فقراور یقین | Faqr aur Yaqeen

فقر اور یقین

تحریر: انیلا یٰسین سروری قادری۔ لاہور

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ۔(الحجر۔۹۹)
ترجمہ:’’اپنے ربّ کی عبادت کرتے رہو حتی کہ تمہیں یقین ِ کامل حاصل ہو جائے ۔‘‘ 

یقین کیا ہے؟ عام لغت میں یقین سے مرادا عتماد، بھروسہ اطمینان اور گمان لیا جاتا ہے۔
حضرت شاہ محمد ذوقی ؒ فرماتے ہیں :
٭ یقین اسے کہتے ہیں جس میں شک و شبہ کا مطلق دخل نہ ہو ۔ رویتِ عیان بقوتِ ایمان نہ کہ بذریعہ حجتِ برہان۔ (سِرّ دلبراں)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کلید التوحید کلاں میں فرماتے ہیں:
یقین قرآن برو اعمال کردن
یقین آنست خود باحق سپردن
ترجمہ:یقین قرآن پر عمل کرنے کا نام ہے اور یقین یہ ہے کہ خود کو سپردِ خدا کر دیا جائے۔
یقین سرمایۂ ایمان نورش 
یقین با معرفت قربِ حضورش
ترجمہ:یقین ایمان کا نوری سرمایہ ہے اور اس کا تعلق معرفت ِ قربِ حضور سے ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
٭ جان لے کہ محبت، معرفت، طلب ِ الٰہی، ذکر فکر، حضور مذکور، الہاماتِ باطن، قربِ الٰہی اور فنا و بقا کے تمام مراتب کی جڑ یقین ہے۔ 
اصل یقین است گر شود
کارِ تُو از ہفت فلک بہ گزرد 
ترجمہ: اصلی سرمایہ یقین ہے اگر یہ تجھے حاصل ہو جائے تو تُو ساتوں آسمانوں سے بھی آگے نکل جائے۔ (کلید التوحید کلاں)
یقین ہی نورِ ایمان ہے اور جو بندہ اس نور کو پا لیتا ہے وہ قربِ الٰہی سے مشرف ہوتا ہے اور اگر یہی یقین ناقص اور کمزور ہو تو بندہ نفس و شیطان کے چنگل میں پھنس جاتا ہے جس سے وہ ذلت کے گہرے اندھیروں میں ہی بھٹکتا رہتا ہے۔سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؓ فرماتے ہیں: 
٭ محاسبہ کے بعد یقین کو لازم پکڑو کیونکہ یقین ایمان کی اصل ہے۔ بغیر یقین کے نہ فرض ادا کیے جائیں گے اور نہ یقین کے بغیر دنیا میں زہد کیا جائے گا۔ (الفتح الربانی ۔ ملفوظاتِ غوثیہ )
٭جب تیرا ایمان یقین بن جائے گا ،تیری معرفت علم بن جائے گی اس وقت تو خدائی کارندہ بن جائے گا۔ (الفتح الربانی ۔ ملفوظاتِ غوثیہ )
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو ؒ یقین کی اقسام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
یقین از سہ یقین و سہ مقامش
ز ہر سہ شود ختمے تمامش
ترجمہ: یقین کی تین اقسام اور تین مقام ہیں،جب یہ تینوں یکجا ہو جاتے ہیں تو یقین کامل ہو جاتا ہے۔(کلید التوحید کلاں)
یقین کی تین اقسام کون سی ہیں ان کے متعلق میرے مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
۱) علم الیقین 
۲) عین الیقین 
۳) حق الیقین

علم الیقین 

یہ یقین کا پہلا مرتبہ ہے اور علم الیقین اس علم کو کہتے ہیں جو غوروفکر اور علمی و عقلی استدلال سے حاصل کیا جائے۔ آسان الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ علم ہے جو کسی سے سن کر ، پڑھ کر یا کسی کے دلائل اور گفتگو پر غورو فکر سے حاصل ہو۔ ایک بزرگ کا قول ہے ’’ علم الیقین تفرقہ کی حالت کا نام ہے‘‘۔ جیسے آج کل اس علم کے عام ہونے کی وجہ سے فرقہ بازی عام ہے۔

