jiddojahad-Dawat-e-faqr

جدوجہدد برائے دعوتِ فقر

دعوتِ فقر کے لیے جدوجہد

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے یہ بات شدت سے محسوس کی کہ عصرِ حاضر کے مذہبی علما اور نام نہاد مرشد دین کے ظاہری پہلوؤں اور ظاہری عبادات پر زیادہ زور دے رہے ہیں۔ ان کے پاس وہ باطنی علم اور علمِ معرفتِ الٰہی ہی نہیں جس کے ذریعے وہ اللہ کے ساتھ روحانی تعلق قائم کرنا سکھا سکیں۔ دین کی روح کو نظر انداز کرکے انہوں نے امتِ مسلمہ کو ظاہری جماعتوں اور فرقوں میں تقسیم کر دیا ہے جس کے باعث بحیثیت ایک قوم کے‘ وہ اپنی طاقت کھو بیٹھے ہیں۔ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ امتِ مسلمہ کو اسلام کی حقیقی روح اور اصل عبادات کی طرف دعوت دی جائے تاکہ وہ باطنی بیماریوں حرص، حسد، تکبر، غرور، کینہ اور بغض وغیرہ سے نجات حاصل کر کے اپنے باطن کو پاک کریں اور اپنی روحانی ترقی کے ذریعے اللہ کا قرب پائیں جس کے لیے ضروری ہے کہ راہِ فقر اختیار کی جائے۔ 
سلسلہ سروری قادری کی مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالنے کے بعد آپ مدظلہ الاقدس نے اپنے روحانی و ظاہری تمام وسائل اور طاقت اُمتِ مسلمہ کی باطنی اصلاح کی خاطر صرف کر دئیے تاکہ انہیں دنیا کی مضبوط اور بہترین قوم بنایا جا سکے۔ دینِ اسلام کی حقیقی روح ’’فقر‘‘ کو طالبانِ مولیٰ کے لیے آسان بنانے اور تمام امتِ مسلمہ کو اس کی طرف راغب کرنے کے لیے آپ مدظلہ الاقدس نے جو باطنی و ظاہری اقدامات اٹھائے ان کی تفصیل پیشِ خدمت ہے:

