sultan-ul-ashiqeen-ka-Husno-jamal

حسن وجمال سلطان العاشقین سلطان محمد نجیب الرحمن

حسن و جمال

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس کے حسن و جمال کو قلم کی قید میں بند کرنا کسی ذی روح کے بس کی بات نہیں۔آپ مد ظلہ الاقدس کے حقیقی حسن و جمال کوصرف عاشق ،مریدِ صادق ، نورِ بصیرت رکھنے والا یا خود عشق ہی دیکھ سکتا ہے۔ اس جوہرِ اعظم کے اظہار کی خاطرنہ تو لغتِ عصر میں وہ حسین الفاظ ہیں جو آپ مد ظلہ الاقدس کے شایانِ شان ہوں اورنہ ہی قلم کی سیاہی میں وہ طاقت ہے جو آپ کے انمول حسن کو حروف کی شکل دے سکے۔ الغرض آپ کے حسنِ ازل سے ہی کارخانہ قدرت میں موجود ات کو حسن کی خیرات نصیب ہوئی ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

ساقی خدا کا شکر مجھے عشق کے لیے
بندہ بھی وہ ملا ہے جو مولا دکھائی دے

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو شبیہِ غوث الاعظم، سلطان العاشقین، آفتابِ فقر، شانِ فقر، سلطا ن الذاکرین اورسلطان محمد کے مبارک ا لقاب سے ملقب کیا گیا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے مبارک القاب کی طرح بہت ہی حسین و جمیل ہیں۔ آپ مد ظلہ الاقدس کو اللہ تعالیٰ نے ظاہری و باطنی کامل حسن وجمال سے نواز رکھا ہے ۔ آپ مد ظلہ الاقدس کا ایک ایک نقش دلکش اور آپ کا ہر سخن دلفریب اور دِل کو مو ہ لینے والا ہے۔ جو آپ مد ظلہ الاقدس کو ایک بار نورِ بصیرت سے دیکھ لیتا ہے بس پروانہ وار آپ مد ظلہ الاقدس کے حسین جلوے کے سحر میں گم ہو جاتا ہے۔ اسے ہر چہرہ میں آپ مد ظلہ الاقدس ہی کا چہرہ نظر آتا ہے گویا کائنات کے ہر ذرّے کا حسن صرف اِسی حسن کا عکاس ہے۔آپ مد ظلہ الاقدس کے جسمِ اقدس کا ہر ایک عضو متوازن و مکمل ہونے کے ساتھ ساتھ حسنِ ازلی کا مظہر ہے ۔ آپ مد ظلہ الاقدس کا مبارک جسمِ اطہر ہر قسم کے عیب سے پاک اور ناقابلِ بیان نورانیت کا حامل ہے۔ گویا ایک پارس کی مثل کہ جو اس سے چھو جائے سونا ہو جائے۔
آپ مد ظلہ الاقدس نہ تو بہت ہی طویل قامت اور نہ ہی پست قد ہیں بلکہ آپ مد ظلہ الاقدس میانہ قد کے مالک ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس قد اور رعنائی میں حسنِ مجسم ہیں۔ محفل یا لوگوں کے ہجوم میں سب سے بارعب، دراز قد اور ممتاز نظر آتے ہیں مگر تنہائی میں آپ مدظلہ الاقدس کا قد مبارک متناسب معلوم ہوتا ہے۔ آپ مد ظلہ الاقدس کے جسمِ اطہرکے تمام اعضا مضبوط، متناسب اور کِھلے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔جو آپ مد ظلہ الاقدس کے ہاتھ اور پاؤں کو دیکھتا ہے اس کی طبیعت میں فرحت و تازگی کی لہر دوڑنے لگتی ہے۔ آپ مد ظلہ الاقدس کا رنگ مبارک گندم گوں اور سونے کی طرح چمکدار ہے۔ کبھی اس حیرت انگیزنورانیت میں شدتِ عشقِ الٰہی کی سرخی شامل ہوجائے تو دیکھنے والوں کو تابِ نظارہ نہیں رہتی لیکن جب مائل بہ کرم ہوکر اپنے جمال کو جلالیت پر حاوی کر لیتے ہیں تو آپ کے دیدار سے زیادہ فرحت انگیز نظارہ روئے کائنات پر اور کوئی نہیں ہوتا۔ایسے وقت میں آپ مد ظلہ الاقدس کے دیدارِ اقدس سے روح میں نور کی کرنیں اترتی ہیں اور دیکھنے والا انگشتِ بدندان رہ جاتا ہے۔ مجمع و محفل میں آپ مد ظلہ الاقدس کی سحر انگیز شخصیت کے سامنے بڑی بڑی حسین و جمیل شخصیات کا حسن ماند پڑ جاتا ہے اور تمام مجمع کی نظر صرف و صرف آپ مد ظلہ الاقدس کی ذاتِ اقدس پر ہوتی ہے۔ 
