Insan

انسان

انسان

* اس دنیا میں انسان دو جسموں کا مجموعہ ہے ایک مادی عنصری جسم ہے جس کی پیدائش انسانی نطفے سے ہے اور یہ عالمِ خلق کی چیز ہے۔ دوسرا علوی لطیف رُوحانی جسم ہے جسے روح کہا گیا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے عالمِ امر کی چیز ہے۔ ہر دو جسموں کا میلان اور رجحان اپنی اصل کی طرف رہتا ہے۔
* انسان اللہ کی سب سے پیچیدہ مخلوق ہے جس کے ظاہر و باطن دونوں کو سمجھنا ناممکن ہے البتہ انسانِ کامل یعنی مرشد کامل انسان کی حقیقت کو سمجھتا ہے۔
* انسان بہت بڑی کائنات ہے۔ انسان میں اللہ کی تمام مخلوقات کی صفات جمع کر دی گئی ہیں۔ انسان ہی طوطے کی طرح طوطا چشم‘ لومڑی کی طرح عیار‘ شیر کی طرح بہادر‘ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والا‘ پاکیزہ ہو تو فرشتوں سے بڑھ کر‘ شیطانیت پر اترے تو شیطان سے بڑھ کر۔ غرض ہر مخلوقِ الٰہی کی ہر صفت انسان میں موجود ہے۔ اب یہ انسان پر ہے کہ وہ ان صفات میں سے کن کو اپناتا ہے اور کن سے چھٹکارا حاصل کر لیتا ہے۔ اشرف مخلوق وہ تب کہلاتا ہے جب خیر کی صفات اس کی شر کی صفات پر غالب آجاتی ہیں۔
* دنیا کا سب سے مشکل کام انسان کو انسان بنانا ہے۔ 
* اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح کو عالمِ لاھوت میں روحِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پیدا فرمایا۔ اس مقام پر روح کو ’’روحِ قدسی‘‘ کا نام دیا جاتا ہے‘ اور یہی روح کی وہ حالت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ’’انسان میرا راز ہے اور میں انسان کا راز ہوں۔‘‘ اس مقام پر ارواح اللہ تعالیٰ کے دیدار میں محوہیں۔
* انسان کی ابتدا روحِ قدسی یعنی صاحبِ لولاک حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات ہے۔ روحِ قدسی کا وطن عالمِ لاھُوت ہے اسے حقیقتِ انسانیہ بھی کہا جاتا ہے۔ عالمِ لاھُوت وہ عالم ہے جہاں پر انسان (انسانی روح ) کے سوا تمام مخلوق کا داخلہ ممنوع ہے ۔جب اس روحِ قدسی نے دنیا کی طرف نزول کیا تو ہر عالم کے مطابق اسے لباس عطا کیا گیا ، چنانچہ عالمِ جبروت میں اسے روحِ سلطانی کا لباس پہنایا گیا، عالمِ ملکوت میں اسے روحِ نورانی کا لباس پہنایا گیا اور عالمِ ناسوت میں اسے روحِ حیوانی یا جسمانی کا لباس پہنایا گیا اور پھر ان پرت در پرت ارواح کو جسم کے ظاہری مادی لباس میں اس دنیا میں اتار دیا گیا۔ جب انسان باطنی و روحانی ترقی کرکے اپنی روحِ قدسی تک پہنچتا ہے تو اصل میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچتا ہے۔ وہاں پہنچنے کے لیے اپنی ذات کے اندر سفر کرنا پڑتا ہے۔ جیسے جیسے انسان اسمِ اللہ ذات کا ذکر و تصور کرتا ہے اور مرشد کی نگاہ سے تصفیۂ قلب اور تزکیۂ نفس ہوتا ہے تو نفس، روحِ حیوانی، روحِ نورانی اور روحِ سلطانی کے پرت اترنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جب انسان عالمِ لاھُوت تک پہنچتا ہے تو روحِ قدسی کا پرت ظاہر ہوتا ہے اور اسے اللہ کی پہچان نصیب ہوجاتی ہے۔ 
* اللہ نے انسان کو اشرف مخلوق بنایا لیکن وہ اپنے سے کمتر مخلوق جِنوں اور چڑیلوں سے ڈرتا ہے اور وہ اس پر بآسانی قابو پالیتے ہیں۔ اگر انسان کامل ہو جائے تو کوئی مخلوق جِن، چڑیل، شیطان اس پر قابو نہیں پاسکتے۔
* آدمی سب ہیں مگر انسان خاص ہے۔ انسان وہ ہے جس کے اندر اللہ پاک کی ذات ظاہر ہوجائے۔
* انسان کا جسم اس کی روح کی امتحان گاہ ہے۔ روح کے بغیر جسم بے کار ہے اور جسم کے بغیر روح۔ انسان کو جو عمل کرنا ہے جسم و روح دونوں میں رہ کر ہی کرنا ہے۔ 
* اللہ پاک کی ذات کائنات کی ہر چیز میں موجود ہے اور کائنات سے بالاتر بھی ہے۔ لیکن انسان کا دل ایک ایسی جگہ ہے جو چودہ طبقات سے وسیع تر مقام ہے۔ اس لیے اللہ پاک کی ذات مومن کے دل میں سما جاتی ہے۔
* بشرظاہر ہے اور نور باطن ہے۔
* انسان کا اصل مقام یہ ہے کہ اللہ اس کا طالب ہے جیسا کہ رسالہ غوثیہ میں اللہ نے حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ سے فرمایا ’’انسان میرا راز ہے۔‘‘