رمضان اور تقویٰ | Ramzan aur Taqwa

رمضان اور تقویٰ

روزہ اسلام کا تیسرا بنیادی رکن ہے ۔ ہجرت کے دوسرے سال 10 شعبان کو روزے فرض کر دیئے گئے۔ رمضان رمض سے مشتق ہے ۔ رمض کے معنی جلانا ہے ۔ لُغت میں رمض کے معنی صیام کے ہیں اور صیام سے مراد رک جانا یا ترک کر دینا ہے ۔شریعت میں اس سے مراد اللہ کی رضا مندی اور خوشنودی کے لیے نفس کی خواہشات کو چھوڑ دینا ہے۔ یہ وہ با برکت مہینہ ہے جس میں ہر نیکی کا ثواب ستر(70) گنا بڑھ جاتا ہے ۔

نیت: کسی بھی کام کو شروع کرنے سے پہلے اُس کی نیت پر غور کیا جاتا ہے دیگر عبادات کی طرح روزے کی نیت کرنا بھی ضروری ہے ۔ 

حدیث شریف میں ہے کہ عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔ اگر ایک انسان نیت کے بغیر روزہ رکھے تو ا س کا روزہ نہیں ہو گا ۔ اور اگر ایک انسان نے رات کو روزہ رکھنے کی نیت کی اورصبح اس کا ارادہ روزہ نہ رکھنے کا ہو گیا تو اس کی نیت ختم ہو گئی۔ لہٰذا دوبارہ نیت کرنی ہو گی۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ اگر ایک انسان نے روزہ کے دوران روزہ توڑنے کی نیت کر لی اور پھر نہ توڑا تو اُس کا روزہ برقرار رہے گا۔ اس نیت کا اس کے روزے پر اثر نہیں پڑتا ۔

حضرت حفصہؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص صبح صادق سے پہلے روزے کی نیت نہیں کرتا اس کا روزہ نہیں ہے۔‘‘

بھول چوک کر کھانے، عمداً قے نہ کرنے یا خود بخود قے ہو جانے سے روزہ باطل نہ ہو گا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’ترجمہ:تمہارے لیے روزوں کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پا س جانا حلال کر دیا گیا ہے ۔ وہ تمہارا لباس ہیں اور تم اُن کا لباس ہو ۔ اللہ کو معلوم ہے کہ تم اپنے حق میں خیانت کرتے ہو ۔ اُس نے تمہارے حال پر رحم کیا اور تمہیں معاف فرمادیا۔‘‘ (البقرہ۔ 187)

روزے کی چھوٹ:مسافر اور بیمار لوگوں کے لیے روزہ قضا کرنے کی اجازت ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’یہ گنتی کے چنددن ہیں، پس اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرلے۔ اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو اُن کے ذمہ ایک مسکین کے کھانے کا بدلہ ہے۔ اور جو کوئی اپنی خوشی سے زیادہ نیکی کرے تو وہ اس کے لیے بہتر ہے۔‘‘ (البقرہ184-)

 حضرت امام غزالی ؒ فرماتے ہیں ’’روزہ تین درجات میں منقسم ہے۔

1 ۔ عوام کا روزہ  ۔  2۔ خواص کا روزہ ۔ 3 ۔ خاص الخواص کا روزہ 

عوام کا روزہ جیسا کہ بیان کیا گیا ہے اس کی غایت کھانے پینے اور جماع کرنے سے پرہیز کرنا ہے اور یہ سب سے ادنیٰ درجہ ہے۔ لیکن خواص الخواص کا روزہ بلند ترین درجہ رکھتا ہے اور اپنے دل کوماسویٰ اللہ تعالیٰ کے تمام اشیا سے خالی کرنا ہے اور اپنے آپ کو مکمل طور پر اس کے حوالے کرنا ہے۔ اس سے مراد ظاہری و باطنی طریق پر روزہ رکھنا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سوا دوسری باتوں سے تعلق رکھتا ہے تو اس کا روزہ کھل جاتا ہے اور اگرچہ دنیاوی اغراض میں غور کرنا مباح ہے لیکن یہ روزہ اس سے ٹوٹ جاتا ہے مگر جو (غور و فکر) دین کی راہ میں مددگار ہو وہ دنیا میں داخل نہیں۔ حتیٰ کہ علما نے کہا ہے کہ آدمی دن کو اگر افطاری کی تدبیر کرے تو اس کے نام پر گناہ لکھ دئیے جاتے ہیں کیونکہ یہ امر اس بات کی دلیل ہے کہ رزق کے بارے میں جو حق تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے اس شخص کو اس کا یقین نہیں۔ یہ مرتبہ انبیا اور صدیقوں کا ہے۔ ہر ایک اس مرتبہ کو نہیں پہنچتا۔ 