عین الیقین

یہ یقین کا دوسرا مرتبہ ہے ۔ اور یہ وہ علم ہے جو بذریعہ کشف یا مشاہدہ سے حاصل کیا جاتا ہے یعنی سب کچھ صرف محسوس نہ کیا جائے بلکہ آنکھوں سے دیکھا بھی جائے ۔ عین کے لفظی معنی ہیں آنکھ ۔ یعنی وہ علم جس پر دیکھ کر یقین کیا جاتا ہے۔ لیکن یاد رہے اس میں شیطانی استدراج ہو سکتا ہے۔ اکثر ناقص مرشد اس مرتبہ پر ہوتے ہیں، استدراج اور نفس و دنیا کے مشاہدات میں آکر اپنے آپ کو صاحب ِ کرامت سمجھتے ہیںاور مرشد بن کر لوگوں کو اپنی طرف بلانا شروع کر دیتے ہیں۔

حق الیقین

جو علم اپنی جامعیت اور انتہا میں لاثانی ہو، نہ صرف یہ کہ آنکھ سے نظر آئے بلکہ اس کی حقیقت بھی سمجھ آجائے۔ جب انسان کا آئینہ قلب صاف ہو جائے اور مشاہدۂ حقیقی میں کوئی رکاوٹ نہ رہے اور وصالِ الٰہی حاصل ہو جائے تو تمام حجابات اور پردے اٹھ کر حق الیقین حاصل ہو جاتا ہے۔ایک بزرگ کا قول ہے ’’ حق الیقین جمع الجمع بزبانِ توحید ہے۔‘‘ 
حضرت جنید بغدادی ؒ کا قول ہے ’’ حق الیقین وہ علم ہے جو انسان کو آنکھ کے ذریعے سے تحقیق کی صورت میں حاصل ہو اور وہ غیبی خبروں کا اس طرح مشاہدہ کرے جس طرح وہ اپنی آنکھوں سے نظر آنے والی چیزوں کا مشاہدہ کرتا ہے اور غیب کی خبر دے بلکہ جو خبر دے وہ صدق پر مبنی ہو۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی معرفت کا یہ کامل اور مکمل درجہ ہے۔ (شمس الفقرا)
یقین کے ان تینوں درجوں کو مثال سے یوں واضح کیا جا سکتا ہے۔ ایک ایسا شخص جس نے کبھی آگ کو دیکھا ہی نہ ہو اسے کہا جائے کہ مادے کی ایک حالت آگ ہے جو اپنے اندر تپش کی کیفیت رکھتی ہے اور چیزوں کو جلا دیتی ہے تو آگ کے بارے میں یہ اس شخص کا ابتدائی علم ہو گا جسے ہم علم الیقین کہیں گے اور جب اس شخص کو آگ دکھائی جائے گی تو اس کا ظاہری آنکھ سے آگ کو دیکھنا عین الیقین کا درجہ کہلائے گا۔ چونکہ وہ شخص آگ کے بارے میں یہ بھی جانتا ہے کہ آگ جلاتی بھی ہے اور جب وہ اس کی تپش کو محسوس کرنے کے لیے اسے چھوئے گا تو اسے اس بات کا یقین ہو جائے گا کہ واقعی آگ جلا دیتی ہے۔ یہ اس شخص کا حق الیقین کا درجہ کہلائے گا اور اسے تصدیق ِ قلب کا درجہ بھی کہتے ہیں۔
