Khair-o-Sher

خیروشر

خیر و شر

* تخلیقِ خیر وشر کا نظریہ ہمیشہ اہلِ علم کے درمیان زیرِ بحث رہا ہے ۔ خیر کی اپنی حقیقت ہے اور شر کی اپنی حقیقت ۔ اللہ تعالیٰ نے کچھ بھی بے مقصد پیدا نہیں فرمایا، اگر شر نہ ہو تا تو خیر کی حقیقت یا حقانیت واضح نہ ہوتی ۔اس دنیا میں انسان کے وجود کے اندر خیر اور شر کی جنگ ہی جاری ہے جس میں کامیاب ہو کر ایک انسان ، ’’انسانِ کامل‘‘ بنتا ہے۔ اگر وجود کے اندر جاری اس جنگ میں شر اُس پر غالب آجائے تو وہ سر اپا شیطان ، کافر، مشرک، منافق، نافرمان ، متکبر ،اپنی عبادت پر نازاں، اپنے علم پر مغرور ، بدکاراور نافرمان ہے۔ اور اگر اس جنگ میں خیر غالب آجائے تو وہ سرا پا رحمن ہے، اللہ تعالیٰ کی صفات سے متصف اور اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگا ہوا خیر کا نمائندہ ۔آپ اسے انسانِ کامل بھی کہہ سکتے ہیں فقیرِ کامل بھی ،مومن بھی، مردِ کامل بھی ، امامِ وقت بھی اور خیر کا علمبرداربھی۔
* ظاہر کے بھی دو پہلو ہیں اور باطن کے بھی۔ خیر و شر۔ جتنا نیت میں صدق اور خلوص ہوگا اتنی ہی خیر کی جانب ترقی ہوگی اور جتنا نیت میں نفاق ہوگا اتنا ہی بندہ شر کی جانب بڑھے گا۔ بالآخر دونوں اپنی اپنی انتہاؤں کو پہنچ جائیں گا۔
* جتنا خیر کی طرف بڑھو، شر کے رشتے ٹوٹتے جاتے ہیں۔
* جس طرح انسان کے اندر خیر و شر موجود ہے اسی طرح اس کی ہر ایجاد میں بھی خیر اور شر موجود ہے۔ اس ایجاد کے شر کو چھوڑ دینا چاہیے اور خیر کو اپنا لینا چاہیے۔