sultan-ul-ashiqeen-ka-Mahisn-o-ikhlaq

محاسن و اخلاق۔۔سلطان العاشقین سلطان محمد نجیب الرحمن

محاسن و اخلاق

نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پر سوز                               یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اخلاقِ حسنہ کے اعلیٰ ترین مرتبہ پر فائز ہیں۔ آپ کے اوصاف اخلاقِ نبوی کا عین نمونہ و عکس ہیں اور اس حقیقت کے غماز ہیں کہ آپ مدظلہ الاقدس مکمل طور پر قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ہیں۔ راست بازی، تحمل و بردباری، عاجزی و انکساری ، صبر و استقامت، ایفائے عہد، ادب و حیا ، فہم و فراست، اعلیٰ ظرفی ، بلند حوصلگی اور قوتِ برداشت آپ مدظلہ الاقدس کے نمایاں اوصاف ہیں ۔’کرم‘ آپ مدظلہ الاقدس کی نگاہ کا دوسرا نام ہے، ’شفقت‘ کا لفظ آپ کے حسنِ عمل کو بیان کرنے کے لیے نا کافی ہے اور ’احسان‘ آپ کے حسنِ اخلاق کی حقیقت ہے۔ سر تا پا حسن و خوبی اور سراپا لطف و کرم آپ مدظلہ الاقدس ہی کی بابرکت ذات ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس ایک کرشماتی اور سحر انگیز شخصیت کے مالک ہیں جو ہر خالص وجود کو اس قدر پُرکشش محسوس ہوتی ہے کہ وہ لا محالہ آپ کی طرف کھنچا چلا آتا ہے ۔ قریب ہونے پر آپ کے اخلاق و اطوار اُسے آپ کی حسین ذات کے حصار میں یوں قید کر لیتے ہیں کہ وہ کبھی آپ سے دور نہیں ہونا چاہتا۔ آپ مدظلہ الاقدس ہمیشہ سب سے مسکرا کر ملتے ہیں اور سلام کرنے میں پہل فرماتے ہیں۔ آپ کا اندازِ تخاطب عزت و احترام سے بھرپور ہوتا ہے خواہ ملنے والا امیر ہو یا غریب ‘ بڑا ہو یا بچہ۔ آواز مبارک ہمیشہ دھیمی رکھتے ہیں ۔ کسی نے آج تک آپ مدظلہ الاقدس کو اونچی آواز میں یا چِلا کر بات کرتے نہیں سنا۔ جب آپ سے کوئی شخص گفتگو کرتا ہے تو آپ ہمہ تن گوش ہو جاتے ہیں اور مکمل بات سن کر ہی جواب دیتے ہیں ، کبھی بھی درمیان میں بات نہیں کاٹتے۔ اگر بات نامناسب یا ناگوار لگے تو مکمل خاموشی اختیار فرماتے ہیں اور اگر کوئی آپ کی تعریف کرے تو بھی خاموش ہو جاتے ہیں اور عاجزی سے صرف اتنا فرماتے ہیں کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس انتہائی درد مند دِل رکھنے والے انسان ہیں۔ کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے اور اپنے ہر مرید کے دکھ درد کو بانٹتے ہیں۔ البتہ اپنی پریشانیوں اور دکھ کا اظہار کبھی کسی سے نہیں فرماتے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے انتہائی عظیم الشان مراتب پر فائز ہونے کے باوجود اپنے تمام مریدین کو اپنی محبت و شفقت سے اس قدر نوازا ہے کہ ہر مرید اپنا دکھ سکھ آپ کے ساتھ بانٹنا چاہتا ہے اور ہر قسم کے مسائل میں آپ سے ہی مشورہ کرنا چاہتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنی تصنیف و تالیف اور تحریک دعوتِ فقر کی سرگرمیوں میں بے حد مصروف رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود آپ اپنے مریدین کو پورا وقت دیتے ہیں، اپنی ذاتی ضروریات اور ذاتی معاملات کو پسِ پشت ڈال کر مرید کی بات سنتے ہیں خواہ دِن ہو یا رات کا کوئی وقت ہو۔ مریدین کو وقت دینے کی خاطر اکثر اپنے آرام اور بھوک کی بھی پروا نہیں کرتے۔ مریدوں کے مسائل سنتے، ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے اور مسائل کے حل میں ان کی ہر ممکن ظاہری باطنی مدد فرماتے ہیں۔ آپ کی مہربانیاں صادق مریدوں کو اس بات کا یقین عطا کر دیتی ہیں کہ آپ سے زیادہ مخلص اور مہربان ان پر اس دنیا میں اور کوئی نہیں ۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ ہر مرید کا باطن صادق و خالص نہیں ہوتا اور آپ یہ بات جانتے بھی ہیں کیونکہ سروری قادری مرشد اپنے ہر مرید کی ہر ظاہری باطنی حالت سے بخوبی واقف ہوتا ہے، پھر بھی اگر ایسا مرید آپ کی طرف مدد کے لیے رجوع کرتا ہے تو آپ کبھی اسے خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے حالانکہ جانتے ہیں کہ وہ مخلص نہیں اور جب تک وہ خود نا قص و ناخالص باطن کی وجہ سے آپ سے دور نہیں ہو جاتا ، آپ اسے کبھی خود سے دور نہیں فرماتے اور اس پر ظاہری باطنی توجہ دیتے رہتے ہیں کہ شاید کسی دِن سدھر جائے۔مریدوں کی بڑی بڑی غلطیاں معاف فرما دیتے ہیں، انکی پردہ پوشی فرماتے ہیں اور ان کی ہر غلطی ان کے لیے کچھ سیکھنے کا ایک سبب بنا دیتے ہیں ۔ بڑی حکمت سے طالب مرید کو اس کی کمی اور خامی کا احساس دلا کر اسے دور کرنے اور اس کی شخصیت کو بہتر بنانے کا طریقہ سمجھاتے ہیں۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نہ صرف خود مریدوں کو بہت محبت و شفقت سے نوازتے ہیں بلکہ انہیں آپس میں بھی محبت و اتفاق رکھنے اور ایک دوسرے کے لیے تحمل و در گزر کی روش اپنانے کی تلقین کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس کے مریدین ایک محبت بھرے خاندان کی طرح رہتے اور ہر معاملہ میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں ۔ 
ذہانت و فراست میں آپ مدظلہ الاقدس کا کوئی ثانی نہیں ماشاء اللہ ۔ نہ صرف دینی و علمی معاملات بلکہ دنیا وی معالات میں بھی آپ مدظلہ الاقدس کے علم کی کوئی حد نہیں ۔ تاریخِ اسلام،تاریخِ دنیا، جغرافیہ ، سائنس ، طب، تصوف، روحانیت، فقر، قانون و سیاست غرض یہ کہ ایسا کوئی علم نہیں جس پر آپ کو عبور حاصل نہ ہو۔ یوں تو اولیا اللہ علمِ لدّنی کی بدولت بھی کائنات کے تمام تر علم سے آگاہ ہوتے ہیں لیکن آپ مدظلہ الاقدس کے پاس علم لدّنی اور علمِ حضوری( وہ علم جو قلب پر بلاواسطہ وارد ہوتا ہے) کے ساتھ ساتھ علم حصولی(جو علم کتابوں یا دوسرے ذرائع سے حاصل کیا جائے) کا بھی خزانہ ہے جس کا ثبوت آپ کی تصانیف و تعلیمات ہیں۔جب آپ مدظلہ الاقدس کسی بھی موضوع پر گفتگو فرماتے ہیں تو یوں لگتا ہے علم کے موتی بکھیررہے ہیں، جس کی جتنی استطاعت ہے سمیٹ لے۔ سننے والا آپ مدظلہ الاقدس کے علم کی گہرائی اور وسعت دیکھ کر حیران ہی رہ جاتا ہے حالانکہ ابھی آپ اپنے مکمل علم کو ظاہر بھی نہیں فرماتے ۔ نہ صرف یہ کہ آپ کو تمام علوم پر عبور ہے بلکہ ہر ٹیکنالوجی اور اس کے استعمال سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ فقر کو پھیلانے کے لیے آپ مدظلہ الاقدس نے سلطان الفقر ڈیجیٹل پروڈکشنز، ملٹی میڈیا ڈیزائن اینڈ ڈویلپمنٹ ، سوشل میڈیا اور ویب سائٹ پروموشن کے شعبے قائم کیے اور ان کے لیے منتخب مریدین کو خود تربیت دی، حالانکہ وہ تمام مریدین نوجوان نسل سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں اس ٹیکنالوجی کا استعمال اچھی طرح آتا ہے لیکن پھر بھی انہیں آپ مدظلہ الاقدس کی رہنمائی کی ضرورت رہتی ہے کیونکہ جو کمال آپ کو ہر شعبے میں حاصل ہے وہ کسی اور کو حاصل نہیں۔ طالب مرید حیران رہ جاتے ہیں کہ آپ مدظلہ الاقدس نے ظاہر ی طور پر اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے کہیں سے ظاہری طور پر تربیت بھی نہیں لی پھر بھی آپ کس طرح اتنی مہارت سے اس کا استعمال جانتے ہیں۔
ذہانت کے ساتھ ساتھ محنت آپ کا خاص شعار ہے۔ آپ کی تمام زندگی محنت و جدو جہد سے عبارت ہے۔دنیا ہو یا دین آپ نے ہر جگہ اپنی محنت کے بل بوتے پر ترقی حاصل کی۔ اللہ کی عطائیں تو ہمیشہ آپ کے ساتھ تھیں لیکن آپ مدظلہ الاقدس نے ظاہری باطنی مجاہدے میں بھی کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ زندگی کے ہر مقصد میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کر لینے کے باوجود آج بھی آپ محنت کے وصف پر قائم ہیں البتہ آج آپ کی تمام تر محنت خصوصاً اپنے مریدین کی ظاہری باطنی ترقی اور عموماً تمام امت مسلمہ کی فلاح کے لیے ہے۔ دیپالپور کی عسرت بھری زندگی سے لے کر لاہور کے ثروت مند حالات تک، تلاشِ حق سے لے کر عشقِ مرشد تک ، طالبِ مولیٰ سے لے کر مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالنے تک، فقر کو پھیلانے کی جدو جہد میں ماہنامہ سلطان الفقر لاہور اور تحریک دعوتِ فقر کے قیام سے آج تک آپ مدظلہ الاقدس کی زندگی کا ہر لمحہ محنت و جد وجہد میں گزرا۔ اللہ تعالیٰ آپ مدظلہ الاقدس کو مزید ہمت، قوت و صحت عطا فرمائے (آمین) کہ آپ مدظلہ الاقدس مستقبل میں بھی ا س روش پر چل کر فقر کو ساری دنیا میں پھیلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کا اصول ہے کہ 
*اَلسَّعْیُ منِّیْ وَالْاؒتْمَامُ مِنَ اللّٰہِ 
کوشش میرے ذمہ ہے اور اتمام اللہ کی طرف سے ہے۔
اور آپ اس کوشش میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھتے اسی لیے اللہ بھی آپ کو نوازنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ محنت کی یہ صفت آپ مدظلہ الاقدس اپنے مریدین میں بھی منتقل فرماتے ہیں اور انہیں ہمیشہ محنت و استقامت سے کام کرنے کی تلقین فرماتے ہیں۔ آپ کی محنت مریدین کے لیے محرک (inspiration)بن کر انہیں بھی ہمت عطا کرتی ہے ۔ 
محنت کے ساتھ ساتھ استقامت بھی آپ کا نمایاں وصف ہے۔ زندگی کی کوئی مشکل یا مصیبت اورمخالفین کی شدید مخالفت و مکاریاں بھی آپ مدظلہ الاقدس کو اپنی منزل تک پہنچنے سے نہ روک سکیں۔ آپ کی نگاہ اور توکل ہمیشہ اللہ کی ذات پر رہا اور ذہن و جسم عملِ پیہم میں مصروف رہا۔ توکل کی انتہا اور اپنے عمل پر یقین کی بدولت ہی آپ کبھی کسی رکاوٹ یا مخالفت کو خاطر میں نہ لائے اور مسلسل منزل کی طرف بڑھتے رہے۔