خواص کا روزہ یہ ہے کہ آدمی فقط کھانا، پینا، جماع کرنا نہ چھوڑ دے بلکہ اپنے تمام جوارح۱؎ کو حرکاتِ ناشائستہ سے بچائے اور یہ روزہ چھ چیزوں سے پورا ہوتا ہے۔ ایک تو یہ کہ آنکھ کو ایسی چیزوں سے بچائے جو خدا کی طرف سے دل کو پھیرتی ہیں۔ خصوصاً ایسی چیز کی طرف نظر نہ کرے جس سے شہوت پیدا ہوتی ہے کیوں کہ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے کہ نظر ابلیس کے تیروں میںسے زہر میں بجھا ہوا ایک تیر ہے۔ جو شخص خوفِ خدا کے تحت اس سے بچے گا اللہ تعالیٰ اسے ایمان کی ایسی خلعت عطا فرمائے گا جس کی حلاوت وہ اپنے دل میں پائے گا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ جناب سرورِ کائنات علیہ الصلوٰۃ و التسلیمات نے فرمایا ہے کہ پانچ چیزیں روزہ کو توڑ ڈالتی ہیں۔ ۱۔ جھوٹ۔ ۲۔ غیبت۔ ۳۔نکتہ چینی۔ ۴۔ جھوٹی قسم کھانا۔ ۵۔ شہوت سے کسی کی طرف نظر کرنا۔ دوسری چیز جس سے روزہ پورا ہوتا ہے، یہ ہے کہ بے ہودہ گوئی اور بے فائدہ بات سے زبان کو بچائے۔ ذکرِ الٰہی یا تلاوتِ قرآنِ پاک میں مشغول رہے یا خاموش رہے۔ بحث اور جھگڑا بیہودہ گوئی میں داخل ہے‘ لیکن غیبت اور جھوٹ بعض علما کے مذہب میں روزۂ عوام کو بھی باطل کرتا ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں دو عورتوں نے روزہ رکھا اور پیاس کے مارے ہلاکت کے قریب ہو گئیں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے روزہ توڑنے کی اجازت چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک پیالہ ان کے پاس بھیجا کہ اس میں قے کریں، دونوں کے حلق سے خون کے ٹکڑے نکلے۔ لوگ اس ماجرے سے حیران ہوئے۔ حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ان دونوں عورتوں نے ان چیزوں سے جو خدا نے حلال کی ہیں، روزہ رکھا اور جو اس نے حرام کی ہیں اس سے توڑ ڈالا، یعنی کسی کی غیبت کی ہے اور یہ خون آدمیوں کا گوشت ہے جو انہوں نے کھایا۔ تیسرے یہ کہ کان سے بُری بات نہ سنے کیونکہ جو بات کہنی نہ چاہیے وہ سننی بھی نہ چاہیے۔ غیبت اور جھوٹ کا سننے والا بھی کہنے والے کے گناہ میں شریک ہے۔ چوتھے یہ کہ ہاتھ پائوں وغیرہ اعضا کو ناشائستہ حرکتوں سے بچائے۔ جو روزہ دار ایسے بُرے کام کرتا ہے‘ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی بیمار ہونے سے تو پرہیز کرے لیکن زہر کھائے کیونکہ گناہ زہر ہے اور طعام غذا ہے‘ مگر زیادہ کھانے میں نقصان ہے۔ ہاں اصل غذا مضر نہیں اسی لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں بھوک اور پیاس کے سوا روزہ سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ پانچویں یہ کہ افطار کے وقت حرام اور مشتبہ چیز نہ کھائے۔ نیز حلال خالص بھی بہت نہ کھائے اس لیے کہ دن کا حصہ بھی جب رات کو کھا لے گا تو کیا فائدہ۔ روزے سے مقصود تو خواہشات کا توڑنا ہے اور دوبار کا کھانا ایک ہی بار کھا لینا خواہش میں اضافہ کرتا ہے، خصوصاً جب طرح طرح کا کھانا ہو۔ جب تک معدہ خالی نہ رہے گا دل صاف نہ ہوگا۔ بلکہ سنت یہ ہے کہ دن میں زیادہ نہ سوئے، جاگتا رہے تاکہ بھوک اور ضعف کا اثر محسوس کرے۔ جب رات کو تھوڑا کھانا کھا کر جلدی سو جائے گا توتہجد کی نماز پڑھ سکے گا۔ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک کوئی بھرا ہوا برتن معدہ سے بدتر نہیں ہے۔ چھٹے یہ کہ افطار کے بعد اس کا دل اس خیال میں رہے کہ نہ معلوم روزہ قبول ہوا یا نہیں۔(کیمیائے سعادت)

