Sultan-ul-Ashiqeen-Talib-e-Moula

سلطان العاشقین سلطان محمد نجیب الرحمن بحیثیت طالبِ مولیٰ اور عشقِ مرشد

سلطان العاشقین  حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
بحیثیت طالبِ مولیٰ اور عشقِ مرشد

فقر میں کمال عشق سے حاصل ہوتا ہے۔ فقر دراصل ہے ہی عشق۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے خاص اپنی ذات کے عشق کے لیے پیدا کیا ہے انہیں عشق کے سوا کسی شے میں آرام و سکون حاصل نہیں ہوتا۔ عشق کی تڑپ اور بے چینی میں ہی ان کا قرار اور سکون ہے۔ صادق عاشق جب ایک بار اپنا رخ اللہ کی ذات کی طرف کر دیتے ہیں تو پھر دنیا و عقبیٰ کی کوئی شے انہیں کسی بھی طرح اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکتی۔ محبوب کا دیدار ان کی نماز اور محبوب کا عشق ان کی عبادات بن جاتی ہے۔
ہم رِندوں کی محفل میں ہر رسم عبادت ہوتی ہے                           دلبر کو بٹھا کر سامنے چہرے کی تلاوت ہوتی ہے
حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا فرماتی ہیں:
سجدہ مستانہ ام باشد نماز                                                     دردِ دل با او بود قرآنِ من
ترجمہ: مستانہ وار محبوب کو سجدہ کرنا میری نمازِ حقیقی اور درد بھرے دل کا سوز و گداز میرا قرآن پڑھنا ہے۔
مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
عشق آں شعلہ است کہ جوں بر فروخت                             ہر کہ جز معشوق باشد جملہ سوخت
ترجمہ: عشق ایسا شعلہ ہے جب بھڑک اٹھتا ہے تو معشوق (مرشد) کے سوا تمام چیزوں کو جلا دیتا ہے۔ 
عاشقاں را شد مدرس حُسنِ دوست                            دفتر و درس و سبق شان روئے اوست
ترجمہ: محبوب (مرشد) کا حُسن ہی عاشقوں کا مدرس (استاد) بن گیا۔ کتاب‘ درس اور سبق سب اس کا چہرہ ہوتا ہے۔ 
صد کتب و صد ورق در نار کن                                     روئے دل را جانبِ دلدار کن
ترجمہ: سو کتابوں اور اوراق کو آگ میں ڈال دے اور اپنے دل کا رُخ دلدار (مرشد) کی جانب کر دے۔
مرشد مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ شاہ شمس تبریز رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

عشق معراج است سوئے بام سلطانِ ازل                           از رخِ عاشق فرد خواں قصہ معراج را
ترجمہ: عشق ہی معراج ہے اور یہی ازل کے سلطان تک پہنچنے کا دروازہ ہے۔ اگر معراج کی حقیقت سے آگاہی چاہتے ہو تو کسی عاشقِ صادق (مرشد کامل) کے چہرہ پر نظر جماؤ (یعنی اس کی حقیقت تک رسائی حاصل کرو)۔
مولانا جامی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر تجھے ذاتِ مرشد کا عشق نصیب ہو جائے تو اسے اپنی خوش نصیبی جان کیونکہ یہ عشق حقیقی تک پہنچنے کا وسیلہ ہے۔
غنیمت داں اگر عشق مجازیست                                کہ از بہر حقیقت کار سازیست
ترجمہ: اگرتجھے عشقِ مجازی(مرشد سے عشق) حاصل ہے تو خود کو خوش قسمت سمجھ کہ مرشد سے عشق ہی عشقِ حقیقی تک پہنچنے کا وسیلہ ہے۔
بلھے شاہؒ  کے نزدیک بھی عشقِ مجازی (عشقِ مرشد) ہی عشقِ حقیقی کا سرچشمہ ہے۔ عشقِ مجازی سے ہی عشقِ حقیقی پیدا ہوتا ہے۔ 
جے چر نہ عشقِ مجازی لاگے                               سوئی سیوے نہ بن دھاگے
عشقِ مجازی داتا ہے                                                   جس پچھے مست ہو جاتا ہے
ترجمہ: اگر عشقِ مجازی (عشقِ مرشد) نہیں ہوتا تو انسان خدا تک نہیں پہنچ سکتا ۔جس طرح سوئی دھاگے کے بغیر سلائی نہیں کر سکتی اسی طرح عشقِ مجازی یعنی عشقِ مرشد کے بغیر عشقِ حق تعالیٰ تک نہیں پہنچا جاسکتا۔
میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
جنہاں عشق خرید نہ کیتا ایویں آبھگتے                                            عشقے باہجھ محمد بخشا کیا آدم کیا کتے
ترجمہ: جنہوں نے اس دنیا میں عشقِ حقیقی کا سودا نہ کیا ان کی زندگی فضول اور بے کار گزری۔ عشقِ حقیقی کے بغیر انسان اور کتے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ 
حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
گرد مستاں گرد، گرمے کم رسد بوئے رسد                                بوئے او گر کم رسد ‘ رویتِ ایشاں بس گرد است
ترجمہ: عاشقوں کے گرد مستانہ وار گھومتا رہ۔ اگر عشق کی شراب نہ بھی ملے تو کم از کم اس کی بو تو حاصل ہو جائے گی۔ اگر یہ بھی نہ ملے تو ان کا دیدار ہی کافی ہے۔ 
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نور الہدیٰ کلاں میں فرماتے ہیں:

زیں مراتب عاشقاں مذکور شد                                            ابتدا ہم نور آخر نور شد
ترجمہ: عاشق کا مرتبہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ان کی ابتدا بھی نور اور انتہا بھی نور ہوتی ہے۔
محکم الفقر امیں آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’جان لو فقیر دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک سالک دوسرا عاشق۔ سالک صاحبِ ریاضت و مجاہدہ ہوتا ہے اور عاشق صاحبِ راز و مشاہدہ۔ سالک کی انتہا عاشق کی ابتدا ہوتی ہے۔ عاشق کی خوراک مجاہدہ اور نیند مشاہدہ ہوتی ہے۔ ‘‘
باھُو عشق را بام بلند است اسمِ اللہ نردبان                                        ہر مکانے بے نشانے می برد در لامکان
ترجمہ: اے باھُو عشق بڑا بلند مقام ہے۔ اس تک پہنچنے کے لیے اسمِ اللہ (تصور اور ذکر اسمِ اللہ ذات) کی سیڑھی استعمال کر۔ وہ تجھے ہر منزل و مقام بلکہ لامکان تک پہنچا دے گی۔
ایمان سلامت ہر کوئی منگے، عِشق سلامت کوئی ھُو
منگن اِیمان شرماون عشقوں، دِل نوں غیرت ہوئی ھُو
جس منزل نوں عشق پچاوے، اِیمان نوں خبر نہ کوئی ھُو
میرا عشق سلامت رکھیں باھُوؒ ، اِیمانوں دیاں دھروئی ھُو
ترجمہ: ایمان کی سلامتی تو ہرکوئی طلب کرتا ہے لیکن عشق کی نعمت اور سلامتی کوئی کوئی ہی طلب کرتا ہے ۔ یہ طالبانِ دنیا و عقبیٰ ہیں جو صرف ایمان کی سلامتی کے طلب گار ہیں اور عشقِ الٰہی سے ڈرتے ہیں کیونکہ یہ کوئی آسان راستہ نہیں ہے۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر میرے دِل کے اندر غیرتِ فقر و عشقِ الٰہی اجاگر ہو رہی ہے حالا نکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جن منازل و مقامات تک عشق کی رسائی ہے ایمان کو اُس کی خبر تک نہیں ہے۔ آخری مصرعہ میں آپؒ دعا گو ہیں کہ میرے عشق کو سلامت رکھنااور مجھے استقامت عطا کرنا کیونکہ یہ عشق مجھے ایمان سے زیادہ عزیز اور محبوب ہے۔
