Murshid-Kamil-akmal

مرشدِ کامل

مرشدِ کامل 

* سلسلہ سروری قادری میں جب طالب ھُو میں فنا ہو کر فنا فی ھُو ہو جاتا ہے اور اس کے ظاہر و باطن میں ھُو کے سوا کچھ نہیں رہتا تو یہ ہے مرتبہ ’’ہمہ اوست در مغزو پوست ‘‘ اور یہی ہے فقیر مالک الملکی (انسانِ کامل) اور یہی ہے مرشد کامل اکمل نور الہدیٰ۔
* کتاب وحکمت کی تعلیم مرشدِ کامل اکمل کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔مرشد ہی طالب کو اس کی استطاعت کے مطابق شیطان اور نفس کی چالبازیوں سے بچاتا ہوا دارالامن (قربِ الٰہی) میں لے جاتا ہے۔ عام لوگوں کو تو اس علم کے نا م سے بھی واقفیت نہیں چہ جائیکہ اِن کوا س پر دسترس حاصل ہو۔ 
* فقیر فنا فی اللہ بقا باللہ مرشدِ کامل اکمل نور الہدیٰ کی پہچان ہر انسان طالب یا مرید کے بس کی بات نہیں کیونکہ ہر مرید یا طالب کی طلب، طلبِ مولیٰ نہیں ہوتی بلکہ اکثر طالب یا مرید طلبِ دنیا و طلبِ عقبیٰ کے متمنّی ہوتے ہیں اور مرشد کا کام تو صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قُرب تک جانے والے راستہ کو مرید پر نہ صرف کھول دے بلکہ آسان کر دے کیونکہ وہ اس راستہ کا ہادی، راہبر اور راہنما ہے اور اس کو وہی پہچانتا ہے جو ’’طلبِ مولیٰ‘‘ لے کر نکلا ہو۔ تمام انسان ایک تو اپنی ناقص طلب کی وجہ سے اُسے نہیں پہچان پاتے دوسرے وہ انہی کی طرح ایک انسان ہوتا ہے۔ اس کا چلنا پھرنا، اٹھنا بیٹھنا بھی عام انسانوں کی طرح ہوتا ہے، کھاتا پیتا بھی وہ عام انسانوں کی طرح ہی ہے اس لیے اس کی معرفت جو طالبِ دنیا عقل سے کرتے ہیں‘ ناممکن ہے۔ عقل اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی کیونکہ عقل ہمیشہ تلاشِ نقص و اعتراض میں رہتی ہے۔ اگر عقل سے ان کو پہچاننے کی کوشش کی جائے تو محض اعتراضات ہی ہاتھ آتے ہیں (جیسا کہ سورہ کہف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کا واقعہ بیان ہوا ہے اس واقعہ میں طالبِ مولیٰ کے لیے روشنی ہے کہ اعتراضات راستہ جد اکر دیتے ہیں)۔
* راہِ فقر میں مرشدِ کامل اکمل کی راہبری لازمی ہے‘ لیکن راہزن مرشد سے بچنا چاہیے۔ جو لوگ قلب میں اللہ تعالیٰ کی طلب خلوص کے ساتھ لے کر نکلتے ہیں وہ ان راہزنوں سے محفوظ رہتے ہیں کیونکہ جس کی طلب میں وہ نکلے ہیں وہی اُن کا حافظ و ناصر ہوتا ہے۔ اور جس کا حافظ اللہ تعالیٰ خود ہو اس کو کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔
* مرشد وہ چراغ ہے جس کی روشنی میں طالبِ مولیٰ دنیا و عقبیٰ کے ظلمات میں ہچکولے کھاتی اور ڈگمگاتی ہوئی اپنی کشتیٔ حیات کو بحفاظت منزلِ مقصود تک لے جانے کے قابل ہوجاتا ہے۔ مرشد کامل اکمل صاحبِ مسمّٰی کی راہنمائی نہ ملنے کی صورت میں ’’فنا فی اللہ بقاباللہ‘‘ کی منزل تک رسائی فقط خیال آرائی اور تصور بن کے رہ جاتی ہے۔
* امانتِ الٰہیہ کا حامل، جسے صاحبِ مسمّٰی مرشد کہا جاتاہے‘ ہی مرشدِ کامل اکمل نور الہدیٰ ہوتا ہے۔ اگر طالب کو ایسا مرشد مل جائے تو فقر کی انتہا پر پہنچنا کوئی مشکل مرحلہ نہیں ہے۔ اس کی شان یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ پہلے دِن ہی طالب کو سلطان الاذکار اسمِ اعظم ’’ھُو‘‘ عطا کر دیتا ہے اور اسمِ  اللہ ذات تصور کے لیے عطا فرماتا ہے ۔ اگر ایسا مرشد مل جائے تو فوراً دامن پکڑ لے لیکن اس کو تلاش کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ غیر معروف ہوتا ہے۔ سینہ بہ سینہ یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا لیکناس مرشد تک صرف وہی طالب پہنچتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی پہچان،لقائے حق تعالیٰ اور مجلسِ محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی حضوری کی طلب لے کر گھر سے نکلتے ہیں۔ 
* انسانِ کامل صاحبِ مسمّٰی مرشد کامل اکمل نور الہدیٰ ‘ حاملِ امانتِ الٰہیہ اور خزانہ فقر کا مالک اور نائبِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہوتا ہے۔ اس کی تلاش اور غلامی فقرا نے فرض قرار دی ہے اس لیے طالبِ مولیٰ پر اس کو تلاش کرکے اس سے معرفتِ الٰہی حاصل کرنا فرض ہے۔
* وہ پاکیزہ اور کامل اکمل لوگ جو سلسلہ در سلسلہ بیعت ہوتے آئے ہیں ان کا شجرۂ طریقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسے برگزیدہ صفات لوگوں کو ’’شیخِ اتصال‘‘ کہتے ہیں اور اُن کے درمیان کسی جگہ انقطاع نہیں ہوتا۔ ایسے کامل حضرات جب کسی خوش بخت آدمی کو بیعت کرلیں تو اس کی روحانی نسبت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ قائم ہوجاتی ہے اور طریقت (فقر) کی رو سے یہی سمجھا جاتا ہے گویا اس نے خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بیعت کی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وسیلہ سے اللہ تک پہنچ گیا ہے۔
* آج تک کسی ولی کامل کو ولایت‘ معرفتِ الٰہی اور مشاہدۂ حق تعالیٰ بغیر مرشد کامل اکمل کی بیعت اور تربیت کے حاصل نہیں ہوا۔ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ درس و تدریس کا سلسلہ چھوڑ کر حضرت یوسف نساج رحمتہ اللہ علیہ کی بیعت نہ کرتے تو آج اُن کا شہرہ نہ ہوتا ۔مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ اگر شاہ شمس تبریز رحمتہ اللہ علیہ کی غلامی اختیار نہ کرتے تو انہیں ہرگز یہ مقام نہ ملتا۔ قصہ مختصر کہ فقر و طریقت کی تاریخ میں آج تک کوئی بھی مرشد کی راہنمائی اور بیعت کے بغیر اللہ تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکا۔
* مرشدِ کامل کی راہبری میں اسمِ اللہ ذات کے ذکر و تصور سے عشقِ حقیقی کی تپش حاصل ہوتی ہے اور یہی عشق لقائے الٰہی کی نعمت عطا کرتا ہے۔ 
* مرشدِ کامل ایک آئینہ ہے۔ طالب کو اس میں اپنی حقیقت اور اصل صورت دکھائی دیتی ہے۔
* اسمِ اللہ ذات قلب میں بے قراری اور قربِ الٰہی کی تڑپ پیدا کرتا ہے۔ اگر یہ تڑپ مرشد کی بارگاہ میں جاکر سکون میں تبدیل ہوجائے تو مرشد کامل ہے ورنہ ناقص۔
* زندہ مرشدِ کامل سے فیض حاصل کرنا اس لیے ضروری ہے کہ اس میں نفس ہوتا ہے اور وہ اپنے نفس سے طالب کے نفس کی تربیت کرتا ہے۔
* جب تک طالب صحبتِ مرشد سے فیض یاب نہ ہو اسمِ اللہ ذات کا اثر شروع نہیں ہوتا۔
* مرشد اگر کامل ہوتو طالب کو مجذوب نہیں ہونے دیتا یعنی فنا فی اللہ کے مقام پر کبھی ٹھہرنے نہیں دیتا بلکہ بقا باللہ کے مقام تک پہنچا کر چھوڑتا ہے۔
* مرشد کامل اکمل اسمِ اللہ ذات کی صورت ہوتا ہے۔ 
* مرشدِ کامل اللہ اور بندے کے درمیان وسیلہ ہے۔ مرشدِ کامل کا یہ فرض ہے کہ طالب یا سالک کو اللہ تعالیٰ کے قرب میں لے جائے۔ ایسا مرشدِ کامل تلاش کرنا پھر اس سے زندگی کی حقیقت حاصل کرنا فرضِ عین ہے تاکہ انسان اس دنیا میں ہی اس بات سے آگاہ ہو جائے کہ آخرت میں اس کا کیا مقام ہے۔
* مرشدِ کامل کے بغیر اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کی کوشش کرنا بے کار و بے سود ہے۔ 
* مادیت کے اس دور میں اللہ کا قرب پانے کے لیے مختلف ریاضات اور مجاہدات کی بجائے مرشد کامل اکمل‘ صاحبِ باطن کی تلاش ازحد ضروری ہے جو اپنی نگاہِ کاملہ اور باطنی تصرف سے قلب کی حالت کو ظلمت سے نور میں بدل دے کیونکہ یہی اصلاح کا طریقہ ہے۔
* اللہ کی معرفت و وصال کے سچے طالبوں کے لیے ضروری ہے کہ شیخ پکڑتے وقت تحقیق کر لیں کہ ایک تو سروری قادری صاحبِ مسمّٰی ہو اور ذکروتصور اسمِ اللہ ذات اور مشقِ مرقومِ وجودیہ عطا فرمائے۔ ’’اسم اللہ ذات ‘‘ سنہری حروف یا سونے سے لکھا ہوا ہو۔ کچھ عرصہ تک اسم اللہ ذات کے تصور سے تصورِ شیخ حاصل نہ ہو تو اسے شیخِ کامل نہ سمجھیں۔