Insan-e-kamil

انسانِ کامل

انسانِ کامل

* دنیا میں ایک وقت میں بہت سے ولی ہوتے ہیں اور سب کے مختلف مراتب ہوتے ہیں۔ ہر ولی کسی نہ کسی نبی کے قدم پر ہوتا ہے۔ صرف ایک ان میں سے قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ہوتا ہے‘ وہی ولی انسانِ کامل‘ امام الوقت اور اپنے زمانے کا عبداللہ ہوتا ہے۔ اس کا مرتبہ تمام ولیوں سے بلند ہوتا ہے اور وہ اپنے زمانے کا غوث ہوتا ہے۔
* تمام اسماء و صفات کا ربّ اور ربّ الارباب اسمِ اللہ ذات ہے اور اس کا مظہر انسانِ کامل ہے۔
* راہِ فقر میں اپنی ہستی ا ور خودی کو ختم کرکے اللہ پاک کی ذات میں فنا ہو جانا عارفین کا سب سے اعلیٰ اور آخری مقام ہے جہاں پر وہ دوئی کی منزل سے بھی گزر جاتے ہیں۔حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ’’مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوتُوا‘‘ (مرنے سے پہلے مر جاؤ) میں اسی مقام کی طرف اشارہ ہے ،اس مقام پر فقر مکمل ہو جاتا ہے۔ فقر کے اس انتہائی مر تبہ کومقامِ فنا فی ھُو، وحدت، فقر فنا فی اللہ بقاباللہ یا وصالِ الٰہی کہتے ہیں اور یہ مقامِ توحید بھی ہے۔ یہاں پہنچ کر انسان ’’سراپا توحید ‘‘ ہو جاتا ہے۔انسانی عروج کا یہ سب سے اعلیٰ مقام ہے۔ عام اصطلاح میں اس مقام تک پہنچنے والے انسان کو ’’انسانِ کامل‘‘ یا ’’فقیرِ کامل ‘‘کہا جاتا ہے ۔ 
* انسانِ کامل اسمِ اللہ اور’’ مسمّٰی‘‘(ذاتِ الٰہی )کو پالینے کا راز جانتا ہے۔
* انسانِ کامل کا دل وہ جگہ ہے جہاں انوارِذات نازل ہوتے ہیں اور اس کی وسعت کا بیان و اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔
* انسانِ کامل اللہ تعالیٰ کا مظہر اور مکمل آئینہ بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے انوارِ ذات وصفات واسماء و افعال کا اپنے اندر انعکاس کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی جمیع صفات سے متصف اور اس کے جملہ اخلاق سے متخلق ہوجاتا ہے ۔ 
* انسان اللہ کی ذات میں فنا ہو کر بشریت سے فارغ ہوجاتا ہے۔ جب وہ حالتِ فنا سے واپس بقا کی حالت میں آتا ہے تو انسانِ کامل ہوتا ہے اور اس کی بشریت بھی کامل ہوتی ہے اس لیے اس کا ہر کام عبادت بن جاتا ہے۔
* انسانِ کامل فنافی ھُو، فنا فی اللہ بقا باللہ ہو تا ہے۔ اللہ اس کی نشانیاں لوگوں پر ہر زمانے میں ظاہر کر دیتا ہے۔
* انسانِ کامل اپنے زمانہ کا امام ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ زمانہ کے ساتھ چلتا ہے۔
* انسانِ کامل فنا میں جاتا ہے تو اس میں جمال و جلال دونوں جمع ہوتے ہیں لیکن جب بقا پہ آتا ہے تو صرف جمال ہوتا ہے۔وہ تمام عالموں کے لیے رحمت ہوتا ہے۔