ism-e-Allah-Zaat

اسمِ اللہ ذات

اسمِ اللہ ذات

* ’’اللہ ‘‘ اسمِ ذات (Ism-e-Allah Zaat)  ہے اور ذاتِ سبحانی کے لیے خاص الخاص ہے ۔
* اسمِ اللہ ذات اپنے مسمّٰی ہی کی طرح یکتا ‘ بے مثل اوراپنی حیرت انگیز معنویت وکمال کی وجہ سے ایک منفرد اسم ہے۔
* ہر چیز کا اِسم الگ ہے اور ذات الگ ہے مگر اللہ تعالیٰ چونکہ وحدہٗ لاشریک ہے اس لیے وہ اسم میں بھی اور ذات میں بھی واحداور احد ہے۔
* انسان کے اندر اسمِ اللہ ذات اور اسماء صفات کی استعداد روزِ ازل سے فطرتی طور پر موجود ہے۔ انسان جس اسم اور جس صفت سے اﷲ تعالیٰ کا ذکر کرتاہے وہ اپنے اندر اسی اسم اور اسی صفت کی استعداد کو بالفعل جاری کرتا ہے، اسی کو اپنے اندر نمودار کرتا ہے اوراسی کا نور اس کے دل میں چمکتاہے۔
* انسانی ارواح کا رزق اسمِ اللہ ذات کا نور ہے جب ارواح کو ان کا رزق مل جاتا ہے تو ان کو وہ بصیرت حاصل ہو جاتی ہے جس سے وہ اللہ تعالیٰ کی رویت کی نعمت حاصل کرتی ہیں ۔
* ذکر اور تصورِ اسمِ اللہ ذات (Ism-e-Allah Zaat) سے باطن میں دو انتہائی مقامات لقائے حق تعالیٰ‘ اور’ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری‘ حاصل ہوتے ہیں جو کسی دوسرے ذکر سے حاصل نہیں ہوتے۔ باطن میں اِن دو مقامات سے اعلیٰ کوئی مقام نہیں یعنی تصورِ اسمِ اللہ ذات تمام باطنی علوم کا معدن اور مخزن ہے ۔ 
* اسمِ اللہ ذات (Ism-e-Allah Zaat) کے ذکر کے حصول کے لیے کسی مرشدِ کامل کی راہبری اور راہنمائی ضروری ہے اور مرشد بھی وہ جو نہ صرف اسمِ اللہ ذات کے راز اور کنہہ سے واقف ہو بلکہ صاحبِ تصورِ اسمِ اللہ ذات ہو اور صاحبِ مسمّیٰ ہو۔
* صرف قیل و قال یا ظاہری تقلید اور ظاہری اشغال سے نہ اللہ تعالیٰ کی پہچان ہو سکتی ہے اور نہ ہی ظاہری کتابی علم سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوت اور رسالت اور اسکی مخصوص روحانی قوت یا معجزات کا پتہ لگ سکتا ہے اور نہ ہی ’’وحی‘‘ کی حقیقت اور ’’معراج‘‘ کی کنہہ اور حقیقت معلوم ہو سکتی ہے۔ اسی لیے تو ظاہری علماء نبی کے علمِ غیب، دنیا میں دیدارِ الٰہی، معراج کی حقیقت اور معجزات وغیرہ اور دیگر مسائل کے بارے میں تمام عمر جھگڑتے رہتے ہیں۔ ان تمام حقائق اور باطنی رموز سے پردہ اُٹھانے کے لیے سب سے بہترین اور آسان راستہ ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات ہے ۔ 
* اللہ تعالیٰ کے قرب‘ مشاہدہ‘ وصال اورلقا کا راستہ بغیر ذکر وتصورِ اسمِ اللہ ذات ہرگز نہیں کھلتا ۔اللہ تک پہنچنے کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
* اسمِ ’’اللہ‘‘کا ذکر ایسا عمل ہے جو انسان کے دل میں نورِ ایمان پیدا کرتا ہے۔
* معرفتِ حق تعالیٰ کے لیے، روح کی ترقی و بالیدگی کے لیے، قلبِ سلیم، اطمینانِ قلب کے لیے، اپنے اندر نورِ بصیرت کی تکمیل کے لیے، رضائے الٰہی اور معراج کے لیے اسمِ اللہ ذات کی طلب کرنا اور پھر اس کا ذکر اور تصور کرنا ہر مومن اور مسلمان کے لیے لازم ہے۔ اس کے بغیر باطن میں کسی بھی منزل تک پہنچنا ممکن نہیں۔ 
* اسمِ اللہ ذات (Ism-e-Allah Zaat) ہی اسمِ اعظم ہے لیکن یہ اس وقت قرار پکڑتا ہے جب مرشد کامل اکمل تلقین فرماتا ہے۔ 
* تصورِ اسمِ اللہ ذات سے نفسِ امّارہ قتل ہو جاتا ہے اور دل زندہ ہو جاتا ہے جس سے حضوریٔ قلب حاصل ہوتی ہے۔ جسے حضوریٔ قلب حاصل ہو اس کی ہر عبادت مقبول ہوتی ہے اور جسے حضوریٔ قلب حاصل نہ ہو اس کی ہر عبادت ریا کا درجہ رکھتی ہے۔
