فضائل سیّدہ کائنات فاطمتہؓ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ |Fazail Hazrat Fatima and Hazrat Ali

فضائل خاتونِ جنت سیّدہ کائنات فاطمتہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا فضائل حضرت علی کرم اللہ وجہہ

فضائل خاتونِ جنت سیّدہ کائنات فاطمتہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا

حضرت مسور بن مخرمہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’فاطمہؓ میرے جسم کا ٹکڑا ہے‘ پس جس نے اسے ناراض کیا اُس نے مجھے ناراض کیا۔ ‘‘(متفق علیہ)

حضرت مسور بن مخرمہؓ روایت فرماتے ہیں ’’ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: بے شک فاطمہؓ میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور مجھے ہرگز یہ پسند نہیں کہ کوئی شخص اسے تکلیف پہنچائے اللہ رب العزت کی قسم! کسی شخص کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اللہ تعالیٰ کے دشمن کی بیٹیاں جمع نہیں ہو سکتیں۔‘‘ (متفق علیہ)

حضرت مسور بن مخرمہؓ نے روایت فرمایا’’ اُنہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کو منبر پر فرماتے سنا: بنی ہشام بن مغیرہ نے اپنی بیٹی کا حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے رشتہ کرنے کی مجھ سے اجازت مانگی ہے۔ میں انہیں اجازت نہیں دیتا دوبارہ میں انہیں اجازت نہیں دیتا‘ سہ بارہ میں انہیں اجازت نہیں دیتا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے یہ بھی فرمایا: میری بیٹی میرے جسم کا حصہ ہے‘ اُس کی پریشانی مجھے پریشان کرتی ہے اور اُس کی تکلیف مجھے تکلیف دیتی ہے۔‘‘ (مسلم۔ ترمذی۔ ابو دائود۔ ابن ِ ماجہ)

حضرت مسور بن مخرمہؓ سے روایت ہے ’’ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: فاطمہ (رضی اللہ عنہا)تو بس میرے جسم کا ٹکڑا ہے‘ اسے تکلیف دینے والی چیز مجھے تکلیف دیتی ہے۔‘‘ (مسلم۔ نسائی)

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہٗ بیان فرماتے ہیں ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: فاطمہ(رضی اللہ عنہا) میری جگر گوشہ ہے‘ اسے تکلیف دینے والی چیز مجھے تکلیف دیتی ہے اور اسے مشقت میں ڈالنے والا مجھے مشقت میں ڈالتا ہے۔‘‘ (ترمذی۔ احمد)

حضرت علیؓ سے روایت ہے ’’ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری ناراضگی پر ناراض ہوتا ہے اور تمہاری رضا پر راضی ہوتا ہے۔‘‘ (حاکم۔ طبرانی)

حضرت مسور بن مخرمہؓ سے مروی ہے’’ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: بے شک فاطمہ(رضی اللہ عنہا) میری شاخ ہے جس چیز سے اسے خوشی ہوتی ہے اس چیز سے مجھے بھی خوشی ہوتی ہے اور جس سے اُسے تکلیف پہنچتی ہے اس چیز سے مجھے بھی تکلیف پہنچتی ہے۔‘‘ (امام احمد۔ حاکم)

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے اپنے مرضِ وصال میں اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا پھر ان سے کچھ سرگوشی فرمائی تو وہ رونے لگیں پھر انہیں قریب بلا کر سرگوشی کی تو وہ ہنس پڑیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس بارے میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو اُنہوں نے بتایا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے میرے کان میں فرمایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کا اسی مرض میں وصال ہو جائے گا۔ پس میں رونے لگی‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے سرگوشی کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے اہل ِ بیت ؓمیں سب سے پہلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  سے ملوں گی اس پر میں ہنس پڑی۔‘‘ (متفق علیہ)

حضرت جمیع بن عمیر تیمی بیان فرماتے ہیں ’’ میں اپنی پھوپھی کے ہمراہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کو کون زیادہ محبوب تھا؟ اُم المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: فاطمہ رضی اللہ عنہا۔ عرض کیا گیا: مردوں میں سے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اُن کے شوہر‘ جہاں تک میں جانتی ہوں وہ بہت زیادہ روزے رکھنے والے اور راتوں کو عبادت کے لیے بہت قیام کرنے والے تھے۔‘‘ (ترمذی۔ حاکم)

حضرت ابن ِ بریدہؓ اپنے والد محترم سے روایت فرماتے ہیں ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کو عورتوں میں سب سے زیادہ محبت حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے تھی اور مردوں میں حضرت علی المرتضیٰؓ سب سے زیادہ محبوب تھے۔‘‘ (ترمذی۔ نسائی۔ حاکم)

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے غلام حضرت ثوبانؓنے فرمایا ’’ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنے اہل و عیال میں سے سب سے آخر میں جس شخص سے گفتگو فرما کر سفر پر روانہ ہوتے وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہوتیں اور سفر سے واپسی پر سب سے پہلے جس ہستی کے پاس تشریف لاتے وہ بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہوتیں۔‘‘ (امام ابو دائود۔ احمد)

حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے ’’ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کی طرف نظر ِالتفات کی اور فرمایا: جو تم سے لڑے گا میں اس سے لڑوں گا‘ جو تم سے صلح کرے گا میں اُس سے صلح کروں گا ۔‘‘ (امام احمد۔ حاکم)

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں ’’جب سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوتیں تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  سیّدہ رضی اللہ عنہا کو خوش آمدید کہتے‘ کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرتے‘ ان کا ہاتھ پکڑ کر بوسہ دیتے اور انہیں اپنی نشست پر بٹھا لیتے۔‘‘ (امام حاکم،نسائی)