آپ مد ظلہ الاقدس کا سر مبارک بہت ہی متوازن اور خوبصورت ہے۔ عام لوگوں کی نسبت آپ مد ظلہ الاقدس کا سر مبارک بڑا لیکن جسمِ اطہر کے ساتھ متوازن ہے۔ آپ مد ظلہ الاقدس سرمبارک پر اکثر سندھی ٹوپی رکھتے ہیں جس کاسائز سب سے بڑا ہوتا ہے ۔ آپ مد ظلہ الاقدس کے سر مبارک پر ہر قسم کے رنگ کی دستار اور مشدّی(ایک طرح کی دستار کو ہی کہتے ہیں) بھی نہایت خوبصورت لگتی ہے ۔ آپ مد ظلہ الاقدس سفید دستار شملہ کے ساتھ استعمال فرماتے ہیں۔ آپ مد ظلہ الاقدس کے سر مبارک کے بال سیدھے ،گھنے اور مضبوط ہیں اور کانوں تک ہیں۔ کانوں کے اوپر والے بال سر کے بالوں کی نسبت چھوٹے ہیں جس کی بدولت کان مبارک واضح نظر آتے ہیں۔ آپ مد ظلہ الاقدس سر کے بالوں میں مانگ نہیں نکالتے بلکہ بالوں کو پیچھے کی طرف سنوارتے یا کنگھی فرماتے ہیں۔ 
آپ مد ظلہ الاقدس کی مبارک پیشانی کشادہ ہے جو بلند اقبالی کی غماز ہے۔ طالبانِ مولیٰ اس مبارک پیشانی کی کشادگی میں غوطہ زن ہو کر نورِ اسمِ ذات کی تجلیات سمیٹتے ہیں اور ھل من مزید کی ندا دیتے ہیں۔
آپ مد ظلہ الاقدس کی ابرو مبارک ہلکی سیاہ اور گہری ہیں ۔قوسِ قزح کی مثل خمیدہ ہیں اور جبین مبارک کے پاس سے خمیدہ ہوتے ہوئے گنجان ہیں اور آنکھ مبارک کے دوسرے سرے تک خمیدہ ہوتی چلی جاتی ہیں۔ بائیں ابرو کے اختتام پر بھورے رنگ کا قدرے بڑا سا تِل ہے جو ابرومبارک کو مزید دِل آویز بناتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی دونوں ابرو کے درمیان خالی جگہ ہے جس میں بہت ہی غور سے دیکھنے سے ہلکے ہلکے روئیں مبارک نظر آتے ہیں ۔ جب آپ مدظلہ الاقدس مراقبہ کی کیفیت میں ہوتے ہیں تو آپ مد ظلہ الاقدس کا حسن و جمال مزید بڑھ جاتا ہے اور آپ کی دونوں ابروکے درمیان بہت ہی خوبصورت خم پڑ جاتا ہے جو طالبانِ مولیٰ کا دِل موہ لیتا ہے۔
آپ مد ظلہ الاقدس کے مدھ بھرے دو نین کا حسن بیان نہیں کیا جا سکتا کہ اسی نظر سے لاکھوں دِلوں کو بدلا گیا ہے اور عشقِ حقیقی میں تڑپتی روحوں کو لقائے الٰہی کا جام پلایا گیا ہے۔ اسی نگاہِ کرم سے دِلوں کے فیصلے ہوتے ہیں اور دِلوں میں لقائے الٰہی و مجلسِ محمدی کے حصول کی طلب پید ا ہوتی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی مبارک آنکھیں سرمگیں، نورِ معرفت سے لبریز، کشادہ اور پُرکشش ہیں۔ دونوں آنکھوں میں سرخ رنگ کے ہلکے ہلکے ڈورے نظر آتے ہیں جو کہ مراقبہ کے وقت تو بہت ہی گہرے محسوس ہوتے ہیں ۔ جب آپ مدظلہ الاقدس کسی زنگ آلود قلب کا تزکیہ اپنی چشمِ رحمت سے فرما رہے ہوتے ہیں تو بہت ہی مخصوص انداز سے اپنی نظرِ کرم اس سائل پر فرماتے ہیں جس کے دوران آپ مدظلہ الاقدس کی چشم مبارکہ سے نورِ معرفت کی تجلیات نکلتی ہوئی اہلِ بصیرت خوب دیکھتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی آنکھیں اتنی پُرکشش اور گہری ہیں کہ اِن آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ آپ مد ظلہ الاقدس اس قدر شرم و حیا کے پیکر ہیں کہ کبھی کسی کی طرف آنکھ بھر کر نہیں دیکھتے۔