عشق وہ طاقتور ترین جذبہ ہے جو ظاہر و باطن میں موجود تمام محبتوں پر حاوی آجاتا ہے اور انہیں جلا کر راکھ کر دیتا ہے اور اس دل میں صرف اپنے محبوبِ حقیقی کا جلوہ باقی رہ جاتا ہے۔ محبوب کی محبت میں محب اپنا گھر بار‘ اپنی جان تک لٹا دیتا ہے۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس عشقِ حقیقی کی زندہ اور اعلیٰ ترین مثال ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے عشق کے میدان میں جست لگائی اور اپنی ہمت و فضلِ الٰہی سے اس میدان کی ہر بازی اور ظاہر و باطن کی ہر آزمائش اپنی قوتِ عشق سے جیت لی۔ دراصل عشق کی قوت ہی راہِ فقر میں آنے والی تمام آزمائشوں سے گزرنے کے لیے صبر‘ ہمت‘ استقامت کی قوتیں فراہم کرتی ہے۔ اسی عشق کی وجہ سے محب اپنے محبوب کی ہر خواہش و خوشی کو اپنی ذات کے آرام و سکون سے بڑھ کر جانتا ہے اور پھر اس کی خوشی کی خاطر اپنا تمام چین و سکون‘ مال اسباب‘ ہر خوشی‘ ہر خواہش اس کے قدموں میں ڈھیر کر دیتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس عشقِ مرشد میں اس طرح گم ہوئے کہ اپنی ذات کا کوئی ہوش ہی نہ رہ گیا۔ دوستوں کی دوستی‘ امرا کی محفلیں‘ رشتے داریاں سب کچھ چھوٹ گیا حتیٰ کہ کھانے پینے پہننے اوڑھنے کی بھی فکر نہ رہ گئی۔ ہر دم مرشد کی خوشی اور سکون کی فکر رہنے لگی۔ ان کے دیدار کی تمنا کے سوا ہر تمنا مٹ گئی۔ ایک ہی فکر کہ کس طرح مرشد پاک کو راضی کیا جائے۔ ان کی ایک مسکراہٹ اور محبت بھری نگاہ کی خاطرجان تک لٹانے کو تیار رہتے۔
مرشد پاک بھی آپ کے عشق سے بخوبی واقف تھے کہ طالب کے دل کی ہر حالت مرشد پر عیاں ہوتی ہے لیکن پھر بھی دوسرے لوگوں پر اور روزِ قیامت اِتمامِ حجت کے لیے عاشق صادق کی آزمائش ضروری ہوتی ہے۔ عموماً مرشد کامل مریدِ صادق کو ان آزمائشوں سے گزارتا ہے جن کے ذریعے آزمائش کے ساتھ ساتھ اس کی تربیت بھی ہو جائے اور اس کے عشق کی سچائی کا ثبوت بھی مل جائے۔
آپ مدظلہ الاقدس کے عشق کی سچائی نے آپ کو ہر آزمائش اور ہر امتحان میں سرخروئی عطا کی۔ مرشد کا کرم اور اللہ کا فضل بھی طالب کے عشق اور صدق کے مطابق ہی طالب کے شاملِ حال ہوتا ہے اور آپ مدظلہ الاقدس کے بے پایاں عشق و صدق کی بدولت اللہ کا فضل اور مرشد کا کرم بھی آپ مدظلہ الاقدس پر بے حساب تھا۔ پس آپ ہر آزمائش میں کامیاب ہوتے گئے اور محبوبیت کی منازل طے کرتے کرتے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہوگئے۔ مرشد سے عشق اور مرشد کی ذات میں فنا ہونے کے متعلق آپ مدظلہ الاقدس خود تحریر فرماتے ہیں:
* میں ہو ں کون۔۔۔۔۔۔میں کیا اور میری ذات کیا؟ اور زندگی کا مقصد صرف دنیا تک محدود! ۔۔۔۔۔۔ شب و روز یکساں۔۔۔۔۔۔ صرف ضروریاتِ زندگی کا حصول مقصدِ حیات ۔۔۔۔۔۔ انسان کے مقصدِ حیات سے بے خبر دنیاوی زندگی کو خوشحال اور آرام دہ بنانے کی جدوجہد۔۔۔۔۔۔زیادہ سے زیادہ دنیاوی مال و متاع میں اضافہ کرنے کی فکر۔۔۔۔۔۔ یہ تھی میری زندگی ۔۔۔۔۔۔ ایک دِن اللہ پاک کی نگاہِ رحمت ۔۔۔۔۔۔ اس گناہ گار پر پڑی ۔۔۔۔۔۔ اور تقدیر نے پکڑ کر سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیرحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں پہنچا دیا ۔۔۔۔۔۔ نگاہ سے نگاہ ملی ۔۔۔۔۔۔ دنیا بدل گئی۔۔۔۔۔۔یار نے یار کو پہچان لیا ۔۔۔۔۔۔ 12 اپریل 1998ء (15ذوالحجہ1418ھ ) اتوار کی شام ۔۔۔۔۔۔ بعد نمازِ مغرب ۔۔۔۔۔۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پربیعت کرکے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی غلامی کا طوق گلے میں ڈالا۔۔۔۔۔۔ میری زندگی کا سب سے پُرمسرت اور قیمتی لمحہ یہی تھا۔۔۔۔۔۔ آپ کی نگاہ پڑی اور میری زندگی کا زاویہ نظر تبدیل ہو گیا۔
آہستہ آہستہ دنیا کے شکنجے سے نکال کر آپ رحمتہ اللہ علیہ نے حقیقت سے روشناس کرایا۔ 12 اپریل 1998سے 26دسمبر2003ء ۔۔۔۔۔۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے وصال تک ظاہری ساتھ رہا ۔ پھر آپ رحمتہ اللہ علیہ اسمِاللہ ذات کی امانت اس خادم کے سپرد کرکے عالمِ جا ودانی کی طرف رخصت فرما گئے۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ کی غلامی ہی میری زندگی کا اصل حاصل ہے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی میں میری یہ حالت ہوتی تھی کہ دس پندرہ دِن تک آپ رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات نہ ہو تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ جسم سے روح نکل چکی ہے، دِل میں نورِ ایمان کم ہوتا محسوس ہو تا اور دنیا کی لذّتیں اپنی طرف کھینچنے لگتیں لیکن آپ رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہی دِل میں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت کا ایک سمندر موجزن ہو جاتا، دنیا اور خواہشاتِ دنیا سے نفرت محسوس ہونے لگتی تھی۔
یک زمانہ صحبت با اولیا                             بہتر از صد سالہ عبادت بے ریا
پھر عشق بڑھتا گیا۔ جوں جوں عشق کی تپش میں اضافہ ہوتا گیا دنیا کی ہر شے سے بے نیازی سی ہو گئی۔
عاشق شوہدے دِل کھڑایا، آپ وی نالے کَھڑیا ھُو
کھڑیا کھڑیا ولیا ناہیں، سنگ محبوباں دے رَلیا ھُو
عقل فِکر دیاں سب بُھل گیاں، جد عشقے نال جاِ ملیا ھُو
میں قربان تنہاں توں باھوؒ ، جنہاں عشق جوانی چڑھیا ھُو
ترجمہ:عاشق بیچارے نے پہلے تو عشق میں دل گم کر دیا۔ اس کے بعد خود بھی عشقِ محبوب میں گم ہو گیا اور ایسا گم ہوا کہ پھر واپس نہیں آیا اور گروہِ محبوبین میں شامل ہوگیا۔ جب سے عشق سے ملاقات ہوئی ہے سب عقل و فکر بھول چکا ہے۔ اے باھُوؒ ! میں ان کے قربان جاؤں جن کا عشق اپنی انتہا کو پہنچ گیا اور انہوں نے محبوب کو پالیا۔
اور جب عشق کی آگ اپنی انتہا کو پہنچی تو آپ رحمتہ اللہ علیہ کی اصل حقیقت کی پہچان ہوگئی پھر میں۔۔۔میں نہ رہا، عشق کی آگ میں خود کو گم کر بیٹھا ۔ جب عشق کی آگ میں گم ہوا تو میری اپنی ذات یا ہستی بھی عشق کی اس آگ میں گم ہو کر فنا ہو گئی۔
بلھے شاہؒ دی ذات نہ کائی                                میں شوہ عنایت پایا اے
(مجتبیٰ آخر زمانی ، سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی ؒ حیات و تعلیمات)
اور یوں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اپنے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی ذات میں فنا ہو گئے اور اُن کی تصویر بن گئے۔
آپ مدظلہ الاقدس کے مرشد پاک نے آپ کو کئی بار آزمایا ۔ باطنی آزمائشوں کے بارے میں تو اللہ اور اس کا طالب ہی بہتر جانتے ہیں لیکن ظاہری طور پر بھی آپ ہی مرشد کی نگاہ کا مرکز بن گئے۔ مرشد نے جو بھی ڈیوٹی آپ مد ظلہ الاقدس کے ذمہ لگائی آپ مدظلہ الاقدس نے سرِ تسلیم خم کر دیا ۔ آپ مد ظلہ الاقدس کے بارے میں سلطان الفقرششم رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا ’’نجیب بھائی کا تو یہ حال ہے کہ ’’سرِتسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے۔‘‘ آپ مد ظلہ الاقدس نے کبھی کسی مالی اور بدنی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ زندگی بھر کی جمع پونجی مرشد پاک کے قدموں پر نچھاور کر دی ۔ رات رات بھر بیدار رہ کر مرشد کی خدمت کی اور ان کی دی گئی ڈیوٹیوں کو نبھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔
بیعت ہوتے ہی سب سے پہلی تبدیلی آپ مدظلہ الاقدس میں یہ آئی کہ آپ گئے تو کلین شیو تھے لیکن دیدارِ مرشد کے بعد ان کی اتباع و پیروی میں ریش مبارک بڑھا لی اور پینٹ شرٹ، کوٹ پتلون وغیرہ کا استعمال ترک کر دیا۔ مرشد کی جانب سے بھی آپ مدظلہ الاقدس کو پہلے دن ہی محبوبیت کا درجہ حاصل ہو گیا۔ آپ مدظلہ الاقدس روایت کرتے ہیں کہ جب آپ بیعت کے لیے بارگاہِ مرشد میں تشریف فرما تھے تو وہاں سے اٹھتے ہوئے اچانک آپ کی قمیض کا کونہ آپ کے پیر مبارک میں اٹک گیا جس کی وجہ سے آپ گرنے لگے۔مرشد پاک نے فوراً محبت سے فرمایا’’ بسم اللہ۔ بسم اللہ۔‘‘ اس محبت کا اظہار مرشد پاک نے اس وقت فرمایا جب ابھی آپ مدظلہ الاقدس بیعت بھی نہ ہوئے تھے۔ بیعت کے بعد تو محبوبیت کے مراتب کی کوئی انتہا نہ رہی۔