یقینِ محکم، عملِ پیہم، محبت فاتح عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
اللہ نے آپ مدظلہ الاقدس کو چٹانوں جیسا حوصلہ اور ہمت عطا فرمائی ہے جس کی بدولت آپ بڑے سے بڑے طوفان سے بھی ٹکراجاتے ہیں اور پہاڑ جیسی آفتوں کو بھی زیر کر لیتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اقبال کی اس نظم کی مکمل تفسیر ہیں : 
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریاؤں کے دِل جس سے دہل جائیں وہ طوفان
غنا و سخاوت آپ مدظلہ الاقدس کا طرۂ امتیاز ہے۔ غنا( بے نیازی‘طمانیت)) کا یہ عالم ہے کہ آپ کی اپنی ذات کے لیے کوئی بھی خواہش نہیں، اللہ جس حال میں رکھے آپ راضی ہیں اور سخاوت کا یہ عالم ہے کہ اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں دے چکے ہیں ۔ ظاہری دولت اللہ کی راہ میں لٹانے کے بعد اب آپ اپنے باطنی خزانے یعنی خزانۂ فقر کو طالبانِ مولیٰ میں بانٹ رہے ہیں۔ اگر کوئی اس خزانہ کا سچے دِل سے طالب ہو اور اس کے لیے تھوڑی سی بھی خواہش و کوشش کا اظہار کرے تو آپ مدظلہ الاقدس اسے بے حدو بے انتہا نوازتے ہیں۔ البتہ ناقدروں کے لیے یہ خزانہ نہیں ہے۔
خاکی و نوری نہاد ، بندۂ مولا صفات
ہر دوجہاں سے غنی ، اس کا دِل بے نیاز
عاجزی و انکساری آپ کا کمال ہے ۔ اس قدر اعلیٰ مراتب پر فائز ہونے کے باوجود خود کو ایک عام انسان ظاہر کرتے ہیں، مریدوں میں گھل مل کر رہتے ہیں، غریبوں پر زیادہ شفقت فرماتے ہیں اور انہیں قریب بٹھاتے ہیں۔ آپ کے لیے فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے مال و دولت یا رتبہ نہیں۔ انتہائی سادہ اور نفیس طبیعت کے مالک ہیں، کھانے میں زیادہ تکلف پسند نہیں فرماتے ۔جو سامنے رکھ دیا جائے کھا لیتے ہیں۔ کھانے میں نقص نکالنے کو اچھا نہیں سمجھتے۔ سادہ غذا زیادہ رغبت سے کھاتے ہیں البتہ دعوت وغیرہ پر پُر تکلف کھانا بھی خوشی سے تناول فرما لیتے ہیں۔ لباس اور ذاتی اشیا ء میں سادگی کے ساتھ ساتھ نفاست کو مدنظر رکھتے ہیں۔ سادگی کے باوجود ہر ادا اتنی دلکش ہے کہ مریدین ان کی ہر سنت پر عمل کرنا باعثِ فخر سمجھتے ہیں اور ان کی ہر ادا پر فدا ہیں۔ لباس میں شلوار قمیض کے ساتھ واسکٹ پہننا پسند فرماتے ہیں۔آپ مدظلہ الاقدس نے کچھ عرصہ سنتِ مرشد پر عمل کرتے ہوئے تہبند بھی پہنا ہے۔ سر پر عموماً سندھی ٹوپی رکھتے ہیں لیکن محافل میں جاتے ہوئے دستار شریف پہنتے ہیں جو عموماً سفید رنگ کی ہوتی ہے اور اس کا ایک ہاتھ کا شملہ نکلا ہوتا ہے۔ سردیوں میں جرسی اور گرم ٹوپی استعمال فرماتے ہیں ۔ مقدس پاؤں میں کھسہ پہننا پسند ہے۔ خوشبویات کا استعمال بھی شوق سے فرماتے ہیں۔ خاص موقعوں پر انگشت مبارک میں اسمِ اللہ اور اسم محمد کنندہ کی گئی انگشتر ی پہنتے ہیں۔