تُوں باھُوؒ دی عین وے سوہنیا | Tun Bahoo de ain way Sohneya

توں باھوؒ دی عین وے سوہنیا 

تحریر: فائزہ گلزار سروری قادری ۔لاہور

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو ؒ فرماتے ہیں’’فقیری سیّد یا قریش ہونے پر موقف نہیں یہ عرفان سے حاصل ہوتی ہے‘‘۔ (نورالہدیٰ خورد )
’’معرفتِ الٰہی (راہِ فقر) کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کا فیض و فضل اور بخشش و عطا ہے وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے ۔اُس کا تعلق حسب، نسب اور شہرت سے نہیں بلکہ دردِ دل سے ہے ۔اس کا تعلق ہمت اور صدق سے ہے نہ کہ نسبتِ سیّدی و قریشی سے۔ ‘‘ ( نور الہدیٰ کلاں) 
نسب کے لحاظ سے تمام بنی نوع انسان ایک باپ حضرت آدم علیہ السلام اور ایک ماں حضرت حوا سلام اللہ علیہا کی اولاد ہیں۔ ایک کو دوسرے پر کسی طرح کی فوقیت اور ترجیح حاصل نہیں ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا: 
’’ اے لوگو! آگاہ رہو اور غور سے سنو، تمہارا ربّ ایک ہے اور غور سے سنو تمہارا باپ ایک ہے اور کان کھول کرسن لو کسی عربی کو عجمی پر اور گورے کو کالے پر (محض نسل،نسب، قوم، وطن، علاقہ کی وجہ سے) کوئی فضیلت نہیں ہے اگر کسی کو فضیلت حاصل ہے تو وہ صاحبِ تقویٰ (صاحبِ فقر) کو ہے ‘‘۔
بابِ فقر امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں:
’’انسان بااعتبار پیکرِ عنصری ایک دوسرے کے ہمسر ہیں ان کے باپ آدم ؑ اور ماں حوا ؑ ہیں ۔‘‘ 
نسب کے لحاظ سے تمام انسان برابر ہیں کسی کو کسی پر کوئی برتری حاصل نہیں، جو فوقیت یا بڑائی کسی کو حاصل ہے وہ حسب کے لحاظ سے ہے نسب کے لحاظ سے نہیں۔ اور اگر حقیقت سمجھنی ہو تو جان لو کہ انسان کی قدر جوہر سے ہے نا کہ نسب سے۔ ہاں اگر جوہر بھی ہو اور حسب بھی تو اعلیٰ نسب سونے پر سہاگہ کا کام دیتا ہے۔ 
ارشادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے :
مَنْ سَلَکَ عَلٰی طَرِیْقِیْ فَھُوَآلِیْ۔ 
ترجمہ : جو میرے راستہ (فقر) پر چلاوہی میری آل ہے ۔ 
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب ا لرحمن مدظلہ الا قدس کا حسب ’’فقر ‘‘ہے جو آقا پاک علیہ الصلوٰۃو السلام کا فخر اور نایاب ورثہ ہے، کا ئنات کی بہترین نعمت اور بزرگی، شرافت و نجابت اور حسب کا اعلیٰ ترین معیار ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کو نعمتِ فقر و ولایت نسبی وراثت کے طور پر نہیں ملی بلکہ آپ نے اپنی بے مثال جدوجہد،اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور اپنے مرشد پاک سے بے پایاں خلوص اور عشق کی بدولت اس کمال کو حاصل کیا ۔
جب آپ مدظلہ الاقدس کی عمر مبارک چھتیس (36) برس ہوئی تو آپ کا دل دنیا اور معا ملاتِ دنیا سے سیر ہو چکا تھا اور آپ باطنی طور پر معاملاتِ دنیا سے بیزار ہو گئے تھے۔ اُس ذاتِ حقیقی کو پانے کی جستجو میں زیادہ سے زیادہ وقت عبادات میں مصروف رہنے لگے۔ آپ مدظلہ الاقدس کا یہ معمول تھا کہ آپ روزانہ جتنی عبادت فرماتے اس کا ثواب سیّدہ کائنات، سیّدہ فاطمتہ الزہراؓ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حسنین کر یمینؓ کی بارگاہ میں ہدیہ فرماتے اور ان سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں سفارش کا سوال کرتے۔