محرمِ راز اور وراثِ امانتِ الٰہیہ کے بارے میں علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
پرورش پاتا ہے تقلید کی تاریکی میں                                        مگر اس کی طبیعت کا تقاضا ہے تخلیق
اس شعر کا مفہوم اس طرح سے ہے کہ جو طالب محرمِ راز اور وارثِ امانتِ الٰہیہ کے طور پر منتخب کیا جا چکا ہوتا ہے اس کی تربیت ظاہری طور پر اسی طرح ہو رہی ہوتی ہے جس طرح مرشد کے حلقۂ ارادت میں دوسرے مریدین کی ہوتی ہے لیکن باطنی طور پر اس کی تربیت کا انداز دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔ اگر محرمِ راز اور وارثِ امانتِ الٰہیہ کی پہچان حاصل کرنی ہو تو یہ دیکھو اور معلوم کرو کہ مرشد کے حلقۂ ارادت میں کس طالب یا مرید کے آنے کے بعد وہ امور‘ کام اور معاملات شروع ہوئے جو اس کے آنے سے قبل نہ ہوتے تھے۔ چونکہ اس کی فطرت میں تخلیقی قوتیں ہوتی ہیں اور بہت سے باطنی معاملات صرف اسی کے لیے مخصوص ہوتے ہیں اس لیے اسے مرشد کے حلقۂ ارادت میں نئے امور اور معاملات کے آغاز میں اوّلیت حاصل ہوتی ہے۔ اگر اس نقطۂ نظر سے ہم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس کو اپنے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے حلقۂ ارادت میں دیکھیں تو آپ ہی وارثِ امانتِ الٰہیہ نظر آتے ہیں۔ ذیل کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ بہت سے امور کو اپنے مرشد کے حلقۂ ارادت میں آپ مد ظلہ الاقدس نے ہی شروع فرمایا۔
 سونے کے اسمِ اللہ ذات آخری بار شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان سیّد محمد بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے 1934ء میں تیار کروائے تھے اس کے بعد نہ تو سلطان الاولیاحضرت سخی سلطان محمد عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ کے دور میں اور نہ ہی1999ء سے پہلے سلطان العاشقین کے دستِ بیعت ہونے تک سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے حلقۂ ارادت میں اس کا ذکر ہوا۔ سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ نے آپ مد ظلہ الاقدس کی آمد(12اپریل 1998ء) سے قبل سونے کے اسمِ اللہ ذات کانام تک نہ لیا تھا اور نہ بنوائے تھے۔ یہ سعادت سلطان العاشقین کے نصیب میں ہی تھی اس لیے آپ مد ظلہ الاقدس کی سلطان الفقر کی بارگاہ میں آمد کے بعد ہی سونے کے اسمِ اللہ ذات بننے شروع ہوئے۔ اس سے پہلے چھپے ہوئے (Printed) اسمِ اللہ ذات عطا کیے جاتے تھے۔ آپ مدظلہ الاقدس شروع سے لے کر آخر تک چھپے ہوئے (Printed) اور سونے کے اسمِ اللہ ذات بنانے کی ڈیوٹی ادا کرتے رہے اور سلطان الفقررحمتہ اللہ علیہ کے وصال تک آپ یہ ذمہ داری احسن طریقہ سے ادا کرتے رہے۔ وصال سے چند لمحے قبل بھی آپ ؒ نے فون کرکے آپ مدظلہ الاقدس سے اس ڈیوٹی کے متعلق پوچھا تھا ۔ اس گفتگو کی تفصیل سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے حیات پاک پر لکھی گئی کتاب ’’صاحبِ لولاک‘‘(بارِاوّل اگست 2004ء ) کے صفحہ274 پریوں درج ہے’’آپ رحمتہ اللہ علیہ نے آخری لمحات میں لاہور میں ہمارے ساتھی نجیب الرحمن صاحب سے اسمِ اللہ ذات کے متعلق پوچھا جو لاہور میں سونے کے اسمِ اللہ ذات تیار کرواتے ہیں ۔ان دِنوں آپ رحمتہ اللہ علیہ کو گھر سے اپنے والد مرشد کے زمانے کے دو پرانے اسمِ اللہ ذات ملے تھے۔ آپ اللہ نے نجیب الرحمن صاحب سے کہا کہ اسی طرح کے اسمِ اللہ ذات ہمارے لیے بھی تیار کروائیں۔ پھر پوچھا کتنے دِن لگیں گے؟ پھر کہا ’’جلدی پہنچاؤ ہمیں ضرورت ہے۔‘‘
* سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے علاوہ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے کسی بھی مرید کو اسمِ محمد کا تصور عطا نہیں فرمایا ۔ آپ مدظلہ الاقدس حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے حلقۂ ارادت میں واحد طالبِ مولیٰ تھے جنہیں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے وصال سے قبل 6دسمبر2003ء کو محسن سلطان کے گھر میں اسمِ محمد عطا فرمایا۔ یہ وہی اسمِ محمد تھا جوحضرت سخی سلطان محمد عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ کو ان کے مرشد شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے عطا فرمایا تھا اور انہوں نے اپنے فرزند و روحانی وارث سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کو عطا فرمایا ۔ پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے جو اسمِ محمد سلطان محمد عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ کو عطا فرمایا وہی انہوں نے سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کو منتقل کیا اور وہی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو عطا کیا۔ یہ اسی بات کی نشانی اور دلیل ہے کہ پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے جو امانتِ فقر سلطان محمد عبد العزیزرحمتہ اللہ علیہ کو عطا کی ، وہ انہوں نے سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کو منتقل کی اور انہوں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے سپرد فرمائی۔ یہ اسمِ محمد اب بھی آپ مدظلہ الاقدس کے پاس محفوظ ہے۔ اسمِ محمد عطا کرنے کے بعد سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو اسی طرح کے سونے کے اسمِ محمد بنوانے کا حکم بھی دیا تاکہ اور طالبانِ مولیٰ کو عطا کیے جاسکیں۔آپ مدظلہ الاقدس سے فون پر آخری گفتگو بھی آپ کے مرشد پاک نے اسمِ اللہ ذات اور اسمِ محمد کی تیاری کے متعلق ہی فرمائی تھی اور فرمایا’’اسمِ اللہ ذات اور اسمِ محمد کی حفاظت کرنا اور اب اسمِ اللہ ذات اور اسمِ محمد تمہارے حوالے ہے۔‘‘(سلطان الفقرششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ حیات و تعلیمات)
* سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہی وہ اوّلین طالبِ مولیٰ ہیں جن کو آپ کے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے سلطان الاذکار ذکرِ’ھو ‘عطا فرمایا تھا۔ آپ سے قبل سلطان الفقرششم رحمتہ اللہ علیہ اپنے مریدوں کو بیعت کے بعد اسمِ اللہ ذات کا پہلا ذکر ’’ اللہ ھو‘‘ عطا فرمایا کرتے تھے۔یہی آپ مدظلہ الاقدس سے قبل تمام مشائخ سروری قادری کا طریقہ کار تھا کہ ذکر اسم اللہ ذات باطنی ترقی کے مطابق چار منازل (اللہ ،لِلّٰہ، لَہٗ اور ھُو) میں عطا کیا جائے۔ ذکرِ ھُو کی منزل تک صرف خالص اور اعلیٰ ترین روحانی درجہ کا طالب ہی پہنچ سکتا تھا۔ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے حلقۂ ارادت میں سب سے پہلے اور جلد اس منزل پر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہی پہنچے۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنی بیعت کے دوسرے سال ہی ذکر اسم اللہ ذات کی تمام منازل طے فرما کر سلطان الاذکار ’’ھُو‘‘ تک پہنچ گئے حالانکہ آپ سے قبل سلطان الفقر ششم رحمتہ اللہ علیہ کے بعض ایسے مرید بھی موجود تھے جو بیس بیس سال سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے بیعت تھے اور ذکر اسم اللہ ذات کی پہلی منزل سے ہی آگے نہ بڑھ پائے تھے۔
* سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے وصال سے قبل 12رمضان المبارک سے25رمضان المبارک 1424ھ تک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے ہاں مصطفی ٹاؤن میں قیام فرمایا حالانکہ اس سے قبل آپ رحمتہ اللہ علیہ رمضان المبارک میں کہیں تشریف نہ لے جاتے تھے۔ اس قیام کے دوران 17رمضان المبارک بمطابق 12 نومبر 2003 ء آپ رحمتہ اللہ علیہ نے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو طالبانِ مولیٰ کو سونے کے اسمِ اللہ ذات‘ ذکر’ھُو‘ اور مشقِ مرقومِ وجودیہ عطا کرنے کی اجازت بھی عطا فرما دی جو کہ اس سے پہلے اپنے کسی اور خلیفہ کو نہ دی تھی۔ دوسرے خلفا اسم اللہ ذات کی صرف پہلی منزل کا ذکر عطا کر سکتے تھے، سلطان الاذکار ھُو نہیں۔ مرشد کامل سلطان الفقرششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی ہدایت کے مطابق آپ مدظلہ الاقدس نے طالبانِ مولیٰ کو سونے کا اسمِ اللہ ذات اور سلطان الاذکار ’ھُو‘ ان کی حیات مبارکہ میں ہی عطا کرنا شروع فرما دیا تھا۔ 
* سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ نے آپ مدظلہ الاقدس کو ماہنامہ مرآۃ العارفین کی اشاعت کے لیے منتخب کیا حالانکہ آپ مدظلہ الاقدس نے یا آپ کے خاندان میں کسی نے صحافت کا کام پہلے نہیں کیا تھا۔ لیکن آپ مدظلہ الاقدس نے محبت، خلوص اور جد و جہد سے اس کام کا آغاز کیا اور اپریل2000میں ماہنامہ مرآۃ العارفین کا پہلا شمارہ منظرِ عام پر آیا۔ آپ ابو المرتضیٰ کی کنیت سے، جو سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ نے محبت سے آپ مدظلہ الاقدس کوعطا کی تھی ، رسالہ کے مدیرِ اعلیٰ کے فرائض سر انجام دیتے رہے اور اگست2004تک بڑی کامیابی سے اس رسالہ کو فقر کی تعلیمات اور سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ کی ہدایت کے مطابق چلاتے رہے۔
* نومبر2001ء میں سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ نے آپ مدظلہ الاقدس کو نشرو اشاعت کی ذمہ داری دی اور مکتبہ العارفین کے قیام کا حکم فرمایا ۔ آپ مد ظلہ الاقدس نے اس ڈیوٹی کو بھی بڑی حسن و خوبی کے ساتھ نبھایا۔ مکتبہ العارفین اپریل2002ء میں بڑی شان کے ساتھ ظاہر ہوا اور اس کے زیرِ اہتمام آپ مدظلہ الاقدس نے گلدستہ تعلیماتِ سلطان باھوؒ ، ابیاتِ باھوؒ ، سوانح حیات سلطان باھوؒ ، رسالہ روحی شریف، حقیقتِ اسمِ اللہ ذات، گلدستہ ابیات و مناجات پیر محمدبہادر علی شاہؒ شائع کیں جو بہت مقبول ہوئیں۔ سلطان الفقر ؒ کے وصال تک مکتبہ العارفین آپ مدظلہ الاقدس ہی کے پاس تھا۔ اس کے علاوہ آپ مدظلہ الاقدس نے ایجوکیشن ٹاؤن میں اپنا گھر اور سات مرلہ زمین بھی مکتبہ العارفین کے دفتر کے لیے دے دی۔ 23 اکتوبر 2009ء سے وہاں خانقاہ سلسلہ سروری قادری اور تحریک دعوتِ فقر (رجسٹرڈ) کے دفاتر قائم ہیں۔
* جب آپ مدظلہ الاقدس بیعت ہوئے تو سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے لیے صرف سفید کرتا اور سفید تہبند (K.T کے کپڑے) سلائے جاتے تھے اور سردیوں میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے لیے کالے رنگ کی عام اور معمولی سی جرسی (Cardigan) خریدی جاتی تھی۔ ان معمولی کپڑوں میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کا حسن و جمال چھپ جاتا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنی عمر سے زیادہ عمر کے نظر آتے۔ اگست 1998 ء کا مہینہ تھا۔ ایک محفل میں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:
’’شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ جب دربار سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ پر معتکف تھے تو آپ رحمتہ اللہ علیہ کو ایک دن سلطان العارفین نے فرمایا پیر صاحب! اب آپ سروری قادری فقیر ہیں۔ اعلیٰ لباس زیبِ تن کیا کریں اور نر (یعنی اعلیٰ) گھوڑے پر سواری کیا کریں۔ ‘‘
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے جب یہ بات سنی تو سردیوں کے لیے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے گرم اونی اعلیٰ قسم کے مختلف رنگوں میں پندرہ جوڑے تیار کروائے اور آکسفورڈ‘ بونینزا کی اعلیٰ قسم کی مختلف ڈیزائن کی جرسیاں (Cardigan) خریدیں۔ جب آپ مدظلہ الاقدس یہ کپڑے تیار کروا رہے تھے تو آپ کو بہت ڈرایا گیا کہ مرشد پاک اس قسم کے کپڑے نہیں پہنیں گے بلکہ ناراض ہوں گے۔ لیکن آپ نے فرمایا کہ میرے دل کی کیفیت سے وہ باخبر ہیں، جیسا ہوگا دیکھا جائے گا۔ ستمبر 1998ء میں آپ یہ کپڑے لے کر دادووال (دینہ جہلم) پہنچے جہاں سالانہ سفر کے دوران سلطان الفقر ششم رحمتہ اللہ علیہ کا قیام تھا۔ جب تمام کپڑے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں پیش کیے گئے تو آپ رحمتہ اللہ علیہ کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا اور جس سوٹ کو ساتھیوں نے سب سے زیادہ ناپسند کیا تھا‘ اسی پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنے خلیفہ سے فرمایا ’’غسل کا انتظام کرو،غسل کے بعد ہم یہی سوٹ پہنیں گے۔‘‘ اس دن کے بعد سے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس نے وصالِ مرشد تک یہ ذمہ داری نبھائی کہ آپ مدظلہ الاقدس سلطان الفقر ششم کے سردیوں میں گرم کپڑے اور گرمیوں میں کاٹن کے کپڑے اور مختلف تہواروں اور محافل مثلاً عید الفطر‘ عید الاضحی عید میلاد النبیؐ‘ اپریل میں دربار پاک کی اور ستمبر میں اوچھالی (بعد میں انگہ) کی محافلِ میلاد کے لیے‘ عرس سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ ‘عرس پیر بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ اور عرس سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ پر پہننے کے لیے تمام کپڑے اور اعلیٰ درجے کے کھسے اپنی نگرانی میں تیار کرواتے۔اس ڈیوٹی کو نبھاتے ہوئے اپنی ذات کو اس حد تک فراموش کر دیا کہ عرصہ دراز گزر جاتا اور اپنے لیے کپڑے سلوانے کا کوئی خیال ہی نہ رہتا۔
ایک مرتبہ سلطان الفقر ششم رحمتہ اللہ علیہ پیشاب کی تکلیف کے چیک اپ کے سلسلے میں لاہور تشریف لائے اور حسبِ روایت داروغہ والا تشریف لے گئے۔اگلے دِن صبح ڈاکٹر فتح محمد مرحوم کے کلینک پر آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مختلف ٹیسٹ ہوئے اور کلینک ہی سے ٹیسٹوں کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنے خادمِ خاص سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس کے گھر تشریف لے آئے اس طرح خلیفوں کو آپ رحمتہ اللہ علیہ کا سامان داروغہ والا سے لانے کا موقع نہ ملا۔ ان کا خیال تھا کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ ٹیسٹ کروانے کے بعد واپس داروغہ والا آجائیں گے کیونکہ شام کو تمام ٹیسٹوں کی رپورٹس آنی تھیں۔ اس دن تین بجے کے قریب آپ رحمتہ اللہ علیہ نے غسل فرمایا اور پہننے کے لیے دوسرے کپڑے مانگے تو خلیفوں سے پتہ چلا کہ سامان تو ابھی داروغہ والا میں ہے۔ خلیفوں نے آپ مد ظلہ الاقدس کو کہا کہ اپنا کرتہ اور تہبند دے دیں ،آپ نے کہا کہ میرے پاس تہبند تو نہیں کرتہ شلوار ہے۔ آپ مد ظلہ الاقدس نے وہ پیش کر دیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے وہ زیبِ تن فرما لیا اور ڈاکٹر فتح محمد مرحوم کے کلینک تشریف لے گئے اور خلیفوں سے کہا کہ سامان داروغہ والا سے منگوا لیں آج ہی واپسی ہے۔ 