گھڑی دائیں ہاتھ میں استعمال فرماتے ہیں۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا ہر عمل شریعت و سنت کے عین مطابق ہوتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس شریعت کی از حد پاسداری فرماتے ہیں ۔آپ کو مردوں اور عورتوں کا آزادانہ میل جول بالکل پسند نہیں ہے۔اسی لیے آپ کی خانقاہ میں خواتین کا اور گھر کے اندر مردوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ آپ خواتین کا بے حد احترام فرماتے ہیں اور ہمیشہ ان سے نیچی نگاہ رکھ کر بات کرتے ہیں۔ بچوں سے آپ مدظلہ الاقدس بہت محبت فرماتے ہیں۔ اتوار کو ملاقات کے لیے آنے والی خواتین کے ساتھ آنے والے بچے بھی آپ کے دیدار کے مشتاق ہوتے ہیں اور آپ کے تشریف لانے پر آپ کی طرف لپکتے ہیں۔ آپ بھی بچوں کو پیار دیتے ہیں۔ آپ کی موجودگی میں بچے انہماک سے آپ کے دیدار میں محو رہتے ہیں۔
آپ مدظلہ الاقدس کی مجالس میں بے حد نظم و ضبط ہوتا ہے۔ بد نظمی اور بد انتظامی آپ کو بہت ناگوار گزرتی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نورِ الٰہی کے مظہر ہیں جو جمال و جلال دونوں میں کامل ہے۔ آپ کی ذات سے ظاہر جلال کا یہ عالم ہے کہ آپ کی مجالس میں سکوت و سکون اور نظم و ضبط ہوتا ہے، کوئی اونچی آواز میں بات نہیں کرتا نہ ہی اٹھ کر اِدھر اُدھر جاتا ہے۔ سب آپ مدظلہ الاقدس کی بات ہمہ تن گوش ہو کر سنتے ہیں اور آپس میں بات چیت ہر گز نہیں کرتے۔ ہم نے آپ مدظلہ الاقدس کے سامنے بڑے بڑے علما و امرا کو باادب بیٹھے دیکھا ہے ۔ پابندیٔ وقت کا خود بھی بہت خیال رکھتے ہیں اور دوسرے کو بھی تلقین فرماتے ہیں۔یوں تو آپ مدظلہ الاقدس بہت سنجیدہ طبیعت کے مالک ہیں لیکن کبھی کبھی موقع کی مناسبت سے بہت خوبصورت مزاح بھی فرماتے ہیں جس سے عشقِ حقیقی میں تڑپتے طالبانِ مولیٰ کے قلوب کو بہت فرحت حاصل ہوتی ہے۔آپ مدظلہ الاقدس کو بیہودہ گوئی اور بدبو سخت نا پسند ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس رشتوں کا بے حد پاس فرماتے ہیں اور اپنی گھریلو زندگی میں بھی بہترین و بے نظیر ہیں۔آپ مدظلہ الاقدس حفظِ مراتب کا بھی بہت خیال رکھتے ہیں اور ہر ایک سے اس کے مقام و مرتبے کے مطابق گفتگو فرماتے ہیں ۔آپ کبھی بھی کسی کی دِل آزاری نہیں فرماتے۔ اگر کسی کو اس کی غلطی کا احساس دلاکر اس کی اصلاح مقصود ہو تو انتہائی نرم لیکن مؤثر الفاظ و رویہ کا استعمال فرماتے ہیں ، یوں کہ بندہ شرمندہ بھی نہ ہو اور غلطی مان کر اسے درست بھی کرلے۔
آپ مدظلہ الاقدس بہترین و بے مثال منتظم اور سرپرست ہیں۔ جس طرح آپ مدظلہ الاقدس تحریک دعوتِ فقر کے ہر شعبے کے تمام امور کی نگرانی فرما رہے ہیں اور دنیا بھر کے تمام طالبانِ مولیٰ کو منظم فرمارہے ہیں اس کی مثال ملنا ناممکن ہے۔ قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ہونے کی بنا پر سنتِ مصطفی کے عین مطابق آپ مدظلہ الاقدس کو زندگی کے جس بھی شعبہ اور معاملہ میں دیکھا جائے آپ بے مثل و بے مثال نظر آتے ہیں۔

ان کی ہر ہر ادا سنتِ مصطفیؐ                ایسے پیرِ طریقت پہ لاکھوں سلام