روحانی و باطنی اقدامات اور کمالات

راہِ فقر باطن کی راہ ہے اور باطن ہی حقیقت ہے۔ جب تک باطن درست نہیں ہوتا ظاہر کبھی ٹھیک نہیں ہوتا۔ باطنی درستی کے بغیر جو ظاہر آراستہ اور نیک نظر آئے وہ محض فریب اور ریاکاری ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
کُلُّ بَاطِنٍ مُخَالِفٌ لِّلظَّاھِرٍفَھُوَ بَاطِلٌ 
ترجمہ: ہر وہ باطن جو ظاہر کے مخالف ہو ، باطل ہے۔
ایک انسان کی بھلائی مقصود ہو یا پورے معاشرے کی‘ جب تک اندر سے درستی نہیں ہوگی ظاہری درستی ممکن ہی نہیں اور اگر اتفاقاً ہو بھی جائے تو وقتی اور عارضی ہوگی کیونکہ بہرحال ہر ایک کے باطن کو ہی ظاہر ہونا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے عرب معاشرے کی اصلاح کے لیے پہلے اپنی نگاہِ کرم سے ان کا تزکیہ نفس کر کے ان کے باطن سنوارے اور پھر ان کے ظاہر میں انقلاب لے آئے۔ کسی بھی معاشرے کو فلاحی ریاست (welfare state) بنانے کا نبویؐ طریق یہی ہے اور یہی بہترین راستہ بھی ہے۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ابتدائی تیرہ چودہ سالوں میں زیادہ عبادات فرض نہ فرمائیں بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ تمام مکی سورتوں میں اللہ تعالیٰ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کے صحابہؓ کو اپنے اسم ’’اللہ‘‘ کا زیادہ سے زیادہ ذکر کرنے کا حکم دے رہا ہے۔
اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ (العلق۔1)
ترجمہ: ( اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اپنے ربّ کے اسم (اسمِ اللہ ذات)سے پڑھیں جس نے (ہر شے کو) پیدا کیا۔
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی  (الاعلیٰ۔1 )
ترجمہ: اپنے ربّ کے اسم (اسم اللہ ذات) کی تسبیح کریں جو سب سے بلند ہے۔
*وَ اذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلًا (مزمل۔8 )
ترجمہ: اور اپنے ربّ کے اسم (اسم اللہ ذات) کا ذکر کرتے رہیں اور ہر ایک سے ٹوٹ کر اسی کی طرف متوجہ رہیں۔
انسانِ کامل کی روحانی طاقت کی حامل نگاہ کے ساتھ ساتھ ذکر اسم اللہ ہر انسان کے باطن کو درست کرنے کا اصل طریقہ ہے اور باطنی درستی، ظاہری بہتری کی آئینہ دار ہے۔ جب معاشرے کا ہر شخص باطنی اور ظاہری طور پر بہتر ہو جائے گا تو پورا معاشرہ فلاح کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔
تمام سروری قادری مشائخ طالبانِ مولیٰ کے باطن کی درستی اور تزکیۂ نفس کے لیے نبویؐ طریق ہی استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ تمام ادوار میں، سوائے سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے دور کے، یہ راستہ صرف چنے ہوئے خاص طالبانِ مولیٰ کے لیے مخصوص تھا اور عام مسلمانوں سے مخفی رکھا جاتا تھا۔ اس کی وجہ بنیادی طور پر یہی ہے کہ مسلمان حبِ دنیا، مادہ پرستی اور فرقہ پرستی میں اس قدر گم ہو گئے کہ کوئی اس راہ کا طالب رہ ہی نہیں گیا۔ جب حق کو تلاش کرنے والے ہی نہ رہے تو حق نے بھی خود کو چھپا لیا۔ اولیا اللہ باطنی نعمتیں چھپانے نہیں‘ بانٹنے کے لیے دنیا میں آتے ہیں لیکن کوئی طلبگار ہی نہ ہو تو کس کو دیں۔ اقبالؒ بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
جلوۂ طور تو موجود ہے کوئی موسیٰ ؑ ہی نہیں
البتہ روحانی سلاسل مخفی طور پر ہمیشہ جاری و ساری رہے ہیں اور صادق طالبانِ مولیٰ اپنی روح کی پیاس بجھانے اور باطن کی آراستگی کے لیے ہمیشہ اولیا کرام کی بارگاہوں کا رخ کرتے رہے اور ان سے فیض یاب ہوتے رہے ہیں۔
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کا فقر و تصوف کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا کارنامہ (contribution ) ہے کہ آپؒ نے اسمِ اللہ ذات کے فیض کو خاص طالبانِ مولیٰ تک محدود رکھنے کی بجائے اسے عوام الناس پر کھول دیا ہے۔ آپؒ سے پہلے اولیا کا اصول تھا ’’اسمِ اعظم کو بتانا حرام ہے‘‘ لیکن آپؒ نے یہ اصول الٹ دیا اور تعلیم دی ’’اسمِ اعظم کو چھپانا حرام ہے‘‘۔ یعنی اب ہر مسلمان کو کھلے عام اسمِ اعظم اسمِ اللہ ذات کے ذکر و تصور کے ذریعے لقائے الٰہی اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری کی دعوت دی جا رہی ہے۔ اقبالؒ نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
چھپایا حسن کو اپنے کلیم ؑ اللہ سے جس نے
وہی ناز آفریں ہے جلوہ پیرا نازنینوں میں
آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ترتیب اور طریقہ یہ رہا کہ آپ پہلے عام انسان کو اپنی توجہ سے طالبِ مولیٰ بناتے اور پھر قرب و دیدارِ الٰہی عطا فرماتے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی اسی ترتیب کو آپ کے محبوب اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے روحانی و حقیقی وارث آفتابِ فقر شبیہِ غوث الاعظم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس آگے بڑھا رہے اور طالبانِ مولیٰ کے لیے مزید آسانیاں پیدا کر رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس راہ کی طرف مائل ہوں اور اپنا مقصدِ حیات پاکر بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہو سکیں۔ بے شک آپ مدظلہ الاقدس کا وجود مومنوں پر اللہ کا احسان ہے۔ ذیل میں آپ مدظلہ الاقدس کی ان روحانی و باطنی کاوشوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جو آپ نے راہِ فقر کو عام مسلمانوں کے لیے آسان بنانے کے لیے کیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس راہ کی طرف مائل ہوں، عام مسلمان تزکیہ نفس کے بعد مومن کے درجے تک پہنچے، تمام اُمتِ مسلمہ کو دینِ حنیف کی حقیقت معلوم ہو اور وہ اس حقیقی دین کی پیروی کر کے نہ صرف آخرت میں سرخرو ہو بلکہ اس دنیا میں بھی ایک مضبوط قوم اور خیر الامم(تمام امتوں سے بہترین امت) بن کر ظاہر ہو۔