کلینک میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمدنجیب الرحمن مدظلہ الاقدس‘ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا’’ بھائی نجیب الرحمن! یہ کون سا کپڑا ہے جو آج ہم نے پہنا ہے‘‘؟ آپ مدظلہ الاقدس نے عرض کی ’’حضور کرنڈی ہے۔‘‘ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس موقع پر فرمایا ’’بھائی نجیب الرحمن! آپ نے ہمیں ہر رنگ‘ ہر کوالٹی (بلکہ آپؒ نے فرمایا کہ ہر نسل) اور ہر طرح کے کپڑے پہنائے ہیں اور یہ تم نے خلوصِ دل سے کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری پیشانی پر بخت لکھ دیئے ہیں۔‘‘
* سروری قادری مشائخ کی یہ رِیت ہوتی ہے کہ کسی علاقہ ‘شہر یا گاؤں میں پہلی بار جب جائیں اور جس گھر میں قیام کریں پھر ہمیشہ اُن کا قیام اسی گھر میں ہوتا ہے۔ سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی بھی یہی ترتیب اور معمول تھا۔ جب آپ رحمتہ اللہ علیہ پہلی بار لاہور تشریف لائے تو داروغہ والا میں محمد الیاس کے گھر قیام فرمایا اور پھر لاہور آنے پر ہمیشہ اسی گھر میں قیام فرماتے۔ اس وقت سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس بیعت نہیں ہوئے تھے۔آپ مدظلہ الاقدس12اپریل1998کو بیعت ہوئے، اپریل 1999ء میں مصطفی ٹاؤن میں اپنے نئے گھر میں منتقل ہوئے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اس گھر میں دوسری منزل پر ایک کمرہ خاص طور پر اپنے مرشد پاک کے لیے بنوایا تھا۔ وہ کمرہ اتنی محبت سے بنایا گیا تھا کہ اس میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ضرورت اور سہولت کی ہر چیز موجو د تھی۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے اپریل 1999ء میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے لیے گرمیوں کے کپڑے تیار کروالیے تھے لیکن معمول کے مطابق آپ رحمتہ اللہ علیہ کو نہیں بھجوائے تھے ۔ آپ مدظلہ الاقدس نے باطنی طور پر آپ رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں عرض کی ’’یہ عاجز آپ کی ترتیب کو جانتا ہے۔ بے شک آپ جب بھی لاہور تشریف لائیں تو پہلے داروغہ والا ہی تشریف لے جائیں لیکن اس کے بعد اس عاجز کے گھر میں اس کمرہ میں آرام فرما ہوں۔ اس بار جب آپ لاہور آئیں گے اور اس کمرہ میں آرام فرما ہوں گے تب ہی یہ کپڑے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں پیش کروں گا۔‘‘ 8مئی 1999 کو آپ رحمتہ اللہ علیہ لاہور تشریف لائے اور ترتیب کے مطابق محمد الیاس کے گھر تشریف لے گئے جہاں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے صبح کے ناشتہ کی دعوت آپ رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں پیش کی تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے قبول فرمائی۔9مئی کو آپ رحمتہ اللہ علیہ صبح تقریباً 11بجے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے گھر اپنے کمرے میں تشریف لائے تو کمرہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور تمام خاص ساتھیوں کو بلا کر کمرہ دکھاتے رہے ۔ ناشتہ کرنے کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ نے خلیفوں کو غسل کی تیاری کا حکم دیا اور سلطان العاشقین کی طرف دیکھ کر فرمایا:
’’بھائی نجیب! ہمارے کپڑے کہاں ہیں‘‘
آپ مدظلہ الاقدس نے کپڑے پیش کیے تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے تمام کپڑوں کو پسند فرمایااور ایک سوٹ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا’’ آج غسل کے بعد یہ پہنیں گے۔‘‘ پھر یہ معمول بن گیا کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ جب بھی لاہور تشریف لاتے حسبِ رِیت داروغہ والا تشریف لے جاتے اور ایک رات کے قیام کے بعد مصطفی ٹاؤن سلطان العاشقین کے گھر تشریف لے آتے اور پھر جتنے دِن بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ کا لاہور میں قیام ہوتا اسی کمرے میں ہوتا اور واپسی بھی یہیں سے ہوتی ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک بار فرمایا تھا ’’ہمیں یا تو دربار پاک پر اپنے کمرے میں آرام اور سکون ملتا ہے یا بھائی نجیب الرحمن کے گھر اپنے اس کمرے میں۔‘‘مرشد پاک جب تک اس کمرے میں قیام پذیر رہتے آپ مدظلہ الاقدس دِن میں کئی کئی بار سیڑھیاں چڑھ کر اس کمرے کے چکر لگاتے اور اگر وہ نہ ہوتے تو کئی کئی دِن اوپر نہ جاتے۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے دعوتِ فقر کے مشن کا آغاز اسی کمرے سے فرمایا اور 23اکتوبر 2009 تک آپ مدظلہ الاقدس اسی کمرہ میں مریدین اور طالبوں سے ملاقات فرماتے رہے۔ 14 اگست 2005 ء میں بیعت اور اگست 2006 ء میں ماہنامہ سلطان الفقر لاہور کا آغاز بھی مرشد پاک کے اس مبارک کمرے سے فرمایا اور اب آپ مدظلہ الاقدس کا کمرہ خاص یہی کمرہ ہے۔

خدماتِ مرشد

آپ مدظلہ الاقدس نے اپنی پوری زندگی، مال و دولت ، آرام و آسائش اپنے مرشد کی خدمت میں وقف کر دیا۔ جو دولت کمائی بیعت کے کچھ عرصہ میں ہی مرشد پر نچھاور کردی اور پھر جو بھی کمایا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے کمایا، کچھ بھی پاس نہ رکھا۔ ذیل میں آپ مدظلہ الاقدس کی خدماتِ مرشد کے چند واقعات پیش کیے جا رہے ہیں:
* دسمبر1998 ء میں ایک بار سلطان الفقرحضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ گھوڑا خریدنے کے لیے لاہور تشریف لائے۔ اس وقت آپ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک لاکھ کی رقم کم پڑگئی تو سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اور محمد الیاس مطلوبہ رقم آپ رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لیے گھر سے لینے چلے گئے۔ سوئے اتفاق دونوں ایک ہی وقت رقم لے کر سلطان الفقر ششم ؒ کی بارگاہ میں واپس پہنچے اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں اس رقم کو پیش کیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی رقم دائیں اور محمد الیاس کی رقم بائیں ہاتھ میں پکڑ لی اور اپنے مرشد سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کا ایک واقعہ سنایا ’’ ایک بار آپ رحمتہ اللہ علیہ سفر میں تھے کہ رقم ختم ہوگئی۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جو ہمیں واپسی کا کرایہ دے گا اللہ تعالیٰ اسے دولت سے مالا مال کر دے گا۔ ایک شخص نے اس زمانہ میں بیس روپے اِدھر اُدھر سے اکٹھے کر کے ان کی بارگاہ میں پیش کیے اس کے بعد وہ آدمی کروڑ پتی ہوگیا۔‘‘ اس موقع پر سلطان محمد عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ کے ایک مرید نور آصف صاحب بھی موجود تھے، انہوں نے عرض کیا کہ ان دونوں کے لیے بھی ایسی ہی دعا فرمائیں۔ آپ m نے ایک لمحہ سوچا پھر محمد الیاس کی رقم اُن کو لوٹا دی اور سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی رقم رکھ کر فرمایا ’’ ان کو دولت نہیں دینی ہے‘ ان کے لیے ہم نے کچھ اور ہی سوچ رکھا ہے۔ ہاں ان کی جو بھی جائز ضرورت ہوگی اللہ تعالیٰ اُسے پورا کرتا رہے گا اور کوئی ضرورت رکی نہیں رہے گی۔‘‘
* سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک 1982 ماڈل ٹیوٹا ہائی لکس پک اپ تھی جس میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کو سفر کے دوران بہت تکلیف ہوتی تھی ۔اس میں AC بھی نہیں تھا اور سیٹوں کی تنگی اور نیچی ہونے کی وجہ سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے پاؤں میں ورم آجاتا اور کمر میں شدید درد ہوتا۔سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے جب یہ صورتحال دیکھی تو 13 جولائی 1999 کو کراچی جا کر آپ رحمتہ اللہ علیہ کے لیے نئی 1999 ء ماڈل امپورٹڈ ٹیوٹا ہائی لکس (4×4 Double Cabin) سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ کے نام سے خریدی اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں پیش کر دی جس کے لیے خصوصی طور پر سلطان الفقر کی خواہش پر 422 نمبر الاٹ کرایا گیا کیونکہ سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اپنے مرشد پاک سلطان الاولیا حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں 422 نمبر کار پیش کی تھی۔ 
* جنوری 2000 ء میں خیبر پختون خوا کے ایک ساتھی نے صاحبزادگان کے لیے نان کسٹم پیڈ شیراڈ کار سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں پیش کی ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی اپنے اسی خادمِ خاص کے ذمہ لگائی۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے اس کی کسٹم ڈیوٹی 11 فروری 2000 ء کو ادا کر کے گاڑی سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں پیش کر دی جو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے صاحبزادہ سلطان احمد علی کو استعمال کے لیے دے دی۔
* 1999ء میں سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہمارے پاس دربار پاک کے لیے جو زمین زیر استعمال ہے اس میں سے 6-1/2 ایکڑ دوسرے صاحبزادگان کی ہے اور اب وہ اس کو فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ اگر انہوں نے یہ واپس لے کر کسی اور کو فروخت کر دی تو ہمارے دربار کی زمین تنگ ہو جائے گی اور ہمارے پاس راستہ بھی نہیں رہے گا۔ وہ فی ایکٹر ڈھائی لاکھ روپے مانگ رہے ہیں۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے زمین خریدنے کے لیے چودہ لاکھ روپے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں پیش کر دئیے۔ سلطان الفقررحمتہ اللہ علیہ نے آپ مدظلہ الاقدس سے پوچھا ’’کیا ہم یہ زمین آپ کے نام سے خریدیں؟‘‘ تو آپ مدظلہ الاقدس نے عرض کیا ’’حضور ہمیں زمینوں کی کیا ضرورت ہے یہ آپ اپنے نام سے ہی خریدیں۔‘‘ 
سلطان الفقرحضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ 17 جولائی 2000 ء کو اپنے بھائی سلطان محمد فاروق صاحب کے وصال کے بعد لاہور تشریف لائے اور لاہور سے اسلام آباد تشریف لے جارہے تھے۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ کے ہمراہ تھے۔ موٹروے پر طعام کے لیے ہوٹل پر ٹھہرے۔ ایک میز پر سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ ‘سلطان العاشقین سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اور ساجد حسین تشریف فرما تھے اور دوسری میزوں پر دوسرے ساتھی۔ ساجد حسین نے سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں زمین کی خریداری کا ذکر کیا تو سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا یہ سب بھائی نجیب الرحمن کی مہربانی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے عرض کیا’’ حضوریہ سب آپ (رحمتہ اللہ علیہ ) کی مہربانی اور فضل و عنایت ہے۔‘‘ سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ نے جواب دیا’’ انسان کی اپنی بھی تو کوئی کوشش ہوتی ہے۔ آپ نے یہ ڈیوٹی کر کے نہ صرف مجھے بلکہ میرے حضور (سلطان عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ ) اور سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کو بھی خوش اور راضی کیا ہے۔‘‘
* جولائی 2000ء میں ایک بار آپ مدظلہ الاقدس گرمیوں کے موسم میں دربار شریف تشریف لے گئے تو دیکھا کہ مرشد پاک سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ شدید گرمی میں پسینے سے شرابور ہیں اور کمرے میں ایک ہی پنکھا ہے جو لوگوں کے رش کی وجہ سے ناکافی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس فوراً واپس آئے اور ائیر کنڈیشنر (A.C) خرید کر دربار شریف پر سلطان الفقر کے کمرہ میں لگوایا۔ اس کمرہ کو کھلوانے کی اجازت کسی کو نہ تھی۔ شام کو آپ مدظلہ الاقدس نے ڈرتے ڈرتے فون کیا اور مرشد پاک سے کہا کہ حضور مجھ سے ایک غلطی ہوگئی ہے؟ مرشد پاک نے پوچھا! کون سی؟ آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا ’’ائیر کنڈیشنر لگوانے کے لیے پہلی بار آپ رحمتہ اللہ علیہ کی اجازت کے بغیر آپ کا کمرہ کھلوایا ہے۔‘‘ سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ نے خوش ہو کر فرمایا ’’بھائی نجیب الرحمن ایسی غلطی روز کیا کرو۔‘‘ اس کے بعد جب مرشد پاک جون میں اوچھالی تشریف لے گئے تو وہاں سے خود فون کر کے فرمایا کہ بھائی نجیب الرحمن یہاں اوچھالی میں بارش کے بعد بہت حبس ہوجاتا ہے، اب یہاں بھی ایک اے سی بھجواؤ تو آپ مدظلہ الاقدس نے وہاں بھی ایک اے سی لگوایا۔
یہ بھی سنت مرشد تھی۔ ایک بار سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے مرشد پاک سلطان الاولیا حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ گرمیوں کے موسم میں لیہ میں تھل کے علاقہ میں سفر میں تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے مرشد کو شدید گرمی میں پسینہ میں شرابور دیکھا تو لاہور تشریف لائے اور اپنی گاڑی فروخت کر کے ایک جنریٹر اور پیڈسٹل فین خرید کر مرشد پاک کی بارگاہ میں پیش کیا تھا۔ اس موقع کے بارے میں آپ رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے ’’جب اس پنکھے سے ہوا میرے مرشد پاک کو لگی تو سکون میرے دل کو ملا۔ ‘‘
* ایک بار کچھ ساتھیوں نے سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ حضور آپ اکیلے بغیر اسلحہ کے سارے ملک میں تبلیغی دوروں میں مصروفِ سفر رہتے ہیں، آپ رحمتہ اللہ علیہ کے کئی دشمن پیدا ہوگئے ہیں اس لیے اب ضروری ہے کہ اسلحہ ساتھ رکھا کریں اور یہ شرعی حکم بھی ہے۔ سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ نے یہ سن کر فرمایا کہ اچھا خرید لو۔ جب یہ خبرسلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس تک پہنچی تو آپ نے اپنی اٹلی کی 12بور کی پمپ ایکشن (Pumpaction) سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں پیش کردی ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے بخوشی اسے قبول کر لیا اور فرمایا ’’بھائی نجیب الرحمن آپ کا اتنا بڑا گھر ہے اس کی حفاظت کے لیے تو اسلحہ ضروری ہے‘‘ آپ مد ظلہ الاقدس نے فرمایا ’’میرے لیے مرشد کی مہربانی ہی کافی ہے۔‘‘ کچھ عرصہ بعد ساتھیوں نے تجویز پیش کی کہ ایک ساتھی کے پاس 12بور کی اٹلی کی بنی ہوئی رپیٹر( Italy made repeater gun)ہے اگر بھائی نجیب الرحمن صاحب کی گن سے اسے بدل لیں تو کوئی حرج نہیں ہوگا۔ سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بھائی نجیب الرحمن سے پوچھ کر فیصلہ کریں گے۔ جب آپ مد ظلہ الاقدس مرشد پاک سے ملاقات کرنے کے لیے کندیاں (میانوالی) پہنچے تو وہاں سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بھائی نجیب آپ سے ایک اجازت طلب کرنی ہے ؟ آپ مدظلہ الاقدس نے عرض کیا ’’حضور حکم فرمائیں‘‘ سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ’’آپ نے جو گن ہمیں دی ہے وہ اتنی بابرکت ہے کہ اب اسلحہ ہی اسلحہ جمع ہوگیا ہے اگر آپ اجازت دیں تو ہم اسے دوسری گن سے بدل لیں ‘‘ آپ مد ظلہ الاقدس نے فرمایا’’حضور یہ ہماری کہاں ہے آپ رحمتہ اللہ علیہ ہی کی ہے جس کو چاہیں عطا کر دیں۔‘‘اس موقع پر آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ’’نجیب بھائی کی مثال تو ایسے ہے ’’سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے۔‘‘