راہِ فقر دیدارِ الٰہی کی راہ ہے ۔ دیدارِ الٰہی کی راہ پر بھی صرف اورصرف نورِ یقین سے ہی منازل طے کی جاسکتی ہیں۔ انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ ہمیشہ ظاہری آنکھوں سے دیکھی گئی چیز، ظاہری کانوں سے سنی گئی بات اور اپنے ظاہری اعمال پر ہی بھروسہ کر لیتا ہے اور انہیں کافی سمجھتا ہے یعنی عام طور پر انسان ظاہر پرست ہوتا ہے۔ جبکہ فقر تو سراسر باطن کا ہی راستہ ہے اور باطن کی درستگی ہی ظاہر کو نکھار دیتی ہے۔فقر کیا ہے؟
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں :
٭ فقر ایسی (نادر) چیز ہے کہ مخدوم جہانیاں ؒ نے مراتبِ فقر کی خاطر چودہ طبقات کا نظارہ اور طیر سیر کی مگر فقر کے مراتب تک نہ پہنچ سکے ۔ فقر کی تکمیل گمنامی میں ہی ہوتی ہے ۔ فقر کی خاطر سلطان ابراہیم بن ادھم ؒ نے بادشاہی ترک کی اور اپنی اولاد کو چھوڑ کر سر گردان پھرتے رہے پھر فقر کے مراتب تک پہنچے ۔ کیا تُو جانتا ہے کہ سلطان بایزیدؒ تمام عمر ریاضت کرتے رہے اور اپنے نفس کی کھال تک کھینچ ڈالی لیکن ہرگز فقر کے مراتب تک نہیں پہنچ سکے۔ اگرچہ شیخ بہاؤالدین ؒ اور شاہ رکن ِ عالمؒ نے اپنی جان ہار دی مگر پھر بھی فقر کے مراتب تک نہ پہنچ سکے۔حضرت رابعہ بصریؒ نیند کی حالت میں خواب میں ہی بغیر کسی واسطہ کے فقر کے مراتب تک جا پہنچیں۔ سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی ؓ نے اپنی والدہ کے پیٹ میں ہی مراتب ِ فقر کو پا لیا اور اہل ِ فقر کے لیے شریعت ِ محمدیؐ کے قائم مقام بن گئے،اللہ کے محبوب ٹھہرے اور ’’ فقیر محی ّ الدین‘‘ کا خطاب پایا۔ پس فقر کو مالک الملکی ( مالک الملکی سے مُراد تمام عالموں اور مخلوق کا مالک ہونا ہے۔فقر عین ذات پاک ہے ،جسے فقر حاصل ہو گیا اسے عین اللہ کی ذات حاصل ہو گئی اور جسے اللہ کی ذات مل گئی وہ مالک الملکی ہو گیا) کے مراتب حاصل ہیں۔ فقر کا تعلق غوثیت، قطبیت اور کشف و کرامات سے نہیں بلکہ فقر تو عین ذات ہے۔فقر اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے یہ بخش دیتا ہے وہ چاہے پیٹ بھر کر کھائے یا بھوکا رہے اس کے لیے برابر ہے۔ (عین الفقر)