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ’’سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کھڑے ہو کر ان کا استقبال فرماتے‘ انہیں بوسہ دیتے‘ خوش آمدید کہتے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنی نشست پر بٹھا لیتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رونق افروز ہوتے تو سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے استقبال کے لیے کھڑی ہو جاتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے دست ِ اقدس کو بوسہ دیتیں۔‘‘ (امام حاکم)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے ’’ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنے اہل و عیال میں سے سب سے آخر میں جس شخص سے گفتگو کر کے سفر پر روانہ ہوتے وہ سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہوتیں اور سفر سے واپسی پر سب سے پہلے جس شخصیت کے پاس تشریف لاتے وہ بھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہی ہوتیں اور یہ کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرماتے:میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں۔‘‘ (امام حاکم۔ ابن ِحبان)

حضرت ابو ہریرہصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم روایت فرماتے ہیں ’’ حضرت علیؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو میرے اور سیّدہ فاطمہ(رضی اللہ عنہا) میں سے کون زیادہ محبوب ہے؟ آپؓ  نے فرمایا: فاطمہؓ مجھے تم سے زیادہ پیاری ہے اور تم میرے نزدیک اس سے زیادہ عزیز ہو۔‘‘ (طبرانی)

اُم المو منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ’’اے فاطمہ(رضی اللہ عنہا)! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم مسلمان عورتوں کی سردار ہو یا میری اِس اُمت کی سب عورتوں کی سردار ہو۔‘‘ ( متفق علیہ )

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ’’حضرت فاطمۃ الزہرارضی اللہ عنہا تشریف لائیں اور ان کا چلنا ہو بہو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے چلنے جیسا تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے اپنی لخت ِ جگر کو خوش آمدید کہا اور اپنے دائیں یا بائیں جانب بٹھا لیا‘ پھر چپکے سے ان سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں۔ تو میں نے ان سے پوچھا آپ کیوں رو رہی ہیں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے اُن سے کوئی بات چپکے سے کہی تو وہ ہنس پڑیں۔ پس میں نے کہا کہ آج کی طرح میں نے خوشی کو غم کے اتنے نزدیک کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے ان سے پوچھا: آپ سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے راز کو ظاہر نہیں کر سکتی۔ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کا وصال ہوگیا تو میں نے ان سے  پھر پوچھا تو اُنہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے مجھ سے یہ سرگوشی کی تھی کہ جبرائیل علیہ السلام ہر سال میرے ساتھ قرآن مجید کا ایک بار دَور کیا کرتے تھے لیکن اس سال دو مرتبہ دَور کیا ہے‘ میرا خیال یہی ہے کہ میرا آخری وقت آپہنچا ہے اور بے شک میرے گھر والوں میں سے تم ہو جو سب سے پہلے مجھ سے آملو گی۔ اس بات نے مجھے رلا دیا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم تمام جنتی عورتوں کی سردار ہو یا تمام مسلمان عورتوں کی سردار ہو! تو اس بات پر میں ہنس پڑی۔‘‘ (متفق علیہ)

حضرت حذیفہؓبیان فرماتے ہیں ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ایک فرشتہ جو اس رات سے پہلے کبھی زمین پر نہ اُترا تھا‘ اُس نے اپنے پروردگار سے اجازت مانگی کہ مجھے سلام کرنے حاضر ہو اور مجھے یہ خوشخبری دے کہ فاطمہ (رضی اللہ عنہا) اہل ِ جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہے اورحسن و حسین رضی اللہ عنہم جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔‘‘ (ترمذی۔ نسائی۔ احمد)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور فرمایا: تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟‘‘ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا:’’ اللہ تعالیٰ اور اُس کا رسولصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بہتر جانتے ہیں‘‘ پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا’’اہل ِ جنت کی عورتوں میں سے افضل ترین  ہیں: خدیجہؓ بنت ِ خویلد‘ فاطمہؓ بنت ِمحمد‘ فرعون کی بیوی آسیہ بنت ِ مزاحم اور مریم بنت ِ عمران۔‘‘ (امام احمد۔ نسائی)

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: اے فاطمہ(رضی اللہ عنہا)! کیا تم نہیں چاہتیں کہ تم تمام جہانوں کی عورتوں‘ میری اس اُمت کی تمام عورتوں کی اور مومنین کی تمام عورتوں کی سردار ہو!‘‘ (نسائی۔ حاکم)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: آسمان کے ایک فرشتے نے میری زیارت نہیں کی تھی‘ پس اُس نے اللہ تعالیٰ سے میری زیارت کی اجازت لی اور اُس نے مجھے خوشخبری سنائی کہ فاطمہ(رضی اللہ عنہا) میری اُمت کی تمام عورتوں کی سردار ہے۔‘‘ (بخاری۔ طبرانی)

حضرت بریدہؓ سے روایت ہے ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی کی رات حضرت علیؓ سے فرمایا: مجھے ملے بغیر کوئی عمل نہ کرنا پھر آپؓ  نے پانی منگوایا‘ اس سے وضو کیا پھر حضرت علیؓ پر پانی ڈال کر فرمایا: اے اللہ! ان دونوں کے حق میں اور ان دونوں پر برکت نازل فرما اور ان دونوں کے لیے ان کی اولاد میں برکت عطا فرما۔‘‘ (نسائی۔ طبرانی)

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ روایت فرماتے ہیں ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح علی کرم اللہ وجہہ سے کر دوں۔‘‘ (طبرانی)

حضرت علی ؓروایت فرماتے ہیں ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: میں‘ تم اور یہ دونوں (حسنؓ و حسینؓ) اور یہ سونے والا (حضرت علی ؓاس وقت سو کر اُٹھے تھے) روزِ قیامت ایک ہی جگہ ہوں گے۔‘‘ (امام احمد۔ امام بزاز)

حضرت علیؓ بیان فرماتے ہیں ’’میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن ایک آواز دینے والا پرد ے کے پیچھے سے آواز دے گا: اے اہل ِ محشر! اپنی نگاہیں جھکا لو تاکہ فاطمہ بنت ِ محمد گزر جائیں۔‘‘ (امام حاکم۔ خطیب بغدادی)

حضرت ابوہریرہؓ روایت فرماتے ہیں ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: انبیا کرام قیامت کے دن سواری کے جانوروں پر سوار ہو کر اپنی اپنی قوم کے مسلمانوں کے ساتھ میدانِ محشر میں تشریف لائیں گے اور حضرت صالح علیہ السلام اپنی اونٹنی پر لائے جائیں گے اور مجھے براق پر لایا جائے گا‘ جس کا قدم اُس کے منتہائے نگاہ پر پڑے گا اور میرے آگے آگے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہوں گی۔‘‘ (امام حاکم )