عاشقی چیست بگو بندہ جاناں بودن                                 دِل بدست دِگرے دادن و حیراں بودن
ترجمہ :عاشقی حلقہ بگوش محبوب ہونے اور اپنی رضا کو اس کی رضا کے تابع کرکے خود حیران و پریشان ہونے کا نام ہے۔
* اس کے علاوہ آپ مد ظلہ الاقدس نے ایک ٹرپل ٹو (Triple IIٰ) گن خریدنے کے لیے بھی رقم آپ رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں پیش کی۔
* اصلاحی جماعت اور عالمی تنظیم العارفین کے بیت المال کی ذمہ داریاں بھی سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ نے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے حوالے کی تھیں اور تمام رقم کا حساب کتاب آپ مد ظلہ الاقدس کے پاس ہی رہتا تھا کیونکہ رقم کے معاملہ میں آپ رحمتہ اللہ علیہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس پر ہی اعتبار کرتے تھے۔
* 2001ء میں سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے فریضہ حج کی ادائیگی کا ارادہ فرمایا اور سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سے فرمایا کہ یہ حج ہمارے اور تمہارے لیے بہت ضروری ہے۔ حج کے لیے زادِ راہ نہیں تھا۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی تمام جمع پونجی راہِ خدا میں خرچ ہوچکی تھی۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اپنی گاڑی نمبر 422 فروخت کر کے حج کے اخراجات کا انتظام کیا اور یوں 28 فروری 2001 ء سے 28 مارچ 2001 ء تک سلطان الفقر ششمرحمتہ اللہ علیہ نے اپنے عاشق و محبوبِ خاص اور دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ حج فرمایا۔ یہ بھی سنتِ مرشد تھی کیونکہ سلطان الفقر ششم رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اپنی گاڑی فروخت کر کے اپنے مرشد کے مزار کی تعمیر کے لیے رقم فراہم کی تھی۔ 
سلطان الفقر ششمرحمتہ اللہ علیہ کو پیشاب کی بہت تکلیف تھی۔ اسی بیماری نے حج کے دوران بھی بہت پریشان کیا۔ حج سے واپسی کے کچھ عرصے بعدپھر سے یہ تکلیف بڑھ گئی تو سلطان العاشقین سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر آپ رحمتہ اللہ علیہ کی شفا کی درخواست پیش کرنے تشریف لے گئے ۔پیر سیّد محمدبہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے باطنی طور پر فرما دیا کہ سلطان اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ تندرست ہو جائیں گے۔ کچھ دنوں بعد سلطان الفقر ششم تشخیص کے لیے اسلام آباد تشریف لے گئے۔ پراسٹیٹ گلینڈ کا بڑھنا تشخیص ہوا۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کو پتہ چلا تو فوراً اسلام آباد پہنچے۔
پریشانی کی حالت میں اپنے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور دست بوسی کے بعد خاموشی سے کمرے میں ایک طرف ہو کر بیٹھ گئے۔ جب تمام لوگ رخصت ہوگئے تو سلطان الفقر ششم رحمتہ اللہ علیہ نے آپ مدظلہ الاقدس کو اپنے قریب بلایا اور فرمایا’’ کیوں پریشان ہوتے ہو۔ پیر صاحب نے تمہاری عرض منظور کرلی ہے۔ دس سال پرانی بیماری کا پتہ چل گیا ہے۔ کل معمولی سا اپریشن ہوگا اور ایک دن بعد ہسپتال سے رخصت مل جائے گی۔ بھائی نجیب بیماری چونکہ ظاہر ہو چکی تھی اس لیے ظاہری علاج ضروری تھا ورنہ لوگ اسے ہماری کرامت تصور کرتے اور ہم کو یہ منظور نہیں۔‘‘ یہ بھی سنتِ مرشد تھی جو آپ مدظلہ الاقدس نے ادا کی کیونکہ سلطان الفقر ششم رحمتہ اللہ علیہ بھی ایک بار بارہ ٹالیاں جھنگ سے اپنے مرشد کی شفایابی کی عرض کرنے پیر بہادر علی شاہ کاظمی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر تشریف لے گئے تھے۔
* نومبر2001ء میں سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ نے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس کو اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کا لاہور کا سر پرست مقر ر کیا تو آپ نے تبلیغ کا منفرد طریقہ اختیار کیا اور مسجدوں کے ساتھ ساتھ بازاروں کا بھی رخ کیا۔ اس مؤ ثر اندازِ تبلیغ کی وجہ سے ہر ہفتہ ایک بس بھر کر لوگ بیعت ہونے اور اسمِ اللہ ذات کا فیض حاصل کرنے کے لیے سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ کی طرف روانہ ہوتے۔ آپ کی اس تحریک کی کامیابی کا نتیجہ یہ نکلا کہ پورے ملک کی تنظیموں نے آپ کی پیروی کرتے ہوئے یہی طریقہ کا ر اختیار کر لیا اور یوں پورے ملک میں تنظیم العارفین عملاً آپ کی قیادت میں متحد ہوگئی۔ اس طرح سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے وصال تک سلطان العاشقین سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی تبلیغ کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں نے آپ رحمتہ اللہ علیہ سے فیض پایا۔ 
* اس کے علاوہ بھی بے شمار ڈیوٹیاں مثلاً میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یا کسی بھی پروگرام کی مالی ڈیوٹی، ہر سال سلطان محمد عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ کے عرس پاک کے موقع پر دربار پاک کی چادر تیار کروانا ، روز مرہ گھریلو اور سلطان الفقررحمتہ اللہ علیہ کی ذاتی ڈیوٹیاں بھی کیں جو اختصار کی وجہ سے بیان نہیں کی جارہیں۔
یہ تو ہم نے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی عشقِ مرشد میں ادا کی گئی چند ڈیوٹیوں اور آزمائشوں کا ذکر کیا ہے،ورنہ ایسے واقعات کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ جہاں تک طالبِ صادق کے باطنی امتحانات اور آزمائشوں کا ذکر ہے تو قلب پر وارد ہونے والے امتحانات اور آزمائشوں سے یا تو محب واقف ہوتا ہے یا محبوب‘ محرم واقف ہوتا ہے یا محرم راز۔ کسی تیسرے کا یہاں گزر نہیں ہوتا۔ یہ بات یاد رہے کہ راہِ فقر میں ظاہری آزمائشوں اور امتحانات سے ہزار گنا زیادہ کڑے باطنی امتحانات اور آزمائشیں ہوتی ہیں جو احاطہ تحریر میں نہیں آسکتیں۔ ان باطنی آزمائشوں کی شدت اور قلب پر ان کے اثرات کا اندازہ کچھ حد تک غالب کے اس شعر سے لگایا جا سکتا ہے:
غالب نمازِ عشق کی قبولیت محال جب تک جگر کے خوں سے وضو نہ ہو
آپ مدظلہ الاقدس ان باطنی آزمائشوں اور امتحانات کے متعلق اکثر فرماتے ہیں’’جو باطنی آزمائشیں ہم پر گزریں اگر وہ کسی پہاڑ پر گزرتیں تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہو جاتا۔‘‘