 

رمضان المبارک کے فضائل:

1۔ رمضان مبارک کا ایک روزہ سال بھر کے بقیہ دنوں کے مسلسل روزوں سے زیادہ ثواب رکھتا ہے۔

2۔ رمضان شریف میں ہر فرض عبادت کا ثواب 70 گنا ہو جاتا ہے۔ ہر نفل عبادت اور اعتکاف و ذکر اور ہر نیک کام کا ثواب 70 گنا ہو کر فرض کے برابر ہو جاتا ہے ۔ 

3۔ قرآنِ مجید کے ہر حرف پر 10 نیکیاں ہیں جو رمضان میں  700 گنا ہو جاتی ہیں ۔

4۔ ہر ادنیٰ سے ادنیٰ نیک کام کا ثواب 70 گنا زیادہ ہو جاتا ہے خواہ راستے کا کانٹا اُٹھانا ہی ہو۔ نیکی کی ترغیب دینے پر اتنا ہی ثواب ہے جتنا کرنے والے کو ہے ۔ اس لیے ہر وقت نیک کا م کی ترغیب دی جائے تاکہ اس کے برابر ثواب ملتا جائے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔‘‘ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ عبادات تو ساری اللہ کے لیے ہیںاور تمام عبادات کا اجر اللہ تعالیٰ ہی عطاکرنے والا ہے لیکن روزے کے لیے یہ تخصیص کیوں فرمائی گئی ہے؟ اس کا جواب مفتی احمد ریان خان ؒ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کی دو وجوہا ت ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ دیگر عبادات میں ریا کا احتمال ہے ۔ روزے میں ریا کی گنجائش نہیں کیونکہ اکیلے میں انسان کھا پی سکتا ہے مگر صرف رضائے الٰہی کے لیے حکم عدولی نہیں کرتا اور دوسرے یہ کہ قیامت کے روز ظالم سے اس کی دیگر عبادات اور نیکیاں چھین کر مظلوم کو دے دی جائیں گی۔ مگر روزہ کسی کو نہیں دیا جائے گا ۔ حکم ِ خدا ہو گا کہ یہ تو میری چیز ہے کسی کو نہیں دی جائے گی۔ 

تقویٰ 

یٰٓاَیُّھَا الَّذِْیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ( البقرہ ۔183)

ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جائو۔

اس آیت سے ثابت ہو ا کہ روزوں کی فرضیت کا مقصد مسلمانوں کو صاحب ِ تقویٰ بنانا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے تم میں سے بہتر وہ ہے جو متقی یعنی تقویٰ والا ہے ۔ 