حضرت علیؓ سے روایت ہے ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: قیامت کے دن مجھے براق پر اور سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو میری سواری عضباء پر بٹھایا جائے گا۔‘‘ (امام ابن عساکر)

حضرت علیؓ بیان فرماتے ہیں ’’ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے مجھے بتایا:  سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والوں میں‘ میں (یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ)‘ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم ہوں گے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! ہم سے محبت کرنے والے کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: تمہارے پیچھے ہوں گے۔‘‘ (امام حاکم۔ ابن ِ عساکر)

حضرت علیؓ سے روایت ہے ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: میں‘ علی ؓ، فاطمہ ؓ، حسن ؓو حسین ؓاور ہم سے محبت کرنے والے سب روزِ قیامت ایک ہی جگہ اکٹھے ہوں گے۔ قیامت کے دن ہمارا کھانا پینا بھی اکٹھا ہوگا‘ یہاں تک کہ لوگوں میں فیصلے کر دیئے جائیں گے۔‘‘ (طبرانی)

حضرت مسروقؓ روایت فرماتے ہیں ’’ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کی ازواجِ مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس جمع تھیں اور کوئی ایک بھی ہم میں سے غیر حاضر نہ تھی‘ اتنے میں سیّد ہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا وہاں تشریف لے آئیں‘ تو اللہ کی قسم! اُن کا چلنا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے چلنے سے ذرہ بھر مختلف نہ تھا۔‘‘ (متفق علیہ)

  ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں ’’میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کی صاحبزادی سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو عادات و اطوار‘ سیرت و کردار اور نشست و برخاست میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  سے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا۔‘‘ (امام ترمذی۔ ابودائود)

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ’’میں نے اندازِ گفتگو میں حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی اور کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  سے اس قدر مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا۔‘‘ (بخاری۔ نسائی۔ ابن ِ حبان)

حضرت انس بن مالکؓ بیان فرماتے ہیں ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے خصوصی دعا فرمائی: اے اللہ! میں اس (سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا) اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔‘‘  (امام ابن ِحبان‘ احمد۔ طبرانی)

حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے ’’کوئی بھی شخص حضرت حسن بن علی(رضی اللہ عنہٗ) اور حضرت فاطمۃ الزہرا (رضی اللہ عنہا) سے بڑھ کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  سے مشابہت رکھنے والا نہیں تھا۔‘‘ (امام احمد)

اُم المومنین حضرت امِّ سلمیٰ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں ’’جب سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے مرضِ وصال میں مبتلا ہوئیں تو میں ان کی تیمارداری کیا کرتی تھی۔ بیماری کے اس پورے عرصہ کے دوران جہاں تک میں نے دیکھا ایک صبح ان کی حالت قدرے بہتر تھی۔ حضرت علیؓ کسی سے ملنے باہر گئے تھے۔ سیّدۂ کائنات رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے اماں! میرے غسل کے لیے پانی لائیں۔ میں پانی لائی۔ آپ نے جہاں تک میں نے دیکھا بہترین غسل کیا۔ پھر بولیں: اماں جی! مجھے نیا لباس دیں۔ میں نے ایسا ہی کیا آپ قبلہ رخ ہو کر لیٹ گئیں۔ ہاتھ رخسار مبارک کے نیچے کر لیا پھر فرمایا: اماں جی: اب میری وفات ہو جائے گی‘ میں پاک ہو چکی ہوں‘لہٰذا مجھے کوئی نہ کھولے پس اُسی جگہ آپ کی وفات ہوگئی۔ حضرت اُمّ سلمی رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ تشریف لائے تو میں نے انہیں ساری بات بتائی۔‘‘ (امام احمد)

حضرت جابرؓ روایت فرماتے ہیں ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ہر ماں کی اولاد کا عصبہ (باپ) ہوتا ہے جس کی طرف وہ منسوب ہوتی ہے‘ سوائے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹوں کے‘ کہ میں ہی اُن کا ولی اور میں ہی اُن کا نسب ہوں۔‘‘ (امام حاکم)

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہٗ بیان فرماتے ہیں ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: بے شک میں نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ( رضی اللہ عنہا) رکھا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس  سے محبت کرنے والوں (غلاموں) کو آگ سے نجات دے دی ہے۔‘‘ (امام دیلمی)

حضرت عمر بن خطابؓ بیان فرماتے ہیں کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کی صاحبزادی سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے اور کہا:’’ اے فاطمہ! خدا کی قسم! میں نے آپ کے سوا کسی شخص کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے نزدیک محبوب تر نہیں دیکھا اور خدا کی قسم! لوگوں میں سے مجھے بھی آپ کے والد محترم کے بعد کوئی آپ ؓ سے زیادہ محبوب نہیں۔‘‘ (حاکم۔ ابن ِ ابی شیبہ۔ احمد)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اور تمہاری اولاد کو آگ کا عذاب نہیں دے گا۔‘‘ (امام طبرانی)

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ’’میں نے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے افضل اُن کے بابا جان یعنی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے علاوہ کسی شخص کو نہیں پایا۔‘‘ (امام طبرانی)

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بابا جان یعنی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے سوا میں نے سیدہ فاطمہ سے زیادہ سچا کائنات میں کوئی نہیں دیکھا۔‘‘ (امام ابو نعیم)

فضائل امیر المُتِقین‘امیر العارفین ‘امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ

حضرت زید بن ارقمؓ سے مروی ہے ’’سب سے پہلے حضرت علیؓ ایمان لائے۔‘‘  (ترمذی۔ احمد۔ حاکم)

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے ’’پیر کے دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کی بعثت ہوئی اور منگل کے دن حضرت علیؓ نے نماز پڑھی۔‘‘ (ترمذی۔ حاکم)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہٗ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا ’’ سب سے پہلے حضرت علیؓ نے نماز پڑھی۔‘‘

امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور فرمایا کہ اس بارے میں اہلِ علم کا اختلاف ہے۔ بعض نے کہا: سب سے پہلے حضرت ابو بکر صدیقؓ اسلام لائے اور بعض نے کہا سب سے پہلے حضرت علیؓ اسلام لائے جبکہ بعض محدثین کا کہنا ہے کہ مردوں میں سے پہلے اسلام لانے والے حضرت ابوبکرؓ ہیں اور بچوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت علیؓ ہیں کیونکہ وہ آٹھ برس کی عمر میں اسلام لائے اور عورتوں میں سب سے پہلے مشرف بہ اسلام ہونے والی خاتون حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا ہیں۔‘‘

’’حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بیان فرماتے ہیں ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے غزوۂ تبوک کے موقع پر حضرت علیؓ کو مدینہ منورہ میں اپنا قائم مقام بنایا حضرت علیؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑ کر جارہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ میرے ساتھ تمہاری وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔‘‘ (متفق علیہ)

’’حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بیان فرماتے ہیں ’’میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے بعض مغازی(ایک جگہ کا نام) میں حضرت علیؓ کو اپنا قائم مقام بنا کر  چھوڑ دیا‘ حضرت علیؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! آپ نے مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑ دیا ہے؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے حضرت علیؓ سے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کے لیے ہارون علیہ السلام تھے‘ البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور غزوۂ خیبر کے دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  سے یہ سنا کہ کل میں اس شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم   سے محبت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول   اس سے محبت کرتے ہیں۔ سو ہم سب اس سعادت کے حصول کے انتظار میں تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: علی کو میرے پاس لائو‘ حضرت علیؓ کو لایا گیا‘ اس وقت وہ آشوبِ چشم میں مبتلا تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا مبارک لعابِ دہن ڈالا اور انہیں جھنڈا عطا کیا‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر خیبر فتح کر دیا اور جب یہ آیت نازل ہوئی: ’’آپ فرما دیں کہ آجائو ہم  اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو بلا لیتے ہیں۔‘‘ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے حضرت علیؓ  ‘ حضرت فاطمہؓ           حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو بلایا اور کہا: اے اللہ! یہ میرے اہل ِ بیت ہیں۔‘‘ (امام مسلم۔ ترمذی)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن ہند فرماتے ہیں ’’حضرت علیؓ نے فرمایا: اگر میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  سے کوئی چیز مانگتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  مجھے عطا فرماتے اور اگر خاموش رہتا تو بھی پہلے مجھے ہی دیتے۔‘‘ (ترمذی۔ نسائی)

حضرت جابرؓ سے روایت ہے ’’ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے غزوۂ طائف کے موقع پر حضرت علیؓ کو بلایا اور ان سے سرگوشی کی‘ لوگ کہنے لگے آج آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ کافی دیر تک سرگوشی کی سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: میں نے نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ نے خود ان سے سرگوشی کی ہے۔‘‘ (امام ترمذی۔ ابن ِ ابی عاصم)

حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے ’’ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: اے علیؓ! میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ حالت ِ جنابت میں اس مسجد میں رہے۔ امام علی بن منذر کہتے ہیں کہ میں نے ضرار بن صرد سے اس کا معنی پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس سے مراد یہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: اے علیؓ! میرے اور تمہارے علاوہ حالت ِ جنابت میں کوئی اس مسجد کو بطور راستہ استعمال نہیں کر سکتا۔‘‘ (ترمذی۔ بزاز۔ ابو یعلی)

حضرت امِ عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے ایک لشکر بھیجا جس میں حضرت علیؓ بھی تھے میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہے تھے کہ یا اللہ! مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک میں علی کو (واپس بخیروعافیت) نہ دیکھ لوں۔‘‘ (ترمذی۔ طبرانی)

حضرت علیؓ سے روایت ہے ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابوبکرؓ پر رحم فرمائے انہوں نے اپنی بیٹی میرے نکاح میں دی اور مجھے دار الہجرہ ( مدینہ منورہ) لے کر آئے اور بلالؓ کو بھی انہوں نے اپنے مال سے آزاد کرایا۔ اللہ تعالیٰ عمرؓ پر رحم فرمائے یہ ہمیشہ حق بات کرتے ہیں اگرچہ وہ کڑوی ہو اور حق گوئی نے ان کا یہ حال کر دیا ہے کہ ان کا کوئی دوست نہیں۔ اللہ تعالیٰ عثمان ؓپر رحم فرمائے ان سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ علی ؓپر رحم فرمائے اے اللہ یہ جہاں کہیں بھی ہو حق اس کے ساتھ رہے۔‘‘ (ترمذی۔ حاکم۔ طبرانی)

حضرت حبشی بن جنادہؓسے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: علیؓ مجھ سے اور میں علیؓ سے ہوں اور میری طرف سے   میرے اور علیؓ کے سوا کوئی دوسرا ادا (ذمہ داری) نہیں کر سکتا۔‘‘ (ترمذی۔ ابن ِماجہ۔ احمد)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے ’’جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انصار و مہاجرین کے درمیان اخوت قائم کی تو حضرت علیؓ روتے ہوئے آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! آپ نے صحابہ کرام میں بھائی چارہ قائم فرمایا لیکن مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو۔‘‘ (ترمذی۔ حاکم)

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے ’’ایک مرتبہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے پاس ایک پرندے کا گوشت تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے دعا کی: یااللہ! اپنی مخلوق میں سے محبوب ترین شخص میرے پاس بھیج تاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے۔ چنانچہ حضرت علی تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے ساتھ وہ گوشت تناول کیا۔‘‘  (ترمذی۔ طبرانی)

حضرت بریدہؓ سے روایت ہے ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں اور مردوں میں سے سب سے زیادہ محبوب حضرت علیؓ تھے۔‘‘  (ترمذی۔ حاکم)