* ’’تصور اسمِ اللہ ذات‘‘ ہی وہ صراطِ مستقیم ہے جس پر چل کر پاکیزہ لوگ انعام یافتہ کہلائے کیونکہ تصور اسمِ اللہ ذات ہی سے انسان کا سینہ اسلام کی روشنی سے صحیح طور پر منور ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جس نے ذکر اور تصورِ اسمِ اللہ ذات سے روگردانی کی وہ نفسِ امّارہ اور شیطان کے پھندوں میں پھنس گیا اور آخر کار گمراہ ہوا۔ دراصل نفس کا مرنا ہی دل کی حیات ہے۔
* ذکرِ اسمِ اللہ ذات (Ism-e-Allah Zaat) سے دنیا دل سے نکل جاتی ہے۔
* اسمِ اللہذات کا ذکر ہی بتائے گا کہ اللہ کی ذات کہاں جلوہ گر ہے۔
* اسمِ اللہ ذات (Ism-e-Allah Zaat) کے ذکر و تصور میں شیطانی استدراج کا گزر نہیں۔
* جو طالب ہر وقت ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات (Ism-e-Allah Zaat) کرتا رہے گا اس کے ذہن میں ہر وقت اسمِ اللہ ذات ہی رہے گا‘ وہی اس کی دلیل بنے گا۔
* تصور اسمِ اللہ ذات کے بغیر بندہ گفتار کا غازی بنتا ہے لیکن جب وہ ذکر و تصورِ اسمِ اللہ ذات کرتا ہے تو ہی وہ کردار کا غازی بنتا ہے۔
* ابتدا میں اسمِ اللہ ذا ت طالب کو توحیدِ تشبیہہ کی طرف لاتا ہے اور پھر توحیدِ تنزیہہ کی طرف لے جاتا ہے اور آخر میں دونوں یکجا ہو جاتے ہیں۔ یہی کامل توحید ہے یہاں پہنچ کر طالب خود توحید ہو جاتا ہے۔ 
* اللہ کی ذات انسان میں بیج کی مانند ہے۔ یہ بیج اسمِ اللہ ذات کے پانی سے پھلتا پھولتا ہے۔
* تصور اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک ذکر کامل نہ ہو۔ 
* ذکر و تصور اسم اللہ ذات کے بغیر فکر یا تفکر محض گمراہی ہے۔ 
* ذکر اور تصور اسمِ اللہ ذات کے بغیر تصدیق بالقلب سے کلمہ توحید پڑھنا ممکن نہیں۔
* روح اور باطن کی بیداری کے بغیر انسان نہ ہی اپنی اور نہ ہی خدا کی پہچان کر سکتا ہے۔باطن کے اس بند قفل کو کھولنے کے لیے کلید (چابی) ذکر اور تصورِاسمِ اللہ ذات کی ضرورت ہے۔
* اگر ذکرِ اللہ سے روح کو بیدار کر لیِا جائے تو امانتِ الٰہیہ جو ہمارے سینوں میں موجود ہے ، کو صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کر سکتے ہیں۔
* روح کی غذا ذکرِ اللہ ہے اور نماز بھی ذکرِ اللہ ہی ہے۔
* جسے اسم اللہ ذات مل جاتا ہے اسے دو جہان کی روشن ضمیری حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کا دل باصفا اور روشن آئینہ بن جاتا ہے اور وہ دل میں اللہ تعالیٰ کے ذاتی انوار و تجلیات کے مشاہدہ سے معرفتِ حقیقی پا لیتا ہے۔
* جب تک انسان ذکر اور تصور اسمِ اللہ ذات میں کامل نہ ہو جائے تب تک خواہشاتِ نفسانی اور ہوا و ہوس سے خلاصی نہیں پاسکتا۔
* جب انسان ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات سے اعراض کرتا ہے تو اس کے وجود پر نفس اور شیطان قبضہ جمالیتے ہیں اور دل و دماغ کو اپنے قبضے اور تصرف میں لے لیتے ہیں اور سارے وجود پر اس طرح چھا جاتے ہیں جس طرح آکاس بیل پورے درخت کو گھیر لیتی ہے۔ انسان کے رگ و ریشے اور نس نس میں شیطان دھنس جاتا ہے اور اسے حق نظر نہیں آتا۔ کیونکہ اس کی باطنی روزی (روح کی غذا) تنگ ہو جاتی ہے۔
* جیسے جیسے طالب ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے‘ نفس کی اصلاح اور ترقی ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ عروج حاصل کرکے نفسِ مطمئنہ ہوجاتا ہے‘ گویا نفس اس ازلی راہزن شیطان سے نجات پا کر اپنی منزل دارالامان اور منزلِ حیات تک پہنچ کر اپنے مقصد کو پا لیتا ہے۔ ایسے نفس والا سالک اللہ تعالیٰ کا دوست اور مقرب بن جاتا ہے۔ اللہ اس سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہو جاتا ہے۔