جلوہ بقدرِ ظرفِ نظر دیکھتے رہے
کیا دیکھتے ہم اُن کو مگر دیکھتے رہے

آپ مد ظلہ الاقدس کی آنکھیں ہر وقت شرم و حیا کی وجہ سے جھکی رہتی ہیں لیکن جب کسی طالب پر یہ نظرِ کرم پڑ جاتی ہے تو وہ نورِ معرفت سے سیر ہوجاتا ہے اور اس کے قلب کی حالت بدل جاتی ہے۔ آپ مد ظلہ الاقدس کی آنکھوں کی مبارک پلکیں دراز اور خوبصورت ہیں ۔آپ مد ظلہ الاقدس کی دور کی نظر بالکل درست ہے مگر نزدیک کی نظر کے لیے عینک استعمال فرماتے ہیں ۔
آپ مدظلہ الاقدس کے رخسار مبارک بھرے بھرے ، گداز اور متوازن و ہموار ہیں۔ جب آپ مدظلہ الاقدس مسکراتے ہیں تو آپ کے رخسار مبارک چڑھتے ہوئے چاند کی مثل بہت ہی خوبصورت لگتے ہیں اور دیکھنے والوں کے دِلوں پر سرور و خمار کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کے دائیں رخسار پر ریش مبارک کے قریب دو چھوٹے چھوٹے تِل ہیں جو آپ مدظلہ الاقدس کے چہرہ مبارک کی دلکشی کو اسی طرح مزید دلفریب بناتے ہیں جس طرح سرِ شام چاند کے قریب موجود زہرہ ستارہ اس کے حسن کو دوبالا کر دیتا ہے۔

چہرہ نورانی چمکے پیشانی
جیویں چودھویں دا چن آسمانی
نین تیرے دی دنیا دیوانی
حسن تیرا یوسف ؑ دی مثال
سلطان العاشقین مرشد لجپال

آپ مد ظلہ الاقدس کے ہونٹ مبارک پتلے ، دل آویز اور گلاب کی پنکھڑیوں سے بھی زیادہ خوبصورت ہیں۔

وہ تیرے حسن کی قیمت سے نہیں  ہیں واقف
 پنکھڑی  کو  جو  تیرے  لب  کا بدل کہتے ہیں

آپ مدظلہ الاقدس عموماً سنجیدگی میں بھی مسکراتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں جو قلبی سکون کی نشانی اور دلیل ہے۔جب آپ مدظلہ الاقدس تبسم فرماتے ہیں تو آپ مدظلہ الاقدس کے ہونٹ مبارک سے موتیوں کی طرح دندان مبارک نظر آتے ہیں۔ تمام دندان مبارک ایک نہایت خوبصورت لڑی میں پروے ہوئے یکساں چمک دار ہیں۔ اوپر والے دو دندان مبارک کے درمیان میں ایک خلا ہے جو بہت بھلا اور خوبصورت معلوم ہوتا ہے ۔

مکھ چن بدر شاہ شانی اے
متھے چمکدی لاٹ نورانی اے
چٹے دند موتی دیاں ہن لڑیاں

خوبصورت گلاب کی پنکھڑیوں جیسے لبو ں اور موتیوں جیسے دندان مبارک سے نکلنے والی آواز کا کیا ہی کہنا کہ جو ایک بار سن لے وہ بس اس داؤدی لحن میں ہی کھو جائے۔