حضرت جمیع بن عمیر تمیمیؓ سے روایت ہے ’’میں اپنی خالہ کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا پھر میں نے ان سے پوچھا: لوگوں میں کون حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کو سب سے زیادہ محبوب تھا؟ انہوں نے فرمایا: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا‘ پھر عرض کیا گیا اور مردوں میں سے کون سب سے زیادہ محبوب تھا؟ فرمایا: ان کے خاوند (یعنی حضرت علیؓ) اگرچہ جہاں تک میں جانتی ہوں وہ بہت زیادہ روزے رکھنے والے اور قیام فرمانے والے تھے۔‘‘ (ترمذی۔ حاکم)

حضرت حنشؓ بیان فرماتے ہیں ’’میں نے حضرت علیؓکو دو مینڈھوں کی قربانی کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ میں ان کی طرف سے بھی قربانی کروں لہٰذامیں ان کی طرف سے بھی قربانی کرتا ہوں۔‘‘ (امام ابو دائود۔ امام احمد)

اُم المومنین حضرت امِ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں ’’اس ذات کی قسم جس کا میں حلف اٹھاتی ہوں! حضرت علیؓ لوگوں میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے ساتھ عہد کے اعتبار سے سب سے زیادہ قریب تھے۔ وہ بیان فرماتی ہیں کہ ہم نے ایک روز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کی عیادت کی‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا علی ؓ آگیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے ایسا کئی مرتبہ فرمایا آپ بیان فرماتی ہیں کہ میرا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے حضرت علیؓ کو کسی ضروری کام سے بھیجا تھا۔ اس کے بعد جب حضرت علیؓ تشریف لائے تو میں نے سمجھا انہیں شاید حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے ساتھ کوئی کام ہوگا سو ہم باہر آگئے اور دروازے کے قریب بیٹھ گئے اور میں ان سب سے زیادہ دروازے کے قریب تھی پس حضرت علیؓ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  پر جھک گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  سے سرگوشی کرنے لگے پھر اسی دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  وصال فرما گئے پس حضرت علیؓ سب لوگوں سے زیادہ عہد کے اعتبار سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے قریب تھے۔‘‘ (احمد۔ حاکم)

حضرت اسامہؓ اپنے والد (حضرت زیدؓ) سے روایت فرماتے ہیں کہ حضرت جعفر‘ حضرت علی اور حضرت زید بن حارثہؓ ایک دن اکٹھے ہوئے تو حضرت جعفرؓ نے فرمایا کہ میں تم سب سے زیادہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کو محبوب ہوں اور حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں تم سب سے زیادہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کو محبوب ہوں اور حضرت زیدؓ نے فرمایا کہ میں تم سب سے زیادہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کو پیارا ہوں پھر انہوں نے کہا: چلو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کی خدمت ِ اقدس میں چلتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  سے پوچھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کو سب سے زیادہ پیارا کون ہے؟ اسامہ بن زید ؓکہتے ہیں کہ پس وہ تینوں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اجازت طلب کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: دیکھو یہ کون ہیں؟ میں نے عرض کیا: جعفرؓ، علیؓ اور زید ؓبن حارثہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: انہیں اجازت دو پھر وہ داخل ہوئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: فاطمہ‘ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! ہم نے مردوں کے بارے میں عرض کیا ہے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: اے جعفرؓ! تمہاری خلقت میری خلقت سے مشابہ ہے اور میرے خُلق تمہارے خُلق سے مشابہ ہیں اور تو مجھ سے اور میرے شجرۂ نسب سے ہے‘ اے علیؓ! تو میرا داماد اور میرے دو بیٹوں کا باپ ہے اور میں تجھ سے ہوں اور تو مجھ سے ہے اور اے زیدؓ! تو میرا غلام اور مجھ سے اور میری طرف سے ہے اور تمام قوم سے تو مجھے زیادہ پسندیدہ ہے۔‘‘ (امام احمد۔ امام حاکم)

حضرت عمرو بن میمونؓ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہٗ سے ایک طویل حدیث میں روایت فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے کسی کو سورۃ توبہ دے کر بھیجا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے حضرت علیؓ کو اس کے پیچھے بھیجا پس انہوں نے وہ سورت اس سے لے لی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: اس سورت کو سوائے اس آدمی کے، جو مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں کوئی اور نہیں لے جاسکتا۔‘‘ (امام احمد)

حضرت ابو سعید خدریؓ بیان فرماتے ہیں ’’لوگوں نے حضرت علیؓ کے بارے میں کوئی شکایت کی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا۔ پس میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! علیؓ کی شکایت نہ کرو‘ اللہ کی قسم! وہ ذاتِ حق تعالیٰ میں یا اللہ تعالیٰ کے راستہ میں بہت سخت ہے۔‘‘ (امام احمد۔ امام حاکم)

ام المومنین حضرت امِ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ’’بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  جب ناراضگی کے عالم میں ہوتے تو ہم میں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے ساتھ سوائے حضرت علیؓ کے کسی کو کلام کرنے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔‘‘ (طبرانی۔ حاکم)

حضرت ابو رافعؓ سے روایت ہے ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے حضرت علیؓ کو ایک جگہ بھیجا‘ جب وہ واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے ان سے فرمایا: اللہ تعالیٰ‘ اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  اور جبرائیل تم سے راضی ہیں۔‘‘ (امام طبرانی)

حضرت ابوبرزہؓ بیان فرماتے ہیں ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: آدمی کے دونوں قدم اس وقت تک اگلے جہاں میں نہیں پڑتے جب تک کہ اس سے چار چیزوں کے بارے سوال نہ کر لیا جائے‘ اس کے جسم کے بارے میں کہ اس نے اسے کس طرح کے اعمال میں بوسیدہ کیا؟ اور اس کی عمر کے بارے میں کہ کس حال میں اسے ختم کیا؟ اور اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے یہ کہاں سے کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا؟ اور میرے اہل ِ بیت کی محبت کے بارے میں؟ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! آپ کی محبت کی کیا علامت ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے اپنا دست ِ اقدس حضرت علیؓ کے شانے پر مارا ۔‘‘ (امام طبرانی)