12اپریل 1997 کی رات نمازِ تہجد کے بعد آپ مدظلہ الاقدس درود پاک پڑھ رہے تھے کہ باطن کا در کھل گیا اور آپ مدظلہ الاقدس نے خود کو باطنی طور پر مسجدِ نبوی ؐ میں مجلسِ محمدیؐ میں پایا۔ نورِ ازل آقاو مولا سیّدنا حضورعلیہ الصلوٰ ۃوالسلام مع خلفا ئے راشدین و اہلِ بیتؓ تشریف فرما تھے ۔ 
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا :
’’تو ہمارا نوری حضوری فرزند ہے،ہمارا وارث ہے ۔ایک زمانہ تجھ سے فیض پائے گا اور ہم تمہیں اپنی برہان بنائیں گے۔تو نے ہماری لختِ جگر نورِ نظر کو راضی کیا ہے ہم تجھ سے راضی ہو گئے ہیں۔‘‘ 
اس فرمانِ عالی شان کے بعد حضور علیہ ا لصلوٰۃ والسلام نے آپ کو دستِ بیعت فرمایا اور باطنی تربیت کے لیے سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے سپرد فرمایا۔ 
یہ انوکھی یا نرالی بات نہیں ہے۔ فقر کی تاریخ ان روح پرور واقعات سے بھری پڑی ہے ۔سلطان العا رفین حضرت سخی سلطان باھوؒ تیس (30) سال تک مرشد کی تلاش میں سر گردان رہے۔ جب رحمتِ الٰہی جوش میں آئی تو حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے آپ کو اپنے دستِ مبارک سے بیعت فرمایا۔ اہلِ بیتؓ اطہار سے توجہ و تلقین پا لینے کے بعد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
’’مخلوقِ خدا کو خالقِ کائنات کی جانب بلاؤ اور انہیں تلقین و ہدایت کرو۔ تمہارا درجہ دن بدن، گھڑی بہ گھڑی ترقی پذیر ہو گا ابدا لآباد تک ایسا ہوتا رہے گا کیونکہ یہ حکمِ سروری و سرمدی ہے۔‘‘ بعد ازاں آپ ؒ کو آقائے دوجہان سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سیّدنا غوث الاعظم، محبوبِ سبحانی پیر دستگیر شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے سپرد فرمایا۔ پیر دستگیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلا نیؓ نے آپ کو باطنی فیض سے مالامال کرنے کے بعد خلقت کو تلقین و ارشاد کا حکم دیا ۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہِ عالیہ میں حاضری کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’ جو کچھ میں نے دیکھا ان ظاہری آنکھوں سے دیکھا اور اس ظاہری بدن کے ساتھ دیکھا اور مشرف ہوا۔‘‘ 
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
سروری قادری اسے کہتے ہیں جسے خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام دستِ بیعت فرماتے ہیں اور اس کے وجود سے بدخلقی کی خوبُو ختم ہو جاتی ہے اور اسے شرعِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی راہ پر گامزن ہونے کی توفیق نصیب ہوجاتی ہے۔ (محک الفقر کلاں)
ایک اس مراتب کے بھی سروری قادری ہوتے ہیں جنہیں خاتم النبیین رسول ربّ العالمین سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی مہربانی سے نواز کر باطن سے نواز کر باطن میں حضرت محیّ الدین شاہ عبدالقادر جیلانی سرہٗ العزیز کے سپرد کر دیں اور حضرت پیر دستگیرؓ بھی اسے اس طرح نوازتے ہیں کہ اسے خود سے جدا نہیں ہونے دیتے۔ (محک الفقر کلاں)
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : 
’’سلسلہ سروری قادری کو سروری قادری اس لئے کہا جاتا ہے کہ سروری کا مطلب ہے سرورِ کا ئنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دستِ مبارک پر بیعت ہونا اور قادری کا مطلب ہے غو ث الاعظم حضرت شیخ عبدالقا در جیلانیؓ کا باطنی تر بیت فرمانا ۔‘‘(مجتبیٰ آخر زمانی) 
حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے دستِ مبارک پر بیعت ہو کر سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ سے باطنی تربیت پانے کے ساتھ ساتھ فقر میں ظاہری بیعت بھی بے حد ضروری ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو ؒ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے باطن میں دستِ بیعت فرمایا لیکن آپ ؒ نے سیّد عبدالر حمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر ظا ہری بیعت فرمائی۔ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ اس میں پو شیدہ حکمت واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’اگر آپ رحمتہ اللہ علیہ ظاہری بیعت نہ فرماتے تو سلسلہ سروری قادری کی کڑی جو غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ سے سیّد عبدالرحمن دہلوی ؒ تک پہنچتی ہے‘ وہ ٹوٹ جاتی اور آپ ؒ مرشدِ اتصال نہ رہتے۔‘‘ (مجتبیٰ آخرزمانی)
شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدیؒ کو تمام فیض اور خزا نۂ فقر چالیس سال تک دربار حضرت سلطان باھوؒ پر قیام کے دوران مل گیا۔ پھر جب علومِ باطنی میں آپ ؒ کی تکمیل ہو گئی تو آپ ؒ کو حکم ہوا کہ ظاہری بیعت جا کر پیر محمد عبدالغفور شاہ صاحب ؒ کے ہاتھ پر کرو۔
اسی طرح سلطان الاولیا حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ بغداد جا کر سیّدنا غوث الاعظمؓ کی آل کے ہاتھ پر بیعت ہونا چاہتے تھے اور پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ ؒ نے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کی بارگاہ میں باطنی طور پر عرض بھی کی کہ حضور آپ کی آل ہے اور آپ ہی انہیں بیعت فرمائیں لیکن سلطان العارفینؒ نے سلطان محمد عبدالعزیز ؒ کو سیّد بہادر علی شاہ ؒ کی ظاہری بیعت کا حکم دیا۔ (اقتباس از کتاب : سلطان باھوؒ )
جن عظیم ہستیوں کو تلقین و ارشاد کی مسند پرفائز کیا جاتا ہے اُن کے لیے ظاہری بیعت ضروری ہے ۔ فقر میں سلاسل کا ایک نظام قائم کیا گیا ہے جو کڑی در کڑی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچتا ہے۔ اگر یہ سلسلہ کسی جگہ منقطع ہو جائے تو فتنوں کے وقوع پذیر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس دور میں جہاں لوگ نبوت اور جعلی مہدی ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہیں کوئی بھی لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے یہ کہہ سکتا ہے کہ اسے براہِ راست فیض حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے حاصل ہوا ہے لہٰذا اسے ظاہری بیعت کی ضرورت نہیں۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کی بارگاہ سے باطنی اجازت کے بعد ظاہری مرشد کی تلاش شروع فرمائی اور اس مقصد کے حصول کے لیے ملک کے طول و عرض کا سفر فرمایا۔ لیکن کہیں کوئی مرشد اُس اعلیٰ مرتبہ کا نہ ملا جو آپ مدظلہ الاقدس کی فقر کی اعلیٰ منازل تک رہنما ئی کر سکے۔ جب قسمت نے یاوری کی آپ مدظلہ الاقدس اپنے دور کے امانتِ الٰہیہ کے حامل مرشد کامل اکمل سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہِ عالیہ میں پہنچے۔ مرشد پاک نے آپ مدظلہ الاقدس کی تین سال تک ظاہری اور باطنی پرکھ کی اور جب آپ مدظلہ الاقدس ہر آزمائش میں کامیاب اور ہر کسوٹی پر کھرے اُترے تو 21 مارچ 2001 روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ و سلم کے سامنے فقر کے مختارِ کُل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اجازت سے امانتِ فقر آنے والے دور کے لیے آپ مدظلہ الاقدس کو بطور وارثِ فقر منتقل فرمائی۔ امانتِ فقر سے سادہ الفاظ میں یہ مراد بھی لی جا سکتی ہے کہ آئندہ سلسلہ کا امام یا شیخ کون ہو گا۔ آپ مدظلہ الاقدس انتہائی احسن طور پر اس امانت کو وقت کے تقاضوں کے مطابق صبح و شام ہر خاص و عام میں تقسیم فرما رہے ہیں اور دنیا آپ کے نورانی وجود سے پھوٹنے والی نور کی کرنوں سے روشن و سیراب ہو رہی ہے ۔
سلطان العاشقین حضر ت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس حضرت سخی سلطان باھُوؒ کی طرح آزاد فقیر ہیں اور گھوم پھر کر لوگوں میں اسمِ اللہ ذات کا فیض عام فرما رہے ہیں ۔
آزاد فقیر کی تعریف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو ؒ اس طرح فرماتے ہیں :
’’ آزاد فقیر مصلحتوں اور آداب و رسوم کی جکڑ بند یوں سے آزاد ہوتا ہے، آزاد فقیر ایک تو کسی جگہ پابند ہو کر رہنے پر مجبور نہیں ہوتا دوسرے اس کا فیض ہر حال اور ہر صورت میں جاری رہتا ہے ۔ عام طور پر وہ سیر و سفر میں رہتے ہوئے فقر کی نعمت لوگوں کے گھروں اور دروازوں پر لٹاتا پھرتا ہے ‘‘۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ خود بھی تمام عمر لوگوں کو معرفت اور فقر کی تعلیم و تلقین کے لیے ہمیشہ سفر میں رہے۔ آپ ؒ دیہاتوں کے سیدھے سادھے لوگوں میں اسمِ اللہ ذات کا خزانہ لٹاتے رہے اور پھر انہی دیہاتی لوگوں نے آپ ؒ کے کام کو آگے بڑھایا۔ آپ ؒ کی ساری زندگی طالبانِ مولیٰ کو تلاش کرنے اور انہیں واصل باللہ کرنے میں گزری۔ آپ ؒ نے لو گوں کو ورد و وظائف اور ذکر فکر میں مشغول کیے بغیر محض اپنی نگاہ اور ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات اور مشقِ مرقومِ وجودیہ کے ذریعے اللہ تک پہنچایا ۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو ؒ کا یہ قول سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا آیا ہے ’’جب گمراہی عام ہو جائے گی، باطل حق کو ڈھانپ لے گا، فرقو ں اور گرو ہوں کی بھرمار ہو گی، ہر فرقہ خود کو حق پر اور دوسروں کو گمراہ سمجھے گا اور گمراہ فرقوں اور گروہوں کے خلاف بات کرتے ہوئے لوگ گھبرائیں گے اور علمِ باطن کا دعویٰ کرنے والے اپنے چہروں پر ولایت کا نقاب چڑھا کر درباروں اور گدیوں پر بیٹھ کر لوگوں کو لوٹ کر اپنے خزانے اور جیبیں بھر رہے ہوں گے تو اس وقت میرے مزار سے نور کے فوارے پھوٹ پڑیں گے‘‘۔ اس قول سے مراد یہ ہے کہ گمراہی کے دور میں آپ ؒ کا کوئی غلام آپؒ کی باطنی رہنمائی میں آپ ؒ کی روحانی تعلیمات کو لے کر کھڑا ہو گا، گمراہی کو ختم کرے گا، دینِ حق کا بول بالا کرے گا اور دینِ حنیف پھر سے زندہ ہو جائے گا۔
دینِ حنیف کو زندہ کرنے کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے جو ظاہری و باطنی اقدامات اٹھائے ان کا تذکرہ سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے تاہم مختصر تفصیل درج ذیل ہے :