گفتار تیری تو جھڑدے گلاب
خلقِ محمدیؐ تیرے اوصاف
رخسار تیرے تے نور بے حساب
دنداں چمکن موتی وال
سلطان العاشقین مرشد لجپال

آپ مد ظلہ الاقدس کی آواز مبارک میٹھی، محبت بھری، کانوں میں شرینی گھولتی ہوئی اور اتنی شائستہ ہے کہ سننے والوں کو ہر ہر لفظ الگ الگ سمجھ آتا ہے اور دور و نزدیک بیٹھنے والے حضرات کو یکساں سنائی دیتی ہے۔ زبانِ حق ترجمان کی ہر بات دِلوں میں یوں اترتی چلی جاتی ہے کہ جیسے موتی ساگر میں اترتے چلے جاتے ہوں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی آواز مبارک میں سحر ہے۔ جو آپ کے کلام کو سنتا ہے حق کی گواہی دیتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی زبانِ اقدس سے نکلنے والا ہر ہر لفظ دِلوں میں گھر کر جاتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کبھی چیخ کر یا کبھی بلند آواز سے گفتگو نہیں فرماتے بلکہ ہمیشہ نرم لہجے میں اور شائستگی سے گفتگو فرماتے ہیں اور اپنی بارگاہِ اقدس میں آکر بیٹھنے والے ہر فردِ خاص و عام سے اس کا اور اس کے اہلِ خانہ کا حال نہایت محبت و شفقت بھرے لہجہ مبارک میں تین بار وقفہ وقفہ سے پوچھتے ہیں۔
آپ مد ظلہ الاقدس کی بینی مبارک (ناک) آپ کے چہرہ مبارک پر نہایت ہی موزوں اور خوبصورت لگتی ہے ۔ بینی مبارک درمیان سے ذرا بلندہے اور اس سے آپ مد ظلہ الاقدس کا حسن مبارک اور بھی پُر کشش ہو جاتا ہے ۔ آپ مد ظلہ الاقدس کی بینی مبارک کے اوپر کے حصہ پر ذرا سا خم نہایت ہی خوبصورت محسوس ہوتا ہے اور اس پر نور کی تجلیات دیکھنے والوں (نورِ بصیرت رکھنے والوں) کو چکا چوند کر دیتی ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی بینی مبارک کے دائیں جانب درمیان میں ایک تِل ہے جو بینی مبارک کے حسن کو اور بھی دوبالا کرتا ہے۔ 
آپ مدظلہ الاقدس کے کان مبارک بھی خوبصورتی میں یکتا و بے مثل اور نہایت متناسب و دِل آفرین ہیں۔ حیاتیات (بیالوجی) کے وراثتی قوانین ( Laws of Inheritence )کی رو سے غالب (Dominant )ہیں۔ آپ مد ظلہ الاقدس کے کانوں کی لومبارک ہلکی سی اندر کی طرف مڑی ہوئی اور آزاد ہیں جو کہ ایک غالب جین( Gene Dominant ) کی نشانی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کے دائیں کان کے پاس کان کی نرم ہڈی اور ریش مبارک کے درمیان ایک تِل ہے جس سے ہر وقت تجلیات وارد ہوتی رہتی ہیں۔
آپ مدظلہ الاقدس کا چہرہ مبارک ’’کتب الکتاب‘‘ ہے، جس کو پڑھنے سے طالب روشن ضمیر ہوتے ہیں ۔ اس کے حسن و جمال کو اگر چاند سے مشابہت دی جائے تو اِس چہرۂ اقدس کے شایانِ شان نہ ہوگا۔ بلکہ چاند اس چہرہ اقدس کی دید کو ترستا ہے۔ آپ مد ظلہ الاقدس کا چہرہ مبارک کتابی ہے اور اتنا حسین ہے کہ اس کا حسن بیان کرنا کسی کے بس میں نہیں۔ بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ کائنات اس چہرۂ اقدس کی مشتاق ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کے چہرہ اقدس کی زیارت سے دِل کو یہ کامل یقین ہوجاتا ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس ہی صاحبِ مسمّٰی عارفِ کامل ، انسانِ کامل ، مظہر ذاتِ الٰہی اور سلطان العاشقین کے لقب پاک کے صحیح حق دار ہیں۔
آپ مد ظلہ الاقدس کے چہرہ مبارک سے اسمِ اللہ ذات کے جلوے رونما ہوتے ہیں اور عشاق ہرلمحہ آپ مد ظلہ الاقدس کے چہرہ مبارک پر نظر یں جمائے دیدار میں محو رہتے ہیں۔ آپ مد ظلہ الاقدس کے چہرہ مبارک سے انوار و تجلیات کا اتنا نزول ہوتا ہے کہ طالبِ مولیٰ زیادہ دیر تک آپ مدظلہ الاقدس کے چہرۂ انور پر نظر نہیں جما سکتے۔ بقول شاعر:

وقتِ دیدار کیا حسرتِ دید کو پورا کرتے
رعبِ حسن نے چھین لی تابِ نظارہ ہم سے

آپ مدظلہ الاقدس سروری قادری مرشد مجمل و جامع ہیں جس کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کلید التوحید کلاں میں فرماتے ہیں’’سروری قادری مرشد مجمل و جامع ہوتا ہے۔ وہ ظاہر و باطن میں ایسی کتاب ہوتا ہے جو طالبِ مولیٰ کے لیے کُتب الکتاب کا درجہ رکھتی ہے جس کے مطالعہ سے طالب اس شان سے فنا فی اللہ ہوتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی حجاب باقی نہیں رہتا ۔اس کتاب (سروری قادری مرشد) کو جو طالب صِدق، اخلاص، اعتقاداور پاکیزگی کے ساتھ پڑھتا ہے وہ جلد ہی اپنی مراد کو پہنچتا ہے۔‘‘
سروری قادری مرشد کے چہرہ یعنی کتب الکتاب کی سطور کا ہر ایک حرف محرمِ دُرونِ مے خانہ بناتا ہے اور راہِ فقر کے ہر مقام سے طالبِ حق کو روشناس کرواتے ہوئے صراطِ مستقیم پر گامزن رکھتا ہے۔ طالبِ مولیٰ جب مرشدِ کامل کے چہرۂ انور کو پڑھتا ہے تو اس کو زبان سے کوئی سوال و جواب کرنے کی حاجت نہیں رہتی کہ طالبِ مولیٰ ہر سوال کا جواب کتب الکتاب سروری قادری صاحبِ مسمّٰی مرشدِ کامل اکمل جامع نور الہدیٰ کے مبارک چہرہ سے حاصل کرتا ہے۔ نہ مرشد اور نہ طالب زبانِ ظاہر سے کچھ گفتگو فرماتے ہیں بلکہ طالبِ مولیٰ اپنے ہر سوال کا جواب مرشد کریم کے چہرہ اقدس سے بغیر زبان ہلائے حاصل کرتا ہے۔
اس بے مثال اور حسن کو حسن عطا کرنے والے چہرہ مبارک پر ریش مبارک بہت جچتی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی ریش مبارک گھنی اور تقریباً طول و عرض میں برابر ہے۔ریش مبارک کے بال نہ زیادہ سخت ہیں اور نہ نرم ،مگر سر مبارک کے بالوں کی نسبت ذرا سخت ہیں۔ سروری قادری مشائخ کی سنت کے مطابق آپ مدظلہ الاقدس کی ریش مبارک کے بالوں کے درمیان سیون نکالی جاتی ہے اور ان کو نہایت خوبصورتی سے گولائی دے کر سنوارا جاتا ہے ۔ مونچھیں مبارک باریک اور ہونٹوں کے برابر رہتی ہیں اور یہ آپ مدظلہ الاقدس کے حسین ہونٹوں کی شان اور بڑھا دیتی ہیں۔مبارک ہونٹوں کے نیچے بائیں جانب ایک چھوٹا سا زخم کا نشان ہے جو لڑکپن میں ہاکی کھیلتے ہوئے ہاکی سٹک لگنے سے آیا۔ آپ مدظلہ الاقدس کے مرشد سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے مبارک ہونٹوں کے نیچے بھی عین اسی جگہ زخم کا ہلکا سا نشان موجود تھا۔
آپ مد ظلہ الاقدس کی گردن مبارک نہ زیادہ طویل ،نہ ہی زیادہ پست اور نہ ہی فربہی مائل ہے۔ موزونیت کے لحاظ سے نہایت خوبصورت ہے۔ گردن کی رنگت سونے کی طرح چمکدار ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی گردن پہ پیچھے سر کے بالوں کے اختتام پر بائیں جانب تِل ہے جو گردن کے بالوں میں چھپا رہتا ہے مگر سر ہلانے پر یوں ظاہر ہوتا ہے جیسے کہ چودھویں کا چاند بادلوں کی اوٹ سے نور کی کرنیں بر سا رہا ہو۔