ان تمام قربانیوں اور ذمہ داریوں کو نبھانے کے عوض آپ نے مرشد کی رضا کے سوا کبھی کسی قسم کے صلے اور جزا کی تمنا نہ رکھی ۔ اسی بے لوث محبت و خدمت کی بنا پر سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی  رحمتہ اللہ علیہ  نے آپ کو اپنے روحانی وارث کے طور پر چُن لیا جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
       اَللّٰہُ یَجتَبِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ یَّشَآئُ۔ (الشوریٰ۔13)
’’وہ جسے چاہتا ہے (اپنے خاص قرب کے لیے) چن لیتا ہے۔‘‘ 
آپ مد ظلہ الاقدس طالب سے مطلوب اور محب سے محبوب بن گئے اور سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ کی مہربانیاں آپ مد ظلہ الاقدس پر بڑھتی گئیں ۔ ظاہری طور پر آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے اس خادمِ خاص کو یوں آزمایا جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، باطن میں بھی یونہی آزمائشوں سے گزار کر فقر کی منازل طے کراتے ہوئے اعلیٰ ترین مقامات سے نوازا۔باطن کی خبر تو کسی کو نہ ہوئی لیکن ظاہر میں مرشد کی بارگاہ میں جاتے تو وہ آپ سے خصوصی محبت سے پیش آتے اور اپنے بالکل قریب بٹھاتے ۔ اگر آپ مد ظلہ الاقدس ان سے ملنے نہ جاتے تو کبھی وہ خود فون کرکے آپ مدظلہ الاقدس کو بلوا لیتے اور کبھی ناسازیٔ طبع کے باوجود لمبا سفر طے کرکے خود آپ سے ملنے لاہور تشریف لے آتے۔ ہر ذمہ داری اور ڈیوٹی کے لیے آپ ہی کو قابلِ اعتبار سمجھتے۔ جیسے جیسے مرشد کا التفات آپ مدظلہ الاقدس کی طرف بڑھتا گیا حاسدین کی تعداد بھی بڑھتی گئی۔ ایک طرف آپ مد ظلہ الاقدس مرشد کی آنکھ کا تارا بنتے گئے تو دوسری طرف حاسدین کی آنکھو ں میں کھٹکنے لگے اور وہ آپ مدظلہ الاقد س کو مرشد سے دور کرنے کی کوششیں کرنے لگے۔ کبھی آپ مدظلہ الاقدس کے کاموں پر اعتراض کرکے سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ پر ڈیوٹیاں واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالتے تو کبھی آپ مدظلہ الاقدس کو پیچھے ہٹ جانے پر مجبور کرتے اور کبھی جھوٹی باتیں آپ سے منسوب کرکے پھیلائی جاتیں۔ لیکن وہ عشق ہی کیا جو دنیا کی باتوں میں آکر محب و محبوب کو ایک دوسرے سے دور کر دے۔ نہ ہی آپ مد ظلہ الاقدس کے پائے استقامت میں ذرا سی لغزش آئی اور نہ ہی مرشد کی محبت و مہربانی میں کوئی کمی۔ بلکہ
تند یٔ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب                      یہ تو چلتی ہے تجھے اور اونچا اُڑانے کے لیے
کے مصداق محبت اور بڑھتی گئی۔سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس کا موقف تھا کہ جب تک میرے مرشد مجھے نہیں کہیں گے میں لوگوں کے کہنے پر کسی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ ادھر مرشد پاک رحمتہ اللہ علیہ نے بھی دباؤ کے باوجود نہ تو کوئی ڈیوٹی واپس لینے کا ارادہ ظاہر کیا اور نہ ہی اپنے طالب خاص سے اس کا کوئی ذکر کیا۔ آپ مد ظلہ الاقدس کی استقامت نے آپ مدظلہ الاقدس کو فقر (توحید) کے اس مقام تک پہنچا دیا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔
ہمارے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس عشقِ مرشد کی اس انتہا پر تھے جہاں قیل و قال کی ضرورت نہیں رہتی اور ’’چہرہ‘‘ ہی سے سب مطالب حل ہو جاتے ہیں۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* سروری قادری مرشد مجمل و جامع ہوتا ہے۔ وہ ظاہر و باطن میں ایسی کتاب ہوتا ہے جو طالبِ مولیٰ کے لیے کتب الاکتاب کا درجہ رکھتی ہے جس کے مطالعہ سے طالب اس شان سے فنا فی اللہ ہوتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی حجاب باقی نہیں رہتا۔
؂ طالبان راہر مطالب خوش نما                                         اعتقاد صدق خواں وز دل صفا
اس کتاب (سروری قادری مرشد) کو جو طالب صدق‘ اخلاص‘ اعتقاد اور پاکیزگی کے ساتھ پڑھتا ہے وہ جلد ہی اپنی مراد کو پہنچتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں) 
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس خود تحریر فرماتے ہیں :
* اس عاجز کو حضور سلطان الفقر رحمتہ اللہ علیہ کے ’’چہرہ‘‘ کے مطالعہ کا اعجاز حاصل رہا ہے۔ اس عاجز نے زبان سے کبھی بھی کوئی صلاح مشورہ نہیں کیا۔ جب بھی کسی مضمون یا کتاب لکھنے یا راہِ فقر میں کسی امتحان یا آزمائش کا وقت آیا اور اس خاکسار کی سمجھ میں کوئی حل نہ آیا تو یہ خاکسار آپ رحمتہ اللہ علیہ کی محفل میں جا کر بیٹھ جاتا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے چہرہ مبارک کے مطالعہ میں مصروف ہو جاتا اور جب آپ رحمتہ اللہ علیہ کی محفل سے رخصت ہونے کا وقت آتا تو کتاب یا مضمون کا پورا خاکہ یا مسئلے کا پورا حل اور طریقہۂ کار سمجھ میں آجاتا۔میں نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے چہرہ مبارک کے مطالعہ میں صرف ایک دفعہ دھوکہ کھایا ہے اور وہ ہے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے وصال کا وقت۔ 2003ء کے اوائل سے مجھے کثرت سے ایسے خواب آنے لگے تھے کہ حضور سلطان الفقر کا وصال ہو رہا ہے یا وصال ہو گیا ہے یا آپ رحمتہ اللہ علیہ کا جنازہ پڑھایا جارہا ہے۔ ان خوابوں نے مجھے ذہنی خلجان اور پریشانیوں میں مبتلا کر دیا تھا۔ میں یہ کسی کو بتا بھی نہیں سکتا تھا۔ ان خوابوں نے مجھے ذہنی مریض بنا دیا تھا۔ ایک دفعہ آپ رحمتہ اللہ علیہ لاہور تشریف لائے اور سیدھے داروغہ والا تشریف لے گئے۔ یہ مارچ یا اپریل کے اوائل کا واقعہ ہے۔ ہم نے سونے کے اسمِ اللہ ذات بنانے کے لیے مختلف قسم کی ڈرائنگ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو دکھانے کے لیے بنائی تھیں۔ وہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں پیش کیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک ڈرائنگ کو پسند فرمایا اور سید امیر خان نیازی مرحوم کی طرف بڑھا دیا کہ دیکھیں ٹھیک بنا ہے۔سید امیر خان نیازی مرحوم نے بھی غور سے دیکھنے کے بعد اُسے درست قرار دیا۔ اس کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ کی نظر میری طرف تھی اور گفتگو آپ رحمتہ اللہ علیہ نیازی صاحب سے فرما رہے تھے ’’ اب ایک ویگن ہو جس میں بکسوں میں سونے کے اسمِ اللہ ذات بھرے ہوئے ہوں ا ور ہم پورے پاکستان کا دورہ کریں اور لوگوں کو اسمِ اللہ ذات کی دعوت دیں۔ پتہ نہیں عمر کتنی ہے‘‘ پھر زور دے کر کہا ’’انشاء اللہ عمر تو ابھی بہت پڑی ہے۔‘‘ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے مجھ پر ایسی نگاہ ڈالی کہ وہ پریشانی اور خلجان میرے دل سے نکل گیا اور سفرِ وصال کے دوران مجھے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے چہرہ کے مطالعہ میں مکمل ناکامی ہوئی۔ سروری قادری مرشد کو یہ کمال بھی حاصل ہوتا ہے کہ اپنے چہرے کی تحریرہی طالب سے چھپا لے۔ (سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ ۔حیات و تعلیمات) 
سلطان الفقر ششم سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی سوانحِ حیات اور تعلیمات کے تفصیلی مطالعہ کے لیے وزٹ کریں:
https://www.sultan-ul-faqr-publications.com/shop/sultan-ul-faqr-vi-hazrat-sakhi-sultan-mohammad-asghar-ali-hayat-o-talimat