Deen

حقیقتِ دین

حقیقتِ دین

* دین اسلام کی اصل بنیاد اللہ تعالیٰ اور آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سچا عشق‘ اخلاص‘ وفاداری اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی کامل ظاہری و باطنی اتباع ہے۔ جبکہ آج کل تمام تر توجہ صرف ظاہری اتباع پر دی جاتی ہے۔ اگر اصل دین صرف ظاہری اعمال پر مبنی ہوتا تو اکابر صحابہؓ کے اسلام قبول کرتے ہی نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ وغیرہ فرض کر دیئے جاتے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ تمام عملی ارکانِ دین کی فرضیت ہجرت کے بعد ہوئی۔ اس سے پہلے تمام صحابہ کے لیے دین صرف حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے وفا اور عشق ہی تھا۔ اُن کی نماز اور درود حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دیدار تھا‘ اُن کا روزہ مشرکینِ مکہ کی طرف سے دی گئی تکالیف پر صبر تھا۔
* روح کے جسم پر حاوی آنے کا نام دین ہے۔ جب بندے کی ہر سوچ اور ہر عمل اللہ سے جڑ جائے تو یہ روح کے جسم پر حاوی آنے کی علامت ہے۔
* ہر گروہ نے اپنے اپنے مسلک کو دین بنا لیا ہے۔ اللہ نے مسلک کو نہیں دین کو غلبہ عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔
* تبلیغ‘ دین کی ایک شاخ (شعبہ) ہے۔
* اسلام کی بنیاد فقر اور معرفتِ الٰہی ہے۔کفر کی بنیاد درہمِ دنیا ہے ، بدعت کی بنیاد حُبِّ دنیا اور ہدایت کی بنیاد حُبِّ الٰہی ہے۔
* دین کے معنی ہیں ’’جو ہرِ انسان (روح)کی شناخت اور اس کی تکمیل‘‘، یعنی مرتبۂ انسان کی پہچان اور اس کے حصول کا نام دین ہے۔ دوسرے الفاظ میں خود شناسی وخودبینی وخود بانی کا نام دین ہے ۔
* دین تب تک سمجھ نہیں آتا جب تک وہ خود نہ سمجھائے جس کا دین ہے۔ دین دلوں پر نافذ ہوتا ہے۔
* دین وہ ہے جو زندگی کے انفرادی‘ اجتماعی‘ ریاستی یا معاشرتی ہر طرح کے تعلقات اور معاملات کا احاطہ کرے۔
* دین کبھی سختی سے نہیں پھیلتا۔ سختی سے جسم تو فتح ہو جاتے ہیں مگر دل فتح کرنے کے لیے محبت شرط ہے۔
* دینِ حق کی دعوت دینا بہت ضروری ہے‘ ہدایت دینا اللہ پاک کا کام ہے۔ جسے ہدایت نہیں ملتی اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہدایت لینا ہی نہیں چاہتا۔
* جب تک باطن کی سمجھ نہیں آتی دین کی سمجھ نہیں آتی۔
* جس نے حالتِ ایمان میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیکھا وہ صحابی ہے اور جس نے کسی صحابی سے تعلیم و تلقین حاصل کی وہ تابعی ہے اور جس نے کسی تابعی سے تعلیم و تلقین حاصل کی وہ تبع تابعی ہے۔ یہ تینوں گروہ نجات یافتہ ہیں اس لیے کہ صورت (لقائے الٰہی) کا دین تبع تابعین تک عام رہا۔ پھر صورت کا دین سلاسلِ طریقت کی صورت میں علیحدہ ہوگیا اور سیرت (ظاہری اعمال) کا دین علیحدہ ہوگیا۔ فقر والے صورت کے دین پر چلتے ہیں اور علمائے ظاہر سیرت کے دین پر۔ فقر ہی اصل دین ہے۔ سیرت کا دین کتابوں میں ہے اور صورت کا دین فقرا کاملین کے پاس ہے جن کے وسیلے سے طالبانِ مولیٰ مجلسِ محمدی میں حاضر ہو کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رُخ مبارک کا دیدار کرتے ہیں اور فنا فی اللہ کے مقام تک پہنچتے ہیں ۔
* تاریخِ اسلام میں تمام اسلامی تحریکوں میں سے ’’سلاسلِ طریقت‘‘ کی تحریک سب سے زیادہ مضبوط‘ معتبر‘ دیرپا اور کامیاب رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق باطن سے یعنی ذاتِ حق کے قرب و معرفت سے ہے جو سیدھا دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے ۔ اسلام کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن۔ اسلام کا ظاہری حصہ شریعت ہے اور باطنی حصہ طریقت ہے جو حقیقت اور معرفت تک رسائی کا راستہ ہے۔