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے اپنے مرشد کریم سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی ؒ کے وصال مبارک کے بعد فقر کے مشن کو آگے بڑھایا۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے آپ مدظلہ الاقدس نے 2005ء میں کتاب ’’حقیقت اسمِ اللہ ذات‘‘ طبع فرمائی اور اسے فی سبیل اللہ تقسیم کرنے کا آغاز فرمایا تا کہ لوگ ا سمِ اللہ ذات کی حقیقت سے آگاہ ہو سکیں۔ آپ مدظلہ الاقدس امامِ وقت ہیں اور جو زمانے کا امام ہوتاہے وہ ہمیشہ اسی زمانے کے مطابق لوگوں کی تربیت کرتا ہے آپ مدظلہ الاقدس نے بھی مروجہ طریقوں سے فقر کو پھیلانے کا آغاز فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی خاص مہر بانی، مرشد پاک کی باطنی مہربانی اور آپ مدظلہ الاقدس کی پُر خلوص کوششوں کا نتیجہ تھا کہ آپ نے جس کام کا بیڑہ اٹھایا اُس میں دن دگنی رات چوگنی ترقی ہوتی چلی گئی اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ (اللہ تعا لیٰ آپ کی عمر میں برکت عطا فرمائے۔ آمین)
’’حقیقت اسمِ اللہ ذات ‘‘ کے مطالعہ سے خلقِ خدا جوق درجوق آپ کے حلقۂ ارادت میں شامل ہونے لگی اور فیض پانے کے بعد اسمِ اللہ ذات کے فیض کو اپنے ارد گرد کے لوگوں میں تقسیم کرنے کی خواہاں ہوئی ۔ 
گزشتہ تمام ادوار میں، سوائے سیّدنا غوث الا عظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے دور کے ، یہ راہ چنے ہوئے خاص طالبانِ مولیٰ کے لیے مخصوص تھی۔ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے بھٹکتی ہوئی مخلوقِ خدا پر سب سے بڑا احسان یہ فرمایا کہ فقر و تصوف کے اصول ’’ اسمِ اعظم کو بتانا حرام ہے‘‘ کو الٹ دیا اور اسمِ اللہ ذات کے فیض کو عوام الناس پر کھول دیا۔ اس طرح عالمِ ناسوت میں اُلجھے ہوئے لوگ ذکرو تصور اسمِ اللہ ذات کے ذریعے لقاءِ الٰہی اور مجلسِ محمدیؐ کی حضوری کے لائق ہوئے۔ ( سلطان الفقر ششم ؒ کا) اسمِ اللہ ذات کا فیض جب سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی صورت میں جاری ہوا تو آپ مدظلہ الاقدس نے اسی ترتیب کو جاری رکھتے ہوئے عوام الناس کے لیے مزید آسانیاں پیدا فرمائیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اسمِ اللہ ذات کے فیض کو عام کرنے کے لیے ہر طرح کے جدید ذرائع اور ٹیکنالوجی استعمال فرمائی۔ اس سے ایک طرف آپ کے بے پناہ علمِ لدّنی کا اظہار ہوتا ہے اور دوسری طرف اس بات کی روشن دلیل ہے کہ زمانہ جس قدر بھی ترقی کر لے فقیرِ کامل کے قدموں کی خاک ہوتا ہے اور اس کے لیے مسخر ہوتا ہے۔
علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں :

عالم ہے فقط مومنِ جانباز کی میراث 
مومن نہیں جو صاحبِ لولاکؐ نہیں ہے

ایک اور موقع پر اقبال ؒ فرماتے ہیں:

جو عالمِ ایجاد میں ہے ’’صاحبِ ایجاد‘‘ 
ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ 

اسمِ اللہ ذات کے فیض کو عام کرنے کے لیے اٹھائے گئے آپ مدظلہ الاقدس کے اقدامات اس بات کا بھی اظہار ہیں کہ کوئی مسلمان روزِ قیامت یہ عذر پیش نہیں کر سکے گا کہ اسے دنیا کی رنگینوں نے ہی فرصت نہیں دی کہ وہ اللہ تک پہنچنے کا سوچ سکتا بلکہ ہر ایجاد اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ بن سکتی ہے اگر بندہ خلوصِ نیت سے اللہ کی طلب کرے۔ اگر ولی کامل کی صحبت حاصل ہوجائے تو نیت میں خلوص کا پیدا ہونا کچھ مشکل نہیں ہوتا۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:

ہر کہ طالبِ حق بود من حاضرم
ز ابتدا تا انتہا، یک دم بُرم 
طالب بیا! طالب بیا! طالب بیا! 