تقویٰ کیا ہے؟ اس کے لفظی معنی تو پرہیز گاری کے ہیں۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے تقویٰ کے بارے میں پوچھا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی اُنگلی مبارک سے دل کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ’’تقویٰ یہاں ہوتا ہے۔‘‘ تقویٰ اصل میں قلب کا اللہ تعالیٰ کے قریب ہوناہے ۔ جس قدر ایک انسان متقی ہو گا اسی قدر وہ اللہ کے قریب ہو گا ۔ دوسرے الفاظ میں تقویٰ قربِ الٰہی کا نام ہے ۔ 

سورۃ البقرہ آیت نمبر 2 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ: یہ قرآن وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ۔ یہ کتاب تقویٰ والوں کو راہ دکھاتی ہے ۔ 

جب تک ایک انسان تقویٰ حاصل نہیں کر لیتا تب تک اُس کو قرآنِ مجید بھی سمجھ میں نہیں آتا ۔ 

سورۃ الحجرات آیت نمبر 13 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ: بے شک تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ ہے جو متقی ہو ۔ 

تقویٰ ایک باطنی کیفیت ہے جس کو کسی پیمانے سے تولنا ممکن نہیں۔ یہ اللہ اور اُس کے بندے کا معاملہ ہے۔ 

در حقیقت اولادِ آدم کا سب سے بڑا مُہلک مرض لذتِ د ہن یعنی کھانے پینے کی لذت ہے۔ یہی حضرت آدمؑ کو جنت سے نکلوانے کا باعث بنا ۔ اسی مرض کی بنا پر من و سلویٰ جیسی نعمت کا انکار ہوا کہ ہم ایک جیسا کھانا کھا کر تنگ آ گئے ہیں ۔

 حضرت علی ؓ نے فرمایا : ’’آدمی کا دشمن اُس کا اپنا پیٹ ہے۔‘‘

 حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:

’’جس وقت پیٹ خالی ہوتا ہے اُس وقت مکمل معراج نصیب ہوتی ہے ۔‘‘

سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 35  میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: اے ایمان والو! تقویٰ اختیار کرو اور اللہ کی طرف وسیلہ پکڑو ۔

اس آیت میں تقویٰ اختیار کرنے اور اس کے لیے وسیلہ تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ وسیلہ کے لغوی معنی ایسا ذریعہ ہے جو آپ کو منزلِ مقصود تک پہنچا دے اور اُس وقت تک مدد گار ثابت ہو کہ حاجت مند کی حاجت باقی نہ رہے ۔ اصطلاحِ تصوف میں وسیلہ وہ ولی ٔ کامل ہے جو اللہ کے زیادہ نزدیک اور محبوب ہو۔ اور بحیثیت مرشد کامل اپنے طالبوں کو اللہ کے قرب سے نواز کر تقویٰ کی منزل پر پہنچا دے۔ یعنی تقویٰ جو روزوں کی فرضیت کا مقصد ہے‘ کے حصول کے لیے مرشد کامل کی پیروی انتہائی ضروری ہے۔ وہی ہے جو طالب کو ظاہر کے ساتھ ساتھ باطنی و روحانی روزہ کی ترغیب دیتا ہے اور اس کے لائق بناتا ہے اور طالب کے روزے کو عوام کے روزے سے خواص الخاص کا روزہ بناتا ہے۔ 

 

روزۂ شریعت ، طریقت اور حقیقت:

سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں :

روزہ شریعت یہ ہے کہ انسان دن کو کھانے پینے اور جماع کرنے سے باز رہے اور روزہ طریقت یہ ہے کہ انسان ظاہر و باطن میں رات دن اپنے تمام اعضا کو شریعت میں حرام اور ممنوعہ چیزوں اور تمام بُرائیوں مثلاً تکبر‘ غرور‘ حسد، لالچ ، کینہ‘ بغض‘ خودپسندی اور عُجب وغیرہ سے باز رکھے۔ اگر وہ مذکورہ بالا بُرائیوں میں سے کسی ایک کا بھی ارتکاب کرے گا‘ تو اس کا روزہ طریقت باطل ہو جائے گا۔ روزہ شریعت کا ایک وقت مقرر ہے لیکن روزہ طریقت عمر بھر کا دائمی روزہ ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے ’’بہت سے روزے دار ایسے ہیں جنہیں روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ کتنے ہی روزے دار ہیں جو افطار کرنے والے ہیں اور کتنے ہی افطار کرنے والے ہیں جو (افطاری کے باوجود) روزے سے ہوتے ہیں‘ یعنی وہ اپنے اعضا کو مناہی (شریعت میں ممنوعہ باتوں) اور لوگوں کو دکھ دینے سے باز رہتے ہیں۔ چنانچہ حدیث ِ قدسی میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا ہوں۔‘‘ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے’’روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ایک افطار کی خوشی اور دوسری روئیت (دیدار) کی خوشی‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور کرم سے ہمیں بھی یہ خوشیاں عطا فرمائے۔ اہل ِ شریعت نے یہاں افطار سے مراد ’’غروبِ آفتاب کے وقت کھانا پینا‘‘ لیا ہے اور روئیت سے مراد ’’ہلالِ عید دیکھنا لیا ہے‘‘ لیکن اہل ِ طریقت فرماتے ہیں کہ افطار سے مراد ’’جنت میں داخل ہونا اور اس کی نعمتیں کھا کر روزہ طریقت افطار کرنا‘‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اور آپ کو بھی یہ نصیب فرمائے اور روئیت سے مراد ’’چشمِ سِرّ (نورِ بصیرت) سے دیدار الٰہی سے مشرف ہونا‘‘ ہے۔

ایک روزہ حقیقت ہے اور اس سے مراد فواد (دِل) کو طلب ِ ماسویٰ اللہ سے پاک کرنا اور سِرّ کو مشاہدئہ غیر اللہ کی محبت سے پاک رکھنا ہے۔ چنانچہ حدیث ِقدسی میں فرمانِ حق تعالیٰ ہے ’’انسان میرا  سِرّ (بھید) ہے اور میں انسان کا سِرّ ہوں۔ سِرّ اللہ تعالیٰ کے نور سے ہے اس لیے اس کا میلان غیر اللہ کی طرف ہرگز نہیں ہوتا۔ اس کا دنیا اور آخرت میں سوائے ذاتِ حق تعالیٰ کے کوئی محبوب و مرغوب و مطلوب نہیں۔ اگر وہ غیر اللہ کی محبت میں مبتلا ہو جائے تو روزہ حقیقت فاسد ہو جاتا ہے۔ اس کی قضا یہ ہے کہ دنیا و آخرت میں غیر اللہ کی محبت سے تائب ہو کر دوبارہ حق سبحانہٗ و تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اسی کی محبت ولقا (دیدار) میں غرق ہو جائے جیسا کہ حدیث ِقدسی میں فرمانِ حق تعالیٰ ہے: ’’روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا ہوں۔‘‘ (سِرّ الاسرار)

اعتکاف :

رمضان کے آخری عشر ہ میں اعتکاف کا حکم ہے ۔ اعتکاف اللہ کی خاص عبادت ہے۔ ایک مسلمان اپنی دنیا کی مصروفیات، رشتے داریاں، نوکری، گھر بار اور آرام کو اللہ کی رضا اور قرب کی خاطر چھوڑ دیتا ہے۔ اعتکاف صرف رمضان کے آخری دس یا تین دنوں میں کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کا مقصد وقتی طور پر تمام دنیاوی محبتوں اور ضرویات سے علیحدہ ہو کر اللہ کی عبادت کرنا نہیں ہے بلکہ حقیقی طور پر پوری زندگی پر لاگو کرنا ہے۔ تب ہی اس کا اصل مقصد حاصل ہوگا۔ اس تربیت کو رمضان کے بعد اس طرح عمل میں لانا چاہیے کہ ظاہر میں تو انسان سب رشتوں کو اچھی طرح نبھائے، نوکری اور کاروبار بھی کرے، اللہ کی دی ہوئی نعمتوں اور آسائشات کو بھی استعمال کرے۔ بس انسان کا دِل اللہ کی طرف مائل ہے۔ ہر عمل اس کی محبت میں اس کی رضا کی خاطر کرے اور دل کو دنیا کی طرف متوجہ نہ ہونے دے۔

