Dunia

دنیا

دنیا

* واضح ہو کہ عام طور پر مال و دولت کی فراوانی کو دنیا سمجھا جاتا ہے مگر دنیا کی تعریف یوں کی گئی ہے ’’ہر وہ چیز دنیاہے جو اللہ کی یاد سے ہٹا کر اپنی طرف مشغول یا متوجہ کر لے۔‘‘جیسا کہ حضو رِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے : مَا شَغَلَکَ عَنِ اللّٰہِ فَھُوَ صَنَمُکَ۔ترجمہ:جو چیز تجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہٹا کر اپنے ساتھ مشغول کر لے تیرا بت ہے۔
* ترک دنیا سے مراد ترکِ ہوسِ دنیا ہے یعنی دنیا سے باطنی لاتعلقی کا نام ترکِ دنیا ہے
* دنیا جب آتی ہے تب بھی فساد برپا کرتی ہے، جب جاتی ہے تب بھی جھگڑا پیدا کرتی ہے۔ زیادہ ہو تو مصیبت کم ہو تو مسئلہ۔
* دنیا اللہ نے بندے کی آزمائش کے لیے بنائی۔ اس لیے آزمائش میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے دنیا میں رہنا ضروری ہے لیکن بندہ دنیا میں یوں رہے کہ دنیا اس میں نہ رہے تو ہی وہ کامیاب ہوگا۔
* جو دنیا دین میں مدد کرتی ہے وہ دنیا نہیں جیسا کہ وہ پیسہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے۔
* دنیا کی ابتدا بھی خاک ہے اورانجام بھی خاک ہے ۔ جب انسان رازِ حقیقت پا لیتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ ہر چیز خاک ہے اس لیے وہ کسی چیز کے پیچھے نہیں بھاگتا۔
* دنیا میں رہ کر دل سے دنیا نکالنا سب سے بڑی آزمائش ہے۔
* طالبِ دنیا سبب کو پکڑ لیتا ہے اور مسبب کو چھوڑ دیتا ہے اور طالبِ مولیٰ مسبب کر پکڑ لیتا ہے سبب کو چھوڑ دیتا ہے۔
* ترکِ دنیا سے مراد دنیا کو چھوڑنا نہیں بلکہ اپنے باطن میں دنیا اور اس کی خواہشوں کو شکست دینا ہے یعنی دل سے دنیا کی محبت نکال دی جائے کیونکہ جب تک دل سے دنیا کی ہوس اور محبت نہیں نکلے گی اللہ کی محبت نہیں آئے گی۔
* وہ لوگ جن کے قلوب اللہ کی محبت اور اس کے ذکر سے معمور ہیں دنیا کی محبت ان کے دل میں نہیں سما سکتی۔
* اللہ کے ہاں وہی قلب پسندیدہ اور کامیاب ہے جس میں سے دنیا کی محبت نکل کر اللہ کی محبت بس گئی ہو۔
* جب تک دل کے اندر دنیا‘ لذّ اتِ دنیا‘ خواہشاتِ دنیا اور شہواتِ دنیا موجود رہتی ہیں اس وقت تک دل کے اندر اﷲ پاک کی محبت نہیں آ سکتی۔ جو دنیا اور اﷲ پاک کی محبت کو دل کے اندر اکٹھا جمع کرنے کا دعویٰ کرتا ہے وہ کاذب ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے محب اور عاشق دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے خواہ پوری کائنات کی دولت ان کے سامنے ڈھیر کر دی جائے۔دنیا اور غیر اللہ کی محبت کو دِل سے نکال کر دِل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور عشق کو بسالینا ہی کامیابی ہے اور یہ ذکر اور تصورِ اسم اللہ ذات کے بغیر ناممکن ہے۔ اور وہ بھی اگرکسی مرشدِ کامل اکمل سروری قادری صاحبِ مسمّٰی سے حاصل ہوا ہو تو ہی اثر کرتا ہے۔