تا رسانم روزِ اوّل با خدا 

ترجمہ :’’ہر وہ شخص جو حق تعالیٰ کا طالب ہے میں اس کے لیے حاضر ہوں ۔ میں اسے ابتدا سے انتہا تک فوراً پہنچا دیتا ہوں۔ اے طالب آ! اے طالب آ !اے طالب آ !تا کہ میں تجھے اللہ تک پہنچا دوں۔‘‘ ( رسالہ روحی شریف )
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطا ن محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کے روحانی وارث اور کامل قادری فقیر ہیں۔کامل قادری فقیر کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : 
* ’’سروری قادری کامل کی ابتدا کیا ہے؟ قادری کامل ( سروری قادری) نظر سے یا تصور اسمِ اللہ ذات سے یا کلمہ طیب سے یا باطنی توجہ سے طالبِ اللہ کو معرفتِ الٰہی کے نور میں غرق کرکے مجلسِ محمدی ؐ کی حضوری میں پہنچا دیتا ہے کہ طریقہ قادری میں یہ پہلے ہی روز کا سبق ہے۔ جو مرشد اس سبق کو نہیں جانتااور طالبوں کو مجلسِ محمدی کی حضوری میں نہیں پہنچاتا وہ قادری کامل ہر گز نہیں۔ اس کی مستی حال محض خام خیالی ہے کہ قادری کامل معرفتِ الٰہی کے نور میں غرق ہو کر ہمیشہ غرقِ وصال رہتا ہے۔‘‘ (کلیدالتو حید کلاں ) 
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطا ن محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس بیعت کے پہلے روز ہی سلطان الاذکار’’ ھو‘‘ اور ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات وظیفے کے طور پر عطا فرماتے ہیں۔ ابتدائی دور میںیہ ذکر چار منازل اَللّٰہُ لِلّٰہ، لَہٗ اور  ھُوْ  میں عطا کیا جاتا تھا اور طالبانِ مولیٰ کو آخری ذکر تک پہنچنے میں کئی سال لگ جاتے تھے اور بعض اوقات کوئی طالب اپنی ناقص طلب کی وجہ سے ذکر کی پہلی منزل سے آگے بھی نہیں بڑھ پاتا تھا۔ آپ مدظلہ الاقدس طالبانِ مولیٰ پر خاص باطنی مہربانی فرماتے ہوئے آخری منزل کا ذکر بیعت کے پہلے روز ہی عطا فرما دیتے ہیں۔ ذکرِ ھو عارفین کا سب سے اعلیٰ ذکر ہے اور اس کی تجلیات کو برداشت کرنا عا م طالب کے لیے مشکل ہے ۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں :
* ’’سروری قادری مرشد صاحبِ اسمِ اللہ ذات ہوتا ہے اس لیے وہ جس طالبِ اللہ کو حا ضرا تِ اسمِ اللہ ذات کی تعلیم و تلقین سے نوازتا ہے اسے پہلے ہی روز اپنا ہم مرتبہ بنا دیتا ہے جس سے طالبِ اللہ اتنا لایحتاج و بے نیاز ہو جاتا ہے کہ اس کی نظر میں مٹی و سونا برابر ہو جاتا ہے۔‘‘ (کلید التو حید کلاں )
ایک موقع پر فرماتے ہیں:
* سروری قادری طریقہ کم حوصلہ نہیں ہے یہ نہایت ہی فیض بخش طریقہ ہے جب کہ دیگر طریقوں میں لوگوں نے بعض طالبوں کو آتشِ اسمِ اللہ ذات سے جلا کر مار ڈالا، بعض اسمِ اللہ ذات کا بوجھ برداشت نہ کر سکے اور عاجز ہو بیٹھے اور بعض مردودو مرتد ہو گئے۔ ( عین الفقر ) 
آپ مد ظلہ الاقدس ایک مبتدی طالب کو بھی یہ تجلیات برداشت کرنے کے لائق بنا دیتے ہیں ۔ اس طرح عام طلب رکھنے والا انسان بھی آپ کی مہر بانی سے لقاءِ الٰہی اور مجلسِ محمدی ؐ کی دائمی حضوری کے لائق بن جاتا ہے ۔ 