کوڑا تخت دنیا دا باھوؒ، تے فقر سچی شاہی ھُو 

٭ تمام انبیا کرام علیہم السلام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مرتبہ فقر کے حصول اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اُمتی ہونے کی التجا کرتے رہے لیکن انہیں یہ مراتب حاصل نہ ہو سکے ۔ جسے بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ کی حضوری نصیب ہوئی اُس نے فقرِمحمدی ؐ کو اپنا رفیق بنایا کیونکہ مرتبہ ٔ فقر سے بڑھ کر بلند و قابل ِ فخر مرتبہ نہ کوئی ہے اور نہ کوئی ہو گا۔ فقر دائمی زندگی ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)
راہِ فقر میں یقین کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ یقین اور فقر کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ طالب کو چاہیے کہ مرشد کامل اور اس کے عطا کردہ مشاہدات پر یقین کرے کیونکہ ان مشاہدات پر یقین ہی طالب کو فقر کی اگلی منازل پر پہنچاتا ہے اور دیدارِ الٰہی اور مجلسِ محمدیؐ کی حضوری جیسے عظیم مراتب عطا کرتا ہے۔ اگر طالب مرشد پر اور اس کے عطا کئے گئے ابتدائی مشاہدات پر یقین نہیں کرے گا تو مرشد اسے اگلی منازل پر کیونکر پہنچائے گا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ مرشد پر یقین نہ کرنا طالب کا باطنی سفر ہمیشہ کے لیے روک دیتا ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ عین الفقر میں فرماتے ہیں:
٭ فقر کی ابتدا علم الیقین اور عین الیقین ہے جبکہ فقر کی انتہا حق الیقین ہے۔
٭ فقر کی ابتدا صدق اور یقین ہے اور انتہا اللہ تعالیٰ کی ہم نشینی ہے۔ 
٭ یہ فقیر ِ باھُو ؒ کہتا ہے کہ اللہ کی محبت کا ایک ذرّہ حج ، زکوٰۃ، جہاد، مال، نماز، نوافل اور جن، انسان، دیو، پری اور فرشتوں کی تمام عبادات سے بہتر ہے۔ لیکن اس محبت اور اخلاص کی راہ میں فقیر کو صادق، ثابت قدم اور اللہ سے سچا اعتقاد (یقین) رکھنے والا ہونا چاہیے۔ 
پس فقر کی ابتدا مرشد کامل اکمل پر اخلاص کے ساتھ یقین ہے اور اسی یقین کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کی ہمنشینی ہے۔ میرے مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
٭ راہِ فقر میں کامیابی کی کلید مرشد پر یقین ہے۔ (سلطان العاشقین) 
مرشد کون ہے؟ 
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں :
٭ مرشد وہ ہے جو طالبانِ مولیٰ کو مقامِ توحید پر واحدانّیتِ منفرد میں داخل کر دے۔ مقامِ منفرد کیا ہے ؟وہ مقام ہے جہاں نورِ اوّل (نورِ محمدیؐ) نورِ خدا سے جدا ہوا۔ (اے طالب) صدق و ارادت سے سن! مرشد ہی وہ رہنما ہے جو مقامِ منفرد تک پہنچا کر ( طالب کو) بقا عطاکر دیتا ہے۔فَھِمَ مَنْ فَھِمَ(سمجھ گیا جو سمجھ گیا)۔ (عین الفقر)
فقر میں یقین نام ہے نورِ بصیرت اور نورِ ایمان کا جو صرف اور صرف مرشد کامل اکمل کے لطف و عنایت سے صادق طالبانِ مولیٰ کے حصہ میں آتا ہے ۔ صادق مرید (طالب ِ مولیٰ) کی پہچان ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی ناقص عقل کے مطابق مرشد کے کسی بھی قول و فعل پر اعتراض نہ کرے۔ اس سے جو بھی مجاہدہ(ڈیوٹی) کروایا جائے وہ صدق و یقین کے ساتھ رضائے مرشد کی خاطر کرے۔جب تک طالب ِ مولیٰ کو یہ یقین حاصل نہیں ہو جا تا کہ وہ جو بھی عمل یا ڈیوٹی انجام دے رہا ہے اس کا مرشد اُسے دیکھ رہا ہے تب تک وہ اپنی ڈیوٹی احسن طریقے سے نہیں کر سکتا۔ مرید کا اپنے مرشد پر یقین ہونا نہایت ضروری ہے کیونکہ ایسامرید ہر گز نگاہِ مرشد سے فیض یاب نہیں ہو سکتا جس کو اپنے مرشد پر یقین ہی نہ ہو۔ بے ادب و بے یقین مرید چاہے ساری عمر مرشد کی غلامی میں رہتا ہو، مالی و بدنی مجاہدات ہی کیوں نہ کرتا رہے، جب تک اسے اپنے مرشد پر بھروسہ و یقین نہیں ہو گا اس وقت تک اس کا کوئی عمل بھی اُسے کوئی فائدہ نہیں دے گا ۔ کیونکہ مرشد پر یقین ہی کامیابی کی کلید ہے۔ مرشد کی ذات پر یقین صرف و صرف عشق سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ بِنا عشق کے یقین کا ہر مقام کمزور ہوتا ہے۔