حضرت شعبہؓ  ‘سلمہ بن کبیل سے روایت فرماتے ہیں ’’میں نے ابو طفیل سے سنا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: جس کا میں مولیٰ ہوں‘ اُس کا علی مولیٰ ہے۔‘‘ (امام ترمذی)

حضرت عمران بن حصینؓ ایک طویل روایت میں بیان فرماتے ہیں ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: بے شک علیؓ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور میرے بعد وہ ہر مسلمان کا ولی ہے۔‘‘ (امام ترمذی۔ احمد)

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے ’’میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس کا میں ولی ہوں اُس کا علیؓ ولی ہے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حضرت علیؓ سے یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میرے لیے اسی طرح ہو جیسے ہارونؑ موسیٰ  کے لیے تھے‘ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا: میں آج اس شخص کو جھنڈا عطا کروں گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  سے محبت کرتا ہے۔‘‘ (ابن ِ ماجہ۔ نسائی)

حضرت براء بن عازبؓ روایت فرماتے ہیں ’’ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے ساتھ حج ادا کیا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے راستے میں ایک جگہ قیام فرمایا اور نماز باجماعت  کا حکم دیا‘ اس کے بعد حضرت علیؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: کیا میں مومنوں کی جانوں سے قریب تر نہیں ہوں؟ لوگوں نے جواب دیا: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: کیا میں ہر مومن کی جان سے قریب تر نہیں ہوں؟ لوگوں نے جواب دیا: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: پس یہ (علیؓ)  ہر اس شخص کا ولی ہے جس کا میں مولیٰ ہوں۔ اے اللہ! جو اسے ولی رکھے اسے تو بھی ولی رکھ اور جو اس سے عداوت رکھے اُس سے تو بھی عداوت رکھ۔‘‘ (ابن ِ ماجہ)

حضرت بریدہؓ سے روایت ہے ’’میں نے حضرت علیؓ کے ساتھ یمن کے غزوہ میں شرکت کی جس میں مجھے ان سے کچھ شکایت ہوئی۔ جب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کی خدمت میں واپس آیا تو میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  سے حضرت علیؓ کا ذکر کرتے ہوئے ان کی شان میں تنقیص کی۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: ’’اے بریدہ! کیا میں مومنین کی جانوں سے قریب تر نہیں ہوں؟‘‘ تو میں نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: جس کا میں مولیٰ ہوں اُس کا علیؓ مولیٰ ہے۔‘‘ (امام احمد۔ نسائی۔ حاکم اور ابن ِ ابی شیبہ)

حضرت میمون ابو عبداللہؓ بیان فرماتے ہیں ’’میں نے حضرت زید بن ارقمؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے ساتھ ایک وادی… جسے وادیٔ خم کہا جاتا ہے… میں اُترے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے نماز کا حکم دیا اور سخت گرمی میں جماعت کروائی۔ پھر ہمیں خطبہ فرمایا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو سورج کی گرمی سے بچانے کے لیے درخت پر کپڑا لٹکا کر سایہ کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: ’’کیا تم نہیں جانتے یا گواہی نہیں دیتے کہ میں ہر مومن کی جان سے قریب تر ہوں؟‘‘ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: پس جس کا میں مولیٰ ہوں اُس کا علی مولیٰ ہے‘ اے اللہ! تو اُس سے عداوت رکھ جو اِس سے(یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ) عداوت رکھے اور اُسے دوست رکھ جو اِسے دوست رکھے۔‘‘ (امام احمد۔ بیہقی۔ طبرانی)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے غدیر خم کے دن فرمایا: جس کا میں مولیٰ ہوں اُس کا علیؓ مولیٰ ہے۔‘‘ (امام احمد۔ طبرانی)

ابو اسحاق فرماتے ہیں ’’میں نے حضرت سعید بن وہبؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا: حضرت علیؓ نے لوگوں سے قسم لی جس پر پانچ (۵) یا چھ (۶) صحابہؓ نے کھڑے ہو کر گواہی دی کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا تھا: جس کا میں مولیٰ ہوں اُس کا علیؓ مولیٰ ہے۔‘‘ ( احمد، نسائی)

حضرت عمرو بن میمونؓ اورحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہٗ ایک طویل حدیث میں روایت فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے اپنے چچا کے بیٹوں سے فرمایا: تم میں سے کون دنیا و آخرت میں میرے ساتھ دوستی کرے گا؟ راوی بیان فرماتے ہیں کہ حضرت علیؓ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے‘ سب نے انکار کر دیا تو حضرت علیؓ نے عرض کیا: میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے ساتھ دنیا و آخرت میں دوستی کروں گا‘ اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: اے علیؓ تو دنیا و آخرت میں میرا دوست ہے۔ راوی بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  حضرت علیؓ سے آگے ان میں سے ایک اور آدمی کی طرف بڑھے اور فرمایا: تم میں سے دنیا و آخرت میں میرے ساتھ کون دوستی کرے گا؟ تو اس نے بھی انکار کر دیا۔ راوی بیان فرماتے ہیں کہ اس پر پھر حضرت علیؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! میں آپ کے ساتھ دنیا اور آخرت میں دوستی کروں گا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: اے علیؓ! تو دنیا و آخرت میں میرا دوست ہے۔‘‘ (امام احمد۔ ابن ِ ابی عاصم۔ حاکم)