اسمِ اللہ ذات کے فیض کو عام کرنے کے لیے فقرا کاملین کی سنت پر عمل کرتے ہوئے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس ہر سال پورے پاکستان بھر میں سفر فرماتے ہیں اور ہر شہر میں طالبانِ مولیٰ کو بیعت فرما کر اور بغیر بیعت کے بھی ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات عطا فرما رہے ہیں۔ اندرون و بیرونِ ملک مقیم طالبانِ مولیٰ جو کسی وجہ سے آپ مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں حاضر نہ ہو سکیں ان کے لیے آن لائن بیعت کا سلسلہ شروع فرما کر آپ مد ظلہ الاقدس نے فقرو تصوف کی تاریخ میں ایک اور انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ اس طرح اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سینکڑوں طالبانِ مولیٰ تک اسمِ اللہ ذات کا فیض پہنچایا ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کی تعلیمات کے مطابق لقاءِ الٰہی اور مجلسِ محمدی ؐ کی دائمی حضوری کے لیے اسمِ اللہ ذات کے ساتھ ساتھ اسمِ محمد کا تصور بھی ضروری ہے ۔ آپؒ فرماتے ہیں: ’’اسم محمد کا تصور کرنے والا اسم محمد کی صورت کا تصور کرتا ہے تو تمام ماسویٰ اللہ کو ترک کر دیتا ہے۔ پھر وہ جس طرف بھی نگاہ کرتا ہے اسے مجلسِ محمدی ؐ نظر آتی ہے۔ اور وہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا باادب با حیا عاشق اور اللہ تعالیٰ کا معشوق بن جاتا ہے۔‘‘(عقلِ بیدار) 
ایک موقع پر فرماتے ہیں :
جس کسی کے وجود میں اسمِ محمد کا نور ( تصور اسمِ محمد سے ) داخل ہو جائے اس شخص کا ہر کا م نورِ محمد سے ہوتا ہے۔ ( عقلِ بیدار )
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب لرحمن مدظلہ الاقدس ہر سال عیدمیلا دالنبیؐ کے با برکت موقع پران تمام طالبانِ مولیٰ کو اسم x عطا فرماتے ہیں جن پر اسمِ اللہ ذات کی حقیقت کھل چکی ہو اور روحانی ترقی کے مدارج طے کر چکے ہوں۔ رواں سال آپ مدظلہ الاقدس 21مارچ کو میلاد مصطفیؐ کے بابرکت دن بھی اسمِ محمد کا فیض طالبانِ مولیٰ میں تقسیم فرمائیں گے۔ 
اسمِ اللہ ذات اور اسمِ محمد کے فیض کے ساتھ ساتھ آپ مدظلہ الاقدس نے ہر خاص و عام کو قوتِ وھم اور علمِ دعوت سے بھی نوازا۔ گزشتہ ادوار میں یہ روحانی علوم بھی خاص الخاص چنے ہوئے اولیا اللہ تک محدود تھے۔ طالبانِ مولیٰ کے لیے ان علوم کو کھول دینا یقیناًآپ مدظلہ الاقدس کے مجلسِ محمدیؐ، بارگاہِ سیّدنا غوث الا عظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ اور بارگاہ حضرت سخی سلطان باھوؒ میں مرتبہ محبوبیت اور اعلیٰ روحانی مراتب کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اپنی بارگاہ کا فیض تمام امتِ مسلمہ کے لیے بغیر فرقہ و جماعت کی تفریق کے سب کے لیے کھول دیا ہے۔ ہر مسلمان کو خواہ وہ دنیا میں کہیں بھی ہو‘ عام دعوت ہے کہ وہ آپ مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں نیک نیت اور طلب لے کر آئے اور دین و دنیا کی فلاح پائے ۔
استفادہ کتب :
رسالہ روحی شریف تصنیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ 
کلید التوحید کلاں ایضاً
عقلِ بیدار ایضاً
نور الہدیٰ خورد ایضاً
محک الفقر کلاں ایضاً
عین الفقر ایضاً
شمس الفقرا تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
مجتبیٰ آخرزمانی ایضاً
سلطان باھو ؒ ایضاً
فقر اقبال ؒ ایضاً
سلطان العاشقین مطبوعہ سلطان الفقر پبلیکیشنز