گر محرمی اسرارِ خانہ از نقاش غافل مباش
مفہوم: اگر تو اللہ تعالیٰ کے رازوں کا محرم بننا چاہتا ہے تو نقاش (نقاش سے مراد ہے صاحبِ مسمّٰی مرشد کامل اکمل جو اسمِ اللہ ذات کی تمام خصوصیات کا حامل ہو) سے غافل مت رہ۔ (عین الفقر)

مرشد کامل اکمل کی نشانی کیا ہے؟ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
٭ مرشد کامل وہ ہوتا ہے جو طالب کو اسمِ اللہ ذات کے ذکر کے ساتھ ساتھ اس کا تصور بھی عطا کرے۔ 
آپؒ فرماتے ہیں:
’’جو مرشد طالب کو تصورِ اسمِ اللہ ذات عطا نہیں کرتا وہ مرشد لائقِ ارشاد مرشد نہیں۔ (نور الہدیٰ کلاں)
لہٰذا طالبِ مولیٰ پر فرض ہے کہ وہ سب سے پہلے رفیق (مرشد) کو تلاش کرے۔ جب وہ اُسے پا لے تو عجز اور یقینِ کامل کے ساتھ اُن کی غلامی اختیا ر کرے اور ہرگز منہ نہ موڑے پھر وہ ضرور اپنی مراد (ذاتِ حق تعالیٰ) کو پالے گا۔ 
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
٭ پس یقین کر کہ جب مرشد کامل اکمل کسی طالب ِ مولیٰ کو اسمِ اللہ ذات عطا کرتا ہے تو اسے پلک جھپکنے میں عین توحید ِ ذات تک پہنچا دیتا ہے اور اسے ہرگز (مقامات)صفات سے نہیں گزارتا کیونکہ توحید سے یکتائی حاصل کرنے کے علاوہ دیگر تمام مقامات و منازل شرک ہیں۔
مقامِ توحید پر یقینِ کامل سے پہنچنے کے لیے مرشد کامل اکمل کی رہنمائی لازم ہوتی ہے۔امام الوقت ،مجددِ دین سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس صاحب ِ مسمّٰی مرشد کامل اکمل ہیں جو طالبانِ مولیٰ کو اسم ِ اللہ ذات کا بیش قیمت فیض عطا فرما رہے ہیں۔ جو بھی طالب آپ مدظلہ الاقدس کی پاک ذات پر صدقِ یقین کے ساتھ بھروسہ کرتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ آپ مدظلہ الاقدس کی عمر مبارک،صحت مبارک اور فیض میں بے شمار برکتیں عطا فرمائے اور ہمیں ہمیشہ آپ مدظلہ الاقدس کی صدق،اخلاص اور نورِ یقین والی غلامی نصیب فرمائے ۔ آمین
(سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی پاکیزہ حیات طیبہ کے بارے میں جاننے کے لیے کتاب ’’سُلطان العاشقین‘‘ ناشر:سُلطان الفقر پبلیکیشنز(رجسٹرڈ) سے مستفید ہوں)
استفادہ کتب: 
عین الفقر۔ تصنیف سلطان باھوؒ
نورالہدی کلاں ۔ ایضاً
کلید التوحید کلاں۔ ایضاً
شمس الفقرا۔ تصنیف ِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

50 تبصرے “فقراور یقین | Faqr aur Yaqeen

  1. SubhanAllah 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

  2. سلطان الفقر ہفتم
    حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمان مدظلہ الاقدس عاشقین کے سلطان اور از خود فقر ہیں

  3. ماشاءاللہ فقر اور یقین کی تمام منزلیں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں

تبصرے بند ہیں