آپ مدظلہ الاقدس کے دستِ شفقت کی تعریف کیا کی جائے۔ دونوں ہاتھ کہ جیسے میخانے کے کھلے دوباب ہوں۔ دونوں مبارک ہاتھ اسمِ  اللہ ذات کی تاثیر سے ناظر کو ورطہ حیرت میں یوں مبتلا کر دیتے ہیں کہ جیسے ابھی ان میں سے اسم اللہ ذات کا ظہور تمام کائنات کے رگ و پے کو سیراب کر دے گا۔آپ مدظلہ الاقدس کی ہتھیلیاں کشادہ، نرم و ملائم اور خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ انگلیاں گوشت سے پُر اور مخروطی شکل کی ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں کے ناخن مبارک کی بناوٹ بھی بہت ہی دِل آویزہے۔ ہتھیلیوں کی پچھلی جانب کہیں کہیں ہلکے بھورے رنگ کے بال ہیں۔ دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی پر کثرت سے تسبیحات کرنے کی وجہ سے ایک گٹھے کا نشان ہے جو کہ آپ مدظلہ الاقدس کے ہاتھ مبارک کی خوبصورت بناوٹ کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کے ہاتھوں کی انگلیاں مبارک مخروطی اور اتنی خوبصورت ہیں کہ ان کابوسہ لیتے وقت مرید کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس ہر اس پتھر کو پارس کر دیتے ہیں جو اس مبارک ہاتھ کو خلوصِ نیت سے بوسہ دے ۔ نرم گداز ہتھیلیوں میں سے دائیں ہتھیلی کی پشت پر دو تِل موجود ہیں جن میں سے ایک انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان اوپر کرکے ذرا بڑا بھورا تِل ہے اور دوسرا تِل ہتھیلی کی پشت پر اوّل الذکر سے چھوٹا ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس کے پاؤں مبارک پُر گوشت، لمبے اور پتلے ہیں۔ پاؤں مبارک کی انگلیاں بھی لمبی، مضبوط اور متوازی ہیں۔ انگوٹھا مبارک کچھ بڑا، اس کے ساتھ دوسری انگلی انگوٹھے سے تھوڑی سی چھوٹی اور اسی طرح پورے پاؤں کی انگلیاں یکساں متوازن اور ترتیب میں بڑے سے چھوٹے کی طرف ہیں اور تمام کے درمیان یکساں فاصلہ ہے جس سے آپ مدظلہ الاقدس کے پاؤں مبارک کی خوبصورتی نہایت بڑھ جاتی ہے۔ بائیں پاؤں کے انگوٹھے کے آغاز میں بڑا تِل ہے جو اس عظیم پاؤں پر بہت ہی حسین لگتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کے پاؤں مبارک خوبصورتی کا نمونہ ہیں اور طالبِ مولیٰ کے لیے راحت ہی راحت ۔ طالبانِ مولیٰ کا مشاہدہ ہے کہ جب بھی آپ مدظلہ الاقدس کی قدم بوسی کے بعد کوئی کام شروع کیا تو اس میں کامیابی و کامرانی نے قدم چومے۔ اِن قدموں کی خاک بننے میں ایسا سکون ہے گویا کُل کائنات کی سلطانی عطا ہو گئی ہو۔ ان مبارک قدموں کا حسن طالب کو بے اختیار ان قدموں میں اپنا سب کچھ لٹا دینے پر مائل کر دیتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کے پاؤں مبارک میں ہر طرح کی نعلین خصوصاً کھسہ بہت ہی اچھا لگتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی چال بادِ صبا کی مانند اس قدر نرم و لطیف ہے کہ چلتے ہوئے قدموں کی چاپ بھی سنائی نہیں دیتی۔ اللہ کے حضور بے پایاں عاجزی کے باعث قدرے جھک کر چلتے ہیں۔ اگر کبھی اپنی رو میں سر اٹھا کر چلیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دیو مالائی کہانیوں کا عظیم شہزادہ چلا آرہا ہے۔ 

سنبھال اے قوتِ عشق مجھے یہ حسن بہا نہ لے جائے
یہ ابرو کمان‘یہ چشم ہیں تیر ‘ یہ چال قیامت دِل پر ڈھائے

اندھیرے میں آپ مدظلہ الاقدس کے مبارک وجود سے نور کی لپٹیں اٹھتی ہیں اور جسم مبارک یوں چمکتا ہے جیسے اندھیرے میں سبز تسبیح کے موتی چمکتے ہیں۔ بلاشبہ آپ مدظلہ الاقدس ان فقرا میں سے ہیں جن کے متعلق اس حدیثِ مبارکہ میں فرمایا گیا کہ:
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم خَلَقَ اللّٰہُ کُلُّ خَلْقِ مِنْ طِیْنِ الْاَرْضِ وَخَلَقَ الْانْبِیَآئِ وَالْفُقَرَآئَ مِنْ طِیْنِ الْجَنَّۃِ ۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اللہ نے تمام مخلوق کو زمین کی مٹی سے تخلیق فرمایا لیکن انبیااور فقرا کو جنت کی مٹی سے تخلیق فرمایا۔‘‘
آپ مدظلہ الاقدس کا مبارک جسم آئینہ کی طرح صاف شفاف اور بے داغ ہے البتہ جگہ جگہ سرخ اور بھورے تِل ہیں جیسے نگینے جڑے ہوں ۔ پشت مبارک پر ایک ہلکا سا گول گہرے بھورے رنگ کا نشان بنا ہوا ہے۔ 
آپ مدظلہ الاقدس کے حسن و جمال کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔آپ مدظلہ الاقدس کے حُسن کی تعریف کرتے ہوئے آپ کے ایک محب نے کیا خوب کہا ہے:

اے حاملِ حسنِ جہاں
تجھ سا نہیں کوئی اور یہاں
کر سکے جو تیری تعریف بیاں
میرے قلم کی اتنی مجال کہاں
ملے گا خدا تو پوچھوں گا ضرور
بنایا ہے تجھ کو بیٹھ کر کہاں؟
اے شہسوارِ میدانِ عشق و ایماں
تیرے قدموں پہ نچھاور زمین و آسماں
مل جائے احساس کو گر زباں
باندھ دے قیامت کا اِک سماں
اے میری حشر سامانیوں کے ساماں
جتنے چاہے تو لے لے امتحاں
ختم ہو چکا اب تو احساسِ سود و زیاں
حکم دے تو حاضر کر دوں یہ جاں
عشق میں رہا نہیں اب کچھ بھی گراں
تو انمول‘ باقی سب ارزاں

اسی محب نے آپ مدظلہ الاقدس کے حُسن وجمال کی شان کو پنجابی میں کیا خوبصورت بیان کیا ہے:

واہ رباَّ! کی کمال دکھایا اے
لگدا اے واوا ویلیاں بہہ کے بنایا اے
مٹی نال گھول کے سونا چاندی
وچ اپنا نور بسایا اے
ساڈے ہوش تے متُ بھلان لئی
ِکتھوں ایڈا جمال لے آیا اے
کجھ خیال تے عاشقاں دا ہونا چاہی دا سی
کیوں حسن دا بازار ایڈا تپایا اے

یہ عاجزانہ تحریر آپ مدظلہ الاقدس کے حسن و جمال کو مقید نہیں کرسکتی اور پورے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس کے حسن و جمال کو تحریر کے کوزہ میں بند نہیں کیا جاسکتا۔ جس نے ذکرو تصورِ اسمِ اللہ ذات سے حقیقتِ حق پانے کے بعد نورِ بصیرت سے آپ کا دیدار کیا صرف اس نے ہی آپ مد ظلہ الاقدس کے حُسنِ حقیقی کو دیکھا۔سچ تو یہ ہے کہ ھُو کی حقیقت ھُو کے سوا کوئی نہیں جان سکتا اور ھُو ہی ھُو کی تعریف کا سہرا باندھ سکتا ہے۔ 

آنکھ والا تیری قدرت کا تماشا دیکھے
دیدۂ کور کو کیا آئے نظر‘ کیا دیکھے