اعتکاف میں ظاہری طور پرسب سے علیحدہ ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ ایک علامتی ترک ہے۔ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے ۔ وہ اس ترک کے ساتھ پوری زندگی نہیں گزار سکتا ۔ جس طرح کے ترک کا اللہ تقاضا کرتاہے وہ باطنی ترک ہے ۔ اللہ کے سوا دل میں کوئی اور طلب نہ ہو۔ اللہ کی محبت تمام محبتوں پر غالب ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بار پھر ہمیں رمضان کی برکتوں اور نعمتوں سے مستفید ہو نے کا موقع دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم رمضا ن کو صرف بھوک پیا س تک نہ رکھیں بلکہ اس سے اپنی خواہشاتِ نفس کو قابو میں لانا سیکھیں ۔ تاکہ ہم اپنا تعلق اللہ پاک سے گہرا کر سکیں۔ جس کے لیے ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھیجا ہے۔ ( آمین)

شب قدر: 

یہی وہ متبرک رات ہے جس میں عبادت کرنا ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں اسی کو تلاش کرنے کا حکم ہے۔ بخاری شریف میں حدیث ہے ’’ترجمہ:تلاش کرو شب ِ قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں۔‘‘ مزید حدیث شریف ہے کہ جس نے قیام کیا شب ِ قدر میں اس کے پہلے گناہ معاف ہوئے۔ حدیث شریف میں ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ شب ِ قدر میں اُمت ِ محمدیہ کے مومنین پرنظر ڈالتا ہے۔ اُن کو معافی دیتا ہے ۔ ان کے اوپر رحم فرما تا ہے ۔ سوائے چار شخصوں کے ۔ ایک شرابی، دوسرا ماں باپ کا نافرمان ، تیسراکینہ پرور اور چوتھا قطع رحمی کرنے والا یعنی عزیزو اقارب سے تعلق توڑنے والا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ القدر کے ذریعہ یہ رات اُمت ِ محمدیہ کو عطا فرمائی ۔ 

سورۃ القدر میںارشادِ باری تعالیٰ ہے:

 1۔ بے شک ہم نے اس (قرآن) شریف کو شب ِ قدر میں اُتارا ۔

 2 ۔اور آپ کیا سمجھتے ہیں کہ شب ِ قدر کیا ہے۔

3۔ شب ِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ 

4 ۔ اس رات میں فرشتے اور رُوح الامین اپنے ربّ کے حکم سے ہر امر کیساتھ اترتے ہیں ۔

5۔ یہ (رات) طلوعِ فجر تک (سراسر) سلامتی ہے۔

ماہِ رمضان المبارک کی دعائیں 

پہلا عشرہ رحمت اور اُس کی دُعا ۔

رَبَّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِیْنَ

ترجمہ: پاک پروردگار ِ عالم مجھ پر بخشش او ر رحم فرما ۔ الٰہی تو نہایت ہی رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا عشرہ بخشش اور اُس کی دُعا
اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبِم وَّاُ تُوْبُ اَلَیْہِ

ترجمہ: میں بخشش کی التجا کرتا ہوں اپنے کل گناہوں کی اللہ کریم سے‘ جو میرا خالق و مالک ہے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

تیسرا عشرہ عذابِ دوزخ سے نجات اوراُس کی دعا

اَللّٰہُمَ اِنَّکَ عَُفوٌّ تُحِبُّ الْعَفَوَ فَاعْفُ عَنِّیْ

ترجمہ: یا ربّ العزت! تُو در گزر فرمانے والا ہے معافی کو پسند فرمانے والا ہے۔ میری خطائیں معاف فرما ۔

استفادہ کتب:

سرّ الاسرار۔ تصنیف لطیف سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ

کیمیائے سعادت۔ تصنیف لطیف ابوحامد امام غزالیؒ