حضرت یزید بن عمر بن مورق روایت فرماتے ہیں ’’ایک موقع پر میں شام میں تھا جب حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ لوگوں کو (انعامات سے) نواز رہے تھے۔ پس میں بھی ان کے پاس آیا‘ اُنہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کس قبیلے سے ہیں؟ میں نے کہا: قریش سے۔ اُنہوں نے پوچھا کہ قریش کی کس شاخ سے؟ میں نے کہا: بنی ہاشم سے۔ اُنہوں نے پوچھا کہ بنی ہاشم کے کس خاندان سے؟ راوی فرماتے ہیں کہ میں خاموش رہا۔ اُنہوں نے پھر پوچھا کہ بنی ہاشم کے کس خاندان سے؟ میں نے کہا: مولا علیؓکے خاندان سے۔ اُنہوں نے پوچھا کہ علیؓ کون ہیں؟ میں خاموش رہا۔ راوی فرماتے ہیں کہ اُنہوں نے میرے سینے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: ’’بخدا! میں بھی حضرت علی بن ابی طالبؓ کا غلام ہوں۔‘‘ اور پھر فرمایا کہ مجھے بے شمار لوگوں نے بیان کیا ہے کہ اُنہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’جس کا میں مولیٰ ہوں اُس کا علی ؓمولیٰ ہے۔‘‘ پھر مزاحم (داروغہ خزانہ) سے پوچھا کہ اس قبیلہ کے لوگوں کو کتنا دے رہے ہو؟ تو اُس نے جواب دیا: سو (۱۰۰) یا دو سو (۲۰۰) درہم۔ اس پر اُنہوں نے فرمایا: ’’حضرت علی بن ابی طالبؓکی قرابت کی وجہ سے انہیں پچاس (۵۰) دینار زیادہ دو اور ابن ِ ابی دائود کی روایت کے مطابق ساٹھ (۶۰) دینار اضافی دینے کی ہدایت کی اور اُن سے مخاطب ہو کر فرمایا: آپ اپنے شہر تشریف لے جائیں‘ آپ کے پاس آپ کے قبیلہ کے لوگوں کی طرح حصہ پہنچ جائے گا۔‘‘ (امام ابو نعیم اور ابن ِ عساکر)

حضرت عمرو ذی مر اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہم روایت فرماتے ہیں ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے غدیر خم کے مقام پر خطاب کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: ’’جس کا میں مولیٰ ہوں اُس کا علیؓ مولیٰ ہے‘ اے اللہ! جو اسے دوست رکھے تو اُسے دوست رکھ اور جو اس سے عداوت رکھے تو اُس سے عداوت رکھ اور جو اس کی نصرت کرے اُس کی تو نصرت فرما اور جو اس کی اعانت کرے تو اُس کی اعانت فرما۔‘‘ (امام طبرانی)

حضرت ابن ِ بریدہؓ اپنے والد سے ایک طویل روایت میں بیان فرماتے ہیں ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیا ہوگا جو علیؓ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔ جو علیؓ کی گستاخی کرتا ہے وہ میری گستاخی کرتا ہے اور جو علیؓ سے جدا ہوا وہ مجھ سے جدا ہو گیا۔ بیشک علیؓ مجھ سے اور میں علیؓ سے ہوں‘ اُس کی تخلیق میری مٹی سے ہوئی ہے اور میری تخلیق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مٹی سے کی گئی اور میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے افضل ہوں۔ ہم میں سے بعض بعض کی اولاد ہیں‘ اللہ تعالیٰ یہ ساری باتیں سننے اور جاننے والا ہے۔… وہ میرے بعد تم سب کا ولی ہے۔ (بریدہ بیان فرماتے ہیں) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! کچھ وقت عنایت فرمائیں اور اپنا ہاتھ بڑھائیں‘ میں تجدید ِ اسلام کی بیعت کرنا چاہتا ہوں اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  سے جدا نہ ہوا جب تک میں نے تجدید ِبیعت نہ کر لی۔‘‘ (امام طبرانی)

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: جو مجھ پر ایمان لایا اور میری تصدیق کی اُسے میں ولایتِ علی کی وصیت کرتا ہوں‘ جس نے اُسے ولی جانا اُس نے مجھے ولی جانا اور جس نے مجھے ولی جانا اُس نے اللہ تعالیٰ کو ولی جانا اور جس نے علیؓ سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اُس نے اللہ تعالیٰ سے محبت کی اور جس نے علی ؓسے بغض رکھا اُس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اُس نے اللہ تعالیٰ سے بغض رکھا۔‘‘ ( دیلمی۔ متقی ہندی ، ابن ِعساکر)

حضرت عبداللہ جدلیؓ سے روایت ہے ’’ میں ام المومنین حضرت امِ سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے فرمایا: کیا تم لوگوں میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کو گالی دی جاتی ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی پناہ‘ یا میں نے کہا: اللہ کی ذات پاک ہے یا اسی طرح کا کوئی اور کلمہ کہا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو علیؓ کو گالی دیتا ہے وہ مجھے گالی دیتا ہے۔‘‘ (امام نسائی۔ احمد ۔ حاکم)

حضرت ابن ابی ملیکہؓ بیان فرماتے ہیں ’’اہل ِ شام سے ایک شخص آیا اور اس نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہٗ کے سامنے حضرت علیؓ کو بُرا بھلا کہا‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہٗ نے اسے کہنے سے منع کیا اور فرمایا: اے اللہ کے دشمن! تو نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کو تکلیف دی ہے۔ (پھر یہ آیت پڑھی:) ’’بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  ) کو اذیت دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت بھیجتا ہے اور اُس نے ان کے لیے ذلت انگیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘ پھر فرمایا: اگر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  حیات ہوتے تو یقینا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے لیے اذیت کا باعث بنتا۔‘‘ (امام حاکم)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہٗ حضرت علیؓ سے  روایت میں بیان فرماتے ہیں ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے میری (حضرت علیؓ کی) طرف دیکھ کر فرمایا: اے علیؓ! تو دنیا میں بھی سردار ہے اور آخرت میں بھی سردار ہے۔ تیرا محبوب میرا محبوب ہے اور میرا محبوب اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے اور تیرا دشمن میرا دشمن ہے اور میرا دشمن اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کے لیے بربادی ہے جو میرے بعد تمہارے ساتھ بغض رکھے۔ ( حاکم)

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہٗ بیان فرماتے ہیں ’’میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کو حضرت علیؓ کے لیے فرماتے ہوئے سنا۔ مبارک باد ہو اسے جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور تیری تصدیق کرتا ہے اور ہلاکت ہو اس کے لیے جو تجھ سے بغض رکھتا ہے اور تجھے جھٹلاتا ہے۔‘‘ (حاکم، ابو یعلی ، طبرانی)

حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے حضرت علیؓ سے فرمایا: تجھ سے محبت کرنے والا مجھ سے محبت کرنے والا ہے اور تجھ سے بغض رکھنے والا مجھ سے بغض رکھنے والا ہے۔‘‘ (امام طبرانی)

حضرت ابو حازم حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت فرماتے ہیں ’’حضرت علیؓ کو ابو تراب (مٹی والے) سے بڑھ کر کوئی نام محبوب نہ تھا‘ جب انہیں ابو تراب کے نام سے بلایا جاتا تو وہ بہت خوش ہوتے تھے۔ راوی (ابو حازم) نے ان سے کہا: ہمیں وہ واقعہ سنائیے کہ حضرت علیؓ کا نام ابو تراب کیسے رکھا گیا؟ انہوں نے فرمایا: ایک دن حضور نبی اکرمؓ  حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے تو حضرت علیؓ گھر میں نہیں تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: تمہارا چچا زاد کہاں ہے؟ انہوں نے عرض کیا: میرے اور ان کے درمیان کچھ بات ہوگئی جس پر وہ خفا ہو کر باہر چلے گئے اور گھر پر قیلولہ بھی نہیں کیا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے کسی شخص سے فرمایا: جائو تلاش کرو وہ کہاں ہیں؟ اس شخص نے آکر خبر دی کہ وہ مسجد میں سو رہے ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  حضرت علیؓ کے پاس تشریف لے گئے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے دیکھا کہ وہ لیٹے ہوئے ہیں جبکہ ان کی چادر ان کے پہلو سے نیچے گر گئی تھی اور ان کے جسم پر مٹی لگ گئی تھی‘ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  اپنے ہاتھ مبارک سے وہ مٹی جھاڑتے جاتے اور فرماتے جاتے: اے ابو تراب  اٹھو‘ اے ابو تراب اٹھو۔‘‘ (متفق علیہ)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے حضرت علیؓ کے دروازے کے سوا مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کرنے کا حکم دیا۔‘‘ (ترمذی)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہٗ بیان فرماتے ہیں’’ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانے میں کہا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  تمام لوگوں سے افضل ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ اور پھر حضرت عمرؓ اور یہ کہ حضرت علیؓ کو تین فضیلتیں عطا کی گئیں ہیں۔ ان میں سے اگر ایک بھی مجھے مل جائے تو یہ مجھے سرخ قیمتی اونٹوں کے ملنے سے زیادہ محبوب ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے  ان کا نکاح اپنی صاحبزادی سے کیا جس سے ان کی اولاد ہوئی اور دوسری یہ کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے مسجد نبوی کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند کروا دیئے مگر ان کا دروازہ مسجد میں رہا اور تیسری یہ کہ انہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے خیبر کے دن جھنڈا عطا فرمایا۔‘‘ (امام احمد)

حضرت عبداللہؓ بیان فرماتے ہیں ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: کیا تو راضی نہیں کہ میں نے تیرا نکاح امت میں سب سے پہلے اسلام لانے والے‘ سب سے زیادہ علم والے اور سب سے زیادہ بردبار شخص سے کیا ہے۔‘‘ (احمد۔ طبرانی)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: میرے پاس سردارِ عرب کو بلائو۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  ! کیا آپ عرب کے سردار نہیں؟ فرمایا: میں تمام اولادِ آدم کا سردار ہوں اور علی (رضی اللہ عنہٗ) عرب کے سردار ہیں۔‘‘ (امام حاکم۔ ابو نعیم)

اُم المومنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں ’’میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کو فرماتے ہوئے سنا: علیؓ اور قرآن کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یہ دونوں کبھی بھی جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوضِ کوثر پر آئیں گے۔‘‘ (حاکم۔ طبرانی)

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے، فرماتے ہیں ’’میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کو فرماتے ہوئے سنا: لوگ جدا جدا نسب سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ میں اور علیؓ ایک ہی نسب سے ہیں۔‘‘ (امام طبرانی)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: سبقت لے جانے والے تین ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سبقت لے جانے والے حضرت یوشع بن نون ہیں‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سبقت لے جانے والے صاحب ِیاسین ہیں اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سبقت لے جانے والے علی بن ابی طالبؓ ہیں۔‘‘ (امام طبرانی)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہٗ روایت فرماتے ہیں ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے اُم المومنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: یہ علیؓ بن ابی طالبؓ ہے اس کا گوشت میرا گوشت ہے اور اس کا خون میرا خون ہے اور یہ میرے لیے ایسے ہے جیسے موسیٰ ؑکے لیے ہارون ؑ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ (امام طبرانی)

حضرت عبداللہ بن حکیمؓ سے روایت ہے ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شب ِ معراج وحی کے ذریعے مجھے حضرت علیؓ کی تین صفات کی خبر دی یہ کہ وہ تمام مومنین کے سردار ہیں‘ متقین کے امام ہیں اور نورانی چہرے والوں(اہل ِ فقر) کے قائدہیں۔‘‘ (امام طبرانی)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں یہ آیت: ’’بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو رحمن ان کے لیے دلوں میں محبت پیدا فرما دے گا‘‘ حضرت علیؓ کی شان میں اتری ہے اور فرمایا: اس سے مراد مومنین کے دلوں میں  حضرت علیؓ کی محبت ہے۔‘‘ (امام طبرانی)

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ روایت فرماتے ہیں ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں فاطمہ کا نکاح علی سے کر دوں۔‘‘ (امام طبرانی)

حضرت جابرؓ بیان فرماتے ہیں ’’غزوہ خیبر کے روز حضرت علیؓ نے قلعہ خیبر کا دروازہ اٹھا لیا یہاں تک کہ مسلمان قلعہ پر چڑھ گئے اور اسے فتح کر لیا اور یہ تجربہ شدہ بات ہے کہ اس دروازے کو چالیس آدمی مل کر اُٹھاتے تھے۔‘‘ (امام ابن ابی شیبہ)

(نوٹ: یہ مضمون سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی تصنیف ِ مبارکہ ’’فضائل اہلِ بیت و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (قرآن و حدیث کی روشنی میں)‘‘ سے شکریہ کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔)