Martaba-Fana fi-shaikh

مرتبہ فنافی الشیخ،فنا فی اسمِ محمدؐ، فنا فی اللہ

مرتبہ فنا فی الشیخ ، فنا فی اسمِ محمد ؐ، فنا فی اللہ

طالبوں کے تین مراتب ہوتے ہیں:
(1) مرتبہ فنا فی الشیخ ۔ جب طالب (مرید) شیخ (مرشد) کی صورت کا تصور کرتا ہے تو جس طرف نظر کرتا ہے اُسے شیخ (مرشد) نظر آ تا ہے۔
(2) دوسرا مرتبہ فنا فی اسمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے۔ جب طالب صورتِ اسمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا تصور کرتا ہے تو جس طرف بھی نگاہ کرتا ہے اُسے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نظر آتی ہے۔
(3) تیسرا مرتبہ فنا فی اللہ کا مرتبہ ہے۔ جب طالب ’’اسمِ اللہ ذات‘‘ کا تصور کرتا ہے تو نفس مرجاتا ہے اور جس طرف بھی دیکھتا ہے اُسے انوارِ اسمِ اللہ ذات کی تجلّیات نظر آتی ہیں۔ اسے مرتبہ لامکاں کہا جاتا ہے اور طالب اپنی خودی ختم کرکے اِن تجلیات میں فنا ہو کر فنا فی اللہ ہوجاتا ہے۔
* یاد رکھیں راہِ فقر میں مشکل ترین مرحلہ فنا فی الشیخ ہی ہے۔ اگر شیخ کامل ہے تو وہ پہلے ہی فنا فی الرسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور فنا فی اللہ ہوگا۔ اگر طالب فنا فی الشیخ ہوجائے تو اُسے دوسرے مراتب طے کرتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔ اگر مرشدسروری قادری صاحبِ مسمّیٰ نہ ہو تو اِن تین مراتب کو طے کرتے کرتے سالہا سال لگ جاتے ہیں پھر بھی طالب ان مراتب کی حقیقت تک نہیں پہنچ پاتا۔
* فنا فی شیخ سب سے اعلیٰ اور مشکل مرتبہ ہے فقر میں۔ اس میں ظاہری نزدیکی یا ظاہری دوری معنی نہیں رکھتی۔