Marafat-Haq

معرفتِ الٰہی،معرفتِ حق تعالیٰ

معرفتِ الٰہی ،معرفتِ حق تعالیٰ

* معرفتِ حق تعالیٰ دو طرح کی ہے‘ ایک معرفت صفاتِ حق تعالیٰ اور دوسری معرفتِ ذاتِ حق تعالیٰ:
* معرفتِ صفات کا تعلق عالمِ خلق سے اور عبودیت سے ہے۔اس میں تسخیرِ خلق اور رجوعاتِ خلق ہے۔اس کا ذریعہ وردو وظائف‘ چلے‘ مراقبے‘ بدنی و جسمانی ریاضت و مشقت ہے۔معرفتِ صفات کی انتہائی منزل سدرۃ المنتہیٰ پر اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی اور لوحِ محفوظ کا مطالعہ ہے۔معرفتِ صفات کا عارف صاحبِ ریاضت اورصاحبِ درجات ہے۔صاحبِ درجات لقائے الٰہی(دیدار و وصالِ الٰہی) سے محروم ہے۔
* معرفتِ ذات کا تعلق عالمِ اَمر اور رُبوبیت سے ہے۔ معرفتِ ذات میں استغراقِ حق اور لقائے الٰہی ہے۔معرفتِ ذات کا ذریعہ فقط تصورِ اسم اللہ ذات ہے اور اس کی ابتدائی منزل ہی لقائے الٰہی اور مجلسِ محمدی کی دائمی حضوری ہے۔