Huzoor-e-Qalb

حضورِ قلب

حضورِ قلب

* حضورِ قلب یا حضوری کے معنی قلب کا خلق سے ہٹ کر حق تعالیٰ کے ساتھ حاضر ہونا ہے۔ اسے مقامِ وحدت بھی کہتے ہیں۔
* حضورِ قلب کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی بلکہ ریا کا درجہ رکھتی ہے۔
* حضورِ قلب اسمِ اللہ ذات کے دائمی ذکر اور تصور سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ جب تک نفس نہیں مرتا‘ دل زندہ نہیں ہوتا اور جب تک دل زندہ نہ ہو حضورِ قلب ممکن نہیں۔ ذکر و تصور اسم اللہذات سے ایک ایسا وقت بھی آتا ہے کہ طالب کو دائمی حضورِ قلب حاصل ہو جاتا ہے اور پھر یہ حالت ہوجاتی ہے کہ’’ترجمہ:جس طرف چہرہ پھیرو گے تم اللہ کو ہی پاؤ گے۔‘‘(البقرہ۔115)
* حضورِ قلب سے مراد باطنی آنکھ سے متوجہ ہونا ہے۔