس سر کشی اختیار کر کے تکبر و انّا نیت کی گرفت میں آجاتا ہے۔مرشد کامل اکمل کی صحبت میں ذکر اور تصورِاسم اللہ ذات میں ترقی پانے سے نفس کا تزکیہ ہوتا چلا جاتا ہے۔
* نفس نورِ الٰہی میں غرق ہوتا ہے تو مغفور ہو کر نفسِ مطمئنہ بن جاتا ہے۔
* نفس منفی بھی ہوتا ہے اور مثبت بھی۔ جب مکمل طور پر مثبت ہوجاتا ہے تو اللہ کی ذات کا قرب پالیتا ہے ۔
* جب انسان اپنے نفس سے زیادہ قوی ہوجاتا ہے تبھی اسے قابو میں لاسکتا ہے اور نفس سے قوی تب ہوگا جب اس کی بات ماننے سے انکار کرنے کی ہمت کرپائے گا۔ جب تک اس کی خواہشات مانتا رہے گا اس کے تابع اور زیر فرمان رہے گا‘ پس اپنے نفس سے کمزور رہے گا۔
* حقیقت تک پہنچنے کے لیے اپنی ذات کی نفی ضروری ہے۔ جب انسان خود سے باہر نکلے گا تو ہی اللہ تک پہنچ پائے گا۔
* اگر انسان زندہ نفس کو ساتھ لے کر چلے گا تو کبھی بھی اللہ پاک کی رضا کو نہ پاسکے گا۔
* انسان بلند ہوتا ہے جب وہ اپنے نفس کو ذلیل کرے۔
* نفس کو آسان ترین الفاظ میں سمجھنا ہو تو اس کو انسان کی ذات کہیں گے۔ اگر ایک طرف اللہ پاک انسان کے اندر ہے تو دوسری طرف انسان کی اپنی ذات بھی موجود ہے۔ جب اپنی ذات ختم ہو جائے گی تو اللہ کی ذات ظاہر ہو جائے گی اور نفس مطمئنہ ہو جائے گا۔
* جو طالب نفسِ مطمئنہ کے مقام پر پہنچ جائے اسے قلبِ سلیم حاصل ہو جاتا ہے۔
* جب طالب محاسبہ نفس میں ماہر ہو جائے گا تو پھر اللہ کی رضا جان لیتا ہے۔
* نفس شیطان سے زیادہ طاقتور ہے لیکن نفس کا تزکیہ ہو جائے تو وہ خیر بن جاتا ہے جبکہ شیطان کا تزکیہ نہیں ہوسکتا اس لیے وہ صرف شر ہے۔